سندھ میں حکمرانی اور عدلیہ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ حکومت کو نوٹیفیکشن جاری کرنے اور واپس لینے کی عدات سی ہو گئی ہے۔ مسلسل عدالت کی جانب سے متعدد فیصلوں کو غلط قرار دینے کے باوجود حکومت کوئی نہ کوئی ایسا فیصلہ کرتی رہتی ہے جو قانون کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔لہٰذا عدلیہ کو ہی یہ فیصلہ درست کرنا پڑتا ہے۔ ایک بار پھر عدالتی حکم پر اے ڈی خواجہ ڈی کو آئی جی سندھ کو عہدے پر بحال کردیا تھا۔ لیکن سندھ کابینہ نے انہیں پھر ہٹاکر ان کی خدمات وفاق کے حوالے کردی ہیں۔
گزشتہ دو سال کے دوران سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ دو درجن سے زائد مفاد عامہ کے مقدمات میں حکومت کے فیصلوں کو مسترد کر چکی ہے، اور ان حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد معطل کرچکی ہے۔ ان میں بعض مقدمات ابھی بھی زیر سماعت ہیں۔ مختلف محکموبھرتیوں، تقرریوں، ترقیوں اور تبادلے کے احکامات سے لیکر سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات تک کئی معاملات عدالیہ کو ہی نمٹانے پڑے۔ یہاں تک کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کی از سر نو تشکیل بھی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں کرنی پڑی۔
سندھ پبلک سروس کمیشن گریڈ 16 اور اس کے اوپر کے گریڈوں میں بھریتاں کرنے کا اختیار کھتی ہے۔ یعنی یہ وہ گریڈ ہیں جو فیصلہ اور پالیسی سزی اور ان پر عمل درآمد کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا وفاقی خواہ صوبائی حکومت میں اس سطح پر باصلاحیت، ذہین افسران کی بھرتی لئے جاتے ہیں اور حکومتی کاروبار چلانے، منصوبہ بندی وغیرہ کے لئے تربیت کے بعد انہیں ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہیں۔ لیکن ان قواعد، ضوابط اور قانون کو یکسر نظرانداز کر کے ان عہدوں پر سفارشی اور اثر رسوخ کی بنیاد پر بھرتیوں کا لامتناہی سلسہ شرروع کیا گیا۔ (بعض شکایات کے مطابق یہ بھرتیاں لین دین کی بنیاد پر بھی کی گئیں۔
ملازمتوں کے حوالے سے ایک پہلو عرصہ دراز سے نظرانداز ہوتا رہا ۔ وہ ہے وزیراعلیٰ سندھ کے صوابدیدی اختیارات کے تحت براہ راست اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پیز کی بھرتی۔ گزشتہ دنوں عدالت نے اس معاملے کا بھی نوٹس لیا ، جس کے نیتجے میں ایک طویل لسٹ سامنے آئی ہے جنہیں وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت گریڈ 17 میں بھرتی کیا تھا۔ ان میں سے بعض حضرات ریٹائر ہو چکے ہیں یا اس فانی دنیا میں نہیں جبکہ بعض ابھی بھی سیکریٹری یا اس کے مساوی عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان ایک سو سے زائد افسران کا کیا بنے گا؟ لوگوں کو اس عدالتی فیصلے کا نتظار ہے۔ نہ صرف بھرتیاں اس طریقے سے کی گئیں بلکہ تقرر، تبادلے اور ترقیوں میں یہ طریقہ روا رکھا گیا۔
جب قوانین اور ضوابط کو ایک طرف رکھ کر بھرتیاں ، تقرر اور ترقیاں دی جائیں گی تو اس کا نتیجہ لازمی طور پر انتظامیہ میں نااہلوں کی فوج ظفر موج کی صورت میں سامنے آئے گا۔ جو نہ کام کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی انہیں کام آتا ہے۔ وہ اپنے منصب کو اسٹیٹس یا پھر سرکاری پیسہ پانے جیبوں ڈالنے کے لئے آتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ بدانتظامی، بد نظمی، خراب حکمرانی اورہر دفتر کے دروازے پر بڑے پیمانے پر کرپشن کی صورت میں ہی نکلنے گا۔انتظامی مشنری عملا عضو معطل بن کر رہ جاتی ہے۔
