Thursday, July 20, 2017

معیشت اور سیاست کی ترقی ساتھ ساتھ

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
معیشت اور سیاست کی ترقی ساتھ ساتھ

دنیا کی چار بڑی آڈٹ فرموں میں سے ایک فرم پرائیس واٹر ہاؤس کوپر نے یہ

 خوشخبری سنائی ہے کہ 2050 میں پاکستان کی معیشت کینیڈا کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔ پاکستان کے بارے میں یہ پیش گوئی دراصل ملکی معیشت کو پیش نظر رکھ کر نہیں بلکہ موجود مواقع کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ یعنی ہم اگر اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر ان مواقع کو عملی شکل دیں۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ کسی شخص کے دروازے پر تین مرتبہ دستک ہوئی۔ اس شخص نے آخری دستک پر پوچھا دروازے پر کون ہے؟ جواب ملا مواقع یعنی opportunity ،اس شخص نے کہا کہ آپ opportunity نہیں کیوں کہ وہ تین مرتبہ دستک نہیں دیتی۔ یہ صحیح ہے کہ دنیا میں تبدیل شدہ معیشت ، اور ملک کے محل وقع کی وجہ سے ہمارے لءئے بہت سارے مواقع نکل آئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام مواقع اور potential کو ہم کس طرح سے ٹھیک استعمال کر سکتے ہیں اور استفادہ  کر سکتے ہیں۔ 
اس رپورٹ میں پاکستان کو اتنے اچھی جگہ پوزیشن پر تو کھڑا کردیا ہے لیکن کوئی تفصیلات نہیں کہ کن بنیادوں پر یہ بات کہی جارہی ہے۔ جبکہ پولینڈ، چین، انڈیا، برازیل کے بارے میں تفصیلی تجزیے موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ویتں ام، انڈیا اور بنگلہ دیش کو 2050 تک تیز تر ترقی کرنے والے ملکوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح سے کہا گیا ہے کہ میکسیکو جرمنی اور برطانیہ سے بھی بڑا ہوگا۔ 
رپورٹ میں مجموعی طور پر کہا گیا ہے کہ یہ ممالک اپنے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنائیں۔ اپنی معیشتوں کو قدرتی وسائل پر غیر ضروری طور پر انحصار کرنے کے بجائے کثیر رخون میں لے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی اور قانونی اداروں کو موثر کریں۔ 
رپورٹ کی مجموعی سفارشات کے بعض نکات پاکستان کے حوالے سے نہایت ہی اہم ہیں، یعنی، انفرااسٹرکچر ، قدرتی وسائل پر غیرضروری انحصار، معیشت کو کچیر رخوں میں لے جانا، قانونی اور سیاسی اداروں کی مضبوطی۔ 
کسی بھی ملک کی مجموعی پیداوار کا تعلق کام کرنے والی افرادی قوت میں اضافہ اور ان کے معیار پر ہوتا ہے ان دونوں کا تعلق معیاری تعلیم پر ہے۔ جبکہ سرمایہ میں اضافے کا تعلق ٹیکنالاجی میں ترقی اورصحیح رخ میں سرمایہ کاری ہے۔ لوگوں کی قوت خرید کا تعلق بھی افرادی قوت کی تعلیم، تربیت اور ان کے حالات کار ، معاوضے اور ان کے مستل ملازمت پر منحصر ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کی ملکی مارکیٹ مضبوط نہ ہو اور آپ مکمل طور پر غیر ملکی تجارت پر انحصار کر کے اپنی معیشت کو مضبوط بنائیں۔ لگوں کی قوت خرید جتنی زیادہ ہوگی وہ اسی حساب سے اپنی اشیائے صرف خرید کریں گے اور خریداری کے ذریعے بھی وہ اپنی معیشت کو مضبوط کر تے رہیں گے۔ اگر ملک میں مخلتف اشیاء کا معیاردرست نہیں ہوگا اور اس معیار کو بہتر رکھنے کے لئے قوانین اور قوانین پر عمل کرانے کے لئے مکینزم نہیں ہوگا تو ملکی اشیاء نہیں خریدی جائیں گے۔ ہمارے پاس ملکی صنعتوں کے مضبوط نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ معیار پر سودے بازی کی جاتی ہے۔ لہٰذا دوسرے ممالک کے اشیاء کے لئے مارکیٹ کھول دی جاتی ہے۔ یہ صورتحال معیشت کے دیگر شعبوں اور ٹیکنالاجی پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ 
