Thursday, July 20, 2017

ٹرمپ دنیا میں تبدیلی کا اظہار

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
ٹرمپ دنیا میں تبدیلی کا اظہار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی امیدوار بنتے ہی متنازع ہو گئے تھے۔ تانزع کا یہ سایہ ان کے انتخابات جیتنے پر بھی ختم نہیں ہوا۔ اور اب جب وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھا چکے ہیں تب بھی جاری ہے۔ جب وہ انتخابات جیتے ، امریکہ کے کئی شہروں میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ عام لوگوں نے سر عام خوشی کا اظہار نہیں کیا۔ جب وہ کپیٹال ہل میں حلف اٹھا رہے تھے تو اس مقام سے باہر مظاہرے ہو رہے تھے۔ اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے تھے۔ واشنگٹن، نیویارک ، لندن، سوئیڈن، ٹوکیو وغیرہ میں مظاہرے ہو رہے تھے۔

لوگوں کا یہ اظہار ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ہے، اور انہیں ڈر ہے کہ یہ پالیسیان ان کے لئے نقصاندہ ثابت ہونگی۔ انہیں سماجی تحفظ چھن جانے، مختلف سماجی اور معاشی فوائد میں کمی کا ڈر ہے۔ امریکی اباما کی پالیسیوں سے ناخوش تھے اس میں تبدیلی چاہتے تھے۔ لیکن وہ یہ تبدیلی نہیں چاہتے تھے جو ٹرمپ کی صورت میں ان کے سمانے آئی ہے۔ امریکا میں شاذو ناذر ہوتا ہے کہ صدر کے انتخابات پر اس طرح سے مظاہرے ہوں اور لوگ سڑکوں پر نکلّ ئیں۔ اور روز اول سے مظاہرے کرتے رہیں۔ اس طرح کی صورتحال برطانیہ کی یورپی یونین سے علحدگی کے فیصلے کے موقع پر بھی نظر آئی۔ ریفرینڈم میں عوام نے ہورپی یونین سے علحدگی کا فیصلہ کیا۔ لیکن بعد میں خیال آیا کہ شاید انہوں نے غلط فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کی کچھ اور شکل ہونی چاہئے تھی۔ ترکی میں طیب اردگان صدر منتخب ہوئے۔ لیکن ان کے خلاف مضبوط آواز موجود تھی جس کو انہوں نے کسی اور طریقے سے ہینڈل کیا۔

مختلف ممالک میں جو مظاہر سامنے آئے ہیں وہ اس بات کا اظہار ہیں کہ پیچیدگیاں اور الجھاوے بڑھ گئے ہیں۔ پالیسیوں اور عمل سے متعلق واضھ اور کلیئر کٹ لائیں موجود نہیں۔ یہ دنیا کے نئے معاشی اور سیاسی نظام کا نیا مظہر ہے۔ آج مختلف ممالک خواہ لوگوں کا ایک دوسرے پر انحصار بہت بڑھا ہوا ہے۔ لوگ مختلف معاملات پر جانکاری رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں فیصلہ بھی کر لیتے ہیں۔ اور دوسرے لمحے وہ فیصلہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ اور کسی اور رائے یا کسی اور فیصلے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مجموعی طور پر معاشی اور سیاسی پلایسیوں اور حکمت عملی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

امریکہ دنیا بھر کے لئے اس لئے اہم ہے کہ فوجی، معاشی اور سیاسی طور پر دنیا کا سردار بنا ہوا ہے۔ اس نے پہلے یہ سرداری زبردستی لی، دوسرے ملکوں اور گروہوں نے اس کی یہ سرداری قبول کی۔ اس تمام معاملے میں ظاہر ہے کہ امریکہ کے ہی نہیں بلکہ وہ جس سرمایہ د اری نظام کی نمائندگی کرتا ہے اسکے تحفظ کا معاملہ بھی تھا۔ امریکہ کئی ممالک اور اگوں کے لء مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان نے کہ ’’ پہلے امریکا‘‘ نے پورے عالمی ماحول میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ یعنی پہلی اولیت امریکا ہے، وہ نظام نہیں جس کی وہ سربراہی کر رہا تھا۔ اس صورتحال میں دوسرے ممالک کہاں کھڑے ہوں؟ امریکا کے پاس ان کے لئے کوئی consideration نہیں ہوگی۔ اور تو چھوڑیئے آئی ایم ایف، عالمی بینک جیسے مالی اداروں کواہ سیاسی اداروں کے لئے یہ ایک نیا چیلینج ہے۔

سرد جنگ کے دور میں فوجی اتحادوں کی دنیا تھی۔ اور اس جنگ کے خاتمے کے بعد معاشی اتحادوں کا دور شروع ہوا۔ جس کو گلوبلائیزیشن کا نام دیا گیا۔ گزشتہ دو سال کے دوران جو حالات پیدا ہو رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اب ایک بار پھر ہر ملک انفرادی طور پر اپنے لئے
سوچ رہا ہے۔ یعنی کسی بلاک کے لئے لاٹھی بردار سردار امریکہ کی جانب سے پالیسی نہیں آئے گی۔
کیا دنیا واقعی اس رخ میں جارہا ہے؟ بالکل ایسا بھی نہیں۔ مختلف ممالک بھلے اپنی اپنی پالیسیاں اور حکمت عملیاں بنائیں ، مگر جب بھی اور جہاں بھی امریکا بہادر کو اعتراض ہوگا، وہاں ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کے طور پر سامنے آ جائے گا. اور اپنا کردار ادا کرے گا۔ اس کی معنی یہ لی جا رہی ہیں کہ امریکہ پالیسیوں میں پہل کاری نہ کر کے دراصل ان کی ذمہ داریوں سے بری ہونا چاہتا ہے۔ اور مختلف معاملات میں خود سے ذمہ داری ہٹانا چاہتا ہے۔ وہ یہ کرتا رہے گا کہ جو بات اس کو درست نہیں لگے گی یا اس کے مفادات کے مطابق نہیں ہوگی، اس کو روک دے گا۔ لیکن اس کے مضمرات کے لئے خود تیار نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے شمالی امریکہ سے لیکر آسٹریلیا تک جتنے بھی فوجی اور معاشی خواہ سیاسی بعاہدے اور بلاکس بنتے رہے وہ سب امریکا کی ذمہ داری تھے، ان بلاکس کے قیام، ان میں تبدیلیاں یا ختم کرنے کرنے والا بھی امریکا ہی رہا ہے۔

