Thursday, July 20, 2017

کیا پاکستان میں کوئی وفاقی پارٹی ہے؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

گزشتہ تین عشروں سے ملک میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نظر نہیں آتی جو وفاقی نمائندگی کی دعویدار ہو۔کہنے کو آج کے دور کی بڑی سمجھی جانی والی جماعتیں پیپلزپارٹی، نواز لیگ ، تحریک انصاف وفاقی ہیں، لیکن جب اسمبلیوں میں نمائندگی کا مختلف صوبوں کے مسائل و وسائل کا وسال آتا ہے تب پتہ چلتا ہے کہ یہ جماعتیں اپنے جوہر میں وفاقی پارٹیاں نہیں۔

جنرل ضیاء کے دور تک پیپلزپارٹی وفاقی پارٹی تھی۔ اگرچہ منتخب ایوانوں میں پنجاب میں زیادہ مضبوط تھی۔ اس کے بعد سندھ میں بھی اکثریت میں تھی۔ جبکہ بلوچستان اور پختونخوا میں صوبائی سطح سے لیکر ضلع کی سطح تک موجود تھی۔ اسی وجہ سے اس نے یہ نعرہ اپنایا ہوا تھا کہ وفاقی کی زنجیر پیپلزپارٹی۔ پارٹی زیادہ مضبوط پنجاب میں تھی۔ لیکن جب بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو سب سے زیادہ احتجاج سندھ میں ہوا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر پنجاب میں بھی پارٹی کے لیڈروں اور جیالوں نے قید، بند، کوڑوں خواہ پھانسی کی سزائیں بھی کھائیں۔ لیکن جب جدوجہد طول پکڑ گئی تو آہستہ آہستہ پنجاب میں یہ معاملہ ہلکا ہوتا گیا۔

یہاں تک کہ جب جنرل ضیا کی آمریت پر آخری سیاسی وار کے طور پر ایم آرڈی کی تحریک شروع ہوئی تو اس میں پنجاب بھرپور شرکت نہ کر سکا جس کی کہ توقع کی جاتی تھی۔ سندھ اس تحریک میں آگے رہا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی محدود پیمانے پر شرکت کی۔بعد میں جو انکشافات ہوئے ان سے پتہ چلتا ہے کہ ایم آر ڈی کی تحریک کو صرف ایک صوبے تک محدود رکھنا خود ضیا کی پالیسی تھا۔ اس مقصد کے لئے جنرل ضیا اور ان کے’’ رفقاء کار‘‘ نے تمام بندوبست کر لئے تھے۔ اس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ’’ یہ احتجاج ملک گیر نہیں ایک صوبے تک محدود ہے۔ اور وہ بھی اس وجہ سے کہ بھٹو سندھی تھا بھٹو نے سندھی نواز پالیسیاں اختیار کی تھیں۔ اور سندھی بھٹو سے جذباتی لگاؤ کا بھی اظہار کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ‘‘۔ یہی سے احساس محرومی کا نعرہ شروع ہوا۔ یعنی اسٹبلشمنٹ نے ملک بھر میں جمہوریت کی جدوجہد کو ایم صوبے کی محرامی تک محدود کیا گیا۔ آئندہ اسی تصور پر کبھی شعوری طور پر تو کبھی لاشعوری طور پرسیاست ہوتی رہی۔ لہٰذا ایم آر ڈی جیسے تحریک بھی واپس وفاقیت کو دوبارہ رائج نہ کرسکی۔

جنرل ضیاء کی بعض پالیسیاں ظاہر ظہور تھی، لیکن بعض پوشیدہ پالیسیاں بھی تھی، جن کا اثر اور احساس وقت گزرنے کے بعد ہوا۔ دراصل اس ملک گیر تحریک کو ایک صوبے تک محدود کرنے کے طویل المیعاد اثرات یہ ہوئے کہ آنے والے وقت میں وفاق کی پارٹی نہیں رہی۔ دھیرے دھیرے پیپلزپارٹی سندھ تک سکڑتی گئی۔اور اس کے توڑ کے طور پر پیپلزپارٹی مخالف دھڑوں کو یکجا کر کے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی)کے نام سے کٹھا کیا گیا۔ یوں ایک وفاقی پارٹی کے مقابلے میں مختلف دھڑوں کا اتحاد سامنے لایا گیا۔ 1988 کے عام انتخابات کے بعد اسی فارمولے کو آگے بڑھانے کے لئے بینظیر بھٹو کو بعض شرائط پر حکومت دی گئی۔ آگے چل کر آئی جے آئے ختم ہو گیا اور عملی طور پر نواز لیگ سامنے آئی۔ جو پنجاب میں پیپلزپارٹی کے مد مقابل کھڑی ہو گئی۔ نواز لیگ بطور پارٹی اس وجہ سے بھی بنی کہ اس نے خود کو اقتدار حاصل کرنے کے لئے متبادل پارٹی کے طور پر خود کو پیش کیا۔ یہی وجہ بنی کہ اقتدار پسند افراد کو پیپلزپارٹی سے نکلنے کا راستہ مل گیا۔

