Saturday, September 7, 2019

آصفہ بھٹو زرداری کی انٹری


آصفہ بھٹو زرداری کی انٹری 
 سہیل سانگی میرے دل میرے مسافر

آصف علی زرداری کو جعلی اکاؤنٹس کیس اور نوازشریف کو قومی احتساب بیورو کے بنائے گئے ریفرنسز کا سامنا ہے۔  اور اپنی پارٹیوں اور دور حکومت کے عہد میں سفید و سیاہ  کے پابند سلاسل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی بڑی خواہش تھی کہ ان دونوں رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھے۔حالات و واقعات  سے لگتا ہے کہ یہ سوچ مضبوط ہو گئی ہے کہ سابق وزیر اعظم  نواز شریف کی طرح سابق صدر آصف علی زرداری کو پارلیمنٹ سے نااہل کروایا جائے اور پھر احتساب عدالت سے انہیں بھی سزا ہو اور وہ بالکل اسی طرح جیل رہیں جیسے نوازشریف  رہ رہے ہیں۔ پاکستان کی سیات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ساری مشق اور مشقت کا مقصد حقیقی احتساب ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد کچھ آئینی تبدیلیاں اور بعض امور میں تبدیلیاں لانا ہے۔ نوازشریف اور زرداری فی الحال  بقول وزیر داخلہ  اعجاز شاہ کے توبہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔وہ ان تبدیلیوں سے وہ انکاری ہیں۔ وجہ صاف ہے کہ ”اقرار“  صرف ان کی اپنی ہی نہیں بلکہ اپنی اولادوں کی سیاست کی بھی موت ہوگی۔لہٰذا ان کے اسٹیک بڑھ گئے ہیں۔ وہ ان اسٹٹیکس میں مزید ”سرمایہ کاری“ کر رہے ہیں۔ بیدخل ہونے کے بجائے اپنے خاندان کے مزید افراد کو سیاست میں ڈال رہے ہیں۔ 
اسٹبلشمنٹ نے ملک کی سیاست کو جہموری اور اوپن رکھنے کے بجائے ایک بار پھر دو سیاسی خاندانوں کے ستون پر کھڑا کردیا۔پہلے کبھی بھٹو خاندان کی مورثی سیاست کا ذکر ہوتا تھا۔ اب شریف خاندان بھی ہے۔نوازشریف اور آصف علی زرداری دو مکمل طور پر الگ  الگ شخصیتیں ہیں۔دونوں کے الگ  سیاسی نظریات شناختیں ہیں، پس منظر بھی مختلف ہے۔ لیکن وقت نے ان میں بعض مماثلتیں پیدا کردی ہیں۔  
شہباز شریف کے بعد مریم بی بی نواز لیگ میں سرکردہ پوزیشن پر ہیں۔ بلاول بھٹو پیپلزپارٹی  کے چیئرمین ہیں۔ اسٹبلشمنٹ ’نواز لیگ ٹو‘بنانے کی کوشش کرتی رہی، سندھ میں فارورڈ بلاک بنانے کی۔موروثی سیاست کے نقصانات اپنی جگہ پر، اگر کسی سیاستدان کی اولاد اپنی پوزیشن سخت محنت اور حالات کا مقابلہ کرنے کے بعد بناتا ہے تو اس کو محض اس بنیاد پر محروم نہیں کیا جاسکتا کہ وہ سیاستدان کی اولاد ہے۔ آج کے دور میں مورثی سیاست کرنا اتنا آسان بھی نہیں۔ مختلف تکالیف اور پریشر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت اور اسٹبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریم نواز اور ان کے والد جیل میں ہیں۔ بلاول بھٹو اور ٓصفہ کے والد بھی جیل میں ہیں 
سابق صدر آصف علی زرداری اور شہید بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹوزرداری نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انہوں نے جو  انٹرویو دیا  وہ ان کے والد کی جیل میں بیماری اور مناسب علاج نہ ہونے کی شکایت کے لئے نہیں تھا۔ بلکہ سیاسی تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پرویز مشرف کے دور حکومت میں بہت مماثلت ہے، عمران خان کی وہی کابینہ ہے جو پرویز مشرف کی تھی۔