پیپلزپارٹی کیا سوچ رہی۔۔۔؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ہر کوئی دسمبرتک کی آس لگائے بیٹھا ہے۔ آئندہ تین ماہ میں ایساکیا ہونے والا ہے؟ حالات اور واقعات سے لگتا ہے کہ ملک میں بظاہر پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی حکومت کے درمیان راؤنڈ چل رہا ہے۔ تب تک نواز لیگ کے خلاف مزید اقدامات کو التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور پیپلزپارٹی کے اہم رہنما خورشید شاہ کی گرفتاری اور وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کو گرفت میں لانا تازہ وقعات ہیں۔ مستقبل قریب میں صورتحال کیاہوگی؟ خیال ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکمت عملی کا اہم کردارہوگا۔
پیپلزپارٹی نے اسلام آباد آزادی مارچ کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے یا رہبر کمیٹی کا اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے مارچ پر پیپلزپارٹی کے اندر دو رایے ہیں۔ ایک یہ کہ مکمل طور پر اس میں شرکت کی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ پارٹی کے گرفتار رہنما آصف علی زرداری بھرپور شرکت کے حق میں ہیں۔
دوسری رائے جس کے حامی بلاول بھٹو ہیں اس کے مطابق اس مارچ کی اخلاقی حمایت اور علامتی شرکت کی جائے۔یہ بات اہم ہے کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو یعنی باپ بیٹے کے درمیان بارہ راست مالقات کو تقریبا دو ماہ کا عرصہ ہ ہو چکا ہے ان کی آخری ملاقات پراڈکشن آرڈر پرقومی اسمبلی میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد بلاول نہ ان سے جیل میں ملنے گئے ہیں اور نہ عدالت کی پیشی کے موقع پر جاکر ملاقات کی۔
سنیٹراعتزاز احسن پارٹی کے اندر ایک خاص نقطہ نظ رکھنے والوں میں سے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ عمران حکومت کو خطرہ معیشت،مہنگائی اور بیروزگاری سے ہے، اپوزیشن کو اس صورتحال میں شاید زیادہ محنت کی ضرورت نہ پڑے۔وہ شاید مولانا کے مارچ کو’زیادہ محنت‘ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ حکومت ہر طرح سے فیل ہوچکی ہے،مہنگائی کے طوفان نے لوگوں خاص طور پر تنخواہ دار طبقہ کو لپیٹ میں لے لیاہے،بے روزگاری عروج پر ہے،کاروبار بند ہورہے ہیں
دوسری رائے جس کے حامی بلاول بھٹو ہیں اس کے مطابق اس مارچ کی اخلاقی حمایت اور علامتی شرکت کی جائے۔یہ بات اہم ہے کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو یعنی باپ بیٹے کے درمیان بارہ راست مالقات کو تقریبا دو ماہ کا عرصہ ہ ہو چکا ہے ان کی آخری ملاقات پراڈکشن آرڈر پرقومی اسمبلی میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد بلاول نہ ان سے جیل میں ملنے گئے ہیں اور نہ عدالت کی پیشی کے موقع پر جاکر ملاقات کی۔
سنیٹراعتزاز احسن پارٹی کے اندر ایک خاص نقطہ نظ رکھنے والوں میں سے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ عمران حکومت کو خطرہ معیشت،مہنگائی اور بیروزگاری سے ہے، اپوزیشن کو اس صورتحال میں شاید زیادہ محنت کی ضرورت نہ پڑے۔وہ شاید مولانا کے مارچ کو’زیادہ محنت‘ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ حکومت ہر طرح سے فیل ہوچکی ہے،مہنگائی کے طوفان نے لوگوں خاص طور پر تنخواہ دار طبقہ کو لپیٹ میں لے لیاہے،بے روزگاری عروج پر ہے،کاروبار بند ہورہے ہیں
بلاول کے مطابق پارلیمنٹ کو5سال مکمل ہونے دیئے جائیں، وہ سمجھتے ہیں کہ صرف سیاسی جماعتوں کے احتجاج یا دباؤ سے حکومت نہیں بدلی جاسکتی، یہ تب ہو سکے گا جب بدلنے والے خود ایسا نہیں چاہیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر پارلمنٹ کو جاری نہ رکھنے کی صورت میں کوئی نیا فارمولا نہ آجائے۔
