Monday, August 21, 2017

سویلین بالادستی کے لئے مذاکرات مگر کس سے؟

میرے دل میرے  مسافر     سہیل سانگی 


وزیر اعظم نواز شریف کی عدلیہ کے ہاتھوں عہدے سے برطرفی نے دو اہم سوال پیدا کردیئے ہیں۔ ایک سویلین بالادستی اور دوسرا اداروں کے درمیان کشیدگی۔ حالیہ موجودہ بحران کے پس منظر میں یہ سوالات ہیں یا انہی کے گرد گرد گھومتا ہے یہ دونوں سوالات ماضی میں بھی جمہوری عمل اور سیاسی نظام کے لئے خطرہ رہے ہیں۔ ان بنیادی سوالات سے کیسے نمٹا جائے؟ اس کے لئے وزیراعظم نواز شریف نے آئینی ترامیم یا نئے آئین کی تجویز دی ہے۔ 

نواز شریف نے لاہور میں کہا کہ موجودہ ڈرامہ جاری رہا، ملک کو ایک بار پھر مشرقی پاکستان جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیلٹ کا احترام نہیں کیا گیا۔ میاں صاحب آئین میں خاص طور پر عدالیہ اور آئین کی شق 26 اور 63 میں ترمیم چاہتے ہیں۔ انہوں نے بعد میں یہ بھی کہا کہ اگر ان کی جماعت 2018 کے انتخابات جیتنے کے بعد یہ ترامیم لے آئے گی۔ جبکہ سنیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے تجویز دی ہے کہ تین اہم ریاستی ادارے پارلیمنٹ، فوج اور عدلیہ مل بیٹھ کر بات چیت کریں اور حل نکالیں کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرے۔ ہر ادارے کا اپنے قانونی دائرہ کار میں رہنا از حد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو وزیراعظم کے معرفت دعوت دی جائیگی کیونکہ فوج وزیراعظم کے ماتحت ہے اور عدلیہ کو چیف جسٹس آف پاکستان کے ذریعے۔ 
سابق ویراعظم کی تجویز کو سیاسی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم رضا ربانی کی پیشکش کو مختلف حلقوں نے سراہا اور اس تجویز کو مزید ٹھوس شکل دینے کے لئے کہا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے سنیٹرز نے گزشتہ ہفتے سنیٹ کے چیئر مین رضا ربانی کی اس تجویز پر اتفاق کر لیا تھا کہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ نواز شریف نے رضا ربانی کی تجویز کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی جماعت اس تجویز کو عمل میں لانے کے لئے سب سے آگے ہوگی۔


اپوزیشن کی تین جماعتیں یعنی پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم مذاکرات کی ضرورت پر متفق ہیں۔ تاہم تینوں جماعتوں کا خیال ہے کہ وہ واضح طور پر اپنا موقف تب بیان کر سکیں گی جب اس مقصد کے لئے مکینزم سامنے آئے گا۔

نواز لیگ نے آئینی اصلاحات کی بات کی ہے اور احتساب کا فورم یا حق پارلیمنٹ ک دے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کو عوام کی حمایت حاصل ہے جو کہ ملک کے ڈھانچے میں اصلاحات چاہتے ہیں۔ لیکن دونوں کے درمیان الفاظ کی جنگ جاری ہے۔ دونوں کو سمجھنا چاہئے کہ اگر سیاست رہتی تبھی دونوں کی اہمیت ہے۔ ان ان کے آپس کے اس ٹکراؤ کی وجہ سے سیاست ہی نہیں رہتی اور غیر جمہوری قوتیں سامنے آجاتی ہیں تو کیا ہوگا۔

پاناما مقدمے کے فیصلے کے بعد نواز لیگ کے رہنما یہ کہتے سنائی دیئے ہیں کہ اب متعلقہ فریقین کے درمیان آخری مذاکرات کا وقت آگیا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی کئی بار یہ بات کہی ہے کہ ملٹری سویلین عدم توازن کو ختم کرنے کے لئے سیاسی قیادت کو بیٹھ کر بات کرنی چاہئے۔ کیونکہ کسی ایک وزیراعظم نے کبھی بھی آئینی مدت پوری نہیں کی۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ ملک کے نظام کو وائرس لگ گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میثاق جمہوریت پر قائم رہنے کی بات کی اور کہا کہ اس کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کی ان تجاویز سے متفق نہیں۔ تحریک انصاف کے وائیس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی تجویز کو پارٹی سنجیدگی سے نہیں لے رہی کیونکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں۔ 

