سندھ میں زرداری ڈاکٹرائن سرگرم
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اسلام آباد میں جب گزشتہ دو ہفتے سے جے آئی ٹی کا ڈھول بج رہا تھا، پیپلزپارٹی سندھ میں خود کو ازسرنو منظم کر رہی تھی۔قیادت نے پارٹی کی مختلف ذیلی تنظیموں کے عہدیداران کی نامزدگی کا اعلان کیا۔ اس سے بھی زیادہ اہم واقعہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا اندرون سندھ کا دورہ ہے۔ایک ہفتے کے دوران انہوں نے خیرپور، نواب شاہ، دادو اور سانگھڑ کا دورہ کیا۔ بنیادی طور پر ان کا یہ دورہ تنظیمی حوالے سے تھا۔ بڑے جلسوں کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم ب بعض مقامات پر عام لوگوں سے بھی خطاب کیا۔ اب خرابی صحت کی وجہ سے اچانک طبی مشورے اور علاج کے لئے دبئی چلے گئے ہیں۔ پروگرام کے مطابق وہ صوبے کے باقی اضلاع کا بھی دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ زرداری صاحب جے ٹی آئی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے تین روز قبل دبئی روانہ ہوئے ہیں۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ آصف علی زرداری نے اندرون سندھ کا تفصیلی اور تنظیمی دورہ کیا۔ ورنہ ہوتا یہ رہا کہ پارٹی کے منتخب نمائندوں، امیدواروں اور عہدیداران کو کراچی بلایا جاتا تھا۔ زرداری صاحب کبھی کبھار ہی ان سے ملتے تھے۔ زیادہ تر معاملات میڈم فریال تالپور ہینڈل کرتی تھی۔ یا بعض معاملات بلاول بھٹو زرداری دیکھتے تھے۔ وفاق میں پارٹی کی حکومت کے دنوں میں زرداری صاحب کے پاس سندھ کے کارکنوں سے ملنے کے لئے وقت ہی نہیں تھا۔ بلکہ سندھ کے معاملات میڈم فریال تالپور ہی دیکھتی تھی۔ جس کی وجہ سے پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں خواہ اراکین اسمبلی کو بھی شکایات ہوئیں۔
2013 کے انتخابات کے موقعہ پر پارٹی قیادت کو دہشتگردی کا خطرہ تھا۔ اس لئے پارٹی صوبے میں بھرپور انداز سے تحریک بھی نہیں چلا سکی۔ پارٹی قیادت کے لئے یہ پہلا تجربہ تھا کہ بغیر انتخابی مہم اور پارٹی کے روایتی بڑے جلسے جلوسوں کے انتخابات میں حصہ لیا۔اور صوبے میں انتخابات جیتے۔
محترمہ کی شہادت کے بعد زرداری صاحب اپنے ہی ڈاکٹرائن کے مطابق پارٹی چلا رہے تھے۔ زرداری ڈاکٹرائن پارٹی کے اس ڈاکٹرائین اور طریقہ کار سے مختلف تھا جو پارٹی کے بانی چیئرمین ذواالفقار علی بھٹو یا محترمہ بینظیر بھٹو چلا رہی تھیں۔ بھٹوز کا طریقہ کار عوامی تھا۔ یعنی عوام اور کارکنوں سے براہ راست رابطے میں رہنا ، ملنا۔ ان کی سننا۔ عوام اور کارکنوں کو سرگرم اور متحرک رکھنا۔ اس مقصد کے لئے پارٹی قیادت کارکنوں کے ضلع سطح سے لے کر ڈویزن اور صوبائی سطح پر کارکنوں کے اجلاس بھی منعقد کرتی تھی اور عوام کو موبلائز کرنے کے لئے بڑے بڑے جلسے اور ریلیاں بھی نکالی جاتی تھی۔ پارٹی کے عہدیدار اور کارکن ایک فورس ہوتے تھے ۔ یہی وہ فورس تھی جس کی وجہ سے وڈیرے پارٹی میں ہوتے ہوئے بھی خود کو چھوٹا سمجھتے تھے۔ اورپارٹی کی مقبولیت اور نچلی سطح تک نیٹ ورک کی وجہ سے پارٹی میں شامل ہو جاتے تھے۔ لیکن ان پر پارٹی کے کارکنوں کے ذریعے چیک اینڈ بیلنس رہتا تھا۔ زرداری ڈاکٹرئن کے تحت یہ ہوا کہ نہ صرف وڈیروں پر چیک اینڈ بیلنس کم اور ختم ہوا، بلکہ پارٹی عہدیداران سے لیے کر بلدیاتی اداروں کی سربراہ اور اسمبلیوں تک وڈیرے ہی آگئے۔ ایسے چھوٹے وڈیروں کو بھی اکموڈیٹ کیا گیا جو ایک یا دو پولنگ اسٹیشن سنبھال سکتے ہیں۔
