Saturday, June 15, 2019

پیر پگارا اسٹبلشمنٹ کے حامی کیوں ہوئے ؟

Urdu News .com
پیر پگارا بھٹو کے حریف کیسے بنے؟ 
پیر پگارا اسٹبلشمنٹ کے حامی  کیوں ہوئے ؟ 
 سہیل سانگی
تین نسلوں سے حکمرانوں کے خلاف  علم بلند رکھنے والے  پیر پگارا  جلاوطنی سے لوٹے تو اسٹبلشمنٹ کے حامی بن بیٹھے۔  بقول  ایک محقق کے  حر پاکستان کے  وہ شہری ہیں  جن کی نسلیں سرکاری پہرے میں کانٹے دار  باڑوں والی  بستیوں میں پیدا اور جوان ہوئیں۔ ان میں سے کئی  حر  آج بھی موجود ہیں جنہوں نے پاکستان کا پرچم پہلی بار  باڑوں والی جیلوں سے دیکھا تھا۔
 سندھ میں برطانوی قبضے کے بعد پیر پگارا خاندان  نے 1886  اور 1929 میں  بغاوتیں کیں۔ حر تحریک کاآخری معرکہ 1943 میں ہوا۔ جب چھٹے پیر پگارا صبغت اللہ شاہ راشدی نے برطانوی  راج کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ ، انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ ردعمل میں  ان کے مریدوں نے  حر تحریک کے نام سے نئی گوریلا جنگ شروع کردی۔ برطانوی راج نے پیر پگارا کو سزائے موت دے دی اور مرشد ی کی گدی بھی ختم کردی۔ ان کے دو بیٹوں سکندر شاہ اور نادر شاہ کو  تعلیم کے بہانے پہلے علی گڑھ اور بعد میں لندن بھیج دیا۔ برطانوی راج نے وقت کے کلکٹر حیدرآباد  محمد بخش  کے ذریعے  اپنے  ایک  حامی کو سجادہ نشین بنانے کی ناکام کوشش کی۔  کہا جاتا ہے کہ وہ شخص پیر علی محمد راشدی تھے۔
قیام پاکستان کے بعد  وزیراعظم لیاقت علی خان  نے لندن کے دورے کے دوران  پگارا     برادران سے ملاقات کی اور ان کی گدی بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس یقین دہانی  کوعمل لانے کو تین سال لگ گئے۔ گدی 1952 میں بحال ہو سکی۔  ضبط شدہ جائدادیں  واپس کی گئیں۔ سکندر شاہ کی پگارا ہفتم کے طور پر تاجپوشی ہوئی۔ 
مریدوں میں یہ قصے چلتے رہے کہ برطانیہ نے کسی اور کو  ' بادشاہ پیر' کا بیٹا بنا کر بھیجا ہے۔ بہر حال پیر برداران کے ساتھ بھیجے گئے اتالیق علی بخش جونیجو  اور دیگر  نے تصدیق کی کہ یہ وہی بچے ہیں جہنیں  برطانوی حکومت  لے گئی تھی۔
 وطن واپسی کے بعد شروع میں پگارا زیادہ تر  ٹائیم کرکٹ  اور سماجی روابط کو دیتے رہے، بتدریج  سیاسی اور حکمرانوں کے حلقوں میں خود کو متعارف کرایا۔
پگارا کی حر جماعت  نے 1965  کی پاک بھارت جنگ میں راجستھان سیکٹر پر پاسکتانی فوج کا ساتھ دیا۔ حر فورس آج بھی ایک ریزرو فورس  تصور کی جاتی ہے۔
بانی ء پاکستان جناح کی ہمشیرہ فاطمہ جناح نے جب ایوب خان کے خلاف مہم چلائی اور انکے مقابلے میں صدارتی  الیکشن لڑا تو پگارا نے ایوب خان کا ساتھ دیا۔
یحیٰ خان  کے تاریخی انتخابات میں انہوں نے قیوم لگ کے  ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا، کیونکہ  ان دنوں میں یہی پارٹی اسٹبلشمنٹ کی پارٹی سمجھی جاتی تھی۔ لیکن وہ ذوالفقار علی بھٹو کی لہر کے سامنے  شکست  ٹہر نہ سکے اور ہار گئے ۔  سندھ اور پنجاب میں پیپلزپارٹی نے  اور  مشرقی پاکستان میں  شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ  نےانتخابات  جیتے ۔ پگارا نے  عوامی لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن یہ شمولیت زیادہ عرصہ نہ چل پائی، جیسے ہی مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا انہوں نے عوامی لیگ سے علحدگی اختیار کر لی۔
