یکساں بنیادی آمدن
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
دنیا بھر میں معاشی نابرابری اس حد کو چھو رہی ہے کہ مفکرین یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ دولت کی از سر نو تقسیم ہو،۔ جو تجویز زیادہ مقبول رہی ہے وہ ہے دنیا میں یکساں بنیادی آمدنی کا نظام رائج کیا جائے۔ مفکرین کے نزدیک انتہا تک بڑھی ہوئی معاشی نابرابری کئی سماجی، سیاسی اور زندگی کے اہم معاملات میں فیصلہ کرنے میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں آزادانہ سوچ ، اور جمہوریت بھی حقیقی معنوں میں قابل ومل نہیں رہتی۔ کئی شکلیں ہم آئے دن پاکستان میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
بنیادی آمدن کی تجویز دنیا کے سیاسی منظر نامے پر مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ اس کی کئی شکلیں سامنے آرہی ہیں۔یکساں بنیادی آمدن کا مطلب یہ ہے کہ حکومتیں ملک کے ہر شہری کو ایک مقرر رقم کی ادائگی کو یقینی بنائیں۔ اگر وہ کام کرتا ہے اور اس کے عوض اس کو اس بنیادی آمدن سے کم رقم ملتی ہے تو بقایا رقم حکومت ادا کرے۔ بائیں بازو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے انتہا درجے پر پہنچی ہوئی غربت کو کم کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ دائیں بازو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سادگی اور بیوروکریسی میں کمی کر کے یہ کام کیا جاسکتا ہے۔
کیا یہ اسکیم واقعی قابل عمل ہے؟ سان ڈیگو یونیورسٹی کے فلسفہ کے پروفیسر میٹیو زولینسکی کا کہنا ہے کہ اسکیم کو رائج کرنے کے لئے اہم بات عوام سے قبولیت ہے۔ فی الحال کئی لوگ پورے طور پرسمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں کہ بنیادی آمدنی کی یہ اسکیم کیا بلا ہے۔ اور یہ کس طرح سے کام کرے گی؟ دراصل اس کا مطلب واحد اور جامع پالیسی ہے، جبکہموجود حالات میں مختلف ممالک میں کئی اس لیبل سے کام کر رہی ہیں۔ ان سب میں ایک قدر مشترکہ ہے وہ یہ کہ اس میں نقد رقم کی ادائگی ہے اور جنس یا اسٹیمپ یا ووچر کی شکل میں نہیں۔ یونیورسل یا یکساں اس لئے ہے کہ اس اسکیم کے تحت ہر ایک کو رقم ملے گی۔
پیسے کہاں سے آئیں گے؟ چارلس مورے نے اپنی کتاب میں مختلف قسم کے ٹیکس کا ذکر کیا ہے تاکہ بہت زیادآمدنی والوں کا حد سے زیادہ منافع نہ ہو۔ موجودہ ویلفیئر کے پروگراموں کہ جگہ پر اس اسکیم کو نافذ کیا جائے ۔ سلیکان وادی نے اعلان کیا ہے کہ بنیادی آمدنی کے تجربے پر امریکہ میں عمل کرنے کے لئے فنڈ مہیا کرے گی۔
اس کو فنانس کرنے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں ۔ وسائل اور مکانات اور عمارات کے کرایوں پر ٹیکس۔ ہر قسم کی زمیں پر ٹیکس ہونا چاہئے۔ آلودگی کی تمام اقسام پر ٹیکس۔ آمدنی بڑھانے کے اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں ۔ ویلتھ ٹیکس ایک بہت اچھا آئیڈیا ہے۔ فلیٹ انکم ٹیکس کے ذریعے بھی اس اسکیم کو فنانس کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب قابل عمل ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں بہت زیادہ دولتمنڈوں سے لیکر متوسط اور غریب طبقے میں آمدن کی دوبارہ تقسیم کرناہے۔
