پنجاب میں آپریشن
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ میں رینجرز، بلوچستان میں فرنٹیئر کنسٹبلری اور خیبرپختونخوا میں فورسز کے ذریعے آپریشن جاری ہے۔ اسی طرح سے وزیرستان اور فاٹا کے بعض لاقوں میں بھی آپریشن چل رہا ہے۔ پنجاب واحد صوبہ تھا جہاں پر آپریشن نہیں ہو رہا تھا۔ حالانکہ ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت وہاں بھی آپریشن ہونا تھا۔ جہاں کے لئے میڈیا رپورٹس اور بعض خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق فرقہ واریت اور جنگجو افراد کی نرسریاں ہیں۔
اب پنجاب کی باری آئی ہے۔ وہ ملک کے اس بڑے صوبے میں دہشتگردوں کے خاتمے امن و امان کی بحالی کے لئے رینجرز کو طلب کیا گیا ہے۔ یعنی بظاہر یہ وہی مقصد ہے جس کے لئے کراچی میں رینجرز کو بلایا گیا تھا۔ ۔ ممکن ہے کہ بعض لوگ اس کو اچھا شگون سمجھیں، لیکن اس کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ صوبے میں جو ارباب اختیار تھے وہ مناسب اور موثر اقدامات اٹھانے میں ناکام رہے۔ نتیجے میں حالات خراب ہوتے گئے۔ بالآخر آئین کی دفعہ 245 کے تحت رینجرز کو طلب کرلیا گیا۔
ضرب عضب اور ردالفساد میں دو فرق ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے آپریشن ضرب عضب علاقے کو دوبارہ فتح کرنا یا حاصل کرنا تھا۔ جبکہ جنرل باجوہ کے آپریشن رد الفساد کا فوکس ملک کے اندر دہشتگردوں کے انفراسٹرکچر اور نیٹ ورک و حمایت کو تباہ کرنا ہے۔
ابھی تک ضرب عضب آپریشن جاری ہے ایسے میں نیا آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کس حد تک مناسبت ہے۔ تمام تر کمایابیوں کے باوجود آپریشن ضرب عضب ملک کے اندرونی خطرات کو ختم نہیں کرسکا۔ دہشتگرد دوبارہ منظم اور از سر نو گروہ بندی کر رہے ہیں۔
خیال کیا جاتا تھا کہ وزیرستان میں آپریشن سے اسلام آباد، کابل اور واشنگٹن کے درمیان عدم اعتماد کی فضا کو ختم کرے گا۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ اتحادی فنڈ میں کتوتی ہوئی۔
کراچی اور پنجاب کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ۔ جب کراچی میں رینجرز کو بلایا گیا تھا تب حالات بہت مخلتف تھے۔
ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود کراچی کا معاملہ کم پیچیدہ تھا۔ اول یہ کہ برسہا برس سے جاری دہشتگردی کے واقعات اور اس کے ساتھ سیاست کے میلاپ نے صورتحال کو گمبھیر بنا دیا تھا۔ سویلین ادارے شہر میں امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ صوبائی حکومت خود کو غیر فعال سمجھ رہی تھی۔کراچی نے ایسے دن بھی دیکھے کہ شہر تقریبا مختلف لسانی گروہوں کے درمیان بٹا ہوا شہر بنا ہوا تھا۔
90 کے عشرے سے جوں جوں حالات خراب ہونا شروع ہوئے وہاں پر وفاقی اداروں کی موجودگی اور عمل دخل بڑھ گیا، جس نے صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار کو عملی طور پر کم کردیا۔حکومت ایسے میں کیا کرے کیا نہ کرے اسے کچھ سمجھائی نہیں دے رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وقتا فوقتا سندھ میں رینجرز کے قیام اور ان کے اختیارات کا معاملہ صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات کی وجہ بنا رہا۔ آہستہ آہستہ صورتحال یہ بن گئی کہ صوبائی حکومت کراچی میں امن و امان کی بحالی وفاقی معاملہ سمجھنے لگی۔ پہلے جو کچھ ہوا سو ہوا لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت بھی اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی تھی۔ بالآخر کراچی میں ایک لسانی تنظیم کے کھاتے میں سب الزامات آ گئے۔ اور اس کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