پگارا کسی بھی حکومت کے مخالف نہیں رہے سوائے بھٹو  حکومت کے۔ سندھ میں پگارا اور بھٹو  متوازی  اور حریف سیاسی دھارے  رہے۔  دونوں کے سیاسی حریف ہونے کی وجہ یہ تھی کہ دونوں کا بیس سندھ تھااور دونوں اسلام آباد میں اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے۔  بھٹو کو اضافی مارکس اس وجہ سے مل رہے تھے کہ ان کو عوام میں مقبولیت حاصل تھی۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے بھٹو نے عوام کو اسٹبلشمنٹ کے بیانیے پر کھڑا کردیا تھا۔ ، جبکہ  پگارا  عوام  میں مقبول ہونے کی سیات پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ لہٰذا خاندانی دوستی سیاسی دشمنی میں تبدیل ہو گئی۔
بھٹو  حکومت کے خلاف پہلا اتحاد یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ تھا۔  پگارا  کو اس فرنٹ کی سربراہی سونپی گئی۔اگرچہ  دائیں بازو کا اتحاد تھا لیکن اس میں ولی خان بھی شامل تھے۔
 بھٹو پر  1970 کی انتخابی مہم کے دوران پگارا کے قلعے سانگھڑ میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔  بھٹو حکومت میں آئے تو پگارا نے ان کی مخالفت  میں مہم چلائی۔ نیتجے میں  پیپلزپارٹی کے وزیراعلیٰ سندھ ممتاز بھٹوکو  پگارا کے حروں کے خلاف انتقامی کارروایوں  کا   موقعہ  مل گیا۔ ایک واقعہ میں سات حر قتل کردیئے گئے۔  
 بعد میں بھٹو کی حکومت کو گرانے کے لئے وسیع تر محاذ پاکستان قومی اتحاد بنا،  اس کی تشکیل میں پگارا نے کلیدی  رول  ادا کیا۔  انتخابی دھاندلیوں  کا الزام لگا کر نو ستاروں  والےاتحاد نے بھٹو حکومت کے خلاف  چلائی گئی، اس تحریک نے   مارشل لاء  کی راہ ہموار کی۔  اور جنرل ضیاء   الحق   نے بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر  ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔
مارشل لاء حکومت کو سیاسی حمایت کی ضرورت پڑی تو جنرل ضیاء  نے میوزیکل چیئرز کا سلسلہ شروع کیا۔  جس کے تحت  انہوں نے ولی خان،  غلام مصطفیٰ جتوئی اور پیر پگارا کو بیک وقت وزرات عظمیٰ کی پیشکش کی۔ جتوئی بھٹو خاندان کو اعتماد میں لینا چاہتے تھے، جبکہ  جنرل ضیاء  بھٹو خاندان  کو دور رکھنا چاہتا تھا۔ لہٰذا پگارا پرامید تھے۔ لیکن ایم آرڈی  تحریک نے ان کا راستہ روک لیا۔ ایک بار پھر پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان کی وجہ سے انہیں ملک کا اعلیٰ ترین منصب نہ مل سکا۔
سندھ میں ایم آرڈی اور ون یونٹ کے خاتمے کے لئے دو بری عوامی تحریکیں چلیں، لیکن پگارا دونوں میں شریک نہ تھے۔ بلکہ ایم آرڈی کی بحالی جمہوریت کی تحریک کی انہوں نے مخالفت کی۔  ضیاء دور میں پگارا کی فوجیوں سے  'نیازمندی' مضبوط ہوئی۔
دراصل پگارا سویلین سیٹ اپ میں اپنے لئے کسی بڑے عہدے کے خواہشمند تھے۔
 سیاسی جماعتوں  کے  دبائو  کی وجہ سے مارشل لاء حکومت  کے خلاف ماحول بنا۔ ایم  آرڈی کی جانب سے تحریک چلانے کے اعلان نے  جنرل ضیاء کو مجبور کردیا کہ وہ سویلین کو جونیئر پارٹنر کے طور پر شریک اقتدار کریں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کرائے۔ پیپلزپارٹی نے ایم آرڈی کے فیصلے کے تحت  ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا توپگارا کے لئے موقع نکل  آیا ۔