پیپلزپارٹی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب پریشر بڑھے کا تو اتحادی بھی ساتھ چھوڑ سکتے ہیں،ہمیں یہ خطرہ ہے کہ نظام نہ لپیٹ دیا جائے اس لئے احتجاج میں مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ لیکن تمام پارٹیاں پرامن احتجاج اور اپنے اپنے جلسے کریں تو کسی موقع پر حکومت کو گھر جانے کیلئے کہہ سکتے ہیں۔
پیپلزپارٹی اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ بلاول بھٹو کا حالیہ دورہ سندھ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔
گزشتہ دنوں وہ گرفتار رہنما سید خورشید شاہ سے اظہار یکجہتی کے طور پر سکھر آئے۔ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ”اگر جنوری تک اگر حکومت کا خاتمہ نہ کیا گیا تو جیالوں سمیت پنڈی پہنچوں گا“۔ پنڈی کی کوئی معنی بھی لی جاسکتی ہیں، لیکن انہوں وضاحت کی کہ ”ذوالفقار علی بھٹو کو بھی پنڈی میں پھانسی دی گئی تھی، بینظیر بھٹو کو بھی پنڈی میں شہید کیا گیا تھا“۔
پیپلزپارٹی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب پریشر بڑھے کا تو اتحادی بھی ساتھ چھوڑ سکتے ہیں،ہمیں یہ خطرہ ہے کہ نظام نہ لپیٹ دیا جائے اس لئے احتجاج میں مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ لیکن تمام پارٹیاں پرامن احتجاج اور اپنے اپنے جلسے کریں تو کسی موقع پر حکومت کو گھر جانے کیلئے کہہ سکتے ہیں۔
پیپلزپارٹی اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ بلاول بھٹو کا حالیہ دورہ سندھ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔
گزشتہ دنوں وہ گرفتار رہنما سید خورشید شاہ سے اظہار یکجہتی کے طور پر سکھر آئے۔ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ”اگر جنوری تک اگر حکومت کا خاتمہ نہ کیا گیا تو جیالوں سمیت پنڈی پہنچوں گا“۔ پنڈی کی کوئی معنی بھی لی جاسکتی ہیں، لیکن انہوں وضاحت کی کہ ”ذوالفقار علی بھٹو کو بھی پنڈی میں پھانسی دی گئی تھی، بینظیر بھٹو کو بھی پنڈی میں شہید کیا گیا تھا“۔
یہ کہ پیپلز پارٹی نے جے یو آئی ایف کی اس تنقید کا جواب دیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے گرفتار رہنما رہا ہونا چاہتے ہیں اور آزاد رہنما گرفتار نہیں ہونا چاہتے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیغام ہے کہ اسلام آباد ہی نہیں پنڈی میں احتجاج کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ احتجاج پیپلزپارٹی خود کرے گی۔ اس احتجاج کے لئے انہوں نے مولانا فضل الرحمان یا کسی اور کو شرکت کے لئے نہیں کہا۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر خواہ باہر اپوزیشن کی دو اہم جماعتوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھتی ہوئی آگے بڑھتی ہے یا ان کو نظر انداز کر کے صرف اکیلے چلتی ہے؟
پیپلز پارٹی کے لئے اہم محاذ سندھ حکومت ہے جو اس کی کمزوری بھی ہے اور مضبوط نقطہ بھی۔ لیکن یہاں پر بھی وفاقی حکومت کے پاس کوئی مضبوط یا آسانی سے قابل عمل آپشن نہیں۔
سندھ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار علی قاضی کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ کو کم از کم اٹھارہ گھنٹے فون پر یا روبرو ملاقاتوں کے ذریعے حکومت کے اعلیٰ افسران و عہدیداران سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔ لیا یہ دلچسپ صورتحال نہیں ہوگی کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس جیل جا کر وزیراعلیٰ سے ہدایات لیں گے؟۔ مختلف سمریز اور ہدایات و فیصلوں پر ان کے دستخط چاہئے ہوتے ہیں۔ کیا سب کچھ جیل کے اندر ہوتا رہے گا یا نیب کے دفتر میں؟ یا پھر چیف منسٹر ہاؤس کو سب جیل قرار دیا جائیگا؟