ہم نے بہت معاشی ترقی کر لی ہے لیکن اسکا فائدہ نچلی سطح پر عوام کو نہیں مل رہا۔ عدم برابری کی سطح بڑھ رہی ہے۔ جن لوگوں کے پاس املاک ہیں ان کو تو اس کا معاوضہ مل رہا ہے لیکن وہ جو بطور مزدور کا م کر رہے ہیں وہ نقصان میں ہیں۔ ان کو اس کی پیدا کردہ دولت میں جائزحصہ نہیں مل رہا ۔
آٹو میشن کے ضمنی نقصان کے طور پر کئی لوگ اس تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور آٹومیشن کی وجہ سے تمام یا بہت ساری ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔ عملا ٹیکنالوجی ان لوگوں کو ڈسٹرب کر رہی ہے جن کی ملازمتیں چھینی جارہی ہیں۔ ہر سال روبوٹ ہزاروں ملازمتیں ختم کر رہا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں چالیس فیصد سے زائد ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔ جبکہ ترقی پذیر ممالک میں زراعت، تعمیرات، کھانا پکانے والے، ٹرک ڈرائیورز، کوریئر کے شعبے 80سے زائد متاثر ہونگے۔ جب کرنے کے لئے کوئی کام نہیں ہوگا تو یہ تمام افرادی قوت کیا کرے گی؟
مقبول اور پسندیدہ ماڈل یہ ہے کہ غیر مشروط بنیادی آمدن ہو جو اتنی ہو کہ کسی شخص کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکے۔اور یہ رقم بلا امتیاز ہر شہری کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت یا بچہ سب کو بطور شہری کے دی جائے۔
جیسن مرفی کا کہنا ہے کہ الاسکا کا تجربہ سے ثابت ہوتا ہے کہ یکساں بنیادی آمدن کی اسکیم چل سکتی ہے۔ اس ریاست نے ایک ایسا نظام بنایا ہے جس کے ذریعے ہر شہری کو سالانہ 2000 ڈالر ملتے ہیں۔ اس ریاست نے کبھی بھی آلودگی پر یا ویلتھ پر زیادہ ٹیکس کے بارے میں نہیں سوچا۔ اگر الاسکا ایسا کر سکتا ہے، امریکہ اس سے کئی گنا زیادہ کر سکتا ہے۔ دو ہزار ڈالر فی کس یا آٹھ ہزار ڈالر چار افراد پر مشتمل کنبہ کسی کو غربت کی لکیر سے نیچے اوپر لے آنے کے لئے کافی نہیں۔ لیکن ہمارے کارپوریٹ ویلفیئر اورٹیکس میں رعایت کے ذریعے ملنے والی سہولت سے کہیں زیادہ ہے۔
فن لینڈ تجربہ کر رہا ہے۔ جہاں وہ ہر شہری کو ماہانہ آٹھ سو یورو کا چیک دے رہا ہے۔ یہ اس رقم سے کہیں زیادہ ہے جو حکومت ٹیکس کی مد میں وصول کر رہی ہے۔ مطلب آپ شہریوں سے جو ٹیکس وصول کر رہے ہیں اس سے اب دگنا وصول کریں گے ۔
اس اسکیم کے تحت آپ صرف کام نہ کرنے والوں یا بیروزگاروں کو ہی نہیں دے رہے ہیں بلکہ کم آمدن والے تمام افراد کو دے رہے ہیں
بتدریج بیوروکریسی کو کم کرنا ، اور ان لوگوں کو دینا جو کچھ حاصل کرنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔
