Wednesday, December 30, 2015

رینجرز کے اختیارات اور سندھ حکومت کی فرمائش


 رینجرز کے اختیارات اور سندھ حکومت کی فرمائش
 میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
 رینجرز ک پولیس کے اخیارات دینے کے معاملے پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ رینجرز کو رواں سال جولائی میں پولیس کے اختیارات دیئے گئے تھے۔ ان ختیارت کی مدت چھ دسمبر کو ختم ہو چکی ہے۔ اختیارات میں توسیع کے لئے سمری وزیراعلیٰ سندھ کو دو ہفتے قبل بھیج دی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے اس پر دستخط نہیں کئے۔ 

 صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم میاں نواز شریف اور آرمی چیف مدت ختم ہونے کے ایک روز بعد کراچی پہنچے اور انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں آپریشن جاری رہے گا۔ رینجرز کو بھی اختیارات ملیں گے اور سیاسی جماعتوں کی مسلح شعبوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ اجلاس میں سندھ حکومت نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ یہ وہ خدشات تھے کہ وفاقی ادارے سندھ میں مداخلت کر رہے ہیں۔مداخلت کا یہ معاملہ کراچی میں دہشتگردی، بھتہ خوری، اور ٹارگیٹ کلنگز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے بعد شروع کی ہوا۔

اس موقعہ پرسندھ حکومت نےر پھر وفاق سے کراچی میں جاری آپریشن کے لئے اسلح اور دیگر مدوں میں 24 ارب روپے کی رقم مہیا کرنے کا مطالبہ دہریا ہے۔ صوبائی حکومت کا یہ موقف ہے کہ وزیر اعظم نے تین مرتبہ کراچی آپریشن کے اخراجات کی مد میں مدد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن ان میں سے کسی پر بھی تاحال عمل نہیں ہو سکا ہے۔ وزیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایپکس کمیٹی میں فیصلے باوجود رقم نہیں فراہم کی جارہی ہے۔

 آرمی چیف کا کہنا ہے کہ آپریشن کے کپتان وزیراعلیٰ سندھ ہیں۔ وزیر اعلی نے وزیر اعظم سے ملاقات میں بھی رینجرز کے اختیارات کا معاملہ اٹھایا۔ وزیراعظم کا بیان جو ریکارڈ پر آیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ رینجرز کے بارے میں تحفظات دور کئے جائیں گے۔ لیکن آپ آپریشن کی مدت میں توسیع کریں۔

 وزیراعلیٰ نے یہ بھی شکایت کی کہ رینجرز صوبے میں انہیں جو اختیارات دیئے گئے ہیں ان سے ہٹ کر بھی کارروائی کرتی ہے۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وزیراعلیٰ نے بعد میں اپنی کچن کابینہ سے بھی مشورہ کیا اور دبئی میں پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے بھی رابطہ کیا۔ مزید ہدایات کے لئے پارٹی کے چیئرمیں بلاول بھٹو زرداری دبئی گئے ہوئے ہیں۔ جہاں سے حتمی فیصلہ ہوگا۔ 

اگرچہ آپریشن ہر مرض کی دوا نہیں۔ لیکن صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں کا یہ دعوا ہے کہ آپریشن اچھے نتائج دے رہا ہے۔ لیکن وفاق اور صوبے کے درمیان جھگڑا رینجرز کو اختیارات دینے پر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ رینجرز اگرچہ کراچی میں نوے کے عشرے سے موجود ہے۔ 
 سندھ حکومت رینجرز کو اختیارات دینا چاہ رہی ہے۔ بلکہ اسے یہ اختیارات دینے پڑیں گے۔ کیونکہ سندھ حکومت وفاقی اداروں سے ٹکر لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے پیغام کے انتظار میں ہیں ۔ اور پارٹی قیادت نے مبینہ طور پر یہ کہا ہے کہ ابھی انتظار کریں۔ 

وزیراعلیٰ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کر سکتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ انہوں نے یہ ضروری سمجھا کہ صوبائی اسمبلی سے اس کی منظوری لی جائے۔ 

 جمہوری اداروں کے درمیان تصادم اچھا شگون نہیں۔ صوبائی حکومت کے خدشات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امن و امان کی بحالی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ کیونکہ ایک ادارے کے دوسرے ادارے کی حدود میں داخل ہونے سے تنازعات پیدا ہوتے ہیں ۔ 

