Thursday, September 20, 2018

ڈیم : ضد نہ کریں۔ آئینی اداروں کی لوٹ آئیں



ڈیم : ضد نہ کریں۔ آئینی اداروں کی لوٹ آئیں 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ کوپانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے صرف 30فیصد رقبے پر فصلیں کاشت ہو سکتی ہیں۔صوبے کے بارانی علاقوں میں بارش نہ ہونے کے بعد سندھ حکومت نے ان کوقحط زدہ قرار دے دیا ہے۔ ان بارانی اضلاع کے لوگ قحط کی صورت میں ان قحط زدگان قریبی بیراجی علاقوں میں آکر روزگار کرتے تھے۔ لیکن بیراجی علاقوں میں بھی بارش نہ ہونے اور دریائی پانی کی قلت نے ان کو اس حالت میں نہیں چھوڑا کہ قحط زدگان وہاں آکر گزر سفر کریں۔ گزشتہ کئی برسوں سے کوٹری بیراج سے نیچے پانی نہ چھوڑنے کی وجہ سے ٹھٹھہ بدین کی لاکھوں ایکڑ زمین سمندر برد ہو چکی ہے۔ سندھ مسلسل یہ شکایت کر رہا ہے کہاس کو اپنے حصے کا پانی نہیں دیا جارہا۔ نتیجے میں صوبے میں بدترین معاشی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ سندھ میں یہ شبہ پختہ ہو رہا ہے کہ اس کے حصے کا پانی روک کر متنازع ڈیم بنانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ 
ملک میں بات بھاشا دیامیر ڈیم کی تعمیر سے شروع ہوئی تھی۔ اب کالاباغ ڈیم بنانے تک جاپہنچی ہے۔کہا جارہا ہے کہ کالاباغ ڈیم بھی بن سکتا ہے۔ اس متنازع آبی منصوبے کو مشرف دور میں فنی کمیٹیاں ناقابل عمل قرار دے چکی ہیں۔ 
نوے کے عشرے میں جب میاں نواز شریف نے کالاباغ ڈیم کا اعلان کیا توتمام سندھ اور خیبر پختونخوا اس کے خلاف سراپا احتجا ہو گئے تھے۔محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں سندھ کے تمام مکاتب فکر نے سندھ پنجاب سرح پر دھرنا دیا تھا اور ولی خان کی قیادت میں کے پی کے کے عوام نے اٹک پل پر دھرنا دیا تھا۔اس ڈیم کو 3صوبوں کی اسمبلیاں مسترد کر چکی ہیں۔قومی اسمبلی اس ڈیم کو مردہ گھوڑا قرار دے چکی ہے۔کیامسترد کئے گئے متنازع ڈیم کو ایک بار پر مسلط کرنااسمبلیوں اور عوام کی توہین نہیں ہوگا؟ 
پس منظر:گلگت بلتستان میں ضلع دیا میر کے بھاشا کے مقام پرتعمیر ہونے والابھاشا ڈیم دریا ئے سندھ کا 15فیصد پانی کابہاؤ روک سکے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پہاڑی سلسلوں ک کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے اس ڈیم سے کوئی نہر نہیں نکالی جاسکتی۔ بھاشا دیامیر ڈیم کا اعلان 2006 میں کیا گیا تھا، لیکن اسکاسنگ بنیاد 2011 میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے رکھا۔ دس سال کے باوجود ڈیم کی تعمیر ابتدائی مراحل میں رہی۔ 2016 میں ہی ایشین ڈولپمنٹ بینک نے پیسے دینے سے انکار کردیا تھا۔ 
ایشین بینک نے مشورہ دیا تھاکہ پاکستان کو اتنے بڑے منصوبے کے لئے کسی ایک ادارے یا ایک ملک پر انحصار نہ کرے۔ بعد میں ایشین بینک کے مشورے پر ہی پانی کے ذخیرے ، بجلی پیدا کرنے کے پروجیکٹ اور زمین کی خراداری کو الگ الگ شکل میں لے آئے۔ لیکن پھر بھی ایشین بینک نے رقم فراہم نہیں کی۔ بعد میں حکومت نے یو ایس ایڈ پروگرام کو بھی فیزیبلٹی بنوائی تاکہ بجلی کی پیداور میں نجی امریکی سرمایہ کاروں کو شامل کیا جاسکے۔ اس سے قبل عالمی بینک سے بھی مذاکرات کئے گئے۔ لیکن بھارت نے ڈیم کے لئے این او سی دینے سے ناکر کردیا، جس کے بعد عالمی بینک سے مذاکرات ختم ہو گئے۔ 
رواں سال مارچ میں حکومت نے میں بتایاتھا کہ 14 ارب ڈالر کی مالیت سے بنائے جانے والے بھاشا اور دیا میر ڈیم کی ری سیٹلمنٹ کا صرف بیس فیصد کا م مکمل ہوا ہے۔ جبکہ تاحال پروجیکٹ پر 88 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ 