یہ اسکیم کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اس پر ہے کہ لوگ اس کو کتنا سمجھ پاتے ہیں ۔ اگر آپ ایک شخص کو ایک ڈالر دیتے ہیں تو سمجھ میں آتا ہے اس کے لئے فنڈ مہیا کئے جا سکتے ہیں ، جب آپ ایک سو ڈالر یا ایک ہزار ڈالر دینے لگتے ہیں تو مسئلہ لگتا ہے۔ فنڈز کہاں سے آئیں گے؟ مارکیٹ میں لیبر فورس کہاں سے آئے گی؟ معذوری ، طلباء کو دیئے جانے والے فائد یا بزرگوں کو دی جا نے والی سہولیات یا بیروزگاری الاؤنس وغیرہ کو شامل کر لیا جائے تو بنیادی یکساں آمدن اس سے کم ہوگی۔
کچھ حلقے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس سے لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔
یہ لیبر پالیسی پر کس طرح سے اثرانداز ہوگی؟ پیسہ جزوی طور پر آپ کو مائل کرتا ہے کہ آپ کام کریں۔ اس نظام کے بعد ایک حد تک موٹیویشن کم ہو جائے گی۔ معاملے کو مثبت انداز میں لیا جاسکتا ہے کہ لوگ دوسرے مقاصد کے لئے کام کریں گے۔ اپنے اسٹیٹس کے لئے سماج میں روابط قائم کرنے کے لئے وغیرہ۔ اورآپ کام کرنے سے خود کو ایک امتیازی حیثیت بھی دے سکتے ہیں ۔ اس نظام کے تحت سب کو ایک مخصوص رقم ملے گی۔ لیکن جو لوگ زیادہ کام کرتے ہیں یا چھے عہدوں پر ہوتے ہیں وہ ان سے زیادہ خوشحال ہونگے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر فنلینڈ میں تجربہ کیا جارہا ہے کہ کیا نتائج دیتا ہے۔
کیا لوگوں کو بنیادی آمدنی فراہم کی جائے تو وہ کاہل اور سست ہو جائیں گے؟ یہ ایک خیال ہے جو انسان کے بارے میں منفی انداز فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ فرانس میں ممکن ہے کہ لیبر مارکیٹ میں کمی آسکتی ہے ۔ لیکن جپان میں ایسا نہیں ہوگا جہاں لوگ زیادہ کام کرنے کے عادی ہیں۔
اسکیڈوین ممالک جہاں پہلے ہی سوشل ویلفیئر ریاستیں ہیں وہ اس طرح کے نظام نافذ کر سکتے ہیں ۔ ان سکیموں کے بارے میں قبولیت بھی حاصل ہے اور وہ اس کو سمجھتے بھی ہیں ۔ بہت سے لوگ فنلینڈ کے تجربے کی کامیابی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
یکساں بنیادی آمدن سسٹم سماجی تحفظ کا ایک نظام ہے جس کے تحت کسی ملک کے تمام شہریوں کو غیر مشروط طور پر حکومت یا کسی حکومتی ادارے سے ملتا ہے۔ یہ رقم اس سے الگ ہے جو وہ کسی اور ذریعے سے کماتا ہے۔
بنیادی آمدن نظام کی مالی مدد سرکاری تجارتی یا صنعتی اداروں کے منافع سے ادا کی جاتی ہے۔ جس کو مارکیٹ سوشلزم میں عوامی منافع کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ اسکیمیں سرمایہ دارانہ نظام میں بھی رائج ہے جہاں پر اس کی رقم مختلف ٹیکس لاگو کر کے وصول کی جاتی ہے۔
تھامس پین نے 1795 میں زرعی انصاف کا خیال پیش کیا تھا کہ وہ جو زیر کاشت زمین کے مالکان ہیں ان پر واجب ہے کہ وہ کمیونٹی کو اس کا کرایہ دیں۔
