کراچی کے انتخابات کا تجربہ
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
پنجاب اور سندھ میں کچھ بھی نہیں بدلا۔ان دو صوبوں میں وہی رجحان سامنے آیا ہے جو 2013 کے عام انتخابات میں دکھائی دیا تھا۔ سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم اور دیہی علاقوں میں پیپلزپارٹی جیتی ہے۔ کراچی کے ووٹر نے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو قبول نہیں کیا۔ ان کا اتحاد نہیں کام آیا۔ اور کراچی میں” زیرعتاب“ متحدہ قومی موومنٹ کو اکثریت حاصل ہوگئی ہے ۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں بلدیاتی انتخابات میں کئی اتحادوں اور درجن جماعتوں کی شرکت کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے خود کو گھروں تک محدود رکھا ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر اردو بولنے والوں کی آبادیوں میں زیادہ دیکھا گیا۔
کم ٹرن آﺅٹ کی ایک توضیح یہ بھی کی جارہی ہے کہ شہر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کرکے لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ اگر وہ باہر نکلیں گے تو چھاپے میں ان کی گرفتاری بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن ایم کیو ایم کا دعوا ہے کہ وہ اپنے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک لے آنے میں کامیاب ہوگئی۔
اگر ایم کیو ایم کے اس دعوے کو مان لیا جائے کہ اس کے ووٹرز تو نکل آئے تھے ، تو کیا اس کے حقیقی معنوں میں اتنے ہی ووٹر ہیں؟
کراچی میں سنہ 2013 میں تخریب کاری کے واقعات کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد پولنگ سٹیشنوں تک پہنچی اسی طرح عزیز آباد میں حلقہ این اے 246 پر ضمنی انتخابات میں بھی ٹرن آو ¿ٹ بہتر رہا۔بلدیاتی انتخابات گلی گلی کے انتخابات ہوتے ہیں ان میں کہ اگر ٹرن آو ¿ٹ 35 سے 40 فیصد بھی رہتا ہے توبھی کافی کم کہلائے گا۔
موجودہ ٹرن آﺅٹ پچیس سے تیس فیصد بتایا جاتا ہے ۔سیاسی جماعتیں بڑی تعداد میں لوگوں کو باہر نکالنے میں ناکام رہی ہیں، جس کو بعض تجزیہ نگار بلدیاتی اداروں اور سیاسی جماعتوں پر بد اعتمادی کا اظہار کا نام دے رہے ہیں۔
کراچی کے بلدیاتی انتخابات کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں کے برعکس کراچی میں حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے خود مہم چلائی لیکن انتخابی گہماگہمی کے ووٹنگ کے دن اثرات نظر نہیں آئے۔ اور تبدیلی کا کارڈ نہیں چلا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تقریبا 70 فیصد لوگوں نے خود کو ان انتخابات سے خود کو دور رکھا اور اس میں ووٹ ہی نہیں ڈالا۔اس صورتحال میں ایم کیو ایم کی کلی طور پر نمائندہ حیثیت سیاسی حوالے سے نہیں مانی جائے گی۔
اردو بولے جانے والی آبادیوں میں سیاسی سرگرمیاں محدود نظر آئیں۔ ان آبادیوں میں کارکن اتنے سرگرم نظر نہیں آئے ہوں گے جتنی ان علاقوں میں ہلچل تھی جہاں اردو بولنے والے کم ہیں۔ اردو بولنے والی آبادیوں میں جماعت اسلامی کے علاوہ اور کوئی جماعت موجود نہیں۔
لوگوں کا ردعمل توقع کے خلاف رہا لیکن ایم کیو ایم جس بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ مہاجر کارڈ چلے گا یا صوبہ کارڈ چلے گا وہ بھی نہیں چلا۔
اردو بولنے والی آبادیوں میں بھی متوسط طبقے والی آبادیوں میں ووٹر ٹرن آوٹ کم رہا اس کی برعکس غریب طبقے والی آبادیوں میں ٹرن آو ¿ٹ زیادہ نظر آیا ۔
