Monday, August 21, 2017

پنجاب اپنا کردار ادا کرے

پنجاب اپنا کردار ادا کرے
میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی

 عدالتی فیصلے پر وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد سابق وزیراعظم نواز
 شریف نے بذریعہ جی ٹی روڈ س گھر کی طرف سفر شروع کردیا ہے۔ اقتدار سے ہٹنے کے بعدیہ سفر گھر واپسی کا ہی نہیں، ان کی سیاسی زندگی کا نیا سفر ہے، جو ان کی سیاسی بقا کا بھی تعین کرے گا۔ لاہور واپسی کے لئے وہ آرام سے بذریعہ ہوئی جہاز یا موٹر وے بھی آسکتے تھے۔ لیکن انہوں نے اس مقصد کے لئے جی ٹی روڈ چنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے خلاف ایک فیصلہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ نے دیا، اب وہ سب سے بڑی عدالت عوام سے رجوع کر رہے ہیں۔ جمہوریت اور سیاست میں عوام کی عدالت ہی سب سے بڑی عدالت سمجھی جاتی ہے۔ جی ٹی روڈ پر آنے کی کئی تشریحات اور وجوہات بیان کی کی جارہی ہیں۔

یہ درست بھی ہے کہ اس قدم کے مختلف النوع اثرات بھی پڑیں گے۔ اس سے یہ طے ہو گیا کہ سابق وزیراعظم یاں نواز شریف اسٹبلشمنٹ کے محاذ آرائی کی پالیسی پر گامزن ہو گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چوہدری نثار علی خان، شہباز شریف اور پارٹی کے بعض دیگر رہنمااس پالیسی کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن اقتدار سے ہٹنے کے ایک ہفتے کے اندر مختلف واقعات رونما ہوئے، جس کی وجہ سے نواز شریف کی محاذ آرائی کی حکمت عملی کو تقویت ھاصل ہوئی۔ شہباز شریف کو پنجاب باقی آئینی مدت تک ویزراعظم نامزد کرنے کیا گیا تو پنجاب پارٹی کی طاقت کے اصل سرچشمہ میں وزارت اعلیٰ کے امیدوار پر صوبے میں پارٹی عملی طور پر تین چارگروپوں میں بٹ گئی۔ ہر لابی اپنا امیدوار لے آنا چاہتی تھی۔ 
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ خوف شریف فیملی میں بھی اختلافات مزید ابھر کر سامنے آئے۔ اس صورتحال سے اس خیال کو تقویت ملی کہ اگر نواز شریف سیاسی مظر سے ہٹ جاتے ہیں تو نواز لیگ کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ 

عمران خان نے اپنی تحریک کی بنیاد پنجاب میں ہی رکھی اور پنجاب کی سطح پر ہی وہ نواز حکومت کے خلاف لڑتے رہے۔ اس سے یہ تاثر بنا کہ پنجاب اپنی سیاسی قیادت میں تبدیلی چاہتا ہے۔ اور پنجاب نواز شریف اور ان کی پارٹی کے ساتھ نہیں۔ اس مقصد کے لئے عمران خان دو مرتبہ ملک کے اس بڑے صوبے میں طاقت کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ نواز شریف کے خلاف تحریک میں سندھ، بلوچستان اور بڑی حد تک خیبر پختونخوا صوبے شامل نہیں رہے۔ اس لئے ان کی اس سیاست کو جی ٹی روڈ کی سیاست کا نام دیا گیا۔ ابھی نواز شریف نے جوابی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے اسی جی ٹی روڈ کا انتخاب کیا، جہاں پر تحریک انصاف ان کے خلاف تاثر دینے میں کامیاب ہوئی تھی۔ 

یہ صحیح ہے کہ نواز لیگ جس طرح کی پارٹی ہے اور جن طبقات کی اصل میں نمائندگی کرتی ہے، وہ روایتی طور پر سڑکوں کی سیاست نہیں کرتی۔ اس پارٹی کو جب جنرل مشرف نے 1999 میں ہٹایا تھا اور بعد میں قید کی سزا بھی دی اور جلاوطن کیا تب بھی پارٹی نے عوامی احتجاج نہیں کیا۔ حال ہی میں جب عدالتی حکم پر اس پارٹی کے وزیراعظم کو ہٹایا گیا تب بھی سڑ کوں احتجاج نہیں ہوئے۔ نواز لیگ کے حصے مین صرف ایک ہی احتجاج ہے وہ ہے مشرف کی جانب سے ہٹائے گئے ججز کی بحالی کے لئے لانگ مارچ۔ وکلاء اور سوسائٹی کے دیگر حصے ریٹائرڈ جسٹس چوہدری افتخار محمد اور دیگر ججز کی بحالی کے لئے متحرک تھے۔ 