کنیڈا میں 2004 میں جائزہ لیا گیا بغیر کسی ٹیکس میں اضافے کے 7800 ڈالر فی بالغ شخص کے لئے ادا کئے جاسکتے ہیں۔ اس میں بعض ویلفیئر اسکیموں مثلا بیروزگاری، بحاپے کا الاؤنس وغیرہ کو ختم کرنا پڑے گا۔ 2012 میںآئرلینڈ میں کئے گئے سروے کے مطابق 45 فیصد ٹیکس کرنے سے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اکثر آبادی کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
پال میسن کا کہنا ہے کہ اس نظام سے سوشل سیکیورٹی کی لاگت بڑھ جائے گی لیکن غربت کی وجہ سے پیدا ہونے والے امراض، دباؤ میں کمی، ہائی بلڈ پریشر، شگر کے امراض میں کمی آئے گی اور اس کے نتیجے میں طبی اخراجات بھی کم ہونگے۔
اگر لوگوں کی قوت خرید نہیں بڑھائی گئی تو اشیائے کم خرید کی جائیں گی، بزار میں اشیاء موجود ہونگی لیکن لوگوں کے پاس پیسہ نہیں ہوگا کہ وہ خریداری کریں۔ یوں تو معیشت کا یہ نظام کساد بازاری کا شکار ہوگا۔ امریکہ کو یہ اسکیم نافذ کرنے کے لئے کل 3.2 کھرب ڈالر کی ضرورت پڑے گی۔ جس کے مطابق اس کے ہر شہری کو دس ہزار ڈالر بنیادی یکساں آمدنی کے طور پر ادا کیا جاسکے گا۔ کینیا، نیدرلینڈ، انڈیا، سوئٹزرلینڈ، فن لینڈ اور فرانس میں اس اسکیم کو رائج کیا گیا ہے۔
جرمی ہاورڈ کہتے ہیں کہ کیا آپ کسی کو اس وجہ سے بھوک مرنے دیں گے کہ وہ معیشت میں قدر یا قیمت کا اضافہ نہیں کر سکے؟ آج کی دنیا میں ان لوگوں سے دولت محض اس لئے دور رکھی جائے کیونکہ وہ دولت پیدا کرنے میں اپنا حصہ نہیں ڈال سکے تھے۔
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
دنیا بھر میں معاشی نابرابری اس حد کو چھو رہی ہے کہ مفکرین یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ دولت کی از سر نو تقسیم ہو،۔ جو تجویز زیادہ مقبول رہی ہے وہ ہے دنیا میں یکساں بنیادی آمدنی کا نظام رائج کیا جائے۔ مفکرین کے نزدیک انتہا تک بڑھی ہوئی معاشی نابرابری کئی سماجی، سیاسی اور زندگی کے اہم معاملات میں فیصلہ کرنے میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں آزادانہ سوچ ، اور جمہوریت بھی حقیقی معنوں میں قابل ومل نہیں رہتی۔ کئی شکلیں ہم آئے دن پاکستان میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
بنیادی آمدن کی تجویز دنیا کے سیاسی منظر نامے پر مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ اس کی کئی شکلیں سامنے آرہی ہیں۔یکساں بنیادی آمدن کا مطلب یہ ہے کہ حکومتیں ملک کے ہر شہری کو ایک مقرر رقم کی ادائگی کو یقینی بنائیں۔ اگر وہ کام کرتا ہے اور اس کے عوض اس کو اس بنیادی آمدن سے کم رقم ملتی ہے تو بقایا رقم حکومت ادا کرے۔ بائیں بازو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے انتہا درجے پر پہنچی ہوئی غربت کو کم کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ دائیں بازو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سادگی اور بیوروکریسی میں کمی کر کے یہ کام کیا جاسکتا ہے۔
