میرے دل میرے مسافر۔ ۔ سہیل سانگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی حکمت عملی پر خطے میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔اس پالیسی پر عمل پیرا ہونے سے خطے کے لوگوں میں بے چینی میں اضافہ ہوگا اور رائے عامہ امریکہ کے خلاف بنے گی۔ امریکی صدر نے فوجی ہیڈ کوارٹر سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں مزید فوجیں بھیجنے، پاکستان پر دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے افغنستان میں بھارت کے کردار میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پہلی نظر میں ٹرمپ کی اس حکمت عملی میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آرہی جو سولہ سال سے افغانستان میں جاری جنگ کا خاتمہ کر سکے ۔ اس کے برعکس اس سخت گیر حکمت عملی سے خطے میں کشیدگی اور خونریزی میں مزید اضافہ ہوگا۔
80 کے عشرے سے افغانستان میں کی گئی مداخلت کی وجہ سے، جس میں پاکستان کو بھی ملوث کیا گیا تھا، خطے میں سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی توڑ پھوڑ، بگاڑ شروع ہوا تھا وہ ابھی تک جاری ہے۔ اس کے خطے کے لوگوں کی زندگی، خوشحالی، سیاسی و معاشی حقوق پر منفی اثرات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ پہلے افغانستان میں پراکسی لڑائی لڑی جارہی تھی لیکن نائین الیون کے بعد امریکہ بہادر بقلم خود براہ راست میدان میں کود پڑا اور اس نے اپنی اور ناٹو کے اتحادی ممالک کی فوجیں اتاردیں۔ امریکہ کے مختلف اقدامات کے باوجود قیام امن دور کی بات لگتی ہے۔ ہر چھ آٹھ ماہ کے بعد دہشتگردی کا آتش فشاں آگ اکنے لگتا ہے۔
امریکی حکمت عملی کی وجہ سے علاقے میں مستقل امن کے بجائے عدم استحکام اور پرتشدد واقعات اور دہتگردی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان تمام تجربات کے باوجود ایک مرتبہ پھر امریکی صدر نے افغان مسئلہ کا فوجی حل ڈھونڈ نکالا ہے۔ یہ ایک ایسا حل ہے جو غیر معینہ مدت تک امریکہ کو صرف افگانستان میں ہی نہیں بلکہ اس خطے میں پھنسائے رکھے گا۔ امریکہ جہاں کہیں بھ اپنی فوجی موجودگی رکھتا ہے وہاں کے اردگرد کے ممالک پر بھی اس کے منفی اثرات پڑت ہیں۔ یعنی علاقے میں عسکری حلقوں کی ضرورت اور بالادستی ہو جاتی ہے۔
نئی حکمت عملی کے تحت کتنے امریکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے؟ یہ فوجی تنا عرصہ یہاں تعینات ہونگے؟ ٹرمپ نے اپنی تقریر اور پالیسی میں کوئی اظہار نہیں کیا۔ یعنی اس کی تعدا کتنی بھی ہو سکتی ہے اور ان کی تعینات کی مدت کوئی بھی ہوسکتی ہے، جو کہ غیر معینہ ہے۔ دراصل ٹرمپ نے افغان سوال کو وسطی ایشیا کے باجئے اس کو جنوبی ایشیا سے نتھی کردیا ہے۔ اور پورے خطے میں جنگ کے فیل کو مست کردیا ہے۔ لہٰذا تجزی نگاروں کے مطابق امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ جنوبی و وسطی ایشیا میں جنگ کا نیا محاذ کھول دیا ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ ٹرمپ نے اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران افغان جنگ کو وقت کا ضیاع قرا دیا تھا۔ لیکن اب 360 درجہ کا الٹا چکر لگا کر اس حکمت عملی کا اعلان کر کے مزید امریکی فوجی بھیجنے اور افغان جنگ کو طول دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے اس اعلان پر ان کے ووٹرز اور امریکی عوام کیا رد عمل دکھائیں گے؟ اس ردعمل کے کیا کیا مظاہر سامنے آئیں گے؟ یہ وقت کے ساتھ پتہ چلے گا۔ امریکہ جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے اس کے صدر کا اعلان ایک حد تک انتخابی پروگرام سے مختلف کھڑا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریتوں یا دور دراز کے