تاریخ کے اوراق پلٹنے سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد عملا کوئی بھی وفاقی پارٹی نہیں رہی۔قیام پاکستان کے بعد منعقد ہونے والے پہلے انتخبات میں مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی جماعتیں ہار گئیِ اور وہاں پر جگتو فرنٹ نے فتح ھاصل کر لی۔ 1956 کا آئین دیکر کر مغربی پاکستان کی چاروں وحدتوں کو ون یونٹ کے ذریعے مغربی پاکستان بنایا گیا۔اور اس کو مشرقی پاکستان کے مد مقابل کھڑا کیا گیا۔ خود اس عمل نے وفاقیت کی نفی کی۔ ایک ظرف مشرقی پاکستان اپنی اکثریت ختم ہونے کے خلاف جدوجہد کرنے لگا، تو دوسری طورف مغربی پاکستان میں زبردستی شامل کئے گئے صوبے ون یونٹ کے خلاف تحریک چلانے لگے ۔ اس عمل نے صوبوں اور مرکز کے درمیان فاصلے بڑھا دیئے۔ جو پھر کبھی بھی صحیح خطوط پر استوار نہیں ہو سکے۔

جنرل ضیاء الحق نے بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔ درحقیقت یہ وفاق کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی تمام وحدتوں کی غلط فمہیاں اور شکایات کا ازالہ کرے۔کسی زمانے میں نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے متبادل دینے کی کوشش کی ۔ اس جماعت کی پالیسی قوم پرست اور بائیں بازو کی تھی۔ جس کو اسٹبلشمنٹ نے ابھرنے نہیں دیا۔اس میں بعض اندرونی خواہ بیرونی عوامل بھی شامل تھے۔ اگر نیشنل عوامی پارٹی جسے بعد میں کالعدم قرار دیا گیا، اس کے تصور کو پھلنے پھولنے کا موقعہ دیا جاتا تو بڑی حد تک صوبائیت اور قوم پرستی کے الجھاوے کو سلجھایا جاسکتا تھا اور اس کے نتیجے میں وفاق مضبوط ہو سکتا تھا۔ کے لیکن ہوتا یہ رہا کہ ان وحدتوں کی شکایات میں آئے دن اضافہ ہوتا رہا۔ اور معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔

سیاست سے ہٹ کر اسٹبلشمنٹ خواہ حکومت وقت نے کوئی ایسے اقدامات نہیں کئے جن سے صوبوں کے درمیاں فاصلے کم ہوں۔ بلکہ نواز حکموت سے یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ پنجاب کے علاوہ کسی صوبے کو نہ سیاسی طور پر نہ اپنی حکموت کی پالیسیوں میں حساب میں لے آتے ہیں۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ تک محدود ہے، اور نواز لیگ سندھ میں باقاعدہ آنے کے لئے تیار نہیں۔ یہی صورتحال تحریک انصاف کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ یہ دونوں جماعتیں وفاقی حکومت کی امیدوار کہلاتی ہیں۔ اب انتخابات میں سال نہیں ماہ باقی ہیں۔ ان پارٹیوں کی طرف سے سندھ کی طرف کوئی پیش رفت نہیں۔ پیپلزپارٹی پنجاب میں واپس بحالی کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کے لئے نواز لیگ اور تحریک انصاف کی موجودگی میں مزید یہ کہ پارٹی کے ؂ وفاق میں سابقہ اور سندھ میں مسلسل دو ادوار کی کارکردگی اس کے آڑے آرہی ہیں۔ پختونخوا میں تحریک انصاف جیتے یا عوامی نشینل پارٹی وہ مخلوط حکومت بنائیں، سوائے بلوچستان کے اور کسی صوبے تک ان کی رسائی نہیں۔ بلوچستان ویسے ہی مخلوط حکموتیں بنتی ہیں۔

سندھ اور پنجاب دو بڑے صوبے ہیں اس دفعہ بھی لگتا ہے کی ان کی سیاسی جماعتیں صوبوں تک ہی محدود رہیں گی۔ مسلسل یہ صورتحال کوئی خش آئندہ نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اس کا کتنا ادراک ہے اور وہ کیا عملی اقدامات اٹھاتی ہیں۔

No comments:

Post a Comment