کیا یہ اسکیم واقعی قابل عمل ہے؟ سان ڈیگو یونیورسٹی کے فلسفہ کے پروفیسر میٹیو زولینسکی کا کہنا ہے کہ اسکیم کو رائج کرنے کے لئے اہم بات عوام سے قبولیت ہے۔ فی الحال کئی لوگ پورے طور پرسمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں کہ بنیادی آمدنی کی یہ اسکیم کیا بلا ہے۔ اور یہ کس طرح سے کام کرے گی؟ دراصل اس کا مطلب واحد اور جامع پالیسی ہے، جبکہموجود حالات میں مختلف ممالک میں کئی اس لیبل سے کام کر رہی ہیں۔ ان سب میں ایک قدر مشترکہ ہے وہ یہ کہ اس میں نقد رقم کی ادائگی ہے اور جنس یا اسٹیمپ یا ووچر کی شکل میں نہیں۔ یونیورسل یا یکساں اس لئے ہے کہ اس اسکیم کے تحت ہر ایک کو رقم ملے گی۔
پیسے کہاں سے آئیں گے؟ چارلس مورے نے اپنی کتاب میں مختلف قسم کے ٹیکس کا ذکر کیا ہے تاکہ بہت زیادآمدنی والوں کا حد سے زیادہ منافع نہ ہو۔ موجودہ ویلفیئر کے پروگراموں کہ جگہ پر اس اسکیم کو نافذ کیا جائے ۔ سلیکان وادی نے اعلان کیا ہے کہ بنیادی آمدنی کے تجربے پر امریکہ میں عمل کرنے کے لئے فنڈ مہیا کرے گی۔
اس کو فنانس کرنے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں ۔ وسائل اور مکانات اور عمارات کے کرایوں پر ٹیکس۔ ہر قسم کی زمیں پر ٹیکس ہونا چاہئے۔ آلودگی کی تمام اقسام پر ٹیکس۔ آمدنی بڑھانے کے اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں ۔ ویلتھ ٹیکس ایک بہت اچھا آئیڈیا ہے۔ فلیٹ انکم ٹیکس کے ذریعے بھی اس اسکیم کو فنانس کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب قابل عمل ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں بہت زیادہ دولتمنڈوں سے لیکر متوسط اور غریب طبقے میں آمدن کی دوبارہ تقسیم کرناہے۔
ہم نے بہت معاشی ترقی کر لی ہے لیکن اسکا فائدہ نچلی سطح پر عوام کو نہیں مل رہا۔ عدم برابری کی سطح بڑھ رہی ہے۔ جن لوگوں کے پاس املاک ہیں ان کو تو اس کا معاوضہ مل رہا ہے لیکن وہ جو بطور مزدور کا م کر رہے ہیں وہ نقصان میں ہیں۔ ان کو اس کی پیدا کردہ دولت میں جائزحصہ نہیں مل رہا ۔
آٹو میشن کے ضمنی نقصان کے طور پر کئی لوگ اس تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور آٹومیشن کی وجہ سے تمام یا بہت ساری ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔ عملا ٹیکنالوجی ان لوگوں کو ڈسٹرب کر رہی ہے جن کی ملازمتیں چھینی جارہی ہیں۔ ہر سال روبوٹ ہزاروں ملازمتیں ختم کر رہا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں چالیس فیصد سے زائد ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔ جبکہ ترقی پذیر ممالک میں زراعت، تعمیرات، کھانا پکانے والے، ٹرک ڈرائیورز، کوریئر کے شعبے 80سے زائد متاثر ہونگے۔ جب کرنے کے لئے کوئی کام نہیں ہوگا تو یہ تمام افرادی قوت کیا کرے گی؟