پگارا اقتدار میں وہ پوزیشن چاہتے تھے جو بھٹو کی تھی۔ لیکن  جنرل ضیاء   کے پاس ان کے لئے کوئی بڑا عہدہ نہیں تھا۔ لہٰذا جنرل نے انہیں پیچھے دھکیلنے کے لئے مسلم لیگ میں چوہدری ظہور الاہی کی قیادت میں ایک گروپ بنوایا۔ ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ  انہیں مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔
پگارا چاہتے تھے کہ مارشل لاء حکام سیاسی رہنمائوں  سے ڈیل  صرف ان کے ذریعے  ہی کریں۔ لیکن ضیاء نے مجلس شوریٰ میں نامزدگیاں اپنی مرضی سے کیں۔ پگارا کو  جنرل کا یہ عمل ناگوار گزرا۔  انہوں نے  'شورائی لیگیوں '  سے تعاون  نہ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے خواجہ صفدر کی بطور اسپیکر قومی اسمبلی  حمایت کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ خواجہ صفدر مجلس شوریٰ کے چیئرمین رہ چکے تھے۔  ضیاءالحق  پگارا سے اتنی بھی بگاڑنا نہیں چاہتے تھے۔ لہٰذا ان کی فرمائش پر  محمد خان جونیجو کو وزیراعظم نامزد کردیا گیا۔
آگے چل کر جنرل ضیاء اور جونیجو دونوں نے  پگارا کو مایوس کیا۔ جب  مسلم لیگ کو دوبارہ زندہ کیا جانے لگا تو محمد خان جونیجو  اس کے صدر ہو گئے۔اب اقتدار کی جنگ  سندھ کے بجائے پنجاب میں لڑی جارہی تھی۔ پگارا نے اپنے سیاسی بقا کے لئے جونیجو اور ضیاء دونوں پر  چیک رکھنا شروع کیا۔ ان اختلافات کو  پگارا چوہے بلی کا کھیل کہتے تھے۔
جنرل ضیاء  وزیراعلیٰ پنجاب  نواز شریف کو آگے لا رہے تھے۔ جس پر پگارا  نے نواز شریف کے ساتھ سخت محاذ آرائی کی۔ یہاں تک کہ پگارا نے لاہور میں سکونت اختیار کر لی۔ اور ایک بار پھر بیان بازی کے ذریعے جنرل ضیاء کے خلاف گولہ باری کرنے لگے۔
پگارا کا ایک تضاد پیپلزپارٹی کے ساتھ تھا۔ دوسرا اسٹبلشمنٹ کی حامی پنجاب کی سیاسی قوتوں کے ساتھ تھا۔ حالانکہ  پیپلزپارٹی کے خلاف وقتا فوقتا  اسٹبلشمنٹ کے حامی گروپ ایک دوسرے کے اتحادی بھی تھے۔
بہاولپور میں جہاز کے واقعہ میں جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت کے بعد سیاست ہی بدل گئی۔  1988 کے انتخابات ہوئے تو بڑے بڑے برج الٹ گئے۔ پگارا بھی بری طرح ہار گئے۔   بینظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی   نے حکومت بنائی۔
صدر غلام اسحاق خان ن کے ہاتھوں بینظیر حکومت کی برطرف  کے بعد نئے انتخابات ہوئے تو وفاق میں نواز شریف  نے حکومت بنائی۔ سندھ  میں پیپلزپارٹی کی اکثریت کے باوجود اسے حکومت بنانے نہیں دی گئی۔ سندھ جام صادق علی اور پگارا کے حوالے کیا گیا۔ ایم کیو ایم  کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی گئی۔ جام صادق کے انتقال کے بعد مسلم لیگ فنکشنل کے حامی مظفر حسین شاہ کو وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ ان دونوں حکومتوں میں سید  صبغت اللہ شاہ راشدی ، موجودہ پیر پگاراکے پاس اہم وزارتیں رہیں۔  
جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تب پگارا گروپ ان  کے ساتھ حکومت میں تھا۔  جونہی مشرف نے حکومت بنائی، پگارا اس کے ساتھ ہولئے۔ اور ان  کی حکومت  آخری دنوں تک  ساتھ رہے۔