کراچی کے مقابلے میں لاہور ایک ہی زبان بولنے والوں کا شہر ہے۔ صوبے کی حکمرانی ایک ہی شخص کر رہا ہے وہ ہے وزیراعلیٰ پنجاب۔ سندھ کی طرح بعض علاقے یا محکمے کسی ایک خاص جماعت کو نہیں دیئے ہوئے ہیں اور نہ ہی پنجاب میں گورنر سندھ کی طرح بااختیار رہا کہ اسے وزیراعلیٰ کی طرح بعض انتظامی امور بھی عملی طور پر ادا کرنے پڑے ہوں۔ لاہور یا پنجاب میں مشتبہ لوگ اس طرح سے کھلے عام تیار نہیں ملیں گے جس طرح سے کراچی میں ملے تھے۔
زیادہ تر زور اس بات پر ہے کہ جنوبی پنجاب میں جنگجو افراد کی پناہ گاہیں یا نرسریاں ہیں۔ جس کے لئے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زور شور سے بات تیں عام ہیں۔ کیا باقی پنجاب اس طرح کی سرگرمیوں سے محفوظ اور پاک ہے؟ اگر پنجاب کے علاقے کو چھوڑ کر صرف جنوبی کو ٹارگیٹ بنایا جاگیا تو اس کے فوری خواہ طویل مدت کے مضمرات سے نہیں بچنا مشکل ہو جائے گا۔ جنوبی پنجاب کو ویسے ہی بہت شکایات ہیں۔ جو تخت لاہور کی بات کرتے ہیں۔ اگر آپریشن گیا جاتا ہے تو تخت لاہور والی بات صحیح سمجھی جائے گی۔ ایسے میں جذبات کو ٹھنڈا کرنا مشکل کام ہو جائے گا۔
یقنیناا قانون نافذ کرنے والے بلا امتیاز آپریشن کرنا چاہیں گے۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس آپریشن میں وہ حلقے بھی گھسیٹے جائیں جو صوبے میں موجود نظام اور حکومت کا حصہ ہیں۔ یہ نواز لیگ کی مضبوط حکومت کے لئے چیلینج ہوگا کہ وہ ان سیاسی مضمرات کا سامنا کرے کیونکہ ایک سال کے بعد انتخابات ہونے والے ہیں۔ پارٹی کے لئے اپنے اتحادیوں کو مطمئن کرنا اور سمجھانا مشکل ہو جائے گا۔ یہ نواز لیگ کے لئے کڑا امتحان ہوگا۔ نواز لیگ مجبور ہو گئی ہے کہ وہ خود کو اپنے پرانے دوستوں سے دور رکھے۔ ظاہر ہے کہ اس بنیاد پر نواز لیگ پر تنقید بھی ہوگی۔
سوال یہ بھی ہے کہ مشتبہ لوگ اور معصوم لوگوں کے درمیان کیسے تفریق کی جائے گی؟ نواز لیگ نے کبھی یہ اصطلاح سنی ہی نہیں۔ وہ خود کو اس ہنگامی صورتحال کے لئے تیار کر سکے گی؟ حال ہی یہ اصطلاح ایجاد کی گئی کہ مقامی جنگجو نہیں ، بلکہ ان دہشتگردں کا تعلق باہر سے ہے۔ البتہ مقامی طور پر کچھ سہولت کار ہو سکتے ہیں۔ جو کہ کم نقصان کار ہیں پنجاب میں افغان شہریوں کی گرفتاریاں اس ضمن کی کڑی لگتی ہیں۔
شہباز شریف جو کہ اپنی طبع اور کام کے اسٹائل میں حکم چلانے والے رہے ہیں ان کے لئے بھی یہ آپریشن نیا تجربہ ہوگا کہ وہ ان اقدامات کو جسٹیفائی کرے جو کسی اور ادارے نے کئے ہوں۔
خیال کیا جارہا ہے کہ حالیہ آپریشن ردالفساد کا فوکس پنجاب ہوگا۔ یہ پنجاب میں سیاسی ڈائنامکس بھی تبدیل کر سکتا ہے۔
ہم گزشتہ تین چار عشروں سے ایک خاص مائینڈ سیٹ بنا رہے ہیں۔ اس مائینڈ سیٹ کے لوگ ہمیں عام لوگوں میں ہی نہیں سرکاری اداروں، مختلف سماجی شعبوں بشمول تعلیم میں بھی نظر آئیں گے۔اصل میں پورا بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بیانیہ ہی مائینڈ سیٹ بناتا ہے۔
ضرب عضب آپرشن کو ابھی منطقی نتیجہ پر پہنچانا ہے ایسے میں ایک اور آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں ہمارے ادارے دہشتگردوں کی ایک کھیپ یا نسل کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ لیکن جب تک ہم ان بنیادوں اور جڑوں کو نہیں پہچان پائیں گے تب تک ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا ہوتی رہے گی۔ اور دہشتگرد تو ختم ہو تے رہیں گے لیکن دہشتگردی ختم نہیں ہوگی۔
No comments:
Post a Comment