Thursday, July 20, 2017

پیپلزپارٹی کے اپنے اور پرائے لوگ

آصف علی زرداری کے تین دوستوں کی پراسرار گمشدگی

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 


حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی نے آصف زرداری کے تین ساتھیوں کی پراسرار گمشدگی پر سخت غصے کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے مختلف رہنماؤں اور وزراء کے بیانات میڈیا میں آرہے تھے۔ لیکن بدھ کے روز وزیراعلیٰ سندھ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو اسمبلی کے فلور پر آکر’ ’پالیسی‘‘ بیان دینا پڑا۔ ان کے اس بیان کی اہمیت نہ صرف یہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے اسمبلی میں آکر یہ بیان دیا ہے۔ کیونکہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم شازر نازر ہی اس طرح کے بیانات دیتے ہیں۔ لہٰذا ان بیانات کو سیاسی طور پر پالیسی بیان کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان کے بیان کا متن بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ آٹھ اپریل کو مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے ان تین افراد کا تاحال کسی بھی سرکاری ادارے یا غیر سرکاری گروہ نے قبول داری نہیں کی ہے۔ 

سید مراد علی شاہ نے اسمبلی میں آصف زرادری کے تین دوستوں کی گمشدگی کی مذمت کی اور پولیس کو ہدایت کی کہ وہ ان کو بازیاب کرانے کے لئے تمام وسائل استعمال کرے۔ غلام قادر مری ، نواب لغاری اور اشفاق لغاری کا براہ راست پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت سندھ کا خواہ عام خیال یہ ہے کہ آصف زرداری کی زمینوں اور دیگر کاروبار سے متعلق ان تین افراد کو وفاقی ادارے نے اٹھایا ہے۔ اسی روز قومی اسمبلی اور سنیٹ میں پیپلز پارٹی نے ان گمشدگیوں کے معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ اور دونوں ایوانوں میں واک آؤٹ کیا۔ 

 قومی اسمبلی اور سنیٹ میں سرکاری طور پر بتایا گیا کہ ان گمشدگیوں یا گرفتاریوں میں وفاقی وزارت داخلہ یا رینجرز ملوث نہیں ۔ جب کہ پیپلزپارٹی اس ضمن میں وفاقی وزیر داخلہ کو ملوث کر رہی ہے اور انہی کو تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہے،۔


وزیراعلیٰ سندھ نے اسمبلی کو ان گرفتاریوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا کہ غلام قادر مری کو جامشورو ٹول پلازا کے پاس ایک ویگو گاڑی اور ایک ڈبل کیبن میں سوار افراد نے اٹھایا، ان لوگوں کے ہاتھ میں واکی ٹاکی بھی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے متعلق تمام شواہد موجود ہیں۔  
پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے کاروباری تعلق رکھنے والے تین افراد کی گرفتاری سے متعلق یقیننا حکومت سندھ اور خود آصف علی زرادری نے اداروں کی سطح پر خواہ ذاتی سطح پر معلومات کی ہوگی، تحقیقات بھی کی ہوگی۔ اور اس معلومات اور تحقیقات کے بعد ہی وزیراعلیٰ سندھ نے اسمبلی میں آکر یہ بیان دیا ہے۔ ان کے بیان کے بعد پارٹی کے مختلف اراکین اسمبلی نے بھی اس بحث میں حصہ لیا۔ اور وفاقی حکومت اور وزیر داخلہ پر تنقید کی۔ 

 پیپلزپارٹی کا سندھ اسمبلی خواہ قومی اسمبلی میں یہ موقف ہے کہ یہ گرفتاریاں وفاقی ادارے نے کی ہیں لہٰذا یہ ناممکن ہے کہ وزیر داخلہ اس سے لاعلم ہوں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی شہری کو خواہ وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو، یا کسی بھی الزام کے تحت گرفتار ہو، ان کو گرفتاری کے 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کیا جانا چاہئے، یہ اس شکص کا قانونی حق ہے جس سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اصولی اورّ ئینی طور پر یہ بات درست بھی ہے۔ 