انتخابات سے قبل جولائی میں چیئرمین واپڈا لیفٹنٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) نا صر الملک کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ بھاشا اور مہمند دیم کی تعمیر راوں سال شروع ہو جائیگی،بھاشا ڈیم میں 8.1ملین ایکٹر فٹ اور مہمند ڈیم میں 1.2ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ ہوگا، دونوں ڈیمز سے مجموعی1250 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی،داسو ہا ئیڈرو پاور پراجیکٹ سے بجلی کی پید اوار 2023میں شروع ہو گی،کرم تنگی ڈیم بھی تعمیر کئلے تیا ر ہے۔ بھاشا ڈیم میں 8.1ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ ہو گا اور 4500میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔اسی طرح مہمند ڈیم میں 1.2ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ کیا جا ئے گا اور 800میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔بھاشا ڈیم پروجیکٹ میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 6.4 ملین ایکڑ فٹ ہوگی۔ 
اس منصوبے کے لئے غیر ملکی فنڈنگ موجود نہیں۔حکومت نے پروجیکٹ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ 650 روپے کی لاگت سے ڈیم کا پروجیکٹ سرکاری شعبے میں تعمیر کیا جائے گا، جبکہ 750 ارب روپے کی مالیت کا بجلی بنانے کا پروجیکٹ نجی پاور پیدا کرنے والی کمپنیوں کو دیا جائے گا۔ واپڈا حکام کے مطابو متاثرین کی بحالی کا 80 فیصد کام ابھی باقی ہے۔ قراقرم ہائی وے کی ری لاوکیشن کا 7فیصد کام مکمل ہوا ہے اور 93کام باقی ہے۔ 31605 ایکڑ زمین حاصل کی گئی ہے جس کی 58ارب روپے کی ادائیگی کردی گئی ہے۔ جبکہ ساڑھے چھ ارب ڈالر کی مزید 5724 ایخڑ مزید زمین حا صل کی جائے گی۔
زمین حاصل کرنے اور متاثرین کی بحالی پر کل 125 ارب روپے خرچ ہونگے۔ ڈیم کے ڈھانے کی تعمیر پر 268.5 روپے درکار ہونگے۔
ڈیم کی سالانہ دیکھ بھال کی سالانہ خرچ 52 ارب روپے ہوگا اور یہ 2027 میں مکمل ہوگا۔ ڈیم کے لئے بجٹ میں دو سال کے دوران 37 رابے روپے فی سال کے حساب سے رکھنے تھے۔ مالی وسائل فراہم کرنے کی حکمت عملی کے مطابق کل مالیت کا 57 فیصد یعنی 370 ارب روپے وفاقی حکومت کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ادا کرنے ہیں۔ جبکہ واپڈا 116 ارب روپے کی ایکوئٹی مہیا کرے گی۔ جو مالیت کا اٹھارہ فیصد بنتی ہے، 163 ارب روپے وفاقی حکومت کمرشل بینکوں کے ذریعے فراہم کرے گی۔ 
یہ ڈیم ملک میں سیلابوں کو روکنے میں مدد کرے گا اور واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈیم ملک میں پانی ذخیرہ کرنے ی صلاحیت 30 سے بڑھ کر 48 دن ہو جائے گی۔ اور اس سے ساڑھے چار میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ معاملہ جب سپریم کورٹ نے اپنے ہاتھوں میں لیا تو فنڈ جمع کرنے کی مہم چلائی گئی۔ واپڈا چیئر میں ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل مزمل حسین کو سپریم کورٹ نے ڈی مز کی عمل درآمد کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔
21جولائی کو واپڈا چیئرمین نے بتایا کہ پاکستان نے ایشیں انفا ارٹرکچر بینک اور سوئس بینک سے دو ارب ڈالر روپے قرضہ طلب کیا ہے، انہوں نے یہ بھی ہا کہ دیامیر بھاشا اور منڈا ڈیم کی تعمیر کے لئے رقم حاصل کرنے کے لئے بجلی کے صارفین پر خصوصی سرچارج نافذ کیا جائے گا۔ ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر تک کے بیرونی وسائل کی ضرورت پڑے گی۔ بارہ سال تک غیر ملکی مالیاتی اداروں سے قرضہ کے لئے مذاکرات ہوتے رہے لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ 