کراچی میں عمران خان کی مقبولیت اور جماعت اسلامی کے نظم اور تجربے کو یکجا کرکے دونوں جماعتوں کا اتحاد ایم کیو ایم سے مقابلے میں اتارا گیا ۔جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو ماضی کے برعکس سازگار ماحول ملا ہے۔ گذشتہ عام انتخابات کا جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کردیا تھا جبکہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں شہر کے ہر علاقے میں مشترکہ یا آزاد حیثیت میں امیدوار کھڑے کیے گئے ہیں، جن کا ایک ہی نعرہ ہے کہ شہر میں امن قائم کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی اور عمران خان کی حکمت عملی جو بھی ہو لیکن ان کا زیادہ تر انحصار شہر کی پختون آبادی پر تھا۔ جو ”ووکل“ بھی رہی ہے۔ انتخابات سے قبل عمران خان اور سراج الحق نے مشترکہ ریلیاں نکالیں۔ عام انتخابات میں اس آبادی کے ووٹ پر کبھی اے این پی، کبھی جے یو آئی، تو کبھی اور پختونوں کی جماعت ایک دو صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرتی رہی ہے۔ لیکن اس مرتبہ پختون آبادی کا رجحان جماعت اسلامی سے بھی آگے مذہبی بنیادوں پر رہا۔
متحدہ قومی موومنٹ کو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اس کو جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد کے علاوہ رینجرز کے آپریشن کا بھی سامنا رہا ہے لیکن وہ اس کو ہمدردیوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ایم کیو ایم کو ہمدردی کا بھی ووٹ ملا ہے۔ جس کا اعتراف خود ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کیاہے کہ ’یہ ہمارے لیے بہت اچھا ہوا، یوں سمجھئے زحمت کی آڑ میں رحمت ہے۔
بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے ماضی کے برعکس اردو بولنے والوں کی اکثریتی آبادیوں تک محدود رکھا ہے۔
حالیہ بلدیاتی انتخابات میں حکمران پاکستان پیپلزپارٹی کو ماضی قریب کا سب سے بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے، لیاری میں چار سے زائد یونین کونسلز میں اس کو امیدوار نہیں ملے تاہم اس کی نظریں پھر بھی دیہی علاقوں پر مشتمل ضلعی کونسل پر رہیں جہاں اس کا مقابلہ مقامی برادری کے اتحاد سے رہا جس کو مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی حمایت حاصل تھی۔ بہرحال پیپلزپارٹی کو کراچی کے دیہی علاقوں میں اکثریت حاصل ہوئی۔
ایم کیو ایم گزشتہ تین دہائیوں سے کراچی کی سیاست پر چھائی رہی ہے۔ اس کے پاس ہر طرح کا نیٹ ورک، اور طاقت رہی ہے۔ تنظیم کاری موجود ہے ۔کارکنوں کی تعداد موجود ہے۔اس کے پاس ووٹرز، حلقہ بندیوں اور دیگر زمینی حقائق کے حوالے سے تمام معلومات ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو انتخابی حکمت عملی میں بڑے کارآمد ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مسلم لیگ (نون)، تحریک انصاف، اور کود پیپلزپارٹی کے پاس اس طرح کی تنظیم کاری اور نیٹ ورک موجود نہیں۔
اسٹبلشمنٹ کی پالیسیوں نے بڑی حد تک ووٹرز کو متحدہ سے دور کرنے کے بجائے مزید اسکے قریب کردیا۔ جو شاید کسی انجنیئرنگ کے ذریعے کراچی خواہ سندھ میں کچھ تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
سیاست کو انجینئرنگ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ درست ہے کہ جہاں کہیں جرم اور سیاست کا گٹھ جوڑ ہو اس کو توڑنا چاہئے اور ختم کرنا چاہئے۔ لیکن یہ تاثر دینا یا عمل سے ظاہر کرنا کہ سیاست ہی جرم ہے کسی طور پر بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا۔
Dec 7, 2015
No comments:
Post a Comment