مردم شماری کے نتائج کے اثرات
نئی گنتی کے مطابق اب ہم دو سو آٹھ ملین لوگ اس ملک میں رہ رہے ہیں۔ 19 سال کے طویل التوا کے بعد مردم شماری ہو ہی گئی اور اس کے عبوری نتائج شایع کردیئے گئے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق 1998 کے بعد آبادی میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اور اس کے مضمرات پریشان کن ہیں۔ مجموعی طور پر آبادی میں 2.4 فیصد اضافہ ہوا۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی کی آٹے، صحت، تعلیم، رہائش، اور دیگر ضروریات کو پورا کرنا ایک بہت بڑا چیلینج ہے۔ مردم شماری کے اثرات قومی اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی، وسائل کی تقسیم، ملازمتوں اور ترقیاتی منصوبوں میں حصے پر پڑتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں صوبوں کے درمیاں کشیدگی، کمزور جمہوریت قانون کی اور اچھی حکمرانی کا فقدان ، معاشی نابرابری اور ترقی کے بنیادی پالیسیوں کی غیر موجودگی میں مردم شماری کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ حالیہ مردم شماری کے نتائج پر مختلف حلقوں کے اعتراضات سا منے آئے ہیں ، ان اعتراضات کے مطابق جو اعداد وشمار دیے گئے ہیں، آبادی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صورتحال اور بھی گمبھیر ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کا حصہ کم ہوا ہے، جبکہ سندھ کے حصے میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ بلوچستان میں 0.9 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد وشمار اس تحقیق کو مسترد کرتے ہیں کہ ملک میں گزشتہ بروسں کے دوران شرح پیدائش میں کمی ہوئی ہے۔ اگر واقعی کمی ہوئی ہے تو یہ بڑھی ہوئی آبادی کہاں سے آئی؟ گزشتہ برسوں کے دوران صوبہ خٰبر پختونخواہ میں بڑے پیمانے پر آبادی کا انخلاء ہوا۔ اعداد وشمار اس انخلاء کی عکاسی نہیں کرتے۔کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ شرح پیدائش اوسط سے زیادہ ہے یا اس صوبے میں آکر بسنے ولاوں کی تعداد زیادہ ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی کی منتقلی وسائل ، دولت اور بینادی سہولیات کے رخ میں ہوتی ہے۔ اگر پنجاب میں زیادہ ترقی اور وسائل ہیں تو اس کی آبادی میں اضافہ کیوں نہیں ہوا۔ اعداد شمار کے مطابق ملک میں شہری آبادی میں اضافہ ہوا، لیکن یہ اضافہ پنجاب میں ہونے والی تمام ترقی کے باوجود اس صوبے میں شہری آبادی کے اجافے کو اس حد تک ظاہر نہیں کرتا۔ اس کے مقابلے میں سندھ ملک کا سب سے زیادہ شہری آبادی کا صوبہ قرار پایا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس صوبے میں شہروں میں بنیادی سہولیات کی صورتحال خطرناک حد تک خراب ہے۔ اس مرتبہ شہری علاقوں کی تعریف بھی تبدیل ہو گئی ہے۔ پہلے میونسپل شہروں کو شہری علاقوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ اب اس میں ٹاؤن کمیٹیوں کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ جبکہ ان علاقوں میں املاک پر ٹیکس کو حساب میں نہیں لیا گیا ہے۔ کراچی کی آبادی میں 16.5 ملین کا اضافہ بتایا گیا ہے جو کہ ناقابل یقین لگتا ہے۔ کراچی میں کیا شرح پیدائش میں اتنی زیادہ کمی ہوئی ہے یا پھر یہاں آکر بسنے والوں کی تعداد میں بہت ہی زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔
مردم شماری پر سوائے خیبر پختونخوا کے باقی سب کو اعتراض ہے۔ پنجاب میں سرائیکی بیلٹ کو اعتراض ہے۔ ان کہنا ہے کہ مردم شماری سیاسی ہے، لاہور
مردم شماری کے ان اعداد وشمار پر نہ صرف حکومت سندھ کو اعتراض ہے بلکہ سندھ کی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کو بشمول قوم پرست جماعتوں اور ایم کیو ایم اعتراض ہے۔ سندھ حکومت کا دعوا ہے کہ تقریبا ایک کروڑ کم آبادی ظاہر کی گئی ہے۔ اس ضمن میں سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ محکمہ شماریات پاکستان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو خط لکھ کر مردم شماری کے ابتدائی نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان نتائج کو مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کرنے کے بعد ان نتائج کا اعلان کیا گیا ہے۔
