Friday, June 14, 2019

بجٹ منظو رکرانے کی مشکلات کا حل

14-06-2019
بجٹ منظو رکرانے کی مشکلات کا حل
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
 عمران خان حکومت کا پہلا بجٹ نہ عوام کو قابل قبول ہے نہ سیاسی جماعتوں کو، اور نہ ہی تاجروں اور صنعتکاروں کو۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم قرضہ خواہان کی تمام رقم بمع سود کے وصول کرنے کی ڈیوٹی پر ہیں۔ ا وزیراعظم کی ٹیم کے بعض اراکین برملا یہ کہتے ہیں کہ ایسے دو چار اور مشکل بجٹ آئیں گے۔ اس سے لگتا ہے کہ اپنے پانچ سالہ عہد حکمرانی میں سب پیسے وصول کر کے دیں گے۔ اس یقین دہانی کا فارمولہ عالمی مالیاتی اداروں خواہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے مقتدرہ قوتوں کے درمیان طے ہوا ہے۔ اس کی ایک جھلک پاک فوج کی جانب سے اخراجات میں اضافہ نہ کرنے کی رضاکارانہ پیشکش کی صورت میں سامنے آئی ہے۔
نصف سے زیادہ بجٹ قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوگا۔اس کے بہت ہی منفی نتائج ہونگے۔ ایک لاپرواہی ہے ۔ کھربوں روپے کے اضافی ٹیکس سے معیشت کو ایک بڑاجھٹکا لگے گا، اس لئے مسلسل وزیراعظم اور ان کی ٹیم عوام کو ذہنی طور پر تیار کررہی ہے۔
 خوردنی اشیاءچینی، خوردنی تیل خواہ دیگر اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، اور گیس کی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کے کرایوںمیں مزید اضافہ ہونے جارہا ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق اگلے مالی سال کے دوران ملک غیرملکی قرضے کی واجب الادا سود کی ادائیگی پر 359.764 ارب روپے، اورغیر ملکی قرضوں کی اصل رقوم کی ادائیگیوں پر دس کھرب روپے خرچ کرے گی۔ جبکہ ملکی قرض کی واجب الادا سود کی ادائیگی پر بیس کھرب روپے سے زائد پیسے خرچ کرے گی۔ تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران حکومت نے سرکاری قرض کی پر بطور سود 20 کھرب سے خرچ کئے۔
آئندہ مالی سال 20- 2019کے وفاقی بجٹ میں قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے 1837ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ان میں سے 925ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام اور 912ارب روپے صوبائی ترقیاتی پروگراموں کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 127ارب روپے بیرونی امداد ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔
مہنگائی اتنی بڑھ گئی لیکن سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف پانچ فیصد اضافہ کیا گیا۔ اس کے لاکھوں خاندان متاثر ہونگے۔ تعجب کی بات ہے کہ وزرا ء ، پارلیمانی سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری اور جوائنٹ سیکریٹری کے ساتھ کام کرنے والے اسپیشل پرائیویٹ سیکریٹری، پرائیویٹ سیکریٹری اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹری کی اسپیشل تنخواہ میں 25فیصد اضافہ کیا جا ئیگا۔
پیپلزپارٹی کے دور حکومت یعنی 2009 میں قرضہ مجموعی قومی پیداوار کا ساڑھے اکسٹھ فیصد سود کی ادائیگی پر جارہا تھا۔ 2013 میں یہ تناسب بڑھ کر 63.9 فیصد ہو گیا۔ جبکہ مسلم لیگ نواز کے دور اس میں تقریبا دس فیصد اضافہ ہوا اور گزشتہ سال یہ تناسب ساڑھے باہتر فیصد تک پہنچ گیا۔ یعنی ہم جو دولت پیدا کر رہے تھے اس کا ساٹھ سے باہتر فیصد قرض یا اس پر سود کی ادائیگی پر خرچ کر رہے تھے۔ اگر حکومتی قرضہ کو روپے پیسے میں ناپا جائے رواں سال مارچ میں حکومتی قرضہ 27794.9 بلین روپے ہوا ،پہلے یہ رقم 27547.2 بلین روپے تھی۔ اوسطا 2011 سے فروری 2019 تک پاکستان پر قرضہ 17078.20 بلین روپے رہا ہے۔ یعنی موجود حکومت نے ہی زیادہ قرضہ حاصل کیا ہے۔ اضافے قرضہ لینے کے بعد رواں سال جو ن میں غیر ملکی قرضہ 103.4 بلین ڈالر ہو جائے گا۔