حکومت اپنے سطح پر کبھی کوئی اچھا بھی فیصلہ کرے اس پر عمل درآمد کا فقدان ہی رہتا ہے۔جس کی جنوں نہیں سینکڑوں کی مثالیں موجود ہیں جب وزیراعلیٰ یا کسی وزیر باتدبیر نے معاملے کا نوٹس لیا یا ہدایات جاری کیں۔ لیکن نیتجہ صفر ہی رہا۔
یہی صورتحال مشیروں کے تقرر کے معاملے بھی سامنے آئی جب عدالت کے حکم پر سندھ حکومت کو نوٹیفکیشن واپس لینے پڑے۔
معاملہ صرف افسران کے تقرر وغیرہ کا نہیں کہ اس کو یہ عذر لنگ دے کر ٹال دیا جائے کہ یہ افسران کی آپس کی گروہ بندی یا لابیوں کا تنازع
ہے۔ زمین کی الاٹمنٹ پھر وہ بحریہ ٹاؤں کی ہو یا بن قاسم پارک کی، عدالت نے ان حکومتی فیصلوں کو مسترد کردیا۔
سندھ کے شہروں خواہ دیہی علاقوں میں پینے کے آلودہ پانی کی فراہمی ، سیوریج پانی کی نکاسی ، اور ان دو وجوہات کی بناء پر پھینلے والے امراض کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیکر سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا۔اب یہ کمیشن مستقل طور پرکام کرتا رہے گا۔ سندھ میں تعلیم اور صحت کی صورتحال کا سب کو پتہ ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد بھی صورتحال بہتر نہیں ہو پائی ہے۔
عدلیہ کا کردار گزشتہ کچھ عرصے سے مفاد عامہ کے معاملات کی براہ راست مانیٹرنگ کرنے اور ان پر نظر رکھنے کے طور پر سامنے آیا ہے اور یہ عدلیہ کا بڑھا ہوا کردار ہے۔ جس کو عام الفاظ میں جڈیشل ایکٹوازم کے دائرے میں لیا جاتا ہے۔ لیک عدلیہ کا یہ بڑھا ہوا کردار تب سامنے آیا ہے جب حکومت عوام کو ضروری سہولیات دینے میں ناکام ہو ئی۔ یہ سہولیات آج کے دور میں حق کی شکل میں ہیں جن کو آئینی اور قانونی تحفظ بھی حاصل ہے۔ اور اس مقصد کے لئے ہر سال ایک بہت بڑی رقم بجٹ میں مختص بھی کی جاتی رہے ہے۔ اس کام کی انجام دہی کے لئے ادارے اور مطلوبہ عملہ بھی موجود ہے۔ لیکن پھر بھی عوام کو یہ سہولیات نہیں مل رہی ہیں۔
عوام کو کچھ دینے کے حوالے سے ہماری صوبائی خواہ وفاقی حکومت کی رفتار بہت ہی سست ہے۔ وہ وقت پر لوگوں کو مطلوبہ سہولیات نیں دے پارہی۔ آئین اور قانون میں اور خود نیا بھر کے تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق حکومت کہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عام لوگوں کی ضروریات، سہولیات کی فراہمی کے لئے منصوبہ بندی کرے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کا بھی موثر نظام بنائے۔ ایسا بھی نہیں کہ اس ضمن میں ہمارے ملک میں متعلقہ قوانین یا ان پر عمل درآمد کے لئے ادارے موجود نہیں۔
اصل میں ایک لاپروائی اور کوتاہی حکومتی سطح پر ہے کہ حکمرانوں کی یہ سب معاملات ترجیح نہیں۔ دوئم : یہ قوانین، ادارے اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگ تحرک میں نہیں آتے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض مقامات پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی یا صلاحیت اور نیت نہیں یا پھر وہ کرنا ہی نہیں چاہتے۔ نیتجۃ ایسے لوگوں عوام کو سہولیات اور ان کا حق دینے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
