Saturday, July 8, 2017

سندھ میں نیب قانون کا خاتمہ



میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
سندھ اسمبلی نے نیب کے اختیارات سندھ میں ختم کرنے کا بل منظور کیا ہے جس کے قانون بننے کے بعد نیب صوبے کے اندر کارروائیاں نہیں کر سکے گی۔ یہ بل گورنرکو دستخط کرنے کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔اگر گورنر دستخط کرتے ہیں، تو بعد سندھ میں قومی احتساب آرڈیننس جو کہ نیب کے قانون کے طور پر پہچانا جاتا ہے اس کا اطلاق سندھ میں نہیں ہوگا۔فی الحال گورنر نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس قانون کے نتیجے میں قومی احتساب بیورو سندھ کے سرکاری و نیم سرکاری ا داروں کے معاملات کی تحقیقات یا تفتیش نہیں کر سکے گا۔
اس سے پہلے وفاق اور سندھ کے درمیان رینجرز کے اختیارات کا تنازع چلتا رہا ہے۔ جبکہ ٹیکسوں کی وصولی، پانی، قدرتی وسائل کے معاملات پر بھی سندھ حکومت وفاق سے اختلاف رائے کرتی رہی ہے۔ یہی اختلاف وفاق کے تجویز کردہ پناہ گزینوں کے لئے قانون کے بارے میں بھی ہے۔ 
یہ بل سندھ اور وفاق کے درمیان کشمکش کو بڑھا سکتا ہے۔ گورنر سندھ محمد زبیر نے ہالہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بل کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گزشتہ روز گورنر کے خلاف سخت زبان استعمال کی اور کہا کہ گورنر اپنی حدود میں رہیں۔ اور نیب قانون سے متعلق غیرذمہ دارانہ بیانات سے گریز کریں۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ نیب سکھر کے کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر افسران نے محکمہ آبپاشی کے چیف انجنیئر اور سپرنٹینڈنگ انجنیئر کو گرفتار کر کے من پسند مقاصد کے لئے تین ماہ تک قید رکھا۔ اسی طرح س سکھر میں محکمہ آباشی کے تین بنگلوں پر نیب نے قبضہ کیا اور مرمت کے طور پر سندھ حکومت سے پانچ کروڑ روپے لئے۔ اس بل کو روکنے کے لئے ایک مزید پیش رفت ہوئی ہے۔ نیب قانون کا جائزہ لینے کے لئے پارلیمانی کمیٹی نے سندھ میں نیب سے متعلق بل کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آئین کی شق 143 کے منافی ہے۔ 
اس مجوزہ قانون سے درجنوں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں، وزراء اور افسران کو فائدہ ملے گا۔ کیونکہ ان کے خلاف جاری مقدمات انیٹی کرپشن عدالتوں میں اور تحقیقات اب نیب سے صوبائی محکمہ انسداد رشوت ستانی کو منتقل ہو جائے گی۔ اس وقت سابق صوبائی وزراء شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم حسین سمیت نصف درجن وزراء ایک درجن سے زائد افسران کے خلاف نیب تحقیقات کر رہی ہے جب کہ اس سے زیادہ افراد ضمانت قبل از گرفتاری ضمانت پر ہیں۔ ایک ڈیڑھ دو سال پہلے جن سندھ میں رینجرز نے کارروائیاں شروع کی تھی تب بعض پیپلزپارٹی کے رہنما بیرون ملک بھی چلے گئے تھے۔ 
بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تمام جاری کاروایاں، تحقیقات جو قومی احتساب آرڈیننس کے تحت چل رہی ہیں وہ سندھ انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن ایکٹ مجریہ 1991 کے تحت محکمہ انسداد رشوت ستانی کو منتقل ہو جائیں گی۔ اسی طرح سے جو مقدمات احتساب عدالتوں میں ہیں وہ اس نئے قانون کے بعد صوبائی اینٹی کرپشن عدالتوں میں چلے جائیں گے۔ 
کہا جارہا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے متوازی ادارے ہیں اور مزید یہ کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد نیب کی آئینی حیثیت نہیں رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف نے 1999 میں اقتدار پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر کے تین صوبائی اختیارات امن و امان اور پولیس، کرپشن اور بلدیاتی ادارے صوبوں سے لے کر مرکز کے حوالے کئے تھے۔ ان تمام تینوں سبجیکٹس کے لئے الگ الگ قانون سازی کی گئی تھی۔
یہ قانون سازی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب وزیراعظم نواز شریف اور ان کا خاندان پاناما پیپرز کے مقدمے میں جے ٹی آئی کا سامنا کر رہا ہے۔ ممکن ہے کہ وزیراعظم اور ان کی حکومت اس بل کی مخالفت نہ کریں۔ سپریم کورٹ بھی اس مقدمے کی تحقیقات نیب کے بجائے اپنی ٹیم سے کرا رہی ہے۔ 

