Tuesday, May 8, 2018

ایم کیو ایم دو سے ایک کیسے ہوئی؟


ایم کیو ایم دو سے ایک کیسے ہوئی؟ 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
گزشتہ ہفتہ ایم کیو ایم کے سابق ہیڈ کوارٹر کے قریب منعقدہ پیپلزپارٹی کے پاور شو نے ایم کیو ایم کی کوکھ سے جنم لینے والے دو بڑے گرپوں کو چھیڑ دیا۔ ایک ہفتے کے اندر ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے بہادرآباد اور پیر الاہی بخش کالونی کے دونوں گروپوں نے مل کر فیڈرل بی ایریا نیں ٹنکی گراﺅنڈ میں جلسہ کیا۔ یہ جلسہ بڑا تھا یا چھوٹا یہ الگ بحث ہے لیکن دونوں گروپوں نے مشترکہ جلسہ کیا۔ یہ وہ علاقہ ہے جو ایم کیو ایم کے سابق ہیڈ کوارٹر نائین زیرو کے قریب اور یہاں پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسہ کر کے پارٹی کی کراچی میں موجودگی کا اعلان کیا تھا۔ بلاول کے جلسے کے بعد خلاد مقبول صدیقی جس کو مبینہ طور پر اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور فاروق ستار کے گروپوں نے الگ الگ جلسے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہد ونوں اعالن پیپلزپارٹی کو جواب دینے کے لئے کئے گئے تھے۔ آخر وقت تک یقین نہیں تھا کہ یہ جلسہ دونوں گروپوں کی مشترکہ تقریب بن جائے گا۔ دو تین روز کے انر ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کرنے اور غدار کا لقب دینے والے متحد ہو گئے۔ دونوں گروپوں میں اتنی جدلی قربت معنی خیز ہے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے خیرخواہ اور میانہ روی سوچ رکھنے ولاے حضرات پوری کوشش کر چکے تھے کہ کسی طرح سے یہ دونوں گروپ متحد ہو جائیں، قریب آجائیں۔ لیکن ان کی یہ کوششیں کئی ماہ کے بعد بھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔ دونوں گروپوں کے رہنما ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ 
 ایم کیو ایم میں حالیہ پہلا گروپ مصطفیٰ کمال کی قیادت میں پیدا ہوا جس نے پاک سرزمین پارٹی بنائی۔ اس کے بعد فاروق ستار کی قیادت میں ایم کوی ایم نے لندن سے لاتعلقی کا اظہار کا اعلان کیا۔ آگے چل کر لیڈر شپ کے معاملے پر پاکستان میں موجود گروپوں اور رہنماﺅں میں اختلافات شدید تر ہو گئے۔ اس دوران بظاہر کراچی کے مینڈیٹ کی دعوایدار جماعت دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ لیکن عملاان دو گروپوں کے اندر تین تین چار چار گروپ تھے۔ 
 رواں سال جنوری تک ملک کی سیاست کا محور اسلام آباد اور پنجاب رہے۔ کراچی میں کوئی زیادہا ثر دکھانے والی سرگرمی نہیں وہ رہی تھی۔ ماسوائے ایم کوی ایم کے مختلف گرپوں کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات وغیرہ کے۔ یا پھر کبھی کبھا ملک گیر پارٹی کے رہنما ” روٹین“ کی سرگمریوں کے حوالے سے سندھ کے دارالحکومت کا دورہ کر رہے تھے۔ لیکن سینیٹ کے انتخابات کے بعد جیسے ہی عام انتخابات کا راستہ نظر آنے لگا، تحریک انصاف، نواز لیگ، جماعت اسلامی، نے انتخابی مہم کے طور پر اپنی سرگرمیاں شروع کردی۔ نواز لیگ کے صدر شہابز شریف نے گزشتہ ماہ دو مرتبہ دورہ کیا اور اپنی اتحادی جامعتوں اور ایم کوی ایم کے رہنماﺅں سے ملاقاتیں کیں۔ وہ اس امر کا اجائزہ لے رہے تھے کہ نواز لیگ کے حامیوں اور کراچی یں آباد پنجابی بولنے والوں کی مدد سے کوئی نشست حاصل کی جاسکتی ہےَ اور یہ بھی کہ وفاق میں موجود ان کے اتحادی کراچی میں ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اس میٹروپولیٹن شہر میں نواز لیگ کے خلاف اتحاد بننے یا سیاست ہونے کے بجائے کس طرح سے اس کوپیپلزپارٹی کے خلاف سیاست میں تبدیل کیا جاسکتاہے؟ جو سندھ میں حکمران جماع شہباز شریف، عمران خان اور جماعت اسلامی کے مولانا سراج الحق سمیت کسی کے کراچی کے دورے پر ایم کوی ایم کو اعتراض نہیں تھا۔ البتہ پیپلزپارٹی نے جب جلسہ کیا تو اس کو برا لگا۔ 