پارٹی نے 2013 انتخابات سے پہلے اور اس کے بعد بھی صوبے میں بھرپور مہم چلائی کے جتنے بھی بااثر لوگ ہیں انہیں پارٹی میں شامل کیا جائے۔ ان کو اکموڈیٹ کرنے کے لئے پارٹی کے عہدے، بلدیاتی اداروں کی سربراہی، اسمبلی اور سنیٹ کی نشستیں، وزارتیں، مشیر کے عہدوں کی پیشکش کی جاتی رہی۔ صورتحال یہ جا کر بنی کہ پارٹی کے اسمبلی ممبران نے اپنے اولادوں کے لئے پارٹی کے عہدے اور بلدیاتی اداروں کی سربراہی حاصل کر لی۔ صورتحال یہ بھی بنی کہ ایک ہی ضلع خاص طور پر شمالی سندھ میں پرانے سیاسی حریف بھی بیک وقت ایک ہی پارٹی میں آگئے۔ اب اسمبلی خواہ بلدیاتی اداروں میں نشستیں کم پڑنے لگیں۔ پارٹی قیادت کا خیال یہ تھا کہ نئی مردم شماری کے بعد نشستوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ تو تمام ’’ الیکٹ ایبل‘‘ کو اکموڈیٹ کر لیا جائے گا۔ لیکن الیکشن کمیشن کے اس اعلان نے کھلبلی مچا دی کہ مردم شماری کی رپورٹ اپریل 2018 سے پہلے حتمی شکل میں شایع کرنا ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن نے بھی کہہ دیا کہ مردم شماری کی حتمی رپورٹ کے بغیر نئی حلقہ بندی نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کے لئے مشکل صورتحال پیدا ہو گئی۔ الیکشن کمیشن کے اس اعلان کے بعد مختلف اضلاع میں موجود سیاسی حریف جو پیپلزپارٹی کی چھتری کے نیچے جمع ہو گئے تھے ان میں بے چینی پیدا ہو گئی۔ مبصرین بھی یہ کہنے لگے کہ اس صورتحال میں الیکشن پارٹی کے مختلف گروپوں کے درمیان مقابلہ ہی ہوگا۔
پاناما مقدمے کی تحقیقات کرنے والی جے ٹی آئی کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری ہوتے ہوئے نظر آنے لگا۔ اب پیپلزپارٹی کے لئے ضروری ہو گیا کہ وہ سندھ میں ایک بار پھر یقینی بنائے کہ کسی دوسری پارٹی کو ایسا کوئی ’’ الیکٹ ایبل‘‘ نہ مل پائے۔ لہٰذا زرداری صاحب کو سندھ کا دورہ کرنا پڑا۔ تاکہ وہ تمام ان بااثر وڈیروں کو یقین بھی دلا سکیں اور ایڈجسٹ اور اکموڈیٹ بھی کر سکیں۔ یہ کام خاصا مشکل تھا۔ جو کہ کراچی میں بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا تھا۔
زرادری ڈاکٹرائن کے تحت یہ حکمت عملی پہلے ہی بنا لی گئی تھی کہ پرانے لوگ جو خود کو زیادہ اہم سمجھ رہے ہیں یا کسی طرح سے پارٹی پر پریشر ڈالیں گے یا اپنی سودے بازی کی حیثیت کا فائدہ لینا چاہیں گے، ان کے توڑ کے لئے متبادل اور نئے ’’ پاور بروکرز‘‘ تیار کر لئے تھے۔ مثلا بدین میں ذوالفقار مرزا کے مقابلے میں سائیں بخش جمالی اور اسماعیل راہو کو آگے لایا گیا۔ دادو میں پیر مظہرالحق کے لئے رفیق جمالی کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ جامشورو میں ملک سکندر خان کے مقابلے میں جام شورو، سکندر شورو کو آگے لایا گیا۔ اور اب ملک سکندر کے کزن چنگیز خان کو پارٹی میں شامل کیا جارہا ہے۔آصف علی زرداری کا سانگھڑ کا دورہ زیادہ اہمیت کا حامل رہا۔ سانگھڑ میں پارٹی کی حمایت کے لئے شروع سے ہی ہالہ کا مخدوم خاندان بنیاد فراہم کرتا رہا۔ لیکن آج کل مخدوم خاندان کی حیثیت کم کر دی گئی ہے۔ سانگھڑ میں شازیہ مری اور دوسرے نئے لوگ آگئے ہیں۔
جے ٹی آئی کی رپورٹ کے نتیجے میں کیا سیاسی حالات بنتے ہیں؟ یہ اہم سوال ہے لیکن زرادری صاحب سندھ کو اپنے ہاتھ میں ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے سندھ اسمبلی سے کچھ قانون سازی بھی کرائی۔
زرداری صاحب کا دورہ سندھ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ بلاول بھٹو زرادری اور خود انہوں نے دو سال تک پنجاب میں کوششیں کر کے دیکھی۔ لیکن اس میں کوئی زیادہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ پنجاب میں عمران خان کے انکار کے بعد نواز لیگ کے خلاف تمام جماعتوں کے متحدہ محاذ بنانے کی کوششیں فی لاحال ناکام ہو گئیں۔لہٰذا انہوں نے سندھ پر ہی تمام توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اور یہ حکمت عملی بنائی کہ کسی طرح سے وہ پیپلزپارٹی کوسندھ کی واحد جماعت ثابت کریں۔
روزنامہ نئی بات میں جولائی ۲۰۱۷ کو شایع ہوا
اسلام آباد میں جب گزشتہ دو ہفتے سے جے آئی ٹی کا ڈھول بج رہا تھا، پیپلزپارٹی سندھ میں خود کو ازسرنو منظم کر رہی تھی۔قیادت نے پارٹی کی مختلف ذیلی تنظیموں کے عہدیداران کی نامزدگی کا اعلان کیا۔ اس سے بھی زیادہ اہم واقعہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا اندرون سندھ کا دورہ ہے۔ایک ہفتے کے دوران انہوں نے خیرپور، نواب شاہ، دادو اور سانگھڑ کا دورہ کیا۔ بنیادی طور پر ان کا یہ دورہ تنظیمی حوالے سے تھا۔ بڑے جلسوں کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم ب بعض مقامات پر عام لوگوں سے بھی خطاب کیا۔ اب خرابی صحت کی وجہ سے اچانک طبی مشورے اور علاج کے لئے دبئی چلے گئے ہیں۔ پروگرام کے مطابق وہ صوبے کے باقی اضلاع کا بھی دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ زرداری صاحب جے ٹی آئی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے تین روز قبل دبئی روانہ ہوئے ہیں۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ آصف علی زرداری نے اندرون سندھ کا تفصیلی اور تنظیمی دورہ کیا۔ ورنہ ہوتا یہ رہا کہ پارٹی کے منتخب نمائندوں، امیدواروں اور عہدیداران کو کراچی بلایا جاتا تھا۔ زرداری صاحب کبھی کبھار ہی ان سے ملتے تھے۔ زیادہ تر معاملات میڈم فریال تالپور ہینڈل کرتی تھی۔ یا بعض معاملات بلاول بھٹو زرداری دیکھتے تھے۔ وفاق میں پارٹی کی حکومت کے دنوں میں زرداری صاحب کے پاس سندھ کے کارکنوں سے ملنے کے لئے وقت ہی نہیں تھا۔ بلکہ سندھ کے معاملات میڈم فریال تالپور ہی دیکھتی تھی۔ جس کی وجہ سے پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں خواہ اراکین اسمبلی کو بھی شکایات ہوئیں۔