 اب معاملہ سندھ اسمبلی میں لے جایا جارہا ہے۔ اور ایک قرارداد پیش کی جارہی ہے۔ سندھ حکومت کی بنیادی طور پر تین شرائط ہیں۔ ۱ول یہ کہ رینجرز کو سیاسی رہنما گرفتار کرنے کا اختیار نہ دیا جائے۔ دوئم یہ کہ کرپشن کے مقدمات دہشتگردی کی عدالت میں نہ چلائے جائیں سوئم یہ کہ رینجرز کوئی بھی کارروائی وزیراعلیٰ کی منظوری یا ان کو آگاہ کئے بغیر نہ کرے۔ 

سندھ حکومت وفاقی حکومت پر یہ بھی دباﺅ ڈال رہی ہے کہ آپریشن کے اخراجات کا ایک حصہ وفاقی حکومت برداشت کرے۔ سندھ حکومت کے اس مطالبے میں وزن ہے۔ اس لئے کہ صوبائی حکومت کو ایک خطیر رقم آپریشن پر خرچ کرنی پڑ رہی۔ ّپریشن دراصل ہنگامی یا ناگہانی قسم کی صورتحال ہے جس میں متاثرہ صوبے کی مدد کرنا وفاقی حکومت کا فرض بنتا ہے۔ یہ دلیل اس وقت مزید مضبوط ہو جاتی ہے جب یہ آپریشن وفاقی حکومت کے فیصؒے کے تحت کیا جارہا ہے اور یہ بھی کہ خود وزیراعظم ان اخراجات میں وفاق کی جانب سے حصة دینے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ 

سندھ حکومت کے ان دو شرائط کے پیچھے بعض سیاسی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ کیونکہ اس کی زد میں پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں آرہی ہیں۔ 

ینجرز کا یہ موقف رہا ہے کہ وزراءوغیرہ جو کرپشن یا چائنا کٹنگ کے ذریعے وصولی کرتے رہے ہیں وہ رقم دہشتگردی پر استعمال ہو رہی ہے۔چونکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی رینجرز کا اب براہ راست مینڈیٹ ہے لہٰذا رینجرز ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھتی۔ حکمران جماعت کا دوسرا نقطہ اپنے وزراء وغیرہ کو بچانے کی کوشش ہے جن پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ یہ معاملہ خاص طور پر ڈاکٹر عاصم حسین کے حوالے سے بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

 ڈاکٹر عاصم کے ریمانڈ لینے پر سندھ حکومت اور رینجرز کے دو الگ الگ موقف تھے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ رینجرز نے سندھ حکومت کے تین وزراء کو اس ادارے کے حوالے کرنے کا مطلابہ کیا تھا۔ جن میں سے ابھی دو کابینہ سے ہٹا دئے گئے ہیں

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مرحلے پر پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ اس طرح سے پیپلزپارٹی نہ صرف اپنے لوگوں کو بلکہ ایم کیو ایم کے لوگوں کو بھی بچانا چاہتی ہے۔ 

 پیپلزپارٹی کی یہ پیشکش اس لئے بھی ہے کہ وہ اس معاملے میں تنہا نہ ہو جائے۔ حالانکہ ایم کیو ایم خود زیر عتاب ہے۔ لیکن بلدیاتی انتخابات میں کراچی میں اکثریت سے جیت نے اس کی پوزیشن مضبوط کردی ہے۔ پیپلزپارٹی نے یہ پیشکش کر کے دراصل ایم کیو ایم کے اس مینڈیٹ کو تسلیم کیا ہے۔ 

کراچی میں آپریشن صرف وفاقی حکومت کا ایجنڈا نہیں ، بلکہ عسکری قوتیں بھی یہ آپریشن چاہتی ہیں ۔ اس لئے سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات میں توسیع ہر حال میں کرے گی۔ لیکن اپنے کچھ مطالبات منوانے اور تحفظ کو یقینی بنانا چاہ رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وفاق اور عسکری ادارے سندھ حکومت کی کونسی فرمائش پوری کرتے ہیں؟

Written on  Dec 12, 2015 
 for Nai Baat

No comments:

Post a Comment