سندھ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار علی قاضی کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ کو کم از کم اٹھارہ گھنٹے فون پر یا روبرو ملاقاتوں کے ذریعے حکومت کے اعلیٰ افسران و عہدیداران سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔ لیا یہ دلچسپ صورتحال نہیں ہوگی کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس جیل جا کر وزیراعلیٰ سے ہدایات لیں گے؟۔ مختلف سمریز اور ہدایات و فیصلوں پر ان کے دستخط چاہئے ہوتے ہیں۔ کیا سب کچھ جیل کے اندر ہوتا رہے گا یا نیب کے دفتر میں؟ یا پھر چیف منسٹر ہاؤس کو سب جیل قرار دیا جائیگا؟
پیپلزپارٹی پر دباؤ وزیراعلیٰ تبدیل کرنے لے جایا جاسکتا ہے جو پیپلزپارٹی کے لئے بدترین آپشن ہوگا۔ لہٰذا وہ اس آپشن پر نہیں جائے گی۔کیونکہ اس کو فارورڈ بلاک بننے کا خطرہ ہے۔
قانوندان خواہ سیاسی مبصرین کے مطابق اس کے علاوہ بھی تین آپشن ہو سکتے ہیں۔یہ کہ راستہ عدالت سے رجوع کیا جائے۔معاملے کی حساسیت کے پیش نظر عدالت بھی اس انوکھے قسم کے کیس کا جلدی میں کوئی فیصلہ نہیں کر پائے گی۔ کیونکہ یہ سیدھا سیاسی معاملہ ہے۔
دوسرا آپشن یہ ہے کہ صوبے کے مختلف واقعات کو بنیاد بنا کرگورنر راج نافذ کردیا جائے۔ آخری آپشن فارورڈ بلاک بنا کر عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا ہے۔ اگر یہ آپشن لیا جاتا ہے تو کیا دوبارہ پیپلزپارٹی کو ہی موقع ملے گا کہ وہ حکومت بنائے۔ اگر یہی کرنا ہے تو پھر دس ماہ تک کی اتنی خچر خواری کیوں کی جارہی تھی؟۔
معاملہ کراچی کے لئے بلدیاتی اختیارات کا ہے جو وفاقی حکومت یعنی وزیر اعظم عمران خان کا مقصد ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی ہی حکومت رہتی ہے تو حکومت کواپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے دیر سویر پیپلزپارٹی کے ساتھ ڈیل کرنی پڑے گی۔
قانوندان خواہ سیاسی مبصرین کے مطابق اس کے علاوہ بھی تین آپشن ہو سکتے ہیں۔یہ کہ راستہ عدالت سے رجوع کیا جائے۔معاملے کی حساسیت کے پیش نظر عدالت بھی اس انوکھے قسم کے کیس کا جلدی میں کوئی فیصلہ نہیں کر پائے گی۔ کیونکہ یہ سیدھا سیاسی معاملہ ہے۔
دوسرا آپشن یہ ہے کہ صوبے کے مختلف واقعات کو بنیاد بنا کرگورنر راج نافذ کردیا جائے۔ آخری آپشن فارورڈ بلاک بنا کر عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا ہے۔ اگر یہ آپشن لیا جاتا ہے تو کیا دوبارہ پیپلزپارٹی کو ہی موقع ملے گا کہ وہ حکومت بنائے۔ اگر یہی کرنا ہے تو پھر دس ماہ تک کی اتنی خچر خواری کیوں کی جارہی تھی؟۔
معاملہ کراچی کے لئے بلدیاتی اختیارات کا ہے جو وفاقی حکومت یعنی وزیر اعظم عمران خان کا مقصد ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی ہی حکومت رہتی ہے تو حکومت کواپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے دیر سویر پیپلزپارٹی کے ساتھ ڈیل کرنی پڑے گی۔
What PPP is thinking? - Column by Sohail Sangi
Keywords: PPP, PMLN, Maulana Fazal, Islamabad March, PTI, Murad Ali Shah, Bilawal Bhutto, Zardari,
https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/people-16198.html
No comments:
Post a Comment