ابھی چین کی ترقی اور وسطی ایشیا کا جنوب کی طرف ہو جانے کے بعد ایک بار پھر امریکہ کی دلچسپی اس علاقے میں بڑھ گئی ہے۔ وسطی ایشیا قدرتی وسائل خاص طور پر توانائی کے وسائل سے مالامال ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی مارکیٹ بھی رکھتا ہے اور اچھی افرادی قوت بھی۔ یہ کسی طرح سے امریکہ کے مفاد میں نہیں کہ وسطی ایشیا اور باقی ایشیا کسی طور پر معاشی حوالے ایک دوسرے سے مل جائیں۔ 
یہ درست ہے کہ ملک میں بدترین غربت اور مہنگائی کے باوجود ملک میں اشیائے خوردنی کی پیداوار اتنی ہے جس کو قلت میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کی تقسیم کا معاملہ باقی معیشت کے شعبوں کی طرح یہاں بھی ایک سوال بنا ہوا ہے۔ 
جب سیاسی اور قانونی ادارے بنانے کی بات کی جاتی ہے تو معاملہ اچھی حکمرانی اور ملک میں معیشت کے ساتھ ساتھ ویسا منصفانہ اور نمائندہ سیاسی نظام بھی بنانا لازمی ہے۔ اچھی حکمرانی کی صورتحال آئے دن میڈیا میں رپورٹ ہو رہی۔ ملک میں موجود کئی ادارے اتنے غیر فعال ہو چکے ہیں کہ اپنے وجود کی اہمیت بھی کھو بیٹھے ہیں۔ کرپشن، پسند نا پسند، اقرباء پروری، ہمارے سیاسی اور سماجی نظام کا لازمی حصۃ بن گئے ہیں۔ آج کل صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ایک بار پھر عدلیہ کے کندھوں پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔
کئی معاملات جن کو سیاسی یا انتظامی طور پر حل کیا جاسکتا ہے ان کے لئے عدلیہ کو بیچ میں لایا جاتا ہے۔ اکثر دقفہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ادارے اپنے دائرے میں کام نہیں کرتے۔ جس کیو جہ سے بھی کئی مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔سیاسی ادارے بنانے سے مطلب سیاسی جماعتوں کا مضبوط ہونا ہی نہیں بلکہ سماج میں سیاسی شعور اور اس شعور کا سیاست پر دباؤ ہے۔ ہم ہر چھوٹے بڑے واقع پر محسوس کرتے ہیں کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور سیاسی نظام کتناکمزور ہے؟ اس کمزوری کی وجہ سے عوام کی شرکت اور نمائندگی منتخب ایوانوں کے باوجود موثر اور صحیح طور پر نہیں ہو پاتی ہے۔ منتخب ایوان کئی فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ فیصلے کسی نہ کسی مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سننیٹ کے چیئرمن رضا ربانی کا حالیہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مطلوبہ ترقی نہیں کر سکے ہیں۔ 
اصل بات یہ ہے کہ معیشت کی ترقی کا انحصار بنایدی طور پر اچھی سیاست اور اچھی انتظام کاری پر ہے۔ اگر ہم اچھی سیات اور اچھی انتظام کاری نہیں کر سکتے تو چاہے کنے ہی مواقع پیدا ہوتے رہے ہم ان سے استفادہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ یہ بات پاکستان کے بارے میں حالیہ رپورٹ کے حوالے سے بھی کہی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معیشت اور سیاست دونوں کو صحیح اور نمائندہ رخ میں چلائیں، صرف اسی صورت میں ملک اور قوم کا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ 


No comments:

Post a Comment