ممالک میں جمہویرت لانے یا اس کا دفاع کرنے کا امریکہ نے ٹھیکہ نہیں لیا ہے۔
آج کی تبدیل شدہ دنیا میں بھی امریکہ مشرق وسطیٰ اور افغنستان میں فوجیں بھیج سکتا ہے اور دنیا بھر کو ٹھیک کرنے کا نعرہ بھی لگاتا ہے لیکن دنیا میں جمہوری عمل کے حوالے سے خود کو دور رکھنا چاہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جائے گا کہ دنیا بھر میں کاص طور پر ایسے ممالک جہاں ابھی جمہویرت نوزائیدہ ہے اور پروان چڑھ رہی ہے ، غیر جمہوری اور غیر سیاسی حلقوں کو کھلی چھوٹ دے رہا ہے ۔ حالانکہ یہ چھوٹ پہلے بھی حاصل رہی ہے لیکن اب تو اس کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے۔
ممالک میں جمہویرت لانے یا اس کا دفاع کرنے کا امریکہ نے ٹھیکہ نہیں لیا ہے۔
آج کی تبدیل شدہ دنیا میں بھی امریکہ مشرق وسطیٰ اور افغنستان میں فوجیں بھیج سکتا ہے اور دنیا بھر کو ٹھیک کرنے کا نعرہ بھی لگاتا ہے لیکن دنیا میں جمہوری عمل کے حوالے سے خود کو دور رکھنا چاہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جائے گا کہ دنیا بھر میں کاص طور پر ایسے ممالک جہاں ابھی جمہویرت نوزائیدہ ہے اور پروان چڑھ رہی ہے ، غیر جمہوری اور غیر سیاسی حلقوں کو کھلی چھوٹ دے رہا ہے ۔ حالانکہ یہ چھوٹ پہلے بھی حاصل رہی ہے لیکن اب تو اس کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے افغان مسئلے فوجی حل کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب اس ملک کے چالیس فیصد علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے۔ یعنی افغان حکومت کا کنٹرول صرف 60 فیصد علاقے پر ہے۔ جبکہ افغانستان میں اندرونی بے چینی معالہ کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ امریکہ کے سمانے جو چیلینجز ہیں ان میں افغان حکومت اور امیرکہ کے ساتھ طالبان کا جھگڑا، کمزور اور کرپٹ حکومت ہے۔ خطے میں روس، چین اور ایران بھی اپنا اپنا اثر رکھتی ہیں۔ جو اپنا اثر دکھاتی بھی رہی ہیں۔ ان کو نظرانداز کر کے اس مسئلہ کا کوئی پستقل حل نہیں نکالا جاسکتا۔
اس پس منظر میں جب افغان مسئلے کو دیکھا جائے تو امریکی کوششیں غیر سنجیدہ لگتی ہیں۔ مزید امریکی فوجیں افغانستان بھیجنے یا سخت گیر حکمت عملی کسی طور پر بھی جنگ کا توازن تبدیل نہیں کر سکتی۔ بلکہ اس سے لڑائی مزید تیز ہو جائے گی۔ اور طالبان، داعش اور دیگر شدت پسند گروپوں کے درمیان رابطے مضبوط ہو جائیں گے۔ نیتجے میں افغناستان اور خطے کے دوسرے ممالک کے لئے خطرات بڑھ جائیں گے۔ حیران کن امر ہے کہ صورتحال کی اس ھساسیت کے باوجود مسئلہ کا سیاسی اور سفارتی ھل نہیں تلاش کیا جارہا ہے۔ اور فوجی حل ہی تلاش کر لیا گیا ہے ، جس کا تجربہ ٹرمپ سے پہلے کم از کم دو امریکی صدور کر چکے ہیں۔
اس پس منظر میں جب افغان مسئلے کو دیکھا جائے تو امریکی کوششیں غیر سنجیدہ لگتی ہیں۔ مزید امریکی فوجیں افغانستان بھیجنے یا سخت گیر حکمت عملی کسی طور پر بھی جنگ کا توازن تبدیل نہیں کر سکتی۔ بلکہ اس سے لڑائی مزید تیز ہو جائے گی۔ اور طالبان، داعش اور دیگر شدت پسند گروپوں کے درمیان رابطے مضبوط ہو جائیں گے۔ نیتجے میں افغناستان اور خطے کے دوسرے ممالک کے لئے خطرات بڑھ جائیں گے۔ حیران کن امر ہے کہ صورتحال کی اس ھساسیت کے باوجود مسئلہ کا سیاسی اور سفارتی ھل نہیں تلاش کیا جارہا ہے۔ اور فوجی حل ہی تلاش کر لیا گیا ہے ، جس کا تجربہ ٹرمپ سے پہلے کم از کم دو امریکی صدور کر چکے ہیں۔
