March 31
خطے میں نئی صف بندی اور پاکستان
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
جن سے کبھی نظریاتی اور جغرافیائی حدود کو خطرہ سمجھا جاتا تھا، اور لوگوں کے ذہنوں میں سالہا سال تک یہ زہر بھرا گیا، اب انہی سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا جارہا ہے۔ ریاست نے یو ٹرن لیا ہے۔ اور روس کے ساتھ نئی صف بندی کی طرف جارہی ہے۔ دیر آید درست آید۔ روسی افواج نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کی۔ جبکہ ماسکو کی جانب سے افغانستان میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں بھی ایک اہم فریق کے طور پر پاکستان شرکت کرنے جا رہا ہے۔
قیام پاکستان سے فوری بعد امریکہ سے دوستی ہی نہیں کی بلکہ اس کے کیمپ میں جاکر اسی کی عالمی حکمت عملی کا کل پرزہ بنا رہا۔ ہم نے اپنی سیاست معیشت، خارجہ پالیسی سب کچھ اس کے ماتحت کردیا۔افغان جنگ پراکسی جنگ کے طور پر لڑی جس کے نتیجے میں آگے چل کر پاکستان میں جہادی قوم پیدا کر لی۔ اور تمام تر توانائیاں افغانستان میں انقلاب کو روکنے پر صرف کی گئیں۔ آج کی صورتحال اسی کا نتیجہ ہے۔ جب ترقی پسند اور روش خیال لوگوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ گئی ہے۔ اور شدت پسندی ہزاروں سے لاکھوں ذہنوں تک پہنچ گئی ہے۔ اب امریکہ کی وجہ سے پیدا کی گئی شدت پسندی کی حکمت عملی کے باعث دہشتگردی کو نمٹنے کے لئے ہم ملک بھر میں آپریشن پر آپریشن کئے جارہے ہیں۔ لیکن اس سے جان نہیں چھوٹ رہی۔
پہلے پاکستان امریکہ کے ساتھ ملک میں روس کا اثر ختم کرنا چاہتا تھا۔ اور اب اسی روس کے ساتھ چین کی مدد سے امریکہ کا اثر روکنے اور ختم کرنے کا خواہشمند ہے۔ اگر شروع میں ہی ہم اپنی پالیسیاں غیر جاندارانہ رکھتے تو شاید یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔
پہلے پاکستان امریکہ کے ساتھ ملک میں روس کا اثر ختم کرنا چاہتا تھا۔ اور اب اسی روس کے ساتھ چین کی مدد سے امریکہ کا اثر روکنے اور ختم کرنے کا خواہشمند ہے۔ اگر شروع میں ہی ہم اپنی پالیسیاں غیر جاندارانہ رکھتے تو شاید یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔
شروع کے دنوں کے بعد بھی کئی مواقع آئے جب ہم اس امریکی کھورکھ دھندے سے نکل سکتے تھے، لیکن کوئی حکمت عملی اور دوراندیشی کے فقدان یا پھر چھوٹے چھوٹے مفادات آڑے آتے گئے اور ہم ایڈہاک ازم کی بنیاد پر کوئی آزادانہ موقف نہیں اختیار کر سکے۔
افغانستان ایک ایسی دلدل بن چکا ہے کہ اب امریکہ خود اس سے نکل بھی نہیں پارہا۔ اور ایک طرح سے اسے مزید طو دے کر اپنے مفادات حاصل کر رہا ہے۔ میں قیام امن کے لئے امریکی کوششوں کی ناکامی کے بعد سفارتی سطح پر روس کا یہ پہلا قدم ہے۔ تشویش کا اظہار اس لئے بھی کیا جارہا ہے کہ جنگ زدہ اس ملک میں داعش کے گروپ کا خطرہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تین ممالک جو اس بحران کو اپنے کئے بھی خطرہ سمجھتے ہیں اس کا علاقائی حل تلاش کرنے کی کوش کر رہے ہیں۔ پہلے ان مشاورتی اجلاسوں میں کابل کو دعوت نہیں دی گئی تھی جس پر افغانستان نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا،لیکن آئندہ کانفرنس میں افغان حکومت کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ امریکہ کو ماسکو کی پہلکاری پر شروع کئے گئے اس عمل میں امریکہ کو نہیں شامل کیا گیا ہے۔
