میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ملک میں جاری گزشتہ دو ڈیڑھ دیائیوں سے جاری دشتگردی کے خلاف ضرب عضب اور کراچی آپریشن چل رہے ہیں۔ اس ضمن میں بعض کامیابیاں بھی ہوئی ہیں جنہیں گاہے بگاہے بیان کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اطلاعات آرہی ہیں کہ ملک کے مختلف علاقوں میں داعش کے وجو کی بھی خبریں آرہی ہیں۔ اب تو وزیر داخلا پنجاب نے بھی سرکاری طور پر ملک میں دعاش کے وجود کا اعتراف کر لیا ہے۔ مختلف سرکاری ادارے خواہ سیاسی حلقے اور عام لوگوں میں یہ تاثر پختگی سے موجود ہے کہ داعش یا اس کی ذیلی تنظیمیں یا اس جیسی بعض انتہا پسند اور شدت پسند گروہ ملک میں بہر حال موجود ہیں۔ اس تاثر کو تمام تر عملی اقدامات اور رائے عامہ کو بنانے والے اداروں کی کوششوں کے باوجود ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔
آخر سوال ایسا کیوں ہے؟ ہم دہائیوں سے ملک میں دہشتگردوی اور شدت پسندی سے انکار کرتے رہے ہیں اور اپنی داستانوں، بیانوں اور دلائل میںیہی تاثر دیتے رہے ہیں یہ کوئی دہشتگردی نہیں۔ لہٰذا ان واقعات پر ایک پردہ ڈل گیا تھا۔
اب اداروں خواہ اہل فکر لوگوں کو یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ یہ سب کچھ ایک مخصوص انداز فکر کو پروان چڑھنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ جس کے دوران مختلف واقعات سے کہانیاں جوڑ کر یا ان کے بعض پہلوﺅں کو یکسر ایک طرف رکھ کر اور باقی کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے رہے۔ جہاں کہیں د ہشتگردی یا اس قسم کی انتہا پسندی اور شدت پسندی سے لڑا جاتا ہے وہاں جنگ کے اور دیگر عملی اقدامات ساتھ ساتھ کے ساتھ نقطہ نظر، انداز فکر اور سوچ کو بھی تبدیل کیا جاتا ہے۔ اور پورے معاشرے میں یہ سوچ پیدا کی جاتی ہے کہ اس کی بنیادیں کیا ہیں؟
اس سے پہلے سرکاری ادارے ، میڈیا یا دانشور جس طرح سے معاملات کو بیان کرتے رہے، ان کی تشریح و توضیح کرتے رہے وہ ٹھیک نہیں تھا۔ بلکہ ان تشریحات نے دراصل اس انتہا پسندی کو ہی مضبوط کیا۔
تمام اقدامات کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ ہمارے پاس جوابی فکر اور تشریح کیا ہے؟ دیکھاجائے ، وہ تو ہم نے ابھی بنایا ہی نہیں۔ جب تک یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ ایک فرد کیوںاور کیسے دہشتگرد بن جاتا ہے ہے؟ تب تک ہم جوابی فکر نہیں پیدا کر سکتے جو کہ اس شدت پسندی کے خلاف لڑائی کا ایک اہم ہتھیار اور مورچہ ہے۔
انتہا پسند تنظیمیں خواہ وہ داعش ہو یا دیگر اس طرح کے سیاسی پروگرام رکھنے والی تنظیمیں ہوں انہوں نے اپنے مقاصد، عمل اور نعرے میں مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔یہ تنظیمیں اپنے کارکنان کو یا نئے آنے والوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ موجودہ نظام میں جو بھی خرابیاں ہیں اس کا جواب ایک خاص قسم کے مذہبی کفر میں ہی نہیں بلکہ عمل میں ہے اور وہ عمل ہے جہاد۔
ہمارے نظام اور اداروں کی ناکامی ہے کہ وہ لوگوں کو کچھ دے نہیں پائے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناانصافیوں، کرپشن، میرٹ کو کچلنے ، اپنے کاروباری معاملات کو آگے بڑھانا ان کی ترجیح ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ بدترین حکمرانی ہے۔ عوام کو سیاسی نظام میں ایک سیاسی اور جمہوری عمل کے ذریعے تبدیلی آتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو کچھ کرنا چاہتے ہیں، کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب چیزیں مزید سازگار حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ لوگ شدت پسند تنظیموں کی طرف دیکھیں۔
نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد سے لگا کہ ہم شدت پسندی وغیرہ کے بارے میں انکار اور خود تردیدی موقف کو ترک کیاہے۔ لیکن اس ضمن میں بعض اہم رخوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
جہاں تک فکری حوالہ ہے ہم بہت ہی دھیمے اور نرم انداز میں کام کر رہے ہیں۔ سانحہ آرمی اسکول پشاور بہت سے حوالوں سے ٹرننگ ثابت ہوا۔ کیونکہ اس واقعہ نے ذہنوں کو صاف کیا اور بہت سی چیزیں واضح ہوئیں۔ اس پلان کے پانچویں نقطے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ نفرت آمیز اور انتہا پسندانہ مواد کا توڑ کیا جائے گا۔ میڈیا میں دہشتگردوں کو ہیرو کرکے پیش نہیں کیا جائے گا۔
ہمیں ایک نفیس طریقوں کی ضرورت ہے۔ میڈیا اور ریاست شہریوں کو تعلیم دے سکتے ہیں اور جواب میں شہری ایک ذمہ دار شہری کے طور پر عمل کر سکتے ہیں۔ اور ریاست کا دفاع کر سکتے ہیں۔ شہریوں میں ذمہ دارانہ فکر اختیار کرنے میں اس وقت سہولت ہوگی جب ہم اچھی حکمرانی قائم کر سکیں گے۔ عام آدمی کے مسائل کو حل کر پائیں گے۔ جمہوری انداز فکر اتنا ہی ضروری ہے۔ لیکن یہ اس وقت ہو پائے گا جب شہری یہ سمجھنے لگیں گے کہ ان کے ووٹ دینے یا نہ دینے سے فرق پڑتا ہے۔ اس کے لئے جمہوری اور سیاسی اداروں کی مضبوطی اور بالادستی کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
ایک اور دائرہ صوبوں اور وفاق کے درنیان موجود کشیدگی کا بھی ہے جس کو منصفانہ طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ خواہ متبادل فکر اور نقطہ نظر یا آپریشن وغیرہ، ان سب میں صوبوں کا بہت بڑا رول ہوتا ہے۔
انتہا پسند اور شدت پسند گروپوں کا یہ نعرہ ہے کہ اسلامی دنیا خطرے میں ہے اس کو جہاد کے ذریعے ہی بچایا جاسکتا۔ وہ اس ضمن میں مختلف کڑیاں جوڑ کر ایک پوری کہانی بناتے ہیں۔ نتیجے میں یہ نعرہ اور کہانی ایک سادہ آدمی کے لئے پر کشش بن جاتی ہے۔ ان کا اس وجہ سے اثر بڑھ رہا ہے۔ یہاں سے شدت پسندی کو راستہ ملتا ہے۔
انتہا پسندوں کے نزدیک صحت، تعلیم اور جمہوریت، پارلیمنٹ، عدالتی نظام، خواتین کے حقوق، لڑکیوں کی تعلیم، متنازع معاملات ہیں ۔ یہ ان سب کو غیر ملکی اور غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور غیر ملکی ایجنڈا کا حصہ سمجھتے ہیں۔ جب حکمران بھی غیر جمہوری اور غیر منصفانہ انداز میں کام کرنے لگتے ہیں تو عام آدمی کے نزدیک ان انتہا پسندوں کی باتیں صحیح محسوس ہونے لگتی ہیں۔ ایک عام آدمی بہت آسانی سے ان نعروں اور پروپیگنڈہ کی جال میں
پھنس جاتا ہے۔
لہٰذا مذہب کی تشریح اور واقعات کی توضیحات صحیح پس منظر میں کرنا اہم ہے۔ یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ مذہبی تشریح جو انتہا پسند کر رہے ہیں وہ درست نہیں۔ یہ کام مذہبی علماءکا ہے۔ لیکن ایسے مذہبی علماءکی آواز اب سننے میں نہیں آتی۔
نصاب میں تبدیلی اور تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ کس طرح سے ہم اپنی نئی نسل کو تنقیدی نقطہ نظر دے سکتے ہیں؟ رواداری سکھاسکتے ہیں۔ تشدد سے دور رکھنے کے لئے تشدد سے نفرت بھی ضروری ہے۔ جوابی فکر اور انداز فکر مثبت اور موثر ہونا چاہئے۔
No comments:
Post a Comment