سندھ حکومت نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان تحفظات کا اظہار سندھ نے مردم شماری کا عمل شروع ہونے سے پہلے بھی کیا تھا اور جب یہ عمل جاری تھا اس وقت بھی کیا تھا۔ سندھ حکومت کا مطالبہ تھا کہ مردم شماری کے پر کئے گئے ایک فارم کی کاپی صوبائی حکومت کو بھی فراہم کی جائے۔ سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مردم شماری وفاقی نہیں صوبائی سبجیکٹ ہے۔
قوم پرستوں کا خیال ہے کہ سندھ میں ملک کے بالائی علاقوں خواہ دیگر ممالک سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کی درست شماری نہیں ہوئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس نقل مکانی کر کے آنے والوں کا صوبے کے وسائل اور انفرااسٹرکچر پر دباؤ پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے صوبے کے باسیوں کو مطلوبہ سہولیات نہیں مل پاتی ہیں۔ قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے دعوا کیا ہے کہ سندھ کی آبادی 70 ملین ہے نہ کہ 47.89 ملین۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی ان نتائج کو مسترد کرنے کے لئے قرارداد منظور کرے اور معاملے کو مشترکہ مفادات کے اجلاس میں اٹھائے۔ وہ کہتے ہیں کہ خود بنگالی آبادی آبادی بڑھ کر تین ملین ہو گئی ہے۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ نے ان اعدادوشمار کو مسترد کیا ہے تاہم اس بات سے اتفاق کیا کہ سندھ ملک کا سب سے زیادہ شہری صوبہ ہے۔
پاکستان کے دوسرے علاقوں سے سندھ میں آکر بسنے ولاوں اور خود سندھ کے باسیوں کی صحیح شمار نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کراچی، حیدرآباد اور جامشورو وغیرہ میں افغان پناہ گزینوں کی آبادی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ سندھ کی قوم پرست رائے عامہ کا کہنا ہے کہ اس امر پرسندھ میں مختلف الخیال جماعتیں متفق ہیں کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر باہر سے لوگ آکر آباد ہوئے ہیں۔ لیکن اس امر کا تعین کیا جانا انتہپائی ضروری ہے کہ سندھ کا اصل اور مستقل رہائشی کون ہے؟ اور ان کی آبادی کیا ہے؟ سندھ کے اہل فکر حلقوں کے مطابق حکومت سندھ میں آباد تارکین وطن اور دوسرے صوبوں سے آکر یہاں کام کے لئے آنے والوں کا شمار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کو الگ سے شمار نہیں کیا گیا۔ یہ بھی کہ اگر سندھ واقعی ملک میں سب سے زیادہ شہری آبادی رکھتا ہے تو اتنی کم آبادی کیوں؟ سندھ میں بلوچستان، خیبرپختونخواکے لوگ بڑے پیمانے پر آکر بس رہے ہیں۔ اگر سندھ میں اوسط شرح آبادی میں 2.41 کا اضافہ ما ن لیا جائے تو باہر سے آنے والوں کا حساب نہیں بنتا۔
بلوچستان مردم شماری سے پہلے خدشہ ظاہر کر چکا تھا کہ دانستہ طور پر افغان پناہ گزینوں کو اس صوبے کی مردم شماری کے دوران شمار کیا جائے گا۔ بعد کے نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسا ہی کیا گیا ہے۔ میں بسنے والے افغانیوں کو بھی شمار کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا جہاں کے لوگ دوسی جگہوں پر زیادہ نقل مکانی کرتے ہیں وہاں پر اضافے کی شرح 2,89 ہے جو سب سے زیادہ ہے۔ شروع سے ہی خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ مقامی آبادی کو صحیح طور پر شمار نہیں کیا جائے گا۔
شہری علاقوں کی طرف منتقلی بہت ہی اہم ہے۔ اس کا آنے والے وقتوں میں رائے عامہ اور سیاست پر اثر ظاہر ہوگا۔ سوشل سسٹم اور سیاسی سسٹم کی طرف جائیں گے، سیاسی جماعتیں مضبوط ہونگی۔
مردم شماری کرانا جتنا اہم ہے اس کو شفاف رکھنا، اور اتنا مصدقہ رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ اس کے نتائج لوگ آسانی سے سمجھ سکیں۔ ایسا کرنے سے کوئی نئی سیاسی بحث نہیں کھلتی۔ مردم شماری کا عمل شروع کرنے سے پہلے لوگوں کو educate کرنے اور آگاہی دینے کی ضرورت تھی۔ سماج کے مخلتف پرتوں، مختلف شناخت رکھے والے علاقوں کے لوگوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت تھی۔ اس پورے عمل میں ان لوگوں کی شرکت اور مشاورت رکھی جاتی تو آج جو اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں، جن تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے وہ نہیں ہوتا۔ مردم شماری کے متنازع ہو جانے کی وجہ سے ایک اور سیاسی بے چینی اور کشمکش شروع ہو جائے گی۔
Reservations and Rejection of Census results in pakistan, By Sohail Sangi,
Daily Nai baat column August 29, 2017


No comments:
Post a Comment