مقبول اور پسندیدہ ماڈل یہ ہے کہ غیر مشروط بنیادی آمدن ہو جو اتنی ہو کہ کسی شخص کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکے۔اور یہ رقم بلا امتیاز ہر شہری کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت یا بچہ سب کو بطور شہری کے دی جائے۔
جیسن مرفی کا کہنا ہے کہ الاسکا کا تجربہ سے ثابت ہوتا ہے کہ یکساں بنیادی آمدن کی اسکیم چل سکتی ہے۔ اس ریاست نے ایک ایسا نظام بنایا ہے جس کے ذریعے ہر شہری کو سالانہ 2000 ڈالر ملتے ہیں۔ اس ریاست نے کبھی بھی آلودگی پر یا ویلتھ پر زیادہ ٹیکس کے بارے میں نہیں سوچا۔ اگر الاسکا ایسا کر سکتا ہے، امریکہ اس سے کئی گنا زیادہ کر سکتا ہے۔ دو ہزار ڈالر فی کس یا آٹھ ہزار ڈالر چار افراد پر مشتمل کنبہ کسی کو غربت کی لکیر سے نیچے اوپر لے آنے کے لئے کافی نہیں۔ لیکن ہمارے کارپوریٹ ویلفیئر اورٹیکس میں رعایت کے ذریعے ملنے والی سہولت سے کہیں زیادہ ہے۔
فن لینڈ تجربہ کر رہا ہے۔ جہاں وہ ہر شہری کو ماہانہ آٹھ سو یورو کا چیک دے رہا ہے۔ یہ اس رقم سے کہیں زیادہ ہے جو حکومت ٹیکس کی مد میں وصول کر رہی ہے۔ مطلب آپ شہریوں سے جو ٹیکس وصول کر رہے ہیں اس سے اب دگنا وصول کریں گے ۔
اس اسکیم کے تحت آپ صرف کام نہ کرنے والوں یا بیروزگاروں کو ہی نہیں دے رہے ہیں بلکہ کم آمدن والے تمام افراد کو دے رہے ہیں
بتدریج بیوروکریسی کو کم کرنا ، اور ان لوگوں کو دینا جو کچھ حاصل کرنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔
یہ اسکیم کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اس پر ہے کہ لوگ اس کو کتنا سمجھ پاتے ہیں ۔ اگر آپ ایک شخص کو ایک ڈالر دیتے ہیں تو سمجھ میں آتا ہے اس کے لئے فنڈ مہیا کئے جا سکتے ہیں ، جب آپ ایک سو ڈالر یا ایک ہزار ڈالر دینے لگتے ہیں تو مسئلہ لگتا ہے۔ فنڈز کہاں سے آئیں گے؟ مارکیٹ میں لیبر فورس کہاں سے آئے گی؟ معذوری ، طلباء کو دیئے جانے والے فائد یا بزرگوں کو دی جا نے والی سہولیات یا بیروزگاری الاؤنس وغیرہ کو شامل کر لیا جائے تو بنیادی یکساں آمدن اس سے کم ہوگی۔
کچھ حلقے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس سے لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔
یہ لیبر پالیسی پر کس طرح سے اثرانداز ہوگی؟ پیسہ جزوی طور پر آپ کو مائل کرتا ہے کہ آپ کام کریں۔ اس نظام کے بعد ایک حد تک موٹیویشن کم ہو جائے گی۔ معاملے کو مثبت انداز میں لیا جاسکتا ہے کہ لوگ دوسرے مقاصد کے لئے کام کریں گے۔ اپنے اسٹیٹس کے لئے سماج میں روابط قائم کرنے کے لئے وغیرہ۔ اورآپ کام کرنے سے خود کو ایک امتیازی حیثیت بھی دے سکتے ہیں ۔ اس نظام کے تحت سب کو ایک مخصوص رقم ملے گی۔ لیکن جو لوگ زیادہ کام کرتے ہیں یا چھے عہدوں پر ہوتے ہیں وہ ان سے زیادہ خوشحال ہونگے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر فنلینڈ میں تجربہ کیا جارہا ہے کہ کیا نتائج دیتا ہے۔