آصفہ جو کہ گزشتہ عام انتخابات میں اس وجہ سے نہیں لڑ سکی تھی تاہم انہوں نے اپنے بھائی بلاول بھٹو کی لیاری والی نشست پر بھرپور مہم چلائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ناکامیوں کی فہرست ان کی کامیابیوں سے کہیں زیادہ لمبی ہے۔انہوں نے عمران خان کی معاشی، خواہ خارجہ پالیسی خاص طور پر کشمیر پالیسی پر تنقید کی۔ ان کا ماننا تھا کہ میرے والد آصف زرداری نے ساڑھے گیارہ سال قید میں گزارے اس و قت انہوں نے کسی سے این آر او نہیں مانگا۔پی پی رہنما آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ جیل میں اپنے والد کے علاج سے مطمئن نہیں ہیں۔انٹرویو  ایک لحاظ سے جامع تھا جو کوئی سیاستدان دے سکتا ہے۔ اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ آصفہ نے اب باقاعدہ سیاست میں  انٹری دی ہے۔
آصفہ انیس سو سترہ سے مختلف مواقع پر سیاسی بیانات دیتی رہی ہیں۔ بینظیر بھٹو قتل کیس کے حوالے سے انہوں نے کہا تھا کہ بھٹو خاندان کے لئے کوئی انصاف نہیں، بینظیر بھٹو کیس میں عدالت نے ایک بار پھرمایوس کیا ہے۔ روان سال مئی میں  اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی گرفتاری اور  واٹر کین کا استعمال کرنے پر کہاکہ  جیالے پھانسی سے نہیں ڈرتے تو پانی سے کیا ڈریں گے؟واٹر کین سے نیب کے کالے قانون کو  دھویا نہیں جاسکتا۔ 
بلاول بھٹو جب ملکی سیاست میں اپنا رول ادا کر رہے ہیں، ایسے میں والد آصف زرداری کا کیس آصفہ کے حصے میں دیا گیا ہے۔ تیس اگست کو زرداری کو  اسلام آباد کی پمز ہسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔اس موقع پر آصفہ کو والد سے ملنے نہیں دیا گیا۔ آصفہ نے مطالبہ کیا کہ والد کو واپس ہسپتال میں رکھا جائے۔  دس جون کوآصفہ والد کی گرفتاری کے وقت  رہائشگاہ پر موجود تھیں اور گرفتاری کے بعد روانگی سے قبل آصف علی زرداری نے اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کو گلے لگایا اور پیار کیا۔بعد میں فوری رد عمل کے اظہار کے طور پر سماجی رابطے کی  ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ گرفتاری سے سچائی کو نہیں روکا جاسکتا۔ پہلے بھی الزام لگا کر گرفتار کیا گیا۔ اور الزامات غلط ثابت ہوئے۔ 
جولائی کے وسط میں والد آصف زرداری سے نیب کے دفتر میں ملاقات کی۔ اگست کے پہلے ہفتے میں احتساب عدالت  نے انہیں والد سے ملاقات کی درخواست منظور کی۔
آصفہ بھٹو نے  دو ہزار سولہ میں گلوبل ہیلتھ میں یونیورسٹی کالج سے  ماسٹرز کیا۔بینظیر بھٹو کی بڑی بیٹی بختاور کی سیاست میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پیپلزپارٹی اور نوازلیگ دونوں پر مزید سختی آنے والی ہے۔  آصف زرداری کے جیل میں ہونے کے بعد  بلاول بھٹو اکیلے رہ گئے ہیں۔ عملا  پارٹی میں سیکنڈ رینک کی قیادت نہیں۔ بینظیر بھٹو نے مخدوم امین فہیم کو سیکنڈ رینک کی قیادت  پر رکھا تھا۔  وہ دور دوسرا تھا۔ آج نہ وہ دور ہے اور نہ کوئی مخدوم امین فہیم، لہٰذا  پیپلزپارٹی کی قیادت کے پاس یہی آپشن ہے کہ آصفہ بھٹو زرداری کو اس  ذمہ داری کے لئے تیار کرے،  جس پر  پارٹی قیادت اور بلاول خواہ خود بڑے زرداری بھی  مطمئن ہونگے اور  پارٹی  کیانردونی صفوں میں بھی اتفاق رائے ہو گا۔










No comments:

Post a Comment