اس سے قبل چار ملکی فورم جس میں امریکہ، چین، افغانستان اور پاکستان شامل تھے قیام امن کے لئے کوششیں لے چکا ہے۔ شدت پسند افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکامی کے بعد یہ مذاکرات گزشتہ ایک سال سے معطل ہیں۔ ممکن ہے کہ ماسکو کے حالیہ تجویز چار رکنی فورم کی جگہ لے لے۔ گزشتہ سال دسمبر میں روس، چین اور پاکستان کے درمیان تین مشاورتی اجلاس ہو چکے ہیں۔ جس میں اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ افغان بحران خطے میں پھیل سکتا ہے۔
ابھی تک یہ طے نہیں کہ افغانستان کے طالبان بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ افغان اور امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں افغان طالبان کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ پاکستان کا یہ موقف ہے کہ وہ افغانستان میں قیام عمل کے لئے کوشاں ہے اور خیرسگالی کے طور پر افغان سرحد کھول دی ہے۔افغانستان پر زور دے رہا ہے کہ وہ سرحد کی انتظام کاری میں تعاون کے۔
افغانستان، ایران، انڈیا، وسطی ایشیا کی بعض ریاستوں کو ماسکو میں ہونے والی اس کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے جبکہ امریکہ نے روسی دعوت مسترد کردی ہے ۔ دو ہفتے قبل پاکستانی حکام نے متعدد افغان طالبان رہنماؤں کو اسلام آباد دعوت دے کر بلایا تھا۔ اور شدت پسندوں پر زور دیا تھا کہ وہ ماسکو کے امن مذاکرات میں شرکت کریں۔
افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے گزشتہ ہفتے اپنے واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکہ سے فرمائش کی کہ وہ افغانستان میں مزید فوج بھیجے کیونکہ ان کے ملک میں طالبان کے حملوں میں شدت آگئی ہے۔ اور اسلامک اسٹیٹ گروپ بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت 8400 امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن مذاکرات کے لئے تیار ہیں تاہم انہیں شبہ ہے کہ جب تک پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر صفایا نہیں کرتا مشکل ہے کہ طالبان ان مذاکرات میں شرکت کریں۔ یہی پڑوسیوں کے درمیان تلخی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
ماسکو کی حالیہ کوششیں امریکہ کی شرکت کے بغیر کیسے نتیجہ خیز ثابت ہونگی؟ یہ ایک سوال ہے۔ کیونکہ اس وقت بھی افغانستان میں امریکہ کی تقریبا دس ہزار فوج موجود ہے۔ جو شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔
سوال یہ ہے کہ افغان حکومت یہ دعوت قبول کرتی ہے یا ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں اپنے نقط نظر میں نرمی پیدا کرتی ہے۔ ماسکو کی سہ فریقی اجلاس نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شدت پسند رہنماؤں کی سفری پابندیاں ختم کی جائیں ۔ یہ مطالبہ دراصل طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے مشروط کر کے رکھا ہے۔ لیکن سفری پابندی ہٹانے کے لئے امریکہ کی رضامندی ضروری ہے۔
طالبان اس صورت میں کابل کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھ سکتے ہیں جب تک وہ میدان جنگ میں قابل قدر کامیابی حاصل نہیں کر لیتے۔
افغان امن مذاکرات کو سرد خانے سے نکالنے کے لئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان خوشگوار تعلقات ضروری ہیں۔
اس ضمن میں کچھ بات آگے بڑھی ہے لیکن وہ کافی نہیں۔
طالبان ماسکو کے اس اجلاس سے خوش ہیں کہ ان کا مطالبہ ایک بڑے فورم پر زیر بحث آیا ہے۔ چین اور روس اقوام متحدہ سے یہ مطلابہ کر رہے ہیں کہ بعض افغان طالبان لیڈر جن کو دہشتگردوں کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے ان کے نام اس لسٹ سے خارج کئے جائیں تاکہ امن مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔
چین گزشتہ کچھ عرصے سے افغان امن کوششوں میں سرگرم ہے۔ جو کہ کان کنی اور انفرااسٹرکچر کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کار ہے اس کے طالبان اور افغان حکومت دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ طالبان نے بعض مواقع پر جنگ میں پھنسے ہوئے فریقین کے درمیان مذاکرات کرانے میں مدد بھی کی ہے۔ بیجنگ کو افغانستان میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام اور وہاں داعش کی سرگرمیوں کی اطلاعات پر گہری تشویش ہے۔
افغانستان کے منظر میں روس کی آمد نئی ہیں۔ اس کی کوشش ہے کہ داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لئے تبدیل شدہ منظر نامے میں نئے اتحاد اور نئی صف بندی کی ضرورت ہے۔ ماسکو میں افغانستان پر اجلاس کے بعد ایک اور سہ فریقی مذاکرات ہوئے یہ شام کے بحران سے متعلق تھی اور اس میں ترکی اور ایران بھی شریک ہوئے۔ اس سہ فریقی اجلاس میں بھی امریکہ کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو افغنا اور شام کے بحرانوں میں آگے بڑھ رہا ہے ۔اس کے نتیجے میں عالمی طور پر طاقت کے توازن میں تبدیلی رونما ہورہی ہے۔
شمالی افغانستان میں شدت پسندوں کی بڑھتی یوئی سرگرمیوں کی وجہ سے وسطی ایشیا کے ریاستوں کو خطرہ ہے۔ ماسکو کو یہ بھی تشویش ہے کہ وسطی ایشیا کی مسلم آبادی خاص طور پر چیچینیا میں داعش اپنا اثر بڑھا رہی ہے۔ عراق اور شام کی جنگ میں غیر ملکی شدت پسندوں کی سب سے زیادہ تعداد چیچینیا کی ہے ۔ لہٰذا اس صورتحال نے بھی روس کو مجبور کای کہ وہ افغان طالبان سے رروابط بڑھائے۔ جو کہ افغانستان میں داعش کے گروپوں کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔
شمالی افغانستان میں شدت پسندوں کی بڑھتی یوئی سرگرمیوں کی وجہ سے وسطی ایشیا کے ریاستوں کو خطرہ ہے۔ ماسکو کو یہ بھی تشویش ہے کہ وسطی ایشیا کی مسلم آبادی خاص طور پر چیچینیا میں داعش اپنا اثر بڑھا رہی ہے۔ عراق اور شام کی جنگ میں غیر ملکی شدت پسندوں کی سب سے زیادہ تعداد چیچینیا کی ہے ۔ لہٰذا اس صورتحال نے بھی روس کو مجبور کای کہ وہ افغان طالبان سے رروابط بڑھائے۔ جو کہ افغانستان میں داعش کے گروپوں کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔
اس حوالے سے چین اور پاکستان کی تشویش کی ساجھے داری ہوگئی۔ اور انہوں نے نئی علاقائی صف بندی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کو امید ہے کہ وہ اس ترکیب کے ذریعے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لے آئے گا۔ لیکن صورتحال کی پیچیدگی کے پیز نظر یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں۔ اس ضمن میں کابل حکومت کو افغان طالبان اور پاکستان کے حوالے سے تحفظات ہیں۔یہ تحفطات دور کر کے پاکستان نئے فارمیٹ میں اپنی جگہ پیدا کر سکتا ہے۔ بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں اب حکمت عملی کے طور پر اضافہ ہوچکا ہے۔ پاکستان کے لئے کسی طور پر بھی ممکن نہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں وہ جگہ لے سکے جو بھارت حاصل کر چکا ہے۔ایسے میں بہتر ہے کہ ہم مشرق وسطیٰ یا مغرب کی طرف دیکھنے کے بجائے خطے پر ہی اپنی نظریں مرکوز رکھیں۔
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے نئے چیلینجز اور نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان ایک بار خطے میں موجود قوتوں کا ساتھ دیتا ہے یا اپنی روایتی پرانی پالیسی پر گامزن رہتا ہے؟
No comments:
Post a Comment