بلاشبہ احتساب کے عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت رہی ہے۔ لیکن سندھ اسمبلی کے اس منظور کردہ بل سے کے بعد احتساب کا عمل مزید طویل ہو جائے گا۔ بلکہ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ عمل مکمل طور پرکرجائے گا۔ 

جب الیکشن سر پر ہیں پیپلزپارٹی اس قانون کے ذریعے اپنے منصوبوں میں کوئی رخنہ بازی نہیں چاہتی۔ لیکن ایک بامعنی احتساب کے عمل کی ضرورت رہے گی۔ 

کسی نے خوب کہا تھا کہ بادشاہ کا پہلا قانون خود اپنی حفاظت کرنا ہے۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں احتساب کا قانون سیاسی انتقام کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ خاص طور پر سیف الرحمان کی سربراہی میں نیب پر سیاسی انتقام کے الزامات لگے تھے۔لیکن پیپلزپارٹی کے گزشتہ نو سالہ دور میں کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں ۔ خود حکومت کے ادارے اس مہا کرپشن کی تصدیق کرتے ہیں ۔ خواہ عزائم کچھ بھی ہوں لیکن صوبے میں کرپشن کی چیخ پکار نے یہ جواز پیدا کیا کہ وفاقی ادارے نیب اور ایف آئی اے صوبائی محکموں کے معاملات کی تحقیقات کریں۔ پیپلزپارٹی کے اس تحرک پر سنجیدہ حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ سحقیقی معنوں اصل جو لوگ متاثر ہونگے وہ صوبے کے عوام ہونگے۔ پیپلزپارٹی نئے نعرے اور نئے وعدے کرے گی۔ لیکن زمینی حقائق و خود بول اٹھیں گے۔ 
پیپلز پارٹی سندھ میں خود اپنی ہی حفاظت کر رہی ہے۔ یہ بھی تنقید کی جارہی ہے کہ سات سال کے بعد یہ راز کھلا ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی کرنا صوبائی معاملہ ہے۔ اور نیب سمیت کوئی بھی ادارہ اس صوبائی اسم میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ اصل معاملہ کرپشن کی تحقیقات نہیں بلکہ کرپشن کا خاتمہ ہے۔ 
گورنر یہ بل واپس بھیج دے گا۔ اور اسمبلی ایک بار پھر اس کو مظور کریگی۔ یوں گورنر کے آئین کے مطابق گورنر کو بل منظور کرنا پڑے گا۔ ہاں یہ ضرور ہوگا کہ اس بل کو عدالت میں چیلینج کردیا جائے گا۔ 
پیپلزپارٹی نے ایسے موقع پر یہ بل دیا ہے جب اسلام آباد میں کشمکش آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے ۔فاقی حکومت خواہ سپریم کورٹ اور دیگر ریاستی اداروں کی مکمل توجہ جے ٹی آئی اور اس کی متوقع رپورٹ پر ہے۔ 
یہ بل کے قانون بننے کے بعدپیپلزپارٹی کو اپنے تحفظ کے لئے چھتری اور کشتی مل جائے گی۔ اور وہ سندھ میں کرپشن، بدعنوانی، خراب حکمرانی سے متعلق تمام شکایات کے باوجود بغیر کسی چیک اینڈ بیلینس کے اپنا کام جاری رکھے گی۔ اگر عدالت یا وفاق کی مداخلت سے یہ بل قانون نہیں بنتا تو بھی پیپلزپارٹی کی یہ سیاسی کامیابی ہوگی کہ اس نے ایک صوبائی سبجیکٹ وفاق سے واپس لینے کے لئے قانون سازی کی۔ اور وہ صوبائی خود مختاری کی چیمپیئن ہونے کی دعوا کر سکے گی۔ 
بل میں ایک نقطہ یہ تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس سے سندھ برائے راست وفاق سے ٹکراؤ میں جارہا ہے۔ سندھ کیس تصادم کی راہ پر نہیں جارہا۔ یہ کثیر نوعیت کا بل بل ہے، پیپلزپارٹی ایسے ایم پی ایز اور ایم این ایز کے خالف بھی اس قانون کے تحت کارروائی کرنے جا سکتی ہے جو کل اس کو چھوڑ کر جانے کا سوچ رہے ہیں۔ 

وفاقی حکومت اس قانون پر کیا موقف اختیار کرتی ہے؟ وفاقی حکومت زیادہ تر امکان اس بات کا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اس تنازع کو بھی عدالت پر چھوڑ دیا جائے اور ایک اور سیاسی معاملہ اسمبلیوں میں طے کرنے کے بجائے عدالت کا سہارا لیا جائے۔ 

No comments:

Post a Comment