کیا لوگوں کو بنیادی آمدنی فراہم کی جائے تو وہ کاہل اور سست ہو جائیں گے؟ یہ ایک خیال ہے جو انسان کے بارے میں منفی انداز فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ فرانس میں ممکن ہے کہ لیبر مارکیٹ میں کمی آسکتی ہے ۔ لیکن جپان میں ایسا نہیں ہوگا جہاں لوگ زیادہ کام کرنے کے عادی ہیں۔
اسکیڈوین ممالک جہاں پہلے ہی سوشل ویلفیئر ریاستیں ہیں وہ اس طرح کے نظام نافذ کر سکتے ہیں ۔ ان سکیموں کے بارے میں قبولیت بھی حاصل ہے اور وہ اس کو سمجھتے بھی ہیں ۔ بہت سے لوگ فنلینڈ کے تجربے کی کامیابی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
یکساں بنیادی آمدن سسٹم سماجی تحفظ کا ایک نظام ہے جس کے تحت کسی ملک کے تمام شہریوں کو غیر مشروط طور پر حکومت یا کسی حکومتی ادارے سے ملتا ہے۔ یہ رقم اس سے الگ ہے جو وہ کسی اور ذریعے سے کماتا ہے۔
بنیادی آمدن نظام کی مالی مدد سرکاری تجارتی یا صنعتی اداروں کے منافع سے ادا کی جاتی ہے۔ جس کو مارکیٹ سوشلزم میں عوامی منافع کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ اسکیمیں سرمایہ دارانہ نظام میں بھی رائج ہے جہاں پر اس کی رقم مختلف ٹیکس لاگو کر کے وصول کی جاتی ہے۔
تھامس پین نے 1795 میں زرعی انصاف کا خیال پیش کیا تھا کہ وہ جو زیر کاشت زمین کے مالکان ہیں ان پر واجب ہے کہ وہ کمیونٹی کو اس کا کرایہ دیں۔
کنیڈا میں 2004 میں جائزہ لیا گیا بغیر کسی ٹیکس میں اضافے کے 7800 ڈالر فی بالغ شخص کے لئے ادا کئے جاسکتے ہیں۔ اس میں بعض ویلفیئر اسکیموں مثلا بیروزگاری، بحاپے کا الاؤنس وغیرہ کو ختم کرنا پڑے گا۔ 2012 میںآئرلینڈ میں کئے گئے سروے کے مطابق 45 فیصد ٹیکس کرنے سے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اکثر آبادی کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
پال میسن کا کہنا ہے کہ اس نظام سے سوشل سیکیورٹی کی لاگت بڑھ جائے گی لیکن غربت کی وجہ سے پیدا ہونے والے امراض، دباؤ میں کمی، ہائی بلڈ پریشر، شگر کے امراض میں کمی آئے گی اور اس کے نتیجے میں طبی اخراجات بھی کم ہونگے۔
اگر لوگوں کی قوت خرید نہیں بڑھائی گئی تو اشیائے کم خرید کی جائیں گی، بزار میں اشیاء موجود ہونگی لیکن لوگوں کے پاس پیسہ نہیں ہوگا کہ وہ خریداری کریں۔ یوں تو معیشت کا یہ نظام کساد بازاری کا شکار ہوگا۔ امریکہ کو یہ اسکیم نافذ کرنے کے لئے کل 3.2 کھرب ڈالر کی ضرورت پڑے گی۔ جس کے مطابق اس کے ہر شہری کو دس ہزار ڈالر بنیادی یکساں آمدنی کے طور پر ادا کیا جاسکے گا۔ کینیا، نیدرلینڈ، انڈیا، سوئٹزرلینڈ، فن لینڈ اور فرانس میں اس اسکیم کو رائج کیا گیا ہے۔
جرمی ہاورڈ کہتے ہیں کہ کیا آپ کسی کو اس وجہ سے بھوک مرنے دیں گے کہ وہ معیشت میں قدر یا قیمت کا اضافہ نہیں کر سکے؟ آج کی دنیا میں ان لوگوں سے دولت محض اس لئے دور رکھی جائے کیونکہ وہ دولت پیدا کرنے میں اپنا حصہ نہیں ڈال سکے تھے۔
No comments:
Post a Comment