حکومتی سطح پر اتنی لاپراہی، کوتاہی اور عدم فرض شناسی کی صورت میں عدلیہ سامنے آتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عدلیہ کتنے معاملات میں کہاں کہاں اور کتنی مرتبہ بیچ میں ؤتی رہے گی؟ عملا، عدلیہ خواہ کتنا ہی اپنا دائرہ اختیار بڑھائے اس کی اپنی limitations ہیں۔ اس کے پاس اپنی محدود افرادی قوت ہے۔ اس کو بھی بلآخر انتظامیہ سے ہی یہ سب کام کرانے ہیں۔
عام آدمی کی بے بسی اور بیکسی کا یہ عالم ہے کہ وہ اب ہر چھوٹے بڑے معاملے میں عدلیہ کی طرف دیکھتا ہے۔ لیکن عدلیہ تک رسائی اور وہاں پر اپنا کسی مضبوطی سے پہش کرنے کی نہ اس میں صلاحیت ہے، اور نہ ہی آگاہی اور skill۔ اس کے پاس اتنے مالی وسائل بھی نہیں کہ اچھا وکیل کرے اور اپنے حقوق کا تحفظ کرے۔
یہ کام منتخب ایوان اور وہاں موجود اپوزیشن کا ہے۔ سندھ میں اپوزیشن عملی طور پر وجود ہی نہیں رکھتی۔ اس کے لئے یہ سب بنیادی مسائل ثانوی نوعیت کے ہیں۔ یعنی ایک خلاٗ حکومت اپنی فیصل سازی اور انتظام کاری میں چھوڑ دیتی ہے، دوسرا خلاٗ انتظامی مشنری کی عدم صلاحیت اور عدم کارکردگی کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے۔ تیسرا خالٗ حکومت کے تقرری، تبادلے اور ترقیوں کی پالیسی کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے۔ چوتھا خلاء اسمبلی اور اپوزیشن کے مطلوبہ کرار ادا نہ کرنے کی صورت میں سامنے آتاہے۔ اس صورتحال میں کوئی تیسرا ادارہ خواہ وہ عدلیہ ہو یا کوئی اور درمیان میں آئیگا۔ کیونکہ یہ خلاء طویل عرصے تک خالی نہیں رہ سکتا۔
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ حکومت کو نوٹیفیکشن جاری کرنے اور واپس لینے کی عدات سی ہو گئی ہے۔ مسلسل عدالت کی جانب سے متعدد فیصلوں کو غلط قرار دینے کے باوجود حکومت کوئی نہ کوئی ایسا فیصلہ کرتی رہتی ہے جو قانون کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔لہٰذا عدلیہ کو ہی یہ فیصلہ درست کرنا پڑتا ہے۔ ایک بار پھر عدالتی حکم پر اے ڈی خواجہ ڈی کو آئی جی سندھ کو عہدے پر بحال کردیا تھا۔ لیکن سندھ کابینہ نے انہیں پھر ہٹاکر ان کی خدمات وفاق کے حوالے کردی ہیں۔
گزشتہ دو سال کے دوران سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ دو درجن سے زائد مفاد عامہ کے مقدمات میں حکومت کے فیصلوں کو مسترد کر چکی ہے، اور ان حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد معطل کرچکی ہے۔ ان میں بعض مقدمات ابھی بھی زیر سماعت ہیں۔ مختلف محکموبھرتیوں، تقرریوں، ترقیوں اور تبادلے کے احکامات سے لیکر سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات تک کئی معاملات عدالیہ کو ہی نمٹانے پڑے۔ یہاں تک کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کی از سر نو تشکیل بھی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں کرنی پڑی۔
