Friday, November 16, 2018

زرداری اور نواز شریف کی حکمت عملی


زرداری اور نواز شریف کی حکمت عملی

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
سعودی پیکیج کے کرنسی مارکیٹ میں مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں پونے روپے سے دو روپے تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس پیکیج کے اعلان کے بعد ملک کی سیاسی مارکیٹ پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔حکومت کی پریشانی میں بڑی حد تک کمی آئی ہے وزیر اعظم کہنے لگے ہیں کہ ممکن ہے کہ اب آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینا پڑے، اور اگر لینا بھی پڑا تو تھوڑا سا ہوگا۔ ملک کا معاشی بحران سے نکلے کی ہر محب وطن پاکستانی خیرمقدم کرے گا۔لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ملک کو یہ امداد مفت میں نہیں مل رہی اور اس امداد کے عوض ہم سے جو خدمت لی جا رہی ہے وہ پاکستان کی مشکلات میں کمی نہیں بلکہ اضافے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ 
منحرف صحافی جمال خاشقی کے سفارت خانہ میں قتل کے معاملے میں سعودی عرب عالمی سطح پر مشکل میں ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دو سال میں وہ تجارتی خواہ سرمایہ کاری اور خارجہ امور کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ اتنا قریب نہیں تھا جتنا امریکہ اور انڈیا کے قریب ہو گیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ کسی کو این آر او نہیں ملے۔ اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ (نواز)اورپیپلزپارٹی کہتی ہیں کہ حکومت سے این آر او کس نے کیسے اور کب مانگا؟۔ احتسا ب کا آغاز علیم خان اور جہانگیرترین سے کیا جائے۔ انصاف اور احتساب کے نام پر انتقام نہیں چلے گا۔ 
وزیراعظم عمران خان اب کہتے ہیں کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں جماعتیں سڑکوں پر آنا چاہتی ہیں، آجائیں کنٹینر ہم فراہم کریں گے۔ یہی وزیراعظم سعودی پیکیج سے پہلے کہہ رہے تھے کہ ان کے خلاف اپوزیشن سازش کر رہی ہے۔ پاکستان کی نمائندہ وکلاء تنظیمیں، بااختیار بار کونسلیں کا عدالتی نظام نسق میں مداخلت، ججوں کو دباؤمیں لانے، ججوں کو دباؤپر معزول کرنے اور آئین سے تجاوز جیسے واقعات پر غم و غصہ کا اظہارکر چکی ہیں۔
معاشی حالات سے لگتا ہے کہ سعودی پیشکش ایک حد تک ہی بیل آؤٹ پیکیج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر پیسے چاہئیں، جس ذکر وزیر خزانہ اسد عمر گزشتہ روز کر چکے ہیں۔ وزیراعظم بھی سمجھتے ہیں کہ یہ پیکیج کلی طور پر ملک کی معاشی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ ۔سعودی اکنامک کانفرنس میں پچاس لاکھ گھر جو رعایتی بننے تھے، سرمایہ کاری مانگ لی۔ اب وہ مزید رقم کی تلاش میں خلیجی ریاستوں کے دورے پر بھی نکل رہے ہیں۔ 
سعودی پیکیج سے پہلے ملک میں اقتصادی افراتفری کی صورتحال تھی۔ مہنگائی عروج کو پہنچ چکی تھی۔ عام لوگوں میں نالائقی،نا اہلی، بد انتظامی،کرپشن، مہنگائی، غیرملکی قرضہ جات کی افادیت، پروٹوکول نہ رکھنے کے دعوے زیر بحث ہے۔پوزیشن اس موقعہ سے فائدہ اٹھانا چاہ رہی تھی۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے خلاف گھیراؤ تنگ کرنے کی خبریں آنے لگی۔ اپوزیشن نے اس ضمن میں اپنی تیاریاں شروع کردی تھی۔ نواز شریف اور آصف زرداری ایک دوسرے کے قریب آرہے تھے۔ 
وزیراعظم قوم بار بار خطاب کئے جارہے ہیں۔ اپوزیشن کا یہ موقف ہے کہ حکومت اپنی نا اہلی چھپانے کے لئے لوگوں کو احتساب کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جارہا ہے۔عوام مہنگائی اور بیروزگاری سے چھٹکارا مانگ رہی ہے، بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینا چاہتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالر ہو یا گیس بجلی کے نرخ یا اشیائے صرف کی قیمتیں جو بڑھ گئی ہیں وہ واپس پرانی سطح پر نہیں آسکتی۔ اگر حکومت کوشش بھی کرے گی تو ڈالر کی قیمت میں ایک حد تک ہی کمی آسکے گی۔ سعودی پیکیج سے حکومت کو تو کچھ سہولت ہو سکتی ہے لیکن عوام کو کوئی فوری رلیف نہیں ملے گا۔ 