پہلے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اور اب خود آصف علی زرداری نے نواز شریف سے کوئی بات نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ پیپلزپارٹی کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتی جس سے نواز شریف کو فائدہ ملے۔ سوال یہ ہے کہ کیا رضا ربانی کی پیشکش اس کی ذاتی یا بطور چیئرمین سنیٹ کے ہے یا انہوں نے پارٹی سے مشورہ کیا تھا؟ اس سے پہلے یہی لگ رہا تھا کہ ان کی یہ تجویز اصل میں پارٹی کی طرف سے ہے لیکن آصف علی زرداری کے حالیہ موقف سے لگتا ہے کہ پارٹی کا موقف الگ ہے یا پھر پارٹی نے اب اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔
رضا ربانی جلد ہی ایسی کمیٹی تشکیل دینے جارہے تھے۔ عام تاثر یہ ہے کہ رضا ربانی کی ساکھ اچھی ہے۔ سنیٹ کے چیئرمین اس ضمن میں دیگر پارٹیوں کے رہنماؤں کو اعتماد میں لیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کونسی مکینزم بنائی جائے گی؟ اور فوج اور عدلیہ کی نمائندگی کون کرے گا۔ 

سنیٹ نے جس طرح سے ریاستی اداروں کے درمیان تصادم کو روکنے کے لئے ان اداروں کی آپس میں بات چیت کی تجویز پیش کی ہے اس کی کوئی پہلے مثال نہیں ملتی۔ یعنی پارلیمنٹ آرمی اور عدلیہ کو دعوت دے رہی ہے کہ وہ ان کو سننا چاہتی ہے۔ وہ ان تمام اداروں کے سربراہوں کو سنیٹ میں دعوت دے کر سننا چاہتے ہیں۔ رضا ربانی کی تجویز پر شک نہیں کیا جاسکتا لیکن بحران کو حل کرنے کے لئے 
یہ فارمولا بہت ہی سادہ لگتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات چیت کشیدگی کے اصل محرکات کو حل کر پائیں گے؟ اداروں کے درمیان کشیدگی ایک علامت یا اظہار ہے ہے بذات خود مرض نہیں۔ تمام زور متنازع آئینی شق کے تحت وزیراعظم کی نااہلی کا ہے۔ سیاسی نظام اور جمہوری عمل کے حقیقی سوال کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ کیا یوں سویلین بالادست بحال ہو جائے گی؟ پارلیمنٹ کو ان متنازع شقوں پر بحث کرنی چاہئے اور اگر ممکن ہو تو ان کو ختم کرنا چاہئے۔ لیکن یہ کام کسی فرد واحد کو بچانے کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کسی وزیر عظم کے خلاف فیصلہ نہیں بلکہ جمہوری عمل کو خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ اس ضمن میں چیف جسٹس آف پاکستان پارلیمنٹ کو کیا یہ یقین دہانی کرائیں کے کہ منتخب سیاسی رہنما چاہے کوئی جرم کریں قانون کی گرفت سے بالا تر ہونگے؟

آئین میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے نہ کہ عدلیہ کا۔ عدلیہ ریاست کی ایک الگ شاخ ہے۔تمام اداروں کو اپنے اپنے دائرے میں کام کرنا چاہئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے صحیح طور پر کام نہ کرنے اور فیصلہ سازی نہ کرنے کی وجہ سے اختیارات کے عدم توازن کابحران گہراہوا ہے۔ خود پارلیمنٹ میں معاملات طے کرنے کے بجائے سیاستدان عدلیہ سے رجوع کرتے رہے ہیں۔ پاناما گیٹ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ جب عسکری قیادت کہتی ہے کہ وہ آئین پر عمل پیرا رہے گی، اس کا عملی مطلب یہ نکل رہا ہے کہ آئین میں پارلیمنٹ کی مدت کا ذکر ہے نہ کہ وزیراعظم کی پانچ سالہ مدت۔

بلاشبہ سول ملٹری تعلقات جمہوری عمل میں رکاوٹ کی بہت بڑی وجہ سمجھی جارہ ہے۔ جمہوری نظام کے لئے سویلین بالادست اشد ضروری ہے۔ ملٹری کی طرف جھکا ہوا عدم توازن ملک میں عدم استحکام کی اہم وجہ ہے۔ لیکن یہ صورتحال بعض بنیادی نوعیت کے اصلاحات لانے کے بغیر تبدیل نہیں کی جاسکتی۔ یہ معاملہ آرمی چیف اور پارلیمنٹ کے درمیان بات چیت شروع کرنے سے حل نہیں ہو سکتا۔ کیا اس کا مطلب فوج کو سیاسی یا آئینی کردار دینا ہے؟ درحقیقت سیاسی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے اس کا حل اس طرح کے مذاکرات نہیں بلکہ ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے۔ جب ہم عوام کے مینڈیٰٹ کے احترام کی بات کرتے ہیں تو یہ احترام خود مینڈیٹ لینے والے منتخب نمائندوں کو بھی کرناچاہئے اور اپنا کردار موثر طور پر ادا کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ بطور موثر ادارے کے رکھنا منتخب نمائندوں سویلین کا کام ہے۔ جہاں جہاں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے وہاں خلاء پیدا ہوتا ہے اور یہیں سے بحران جنم لیتا ہے یا دوبارہ سر اٹھاتا ہے۔ 




August 17, 2017 Nai Baat 

Sohail Sangi Column 

No comments:

Post a Comment