 بلاول بھٹو کے جلسے نے ایم کوی ایم کو متحدہ کردیا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خٰال ہے کہ پیپلزپارٹی کو اپنا پاور شو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ کیونکہ پیپلزپارٹی کو ایم کیو ایم کے پس منظر میں سے کوئیووٹ ملنے کی امید کم ہی ہے۔ اس شو کے خوف نے ایم کیو ایم کو متحدہ کردیا۔ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں ایم کیو ایم کو قومی مصیبت موومنٹ کہا تھا اور یہ بھی کہا کہ اگر اس کے قائد برے ہیں تو اس قائد کے ساتھی بھی برے ہی ہونگے۔ یوں انہوں نے ایم کیو ایم کے دونوں گروپوں کے رہنماﺅں کوچھیڑ دیا۔ دوسری دلیل یہ دی جارہی ہے کہ پیپزپارٹی کے ضروری تھا کہ اپنے ہون گراﺅنڈ صوبے کے دارلحکومت میں پانا پاور شو کرے۔ اور اپنے وجود کا احساس دلائے۔ دوسری طرف دوسری ملک گیر جماعتیں کراچی میں” گھس“ رہپی تھی۔ 
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ ایم کیو ایم کو سیہات کرنے کی آزادی ہے۔ اصولی طور پر ایسا ہی ہونا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ کونسی سیاست؟ دونوں گروپوں کے جلسے میں جو تقاریر ہوئیں وہ بتاتی ہیں کہ ایم کیو ایم سیاست کو واپس اسی جگہ لے جانا چاہتی ہے جہاں پر جھگڑا ہوا تھا۔ وہ لسانیت کی بنیاد پر نفرت اور تفریق اور الگ صوبے کی بات کر رہی ہے۔ سندھ کو متروکہ سندھ قرار دے رہی ہے۔ صوبے اور اس کے عوام کو درپیش مسائل پر سیات کرنے کے بجائے صوبے کے دو بڑے لسانی گروہوں وک ایک دوسر ے کےمنے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کا لامحالہ نقصان عوام کا ہی ہونا ہے۔ 
 ایم کیو ایم کا جلسہ اور اس میں کی گئی تقاریر چار چیزوں کو عیاں کرتی ہیں: (۱) سندھ متروکہ ہے اور اس وک الگ صوبہ چاہئے (۲) مہاجر ووٹ بینک ایک ہے اور کو قتسیم نہیں کرنے دیا جائے گا۔ (۳) اس کو رہنما نہیں منزل چاہئے ( یعنی رہنما کوئی بھی ہو لسانیت اور صوبہ اہم ہے۔ یہ بات بظاہر اس کے قائڈ الطاف کی نفی کرتی ہے۔ (۴) مہاجریت کی شناخت برقرار رہے۔ 
 جس طرح سے ایم کیو ایم دونوں گروپ لوٹ آئے ہیں اور ایک دوسرے کے گلے ملے ہیں اس سے لگتا ہے کہ انہیں بلاول بھٹو کی تقریر اور پیپزپارٹی کے جلسے نے کٹھا کیا ہی ہے۔ اصل میں کوئی اور قوت ہے جس کے اشارے پر یہ سب ہوا ہے۔ پیلزپاٹی اور بلاول بھٹ نحض وجہ بنے ہیں۔ ویسے ای کیو ایم کے دوبارہ زندہ ہونے سے پیپلزپارٹی کو کوئی نقصان نہیں۔ خاص طور پر انتخابات کے موقعہ پر۔ پس منظر یہ بھی ہو کہ ایم کیو ایم ہاجریت اور صوبے کا مطالبہ کررہی ہو اور سندھ کو متروکہ قرار دے رہی ہو۔ پیپلزپارٹی کو یہ فائدہ ملے گا کہ ایم کیو ایم کے اس موقف کےردعمل میں سندھیت کے نام پر ووٹ لے گی۔ 
لگتا ہے کہ کراچی کا مینڈٰٹ ایم کوی ایم کے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فارمولے کے اسٹبلشمنٹ کو دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ کراچی میں لسانیت کی سیاست برقرار رہے گی اور کراچی کسی ملک گیر پارٹی کی چھتری کے تلے نہیں آ پائے گا۔ یعنی یہاں کی سیات پر اسٹبلشمنٹ کی گرفت مضبوط رہے گی۔ دوسری بات یہ کہ آئندہ انتخابات کے بعد پسند کے وزیراعظم کے لئے ایم مضبوط گروپ سے ووٹ کا حصول یقنی ہو جائے گا۔ لہٰذا ایم کیو ایم کو اس طرح متحدہ کرنا اور مہاجر ووٹ بینک کو متحدہ رکھنا ضروری خیا کیا گیا۔ 
 کراچی اور اسلام آباد کے سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ سٹبلشمنٹ کو خطرہ ہے کہ اگر ایم کیو ایم کو تحد نہیں کیا گیا، اور اس کے مینڈیٹ کو توڑنے کی کوشش کی گئی، ، اس بات کا امکان ہے کہ ایم کو ایم کا لندن والا قائد اپنے امیدوار کھڑے کردے۔ یا یہ کہ وہ انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کردے۔ اگر یہ صورتحال بنی تو 2013 کے بعد کئے گئے آپریشن، سیاسی چائنا کٹنگ اور دیگر کئے گئے اقدامات بہہ جائیں گے۔ لہٰا ایم کیو ایم پاکستان کو دوبارہ زندھ کرنا اور متحدہ کرنا ضروری تھا۔ 