ٹرمپ کی افغان حکمت عملی خطے میں سخت گیر ماحول پیدا کرے گی جس سے پراکسی جنگوں میں اضافہ ہو گا۔ اس حکمت عملی میں بعض بنیادی نقائص ہیں۔ ہیں۔ کتنے امریکی فوجی کتنے عرصے تک رہیں گے؟ امریکہ درحقیقت کتنی فوجی مداخلت کرے گا؟ کوئی فوجوں کی واپسی کا ٹائیم ٹیبل نہیں۔ اور ٹھوس طور پر یہ واضھ نہیں کہ امریکہ کونسے مقصاد اس فوجی حل کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اس کے خطے میں کیا کیا اثرات ہونگے اور ان سے نمٹنے کے لئے کیا کیا اقدامات کئے جائیں ؟ افغناستان جو ایک بار پھر شدید تصادم اور کشیدگی کی لپیٹ میں آئے گا اس کی بحالی اور معاشی تعمیر کے لئے کوئی پلان نہیں۔ بلکہ اس مرتبہ ٹرمپ معاشی تعمیر سے العانیہ دستبردار ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر کی اس حکمت عملی کے پاکستان پر براہ راست اور منفی اثرات مرتب ہونگے۔ اگرچہ ٹرمپ کی تقریر سے پہلے امریکی سیکریٹری برائے خارجہ امور نے پاکسناتی کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے فون پر ابت چیت کی تھی اور بدھ کے روز امریکی سفیر نے آرمی ثیف جنرل باجوہ سے ملاقات کی تھی۔ لیکن امریکی حکمت عملی میں بعض اعلانات بہت ہی واضح ہیں۔ وہ افغانستان میں بھارت کا کردار بڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستان کے اندر دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا بلا امتیاز مکمل خاتمہ چاہتا ہے اور اس امر کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ پاکلستان کسی بھی شدت پسند گروپ کی پشت پناہی نہیں کرتا۔
افغانستان میں انڈیا کے کردار کو بڑھانے کا مطلب پاکستان کے رول کو کم کرنا ہے۔ لہٰذا دو پڑوسی ممالک جو پہلے ہی ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں اور کئی غلط فہمیوں اور قدامات کی وجہ سے دوستی نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان کے درمیان خلیج کی ایک اور وجہ پیدا ہو جائے گی۔ پاکستان اس صورتحال میں کثیر رخوں سے دباؤ میں آ جائے گا۔ پاکستان کے لئے مشکل ہوگا کہ وہ امریکی صدر کی ’’ڈو مور‘‘ فرمائش کو جھٹلا سکے۔ اس کے پاس بہرحال بڑی حد تک امریکی اطمینان تک جانے کے بغیر کوئی آپشن نہیں۔ پاکستان کو تبدیل شدہ حالات میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
پاکستان کو ایک نقصان یہ بھی ہے کہ وہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی بات سمجھانا تو دور کی بات، اس کو سنا بھی نہ سکا ہے۔ لہٰذا پاکستان کے لئے پیچیدگیوں اور مشکلاتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کی اس پالیسی سے خطے میں نہ ختم ہونے والی ایک نئی جنگ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
افغانستان میں انڈیا کے کردار کو بڑھانے کا مطلب پاکستان کے رول کو کم کرنا ہے۔ لہٰذا دو پڑوسی ممالک جو پہلے ہی ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں اور کئی غلط فہمیوں اور قدامات کی وجہ سے دوستی نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان کے درمیان خلیج کی ایک اور وجہ پیدا ہو جائے گی۔ پاکستان اس صورتحال میں کثیر رخوں سے دباؤ میں آ جائے گا۔ پاکستان کے لئے مشکل ہوگا کہ وہ امریکی صدر کی ’’ڈو مور‘‘ فرمائش کو جھٹلا سکے۔ اس کے پاس بہرحال بڑی حد تک امریکی اطمینان تک جانے کے بغیر کوئی آپشن نہیں۔ پاکستان کو تبدیل شدہ حالات میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
پاکستان کو ایک نقصان یہ بھی ہے کہ وہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی بات سمجھانا تو دور کی بات، اس کو سنا بھی نہ سکا ہے۔ لہٰذا پاکستان کے لئے پیچیدگیوں اور مشکلاتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کی اس پالیسی سے خطے میں نہ ختم ہونے والی ایک نئی جنگ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
August 25, 2017
Nai Baat, Trump's South Asia Strategy, Sohail Sangi, Taliban,

No comments:
Post a Comment