نواز شریف نے اس تحریک کو نیا موڑ دینے کے لئے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا۔ لانگ مارچ ابھی راستے میں ہی تھا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی کی مداخلت پر پیپلزپارٹی کی حکومت نے ججز کی بحالی کا اعلان کر دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تقریبا ایک عشرہ پہلے نواز شریف نے عدلیہ کی بحالی کے لئے لانگ مارچ کیا تھا۔ اب 2017 میں عدلیہ نے ان کو نااہل قرار دیا۔ اب وہ اسی علدیہ کے اس فیصلے کے خلاف اسی جی ٹی روڈ پر عوام سے رجوع کر رہے ہیں۔ 

نواز شریف بظاہر عدالت کے خلاف نہیں بول رہے ہیں۔ وہ ان کے خلاف کئے گئے اقدام کو سازش قرار دے رہے ہیں۔ اور اس ضمن میں ان کا دعوا ہے کہ ان کے پاس بعض اہم راز بھی ہیں جنہیں وہ افشاء کرنا چاہتے ہیں۔ ان نعرہ سویلین اختیارات کی بحالی ہے۔ یہی وہ نعرہ ہے جو ملک کی جمہوری قوتوں کو ایک پیج پر کھڑا کر رہاہے۔ پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے جہاں منتخب اور سویلین حکومتوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے نہیں دیا گیا۔ تاریخ اور سیاست کے طالب علم اس امر سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اگر تایخ کی بات کی جائے تو خود میاں صاحب بھی بہت سارے معاملات کے گواہ ہیں بلکہ وہ خود بھی اس ’’گناہ‘‘میں 80 اور 90 کے عشروں میں شریک رہے ہیں۔ 1988 میں کس طرح سے بینظیر بھٹو کو حکومت دیتے وقت بعض رسمی اور غیر رسمی معاہدے کئے گئے۔ بینظیر کے اختیارات کم کئے گئے۔ پھر یہ سلسلہ 90 کے عشرے میں بھی جاری رہا۔ آرمی چیف، صدر اور وزیرا عظم پر مشتمل ٹرائیکا بنی، جو تقریبا ہر ہفتے اجلاس کرتی تھی اور مختلف فیصلے کرتی تھی ۔ یعنی ویزراعظم آزادانہ طور پر فیصلہ سازی نہیں کرتے تھے۔ 

اب میاں نوازشریف سویلین اخیارات کا نعرہ لیکر میدان میں آئے ہیں اور ایک نئے سیاسی سفر کا آگاز کر رہے ہیں۔ ان کے اس اقدام کو ملک کی جمہوری، ترقی پسند اورحقوق کی جدوجہد رکنے والی قوتیں ایک مثبت قدم سمجھ رہی ہیں۔

پنجاب پر مسلسل یہ الزامات عائد ہوتے رہے کہ وہ جمہوریت، لوگوں کے حقوق کی جدوجہد میں ساتھ نہیں دیتا۔ یہ صورتحال ون یونٹ ، صوبوں کو اختیارات دینے، مشرقی پاکستان سے اکثریت میں جیت کر آنے والی پارٹی عوامی لیگ کو اقتدار حوالے نہ کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تب تک کھڑا رہا جب تک بھٹو اسٹبلشمنٹ کے ساتھ رہا۔ خیبر پختونخوا،سندھ اور بلوچستان میں صوبائی حقوق کی جدوجہدخواہ کسی بھی دور میں ہوئی ہو، پنجاب نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ لہٰذا ان صوبں اور تحریکوں کا اکیلاپن بڑھتا گیا۔ ان تحریکوں کو میں بھی کو روکنے میں بھی کی پنجاب نے حمایت کی۔حالانکہ یہ تحریکیں اپنے جوہر میں حقوق، جمہوریت اور سویلین بالادستی کے زمرے میں ہی آتی تھیں۔ صرف اتنا ہی نہیں پنجاب نے ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف چلنے والی تحریک ایم آرڈی موومنٹ میں بھی اس طرح سے ساتھ نہیں دیا۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پنجاب کو چھوڑ کر باقی تمام صوبے اور وہاں کی نمائندہ جماعتیں سویلین اختیارات، حقوق اور جمہوریت کے لئے اگلے مورچوں پر لڑتے رہے ہیں۔ جب کہ پنجاب میں ان تحریکوں کو مطلوبہ پذیرائی اور حمایت نہیں ملی۔ پاکستان میں انتخابات اور لولی لنگڑی جمہوریت تب بحال ہو سکی جب مشرقی بازو علحدہ وہ گیا۔ تاریخ کے ان واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ جمہوریت ہو یا صوبائی حقوق یا سویلین اختیارات کی بحالی، جب تک پنجاب آگے نہیں آئے گا تب تک یہ معاملات سلجھ نہیں سکیں گے۔ جمہوریت اور حقوق کی جدوجہد آگے نہیں بڑھے گی۔اس صورتحال میں پنجاب کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنا مظبوط،موثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرے۔

Punjab should play its role 
Sohail Sangi Column .. Daily Nai Baat August 11, 2017 

No comments:

Post a Comment