فی الحال تمام حلقے ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی ں کو حتمی طور پر سمجھنے میں دقت محسوس کر رہے ہیں۔ تاہم بعض مقامات ایسے ہیں جہاں ان کی پالیسی واضح ہے۔ چین ایشیا میں نئے معاشی و فوجی قوت کے طور پر ابھر رہا تھا۔ 1979 میں امریکہ نے چین سے قربت شروع کی۔ بعد میں یہ قربت بعض مواقع پر حکمت عملی اور بعض تجارتی معاملات میں خاصی آگے تک گئی۔ تائیواں کو چین اپنا ایک بچھڑا ہوا صوبہ سمجھتا ہے۔

امریکا نے تائیوان کی حمایت کر دی۔ٹرمپ نے آتے ہی چین کے ’’ ایک ہی چین‘‘ کے نعرے کی مخالفت کی۔ اور تائیوان کے صدر کو فون کر کے تبادلہ خیال کیا۔ چین کے لئے یہ پیغام تھا کہ امریکا اب تائیوان اور چین سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کر رہا ہے۔ ٹرمپ چین کے گہرے تجارتی تعلقات کا بھی مخالف ہے۔ آج امریکہ میں اشیائے صرف کی بہت سی مصنوعات چین سے درآمد کردہ ہیں۔ عملا امریکہ چینی مصنوعات کی بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ ٹرمپ چین سے اتنی بڑی تجارت رکھنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ چین کو تجارتی حوالے سے manipulator سمجھتا ہے۔
ٹرمپ کا خیال ہے امریکی کرنسی کی قیمت گرانے میں چین کی تجارت کا بھی رول ہے۔ ٹرمپ چینی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کر کے ان کی مارکیٹ کو محدود کر سکتے ہیں۔ اس طرح سے امریکی صنعت یہ مصنوعات پھر سے پیدا کرنے لگے گی۔ جس سے کچھ روزگار کے بھی مواقع نکلیں گے۔ کیا اس طرح سے امریکی سرمایہ کار ان مصنوعات کی تیاری میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟ بظاہر یہ مشکل لگتا ہے کیونکہ امریکی معیشت بنیادی طور پر بھاری صنعت اور سروس سیکٹر پر مبنی ہے۔ عام استعمال کی اشیاء میں سرمایہ کاری ان کے لئے اتنا منافع بخش نہیں ہوگا۔امریکہ میں مزدوری اتنی سستی نہیں، کہ وہ سستی قیمت پر یہ مصنوعات پیدا کر سکے۔

چین کے بعد ایران ٹرمپ کی پالیسی کا اہم نقطہ ہوگا۔ اباما حکومت نے ایران کے ساتھ جوہری روک تھام کے لئے معاہدہ کیا تھا۔ ٹرمپ یہ معاہعدہ توڑنا چہاتا ہے۔ جس کے اثرات پاکسیتان سمیت خطے کے دوسرے ممالک پر بھی پڑیں گے۔ اس معاہدے کے بعد ایران شام اور عراق میں داعش سے لڑنے میں مدد کر رہا ہے۔ اگر یہ معاہدہ ختم ہو جاتا ہے تو ایران اس کام سے ہاتھ نکال لے گا۔ ٹرمپ انتظایہ کے نزدیک ایران میں امریکی سرمایہ کاری خواہ تجارت کے مواقع کم ہیں اس کے مقابلے میں سعودی عرب اور دیگر اس طرح کے ممالک میں منافع بخش تجارت کے مواقع زیادہ ہیں۔ ایران امریکا قربت اسرائیل اور سعودی عرب کو اچھی نہیں لگتی۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کا اثر پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑے گا۔

پاکستان سے متعلق امریکی پالیسیوں میں تبدیلی کا امکان کم ہے بلکہ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان پر دباؤ بڑھ جائے گا۔ اس ضمن میں ٹرمپ کے امور خارجہ کے سیکریٹری کے بیانات کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیاں دنیا میں سائنس، ٹکنالاجی، معیشت اور سماجی طور پر آنے والے تبدیلی کو ظاہر کرتی ہیں۔ لیکن بیک وقت یہ پالیسیاں زمینی حقائق سے تضاد میں بھی ہیں۔ کیونکہ آج کے دور میں کوئی ملک یا قوم خود پر انحصار کرکے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اور صرف اپنی بھی نہیں چلا سکتی۔ لوگ اور قومیں ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں تو ٹرمپ ان کو دور نہیں کر سکتا۔ یہ تضاد نئی صورتحال پیدا کرے گا۔ آنے والے وقت میں خود ڈپلومیسی اور عالمی پالیسیاں بھی تبدیل ہونگی۔ ٹرمپ صرف اظہار ہے۔

No comments:

Post a Comment