مشرف  نے 2002 میں انتخابات کرائے تو ایک بار پھر پیپلزپارٹی کو حکومت سے باہر رکھنے کی حکمت عملی بنائی گئی۔ ایک بار پھر پگارا اسٹبلشمنٹ کے کام آئے۔ پگارا اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت بنائی گئی جس میں  علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم وزیراعلیٰ رہے۔ وزارتوں میں پگارا کا حصہ پکا تھا۔
بنظیر بھٹو کے قتل کے بعد 2008 کے انتخابات میں   سندھ اور وفاق میں پیپلزپارٹی نے حکومت بنائی۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ  پگارا پیپلزپارٹی کے ساتھ حکومت میں بیٹھے۔
پیر  شاہ مردان شاہ پگارا کے انتقال کے بعد ن کے بیٹے پیر صبغت اللہ شاہ نے  گدی سنبھالی۔ نئے پیر پگارا کے پاس بڑے پیر صاحب جتنا وسیع نہ تجربہ  تھا            
نہ تعلقات۔ تاہم انہوں نے بڑے پگارا کی اسٹبلشمنٹ نواز ہونے کی روایت کو برقرار رکھا۔
دوسرے یہ کہ موجودہ پگارا کے عہد میں گدی نشینی اور سیاست بھائیوں میں بٹ گئی۔ سیاست پیر صبغت اللہ کے بھائی صدرالدین شاہ کے حصے میں آئی۔ تاہم موجودہ پگارا اہم فیصلہ سازی اور اس پر عمل میں بھائی کے ساتھ رہے۔
 سندھ میں  2013 کے انتخابات میں نواز شریف نے پگارا کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے خلاف  نو جماعتی اتحاد بنایا۔اس اتحاد نے پیپلز پارٹی کو سندھ میں مصروف رکھا اور  پنجاب میں نواز لیگ جیت گئی۔ پگارا کو  سوائے مملکتی وزیر بننے کےکچھ نہ ملا۔  انتخابی نتائج اور اقتدار میں مناسب حصہ نہ ملنے  پر پگارا نے شکوہ کیا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔
دو سال بعد پگارا نے پیپلزپارٹی مخالف گروہوں وافراد کو جمع کر کے گرینڈ  دیموکریٹک الائنس بنایا۔  یہ اتحاد  ان  وڈیروں کا اتحاد سمجھا جانے لگا جو کسی نہ کسی وجہ سے پیپلزپارٹی میں جگہ حاصل نہیں کر پائے۔
گزشتہ جولائی کے انتخابات سے پہلے پگارا کو  ڈیفینس  ویوسوسائٹی کراچی کی اراضی کی غیر قانونی الٹمنٹ میں نیب کا سامنا کرنا پڑا۔
گزشتہ انتخابات میں انہوں نے عمران خان کا ساتھ دیا۔  نواز لیگ اور پیپلزپارٹی پر اسٹبلشمنٹ کی ناراضگی  عیاں ہوئی تو  موجودہ پیر پگارا کو یقین ہو چلا کہ اب سندھ میں انکی حکومت بنے گی۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں برملا یہ کہا بھی کہ اب زرداری کنگ میکر نہیں رہے۔ لیکن عین وقت پر پانسہ پلٹ گیا۔ سندھ میں خود کو پیپلزپارٹی کا متبادل سمجھنے والا جی ڈی اے انتخابات میں بری طڑھ ہار گیا۔ یہاں تک کہ پگارا کے بھائی صدرالدین شاہ سمیت اتحادمی س جماعتوں کے سربراہان  بھی ہار گئے۔
 پیپلز پارٹی کے بغیر سندھ میں جو بھی سیٹ اپ بنتا ہے، پگارا  کنگ میکر ہو جاتے ہیں، کیونکہ وڈیرے سمجھتے ہیں کہ  ان کی اقتدار تک رسائی پگارا کے ذریعے ہو سکتی ہے۔
پگاروں کی  خصوصیت یہ رہی کہ  انہوں نے کبھی پارٹی کی تنظیم سازی نہ کی اور نہ ہی تنظیمی نیٹ ورک بنایا۔ پارٹی کو روحانی جماعت کے طور پر ہی رکھا، جس اثر  سناگھڑ، عمرکوٹ، خیرپور اور تھر تک محدود ہے ۔ لیکن اب سانگھڑ،  تھر اور عمرکوٹ میں بھی قدم جما لئے ہیں۔پیر پگارا سمجھتے ہیں کہ جب مقتدرہ قوتیں چاہیں گی، تب اقتدار مل جائے گا۔ ایسے میں عوام کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے؟

https://www.urdunews.com/node/422721/پاکستان/پگاڑا-بھٹو-جیسی-پوزیشن-چاہتے-تھے

No comments:

Post a Comment