MQM, Farooq Sttar,  Tanki Ground, Bilawal Bhutto,

http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/08-05-2018/details.aspx?id=p12_05.jpg

----------------------------------------------------------------
https://jang.com.pk/news/507253

فاروق ستار کا پھر نئے صوبوں کا مطالبہ ، پیپلز پارٹی پر سرکاری وسائل استعمال کرنیکا الزام

15 جون ، 2018
کراچی (نیوز ڈیسک؍اسٹاف رپورٹر) ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک بار پھر سندھ میں نئے صوبوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اب بھی سرکاری وسائل اور افسران کو استعمال کرر ہی ہے، الیکشن سے قبل دھاندلی کا سلسلہ جاری ہے، پری پول ریگنگ ہورہی ہے اور ہماری کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ جمعرات کو کراچی سٹی کورٹ میںمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ الیکشن ہمارے مسئلے کا حل نہیں اس سے ہم چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آجاتے ہیں لیکن عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہورہے، اس لیے ہم ایسی بات کریں جس کی آئین میں گنجائش ہو، آئینی اصلا حا ت کی بات کریں اور انتظامی بنیادوں پر صوبے بنانے کی بات کریں، سندھ میں بھی بشمول جنوبی سندھ نئے صوبے بنائے جائیں۔ ایم کیوایم رہنما کا کہنا تھا کہ اس بار پر ایک مثالی مردم شماری ہونا تھی جس کے نہ ہونے سے سب سے زیادہ نقصان کراچی اور سندھ کے شہریوں کا ہے، یہاں لوگوں میں بے چینی اور غصہ ہے، ہم نے انہیں صبر کی تلقین کی ہوئی ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ مردم شماری میں آبادی کم دکھائی گئی ہے، عوام کو حق نمائندگی سےمحروم کیا جارہا ہے، آئینی اور انتظامی اصلاحات نہیں کی گئیں تو الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ ہم ایم کیوایم
پاکستان کے کارکن، ممبر اور رکن ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے باوجود سمجھتا ہوں کہ سندھ میں ایم کیوایم کا ووٹ بینک تقسیم نہیں ہونا چاہیے، وہ ایم کیو ایم کی تقسیم کا بالکل بھی ساتھ نہیں دیں گے، میں بہادرآباد کے ساتھیوں کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ اب ہمیں اپنا مسئلہ حل کرلینا چاہیے اور ملکر ایم کیوایم کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنا چاہیے کیونکہ یہی عقلمندی ہے۔ قبل ازیں ایم کیوایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کاغذات نامزدگی فارم کی اسکروٹنی کے لیے ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہوئے تاہم ان کے کاغذات کی اسکروٹنی مکمل نہ ہوسکی۔ ریٹرننگ افسر نے فاروق ستار کو بتایا کہ ان کے کاغذات کی اسکروٹنی عید کے بعد مکمل کی جائے گی، کاغذات کی تصدیق کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔

----------------------------------

فاروق ستار کو بہادرآباد واپسی کا مینڈیٹ مل گیا

15 جون ، 2018
کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پی آئی بی گروپ کا فاروق ستار کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس میں ایم کیو ایم کے اراکین رابطہ کمیٹی کی اکثریت نے فاروق ستار کو بہادرآباد واپسی کا مینڈیٹ دے دیا۔ذرائع کے مطابق اراکین اجلاس میں اس نکتے پر بھی متفق ہوئے کہ الیکشن میں بہادرآباد کے امیدواروں کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے۔
اجلاس میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ انتخابات میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا اہم معاملہ ہے۔
....................................

عید کے موقع پر ایم کیو ایم بہادر آباد اور پی آئی بی ایک ہوگئے

16 جون ، 2018
عیدالفطر کے موقع پر ایم کیو ایم بہادر آباد اور پی آئی بی ایک ہو گئے۔  دونوں نے مل کر کام کرنے اور ایک ہونے کا اعلان کردیا۔
فاروق ستار اختلافات بھلاکر بہادر آباد دفتر جا پہنچے ۔ بہادرآباد آفس میں خالد مقبول صدیقی،فیصل سبزواری اور خواجہ اظہار سمیت دیگر رہنماؤں نے استقبال کیا ۔جس کے بعد سینئر رہنما ؤں کا اجلاس ہوا ۔

اجلاس کے بعد دونوں دھڑوں نے دوبارہ مل کر کام کرنے کا ا علان کر دیا ۔
میڈیا سے گفتگو میں فاروق ستار نے کہا کہ مقصد ایم کیو ایم کو ہر حال میں ایک رکھنا مقصد ہے ۔الیکشن نہیں اس کے بعد بھی ایک رہنا ہے ۔ایم کیو ایم کے دھڑوں کو یکجا کرنے کے لیے چاند رات کے انتخاب کا مقصد عید پر خوشخبری اور عیدی دینا تھا ۔
اس موقع پر خالد مقبول کا کہنا تھا کہ چاند رات پر چار چاند لگ گئے ، عید کا مزا دوبالا ہو گیا۔ایم کیو ایم کسی ایک کی نہیں،سب کی ہے، ہم ایک ہیں،کسی فارمولے کی ضرورت نہیں،سازشیوں کا پتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ چند ماہ میں ایم کیو ایم کی طاقت کا اندازہ ہوا ہے۔ بہت سارے سوالوں کا ہم نے ملکر جواب دے دیا،باقی سوالوں کےجواب عید کےبعد دیں گے ۔خلوص اور محنت کو دیکھتے ہوئے پارٹی ٹکٹ دیے جائیں گے۔


ایم کیوایم پاکستان کے دونوں گروپوں میں اختلافات ختم

16 جون ، 2018
کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں گروپوں کے درمیان جار ی اختلافات ختم ہوگئے ہیںاور سنیئر رہنما فاروق ستار نے ایم کیو ایم کی کنوینر شپ کے حوالے سے الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے بہادر آباد کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں فاروق ستار کی قیام گاہ پر ان کی صدارت میں ان کے حامیوں کا اجلاس ہوا جس میں اگلے انتخابات کے حوالے سے طویل بحث ہوئی، وہاں موجود بیشتر ارکان کی رائے تھی کہ عدالتی فیصلے کے بعد ہمیں معاملات کو مزید خراب کرنے کے بجائے حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بہادر آباد کے ساتھیوں کی پیش کش کو قبول کرنا چاہئے،ایم کیو ایم پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سنیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کو رضا مند کرنے کے لئے دو رکنی ٹیم کو پی آئی بی بھیجا تھا جس میں سردار احمد اور کشور زہرا شامل تھے،جمعرات کو بھی کشور زہرا نے ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات کی اور انہیںمل کر کام کرنے پر رضامند کرنے کی کوشش کی، جمعرات کی شب پی آئی بی کے اجلاس میں بھی کئی افراد نے
عدالتی فیصلے کو قبول کرنے پر زور دیا، جس کے بعد جمعہ کو ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے ساتھیوں سے مزید بات چیت اور مشاورت کی ،اس بات کا قوی امکان ہے کہ عید کے بعد صورت حال میں مزید مثبت تبدیلی آ ئے گی اور دونوں گروپ یکجا ہوجائیں گے جس کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے ناراض ہوکر پی آئی بی جانے والے ارکان اور کارکنوں کو بھی الیکشن میں ٹکٹ دینے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔


Fear of PPP, PSP forces MQM factions to patch up
KARACHI: Wary of the Pakistan Peoples Party and Pak Sarzameen Party’s prospects in the upcoming general elections, the PIB and Bahadurabad groups of the Muttahida Qaumi Move­ment-Pakistan on Friday decided to put aside their differences for now to show their voters and supporters that they will go to the polls together under the same election symbol of kite.
Dr Farooq Sattar seems to be the sole loser in the battle that began on Feb 5 over MQM-P leadership, as background interviews with some key leaders of the Bahadurabad group indicated that they were unwilling to give him back the responsibility of the party convener, especially after the June 11 decision of Islamabad High Court.
The IHC had ruled that the MQM coordination committee convener was Dr Khalid Maqbool Siddiqui and not Dr Sattar as per decision of the Election Commission of Pakistan. While Dr Sattar told a press conference following the decision that he could challenge the IHC ruling before the Supreme Court, Dr Siddiqui at his press conference invited him to the Bahadurabad office of the party though without mentioning his future role in the MQM-P.
Sources said most of the PIB group members were against any further confrontation with the Bahadurabad group as they did not want Dr Sattar to approach the Supreme Court, citing that a division within the MQM-P would only benefit the rival PSP and PPP in the July 25 general elections.
The sources said candidates of the two factions had filed nomination papers for national and provincial assembly seats against each other, but there was a realisation in both camps that none of them could win even a single seat if the division persisted.
While most members in the PIB camp are ready to return to Bahadurabad unconditionally, the Bahadurabad faction seems uninterested in giving Dr Sattar the importance they were promising until a few days back.
Even a day before the IHC decision, the Bahadurabad faction offered Dr Sattar to return to the party as convener of the coordination committee. “This [offer] is no longer valid,” said a senior Bahadurabad group leader, adding that the IHC declared Dr Siddiqui convener on a plea filed by Dr Sattar himself.
“Our doors are open for every worker, office-bearer and leader, including Farooq bhai, and they should return to the party and we all should go to polls from the united platform of the MQM-P,” he said.
He said that it was decided during behind-the-scene talks between the two camps that the PIB group would submit a list of their candidates to a parliamentary board, which would make a final decision.
Asked whether the Bahadurabad group would give Dr Sattar the right to grant election ticket, another senior leader briefly replied: “I doubt.”
Dr Sattar was earlier told that he could return to the party as convener but the power to grant election tickets and authority to oversee internal organisational matter would rest with other persons.
On Friday, a meeting was held at Dr Sattar’s residence in which it was decided that the PIB group would go to Bahadurabad as MQM-P workers “for the sake of unity”.
Former MQM MNA Ali Raza Abidi, who is currently associated with Dr Sattar-led PIB group, in a video statement said that “we all have decided after consultation to go to Bahadurabad headquarters as workers on Friday night and will cotest election together”.
Differences within the MQM-P had surfaced on Feb 5 when Dr Sattar had announced boycott of a coordination committee meeting, as his rival had refused to give a party ticket to his favourite, Kamran Tessori, for the Senate elections.
Later, the Bahadurabad group removed Dr Sattar from the position of party convener and appointed Dr Siddiqui as the new party leader. Dr Sattar, however, did not budge. He held his group’s intra-party elections and appointed himself as the convener. The Bahadurabad group challenged the intra-party elections before the ECP that later accepted Dr Sattar’s removal and declared Dr Siddiqui the party convener.
The split cost the MQM-P dearly as the party failed to retain its four seats in the Senate during the March 11 elections. The Bahadurabad group managed to get only one seat, while the PIB faction remained empty-handed, as the PPP bagged 10 of the 12 seats.
Party insiders believed that even if the PIB and Bahadurabad groups managed to reconcile, the two sides could fight again at the time of finalisation of party tickets for the general elections.

Published in Dawn, June 16th, 2018

No comments:

Post a Comment