سندھ پبلک سروس کمیشن گریڈ 16 اور اس کے اوپر کے گریڈوں میں بھریتاں کرنے کا اختیار کھتی ہے۔ یعنی یہ وہ گریڈ ہیں جو فیصلہ اور پالیسی سزی اور ان پر عمل درآمد کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا وفاقی خواہ صوبائی حکومت میں اس سطح پر باصلاحیت، ذہین افسران کی بھرتی لئے جاتے ہیں اور حکومتی کاروبار چلانے، منصوبہ بندی وغیرہ کے لئے تربیت کے بعد انہیں ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہیں۔ لیکن ان قواعد، ضوابط اور قانون کو یکسر نظرانداز کر کے ان عہدوں پر سفارشی اور اثر رسوخ کی بنیاد پر بھرتیوں کا لامتناہی سلسہ شرروع کیا گیا۔ (بعض شکایات کے مطابق یہ بھرتیاں لین دین کی بنیاد پر بھی کی گئیں۔
ملازمتوں کے حوالے سے ایک پہلو عرصہ دراز سے نظرانداز ہوتا رہا ۔ وہ ہے وزیراعلیٰ سندھ کے صوابدیدی اختیارات کے تحت براہ راست اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پیز کی بھرتی۔ گزشتہ دنوں عدالت نے اس معاملے کا بھی نوٹس لیا ، جس کے نیتجے میں ایک طویل لسٹ سامنے آئی ہے جنہیں وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت گریڈ 17 میں بھرتی کیا تھا۔ ان میں سے بعض حضرات ریٹائر ہو چکے ہیں یا اس فانی دنیا میں نہیں جبکہ بعض ابھی بھی سیکریٹری یا اس کے مساوی عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان ایک سو سے زائد افسران کا کیا بنے گا؟ لوگوں کو اس عدالتی فیصلے کا نتظار ہے۔ نہ صرف بھرتیاں اس طریقے سے کی گئیں بلکہ تقرر، تبادلے اور ترقیوں میں یہ طریقہ روا رکھا گیا۔
جب قوانین اور ضوابط کو ایک طرف رکھ کر بھرتیاں ، تقرر اور ترقیاں دی جائیں گی تو اس کا نتیجہ لازمی طور پر انتظامیہ میں نااہلوں کی فوج ظفر موج کی صورت میں سامنے آئے گا۔ جو نہ کام کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی انہیں کام آتا ہے۔ وہ اپنے منصب کو اسٹیٹس یا پھر سرکاری پیسہ پانے جیبوں ڈالنے کے لئے آتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ بدانتظامی، بد نظمی، خراب حکمرانی اورہر دفتر کے دروازے پر بڑے پیمانے پر کرپشن کی صورت میں ہی نکلنے گا۔انتظامی مشنری عملا عضو معطل بن کر رہ جاتی ہے۔
حکومت اپنے سطح پر کبھی کوئی اچھا بھی فیصلہ کرے اس پر عمل درآمد کا فقدان ہی رہتا ہے۔جس کی جنوں نہیں سینکڑوں کی مثالیں موجود ہیں جب وزیراعلیٰ یا کسی وزیر باتدبیر نے معاملے کا نوٹس لیا یا ہدایات جاری کیں۔ لیکن نیتجہ صفر ہی رہا۔
یہی صورتحال مشیروں کے تقرر کے معاملے بھی سامنے آئی جب عدالت کے حکم پر سندھ حکومت کو نوٹیفکیشن واپس لینے پڑے۔
معاملہ صرف افسران کے تقرر وغیرہ کا نہیں کہ اس کو یہ عذر لنگ دے کر ٹال دیا جائے کہ یہ افسران کی آپس کی گروہ بندی یا لابیوں کا تنازع
ہے۔ زمین کی الاٹمنٹ پھر وہ بحریہ ٹاؤں کی ہو یا بن قاسم پارک کی، عدالت نے ان حکومتی فیصلوں کو مسترد کردیا۔
سندھ کے شہروں خواہ دیہی علاقوں میں پینے کے آلودہ پانی کی فراہمی ، سیوریج پانی کی نکاسی ، اور ان دو وجوہات کی بناء پر پھینلے والے امراض کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیکر سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا۔اب یہ کمیشن مستقل طور پرکام کرتا رہے گا۔ سندھ میں تعلیم اور صحت کی صورتحال کا سب کو پتہ ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد بھی صورتحال بہتر نہیں ہو پائی ہے۔