رقم کی عدم موجودگی، متاثرین کی بحالیات کے لئے ادائیگی اور مقامی قبائلیوں کے جھگڑے تعمیر میں تاخیر کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ 
سندھ نے پہلے بھاشا ڈیم پر اپنے اعتراضات واپس لے لئے تھے۔ لیکن اب جس طرح سے ڈیموں کے لئے مہم چلائی جارہی ہے اور کالاباغ ڈیم بنانے کا اشارہ دیا جارہا ہے۔ صوبے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ 
پہلے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا بیان سامنے آیا کہ دریائی سسٹم میں اتنا پانی موجود ہی نہیں کہ ڈیم بنایا جائے۔ اس کے علاوہ سندھ نے جس مقام پر ڈیم تعمیر ہوگا سکے ارضیاتی حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پیپلزپارٹی سینیٹ میں اور بطور پارٹی یہ کہہ رہی ہے کہ جو بھی اس متنازع مسترد ڈیم کی بات کرے گا اس کی سخت مزاحمت کی جائے گی۔انہوں نے باور کروایا کہ عالمی قانون کے مطابق دریا کے آخر پر بسنے والوں کا زیادہ حق ہوتا ہے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کے معاملے کو چھیڑنے سے وفاق کمزور ہوگا اور بے وقت راگنی چھیڑنے سے دیگر آبی منصوبے بھی متنازع ہوجائیں گے۔ متنازع معاملات کو ہوا دینا قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔تمام تر کوششوں کے باوجود بڑے آبی ذخائر کا فیصلہ کسی غیرمنتخب فورم سے نہیں ہو سکتا، لگتا ہے کہ کالاباغ ڈیم کے صرف ایک پہلو پر بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ بریفنگ دینے والے ڈیم کے سیاسی پہلو پر بریفنگ دیتے تو متنازع ڈیم کا ذکر نہ کیا جاتا۔ توقع ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ 
اب کہا جارہا ہے کہ ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف آئین کی شق 6 لاگو ہوسکتی ہے ۔ یعنی غداری کا مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کو غدار کہا جارہا ہے۔ 2005 میں مشرف دور میں بھی کچھ ایسے ہی الزامات لگائے گئے تھے۔ ۔ صوبائی وزیر سید ناصر شاہ نے کہنا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی بات کرنے والوں کے خلاف شق 6 کااطلاق ہونا چاہئے۔ 
سندھ سے سوشل میڈیا پر بھی زبردست ردعمل سامنے آیا۔وہ کہتے ہیں کہ شق 6 قبول، ڈیم نامنظور۔ آکر ایسی صورتحال کیوں بنائی جارہی ہے؟وزیراعلیٰ سندھ، پیپلزپارٹی کے سنیٹرز اور صوبائی وزیر بھی ڈیم پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کی قرارداد کے بعد کیا ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف واقعی غداری کے مقدمات قائم کئے جا سکتے ہیں؟
فیصلہ سازوں کو سمجھنا چاہئے کہ یہ ملک ایک فیڈریشن ہے،تاحال پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔تمام متنازع امور کا فیصلہ کرنے کے لئے مشترکہ مفادات کی کونسل، بین الصوبائی وزارت اور دیگر آئینی ادارے موجود ہیں۔ماضی میں بھی صوبوں کی رائے اور آئینی اداروں کو بائی پاس کر نے کے اچھے نتائج نہیں نکلے ہیں۔ اور اب بھی اچھے نتائج نہیں نکلیں گے۔ آئیے ہم سب آئین اور آئینی اداروں کی طرف لوٹ آئیں، اور دیکھیں کہ وہاں مسائل کا حل کیا ہے؟ یہ حل کس طرح سے تلاش کیا جاسکتا ہے؟

http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/18-09-2018/details.aspx?id=p12_03.jpg

No comments:

Post a Comment