آصف علی زرداری سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی ہونے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جاتی امرا پر دستک دی ہے۔ فضل الرحمان نئے دور کے نوابزدہ نصر اللہ خان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین سال کے دوران پیپلزپارٹی شاید علامہ طاہرالقادری کی ثالثی کام آئی۔ نواز شریف کے خلاف عمران خان کا بلواسطہ طور پر ساتھ دے رہی تھی۔ اس کی حکمت عملی کی وجہ سے عمران خان کے لئے اقتدار کا راستہ آسان بنا۔
2018ء میں تحریک انصاف عملاً سینیٹ کا چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین پیپلزپارٹی کو سونپ چکی۔ سینیٹ الیکشن کے نتائج میں پیپلزپارٹی کی حکمت عملی بھاری نظر آنے لگی۔ پیپلزپارٹی کا خیال تھا کہ ہنگ پارلیمنٹ آئے گی۔ اور وہ کنگ میکر کا کردار ادا کرے گی۔ ہنگ پارلیمنٹ تو آگئی لیکن پیپلزپارٹی کو وہ کردار نہیں ملا۔ پیپلزپارٹی کی ضرورت ختم ہو گئی۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کے اور اس کے رہنماؤں کے پرانے ’’گناہ‘‘ یاد آگئے۔ پیپلزپارٹی کو اپنی حدود میں رکھنے کے لئے ڈرایا جارہا ہے کہ سندھ میں اس کی حکومت ختم ہو سکتی ہے اور گورنر راج نافذ ہو سکتی ہے۔ اس کا عندیہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو سے بھی ملتا ہے، جس مں انہوں نے کہا ہے کہ میں گورنر راج نافذ کرنے کی کوئی آئینی گنجائش نہیں۔ 
اگرچہ عام انتخابات کے بعد آصف زرداری رول کم نظر آرہا تھا۔ لیکن حالات و واقعات کچھ ایسے بنے کہ چند ہفتوں میں نواز شریف، زرداری، فضل الرحمان، اے این پی اور کچھ دوسری پارٹیوں کو ایک صفحے پر آگئے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ نئے اتحاد کے ذریعے زرداری رعایت لینا چاہ رہے ہیں۔ موجودہ مشکل صورتحال میں نواز شریف اور زرداری ملک کر عمران خان حکومت کو ہٹائیں یہ ان دونوں کو وارا نہیں کھاتا۔ کیونکہ موجودہ معاشی اور علاقائی صورتحال کا حل ان دونوں کے پاس بھی نہیں۔ جو حل ان کے پاس ہے اس کے لئے مقتدرہ حلقے تیار نہیں ہونگے۔نواز شریف اور زرداری کی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے کہ ’’نئے پاکستان‘‘ کی کشتی اپنے منطقی انجام تک پہنچے۔ سیاست کی عدم شرکت والے حالیہ پروجیکٹ کو آزمائش کا پورا موقعہ دیا جائے۔ مقتدرہ حلقوں کو سمجھانے کے لیے وہ اس کے خواب کی تکمیل یا تجربہ ضروری سمجھتے ہیں۔ جس میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے جو ڈالر کی بارش ہونی ہے وہ ہونے دو، لوٹی ہوئی دولت واپس آنی ہے ۔ ٹیکسوں کی مد میں مزید رقومات جمع ہونے کے دعوے اور وعدے ہیں۔ منی لانڈرنگ، سوئز بینک اکاؤنٹس سے پیسے نکلوانے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں سمجھتی ہیں کہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ ایسی چیزیں ہیں جنہیں عام لوگوں میں ا یک نعرے اور بیانیہ کے طور پر تو بیچا جاسکتا ہے لیکن اس کا کوئی عملی پہلو نہیں۔ لہٰذا دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کو کوئی جلدی نہیں۔
پنجاب کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ڈیڑھ درجن اراکین انتظار میں کہ نواز لیگ رابطہ کرے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ وفاق اور پنجاب کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’’ان ہاؤس‘‘ تبدیلی جمہوریت کا حصہ ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج نے صورتحال کو عوامی سطح پر مزید اپوزیشن کے حق میں رائے دے دی ہے۔
مرکز اور پنجاب جہاں تحریک انصاف آزاد اراکین کی مدد سے حکومت بنا سکی ہے وہاں ناراض اراکین اسمبلی کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ لیکن دونوں بڑی جماعتیں حالیہ پروجیکٹ کا حصہ بننا پسند نہیں کریں گی۔ ان ہاؤس تک اگر معاملہ گیا بھی تو یہ جماعتیں چاہیں گی کہ کوئی تیسرا شخص بھلے آئے۔ حکومت کے خلاف حالیہ تحرک پیپلزپارٹی کا ہی انشی ایٹو ہے۔ نواز لیگ کہتی ہے کہ حکومت کے خلاف جس قرارداد کا ذکر آصف علی زرداری نے کیا ہے وہ قرارداد پیپلزپارٹی ہی آگے بڑھائے۔کچھ عرصہ اپوزیشن تحریک انصاف کی حکومت کو دوڑاتی رہے گی۔
روزنامہ نئی بات ۔سہیل سانگی کالم ۔ ۲۶ اکتوبر ۲۰۱۸ 

No comments:

Post a Comment