عدلیہ کا کردار گزشتہ کچھ عرصے سے مفاد عامہ کے معاملات کی براہ راست مانیٹرنگ کرنے اور ان پر نظر رکھنے کے طور پر سامنے آیا ہے اور یہ عدلیہ کا بڑھا ہوا کردار ہے۔ جس کو عام الفاظ میں جڈیشل ایکٹوازم کے دائرے میں لیا جاتا ہے۔ لیک عدلیہ کا یہ بڑھا ہوا کردار تب سامنے آیا ہے جب حکومت عوام کو ضروری سہولیات دینے میں ناکام ہو ئی۔ یہ سہولیات آج کے دور میں حق کی شکل میں ہیں جن کو آئینی اور قانونی تحفظ بھی حاصل ہے۔ اور اس مقصد کے لئے ہر سال ایک بہت بڑی رقم بجٹ میں مختص بھی کی جاتی رہے ہے۔ اس کام کی انجام دہی کے لئے ادارے اور مطلوبہ عملہ بھی موجود ہے۔ لیکن پھر بھی عوام کو یہ سہولیات نہیں مل رہی ہیں۔
عوام کو کچھ دینے کے حوالے سے ہماری صوبائی خواہ وفاقی حکومت کی رفتار بہت ہی سست ہے۔ وہ وقت پر لوگوں کو مطلوبہ سہولیات نیں دے پارہی۔ آئین اور قانون میں اور خود نیا بھر کے تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق حکومت کہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عام لوگوں کی ضروریات، سہولیات کی فراہمی کے لئے منصوبہ بندی کرے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کا بھی موثر نظام بنائے۔ ایسا بھی نہیں کہ اس ضمن میں ہمارے ملک میں متعلقہ قوانین یا ان پر عمل درآمد کے لئے ادارے موجود نہیں۔
اصل میں ایک لاپروائی اور کوتاہی حکومتی سطح پر ہے کہ حکمرانوں کی یہ سب معاملات ترجیح نہیں۔ دوئم : یہ قوانین، ادارے اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگ تحرک میں نہیں آتے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض مقامات پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی یا صلاحیت اور نیت نہیں یا پھر وہ کرنا ہی نہیں چاہتے۔ نیتجۃ ایسے لوگوں عوام کو سہولیات اور ان کا حق دینے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
حکومتی سطح پر اتنی لاپراہی، کوتاہی اور عدم فرض شناسی کی صورت میں عدلیہ سامنے آتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عدلیہ کتنے معاملات میں کہاں کہاں اور کتنی مرتبہ بیچ میں ؤتی رہے گی؟ عملا، عدلیہ خواہ کتنا ہی اپنا دائرہ اختیار بڑھائے اس کی اپنی limitations ہیں۔ اس کے پاس اپنی محدود افرادی قوت ہے۔ اس کو بھی بلآخر انتظامیہ سے ہی یہ سب کام کرانے ہیں۔
عام آدمی کی بے بسی اور بیکسی کا یہ عالم ہے کہ وہ اب ہر چھوٹے بڑے معاملے میں عدلیہ کی طرف دیکھتا ہے۔ لیکن عدلیہ تک رسائی اور وہاں پر اپنا کسی مضبوطی سے پہش کرنے کی نہ اس میں صلاحیت ہے، اور نہ ہی آگاہی اور skill۔ اس کے پاس اتنے مالی وسائل بھی نہیں کہ اچھا وکیل کرے اور اپنے حقوق کا تحفظ کرے۔
یہ کام منتخب ایوان اور وہاں موجود اپوزیشن کا ہے۔ سندھ میں اپوزیشن عملی طور پر وجود ہی نہیں رکھتی۔ اس کے لئے یہ سب بنیادی مسائل ثانوی نوعیت کے ہیں۔ یعنی ایک خلاٗ حکومت اپنی فیصل سازی اور انتظام کاری میں چھوڑ دیتی ہے، دوسرا خلاٗ انتظامی مشنری کی عدم صلاحیت اور عدم کارکردگی کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے۔ تیسرا خالٗ حکومت کے تقرری، تبادلے اور ترقیوں کی پالیسی کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے۔ چوتھا خلاء اسمبلی اور اپوزیشن کے مطلوبہ کرار ادا نہ کرنے کی صورت میں سامنے آتاہے۔ اس صورتحال میں کوئی تیسرا ادارہ خواہ وہ عدلیہ ہو یا کوئی اور درمیان میں آئیگا۔ کیونکہ یہ خلاء طویل عرصے تک خالی نہیں رہ سکتا۔
No comments:
Post a Comment