 سندھ اسمبلی میں اتنی مضبوطی کے ساتھ موقف سامنے آنے کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وزیر داخلہ اس ضمن میں نہ صرف اپنی بلکہ اپنی وزارت کی سرکاری طور پر پوزیشن واضح کریں۔ کیونکہ ایسا ممکن نہیں کہ کسی بھی شخص کی گرفتاری ہو اور وزارت داخلہ اس سے لاعلم ہو۔


سندھ میں ان’’ ہائی پروفائل‘‘ گمشدگیوں پر ملے جلے تاثر کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس بات پر تمام حلقے متفق ہیں کہ چاہے کسی بھی کسی بھی سخت ترین جرم کے تحت گرفاتری ہو، اس کی گرفتاری ظاہر کردینی چاہئے، دوئم یہ کہ گرفتار شدہ کو مقررہ وقت میں عدالت میں پیش کرنا چاہئے۔ 

 یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ گمشدگیاں یا گرفتاریاں سیاسی دباؤ کے لئے ہیں یا احتساب کے عمل کا حصہ ہیں۔ کیونکہ ان افراد کا تعلق آصف علی زرادری کے کاروبار سے متعلق ہے، اس لئے ممکن ہے کہ حکومت یا اس کا کوئی ادارہ زرداری پرسیاسی دباؤ ڈالنا چاہتا ہو۔ اگر اس کو احتساب کے زمرے میں شمار کیا جائے تو بھی براہ راست اس زمرے میں نہیں لایا جاسکتا۔  

اس امکان کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا کہ گرفتار شدگان کو تحویل میں لے کر کے ان سے زارداری صاحب کے املاک و کاروبار سے متعلق کوئی معلومات کٹھی کی جارہی ہے جس کو آنے والے وقتوں میں حکومت یا کوئی ادارہ استعمال کرے۔ اگر دو منٹ کے لئے یہ بات مان بھی لی جائے کہ حکومت یا اس کا کوئی ادارہ زرداری صاحب کی املاک یا کاروبار سے متعلق تفصیلات اور اعداد و شمار جمع کرنا چاہتا ہے، اس میں ناراض ہونے کی کیا بات ہے؟ یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ان کے کاروبار و املاک قانونی ہی ہونگی۔


پراسرار گمشدگیوں کا یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پیپلزپارٹی کو پہلی مرتبہ اس کی تپش محسوس رہی ہے کہ ان کی قیادت کے قریبی لوگوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے۔ جس پر پارٹی قیادت برہمی کا اظہار کر کے سنیٹ اور قومی اسمبلی میں احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کئے ہوئے ہے۔ 

دوسری طرف سندھ حکومت بھی بھرپور طریقے سے احتجاج کررہی ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کی نمائندہ جماعت ہے جس کو سندھ کے لوگوں نے ووٹ دیئے ہیں۔ لہٰذا اس صوبے کے ہر باشندے کے بارے میں سندھ حکومت کو اتنی ہی فکر کرنے کی ضرورت ہے جتنی کہ غلام قادر مری، یا نواب لغاری کی پراسرار گمشدگی کے بارے میں ہے۔ 

ماضی میں کم از کم ڈیڑھ درجن نوجوانوں کو پراسرار طور پر اٹھایا گیا تھ اور بعد میں ان کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھی۔ پیپلزپارٹی یا سندھ حکومت نے کبھی بھی اپنے غصے ، برہمی کا اظہار نہیں کیا۔ پیپلزپارٹی کا یہ موقف سیاسی ہے کہ اب جو گرفتار ہوئے ہیں وہ ’’اپنے لوگ‘‘ ہیں اور پہلے جو گرفتار ہوئے تھے وہ اپنے نہیں تھے۔ پارٹی کو اپنے اور پرائے کا یہ فرق ختم کرنا پڑے گا۔

No comments:

Post a Comment