قومی اسمبلی میں بتائے گئے اعدا و شمار کے مطابق ستمبر 2016 میں ملک پرقرضہ 18,277.6 ڈالر تھا جبکہ تین سال سال پہلے یہ قرضہ 13.48 بلین ڈالر تھا۔ قرضے میں اضافے کی وجہ اندرونی قرضے میں چالیس فیصد اضافہ تھا۔ اسی عرصے میں ۔ 2013 میں بیرونی قرضہ 4.796 بلین روپے تھا جو 2016-17 کے مالی سال میں بڑھ کر 12.14 بلین روپے ہو گیا۔ مسلم لیگ نواز حکومت نے 12 بلین ڈالر قرضہ ادا کیا جو گزشتہ حکومتوں نے لیا تھا۔
 نواز لیگ حکومت کا موقف یہ تھا کہ قرضے میں اضافہ مالی خسارہ پورا کرنے کی وجہ سے ہوا، جس کی منظوری پارلیمنٹ نے بھی دی تھی۔ معاشی ترقی اور ملک کے انفار اسٹرکچر کو ترقی دلانے کے لئے ملکی وسائل کے ساتھ بعض اخراجات بیرونی قرضے کے ذریعے پورے کئے گئے۔ یہ قرضہ جات قومی اہمیت کے حامل منصوبوں، بجٹ کے اخراجات ، ادائگیوں کے توازن ، زلزلہ اور سیلاب زدگان کی بحالی، یوریا کھاد اور تیل کی درآمد پر کئے گئے۔ کچھ رقومات زر مبادلہ کے جھٹکوں کو روکنے کے لئے بھی استعمال کی گئی۔ اندرونی قرضہ مستقل ہے اور اس میں سال بسال تبدیلی آتیرہتی ہے۔ نواز حکومت نے بیرونی قرضے طویل مدت کے لئے اور بعض اندرونی بھاری سود والے قرضے لوٹانے کے لئے حاصل کئے۔
 وزیراعظم عمران خان نے اب بیرونی قرضوں کے استعمال کے لئے کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کو مختلف ناقدانہ زاویوں سے دیکھا جارہا ہے۔
حکومت کو بجٹ منظور کرانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اپوزیشن رہنماو ¿ں کی گرفتاریوں کے بعد حکومت پراپوزیشن کا دباو ¿ مزید بڑھ گیا ہے۔ وزیراعظم کو قومی اسمبلی سے فنانس بل منظور نہ ہونے کا بھی خوف ہے۔آئین کے مطابق حکومت کے لئے قومی اسمبلی سے بجٹ منظور کرانا ضروری ہے، اس کے لئے 172 ارکان قومی اسمبلی کاووٹ ضروری ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کو 178 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ یوں بظاہرحکمران جماعت کو نمبر گیم میں برتری حاصل ہے۔ یہ برتری اتحادیوں کی وجہ سے ہے۔
موجودہ اسمبلی میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعتیں جن میں ایم کیو ایم، مسلم لیگ قاف، بی این پی مینگل ، سندھ سے گی ڈی اے یا دیگر اتحادی جماعتیں شامل ہیں، مل کر فنانس بل کی مخالفت کریں تو ہی تحریک انصاف کی حکومت کو بجٹ منظور کرانے میں ناکامی ہو سکتی ہے ۔
 بجٹ کی منظوری حکومت کی آئینی بقا کا بھی مسئلہ ہے۔بجٹ منظور کرانے میں ناکامی کی صورت میں حکومت قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کھو بیٹھےے گی ، اور حکومت کا کام رک جائےگا۔ ایسے میں حکومت کے پاس تین آپشن ہونگے۔ا پنی اکثریت دکھانے کے لیے وزیراعظم دوبارہ اعتماد کا ووت حاصل کریں یا دوبارہ الیکشن کی طرف بھی جائے۔یا حکمران جماعت اتحادیوں اور اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرکے انہیں قائل کرے۔ وزیراعظم کی جانب سے قرضوں کے استعمال کے لئے کمیشن کے اعلان اور اپوزیشن کی قیادت کی حالیہ گرفتاریوں کو دباﺅ کے طور رپر استعمال کر سکتی ہے، ایک آپشن یہ بھی ہو سکتا ہے۔ صورت میں حکومت کو سیاسی اور قانونی پیچیدگیوں کے کئے عدلیہ بیچ میں آجائے۔

http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/14-06-2019/details.aspx?id=p10_03.jpg

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/budget-manzoor-karne-ki-mushkilat-13647.html

No comments:

Post a Comment