2013 کے انتخابات کے موقعہ پر پارٹی قیادت کو دہشتگردی کا خطرہ تھا۔ اس لئے پارٹی صوبے میں بھرپور انداز سے تحریک بھی نہیں چلا سکی۔ پارٹی قیادت کے لئے یہ پہلا تجربہ تھا کہ بغیر انتخابی مہم اور پارٹی کے روایتی بڑے جلسے جلوسوں کے انتخابات میں حصہ لیا۔اور صوبے میں انتخابات جیتے۔
محترمہ کی شہادت کے بعد زرداری صاحب اپنے ہی ڈاکٹرائن کے مطابق پارٹی چلا رہے تھے۔ زرداری ڈاکٹرائن پارٹی کے اس ڈاکٹرائین اور طریقہ کار سے مختلف تھا جو پارٹی کے بانی چیئرمین ذواالفقار علی بھٹو یا محترمہ بینظیر بھٹو چلا رہی تھیں۔ بھٹوز کا طریقہ کار عوامی تھا۔ یعنی عوام اور کارکنوں سے براہ راست رابطے میں رہنا ، ملنا۔ ان کی سننا۔ عوام اور کارکنوں کو سرگرم اور متحرک رکھنا۔ اس مقصد کے لئے پارٹی قیادت کارکنوں کے ضلع سطح سے لے کر ڈویزن اور صوبائی سطح پر کارکنوں کے اجلاس بھی منعقد کرتی تھی اور عوام کو موبلائز کرنے کے لئے بڑے بڑے جلسے اور ریلیاں بھی نکالی جاتی تھی۔ پارٹی کے عہدیدار اور کارکن ایک فورس ہوتے تھے ۔ یہی وہ فورس تھی جس کی وجہ سے وڈیرے پارٹی میں ہوتے ہوئے بھی خود کو چھوٹا سمجھتے تھے۔ اورپارٹی کی مقبولیت اور نچلی سطح تک نیٹ ورک کی وجہ سے پارٹی میں شامل ہو جاتے تھے۔ لیکن ان پر پارٹی کے کارکنوں کے ذریعے چیک اینڈ بیلنس رہتا تھا۔ زرداری ڈاکٹرئن کے تحت یہ ہوا کہ نہ صرف وڈیروں پر چیک اینڈ بیلنس کم اور ختم ہوا، بلکہ پارٹی عہدیداران سے لیے کر بلدیاتی اداروں کی سربراہ اور اسمبلیوں تک وڈیرے ہی آگئے۔ ایسے چھوٹے وڈیروں کو بھی اکموڈیٹ کیا گیا جو ایک یا دو پولنگ اسٹیشن سنبھال سکتے ہیں۔
پارٹی نے 2013 انتخابات سے پہلے اور اس کے بعد بھی صوبے میں بھرپور مہم چلائی کے جتنے بھی بااثر لوگ ہیں انہیں پارٹی میں شامل کیا جائے۔ ان کو اکموڈیٹ کرنے کے لئے پارٹی کے عہدے، بلدیاتی اداروں کی سربراہی، اسمبلی اور سنیٹ کی نشستیں، وزارتیں، مشیر کے عہدوں کی پیشکش کی جاتی رہی۔ صورتحال یہ جا کر بنی کہ پارٹی کے اسمبلی ممبران نے اپنے اولادوں کے لئے پارٹی کے عہدے اور بلدیاتی اداروں کی سربراہی حاصل کر لی۔ صورتحال یہ بھی بنی کہ ایک ہی ضلع خاص طور پر شمالی سندھ میں پرانے سیاسی حریف بھی بیک وقت ایک ہی پارٹی میں آگئے۔ اب اسمبلی خواہ بلدیاتی اداروں میں نشستیں کم پڑنے لگیں۔ پارٹی قیادت کا خیال یہ تھا کہ نئی مردم شماری کے بعد نشستوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ تو تمام ’’ الیکٹ ایبل‘‘ کو اکموڈیٹ کر لیا جائے گا۔ لیکن الیکشن کمیشن کے اس اعلان نے کھلبلی مچا دی کہ مردم شماری کی رپورٹ اپریل 2018 سے پہلے حتمی شکل میں شایع کرنا ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن نے بھی کہہ دیا کہ مردم شماری کی حتمی رپورٹ کے بغیر نئی حلقہ بندی نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کے لئے مشکل صورتحال پیدا ہو گئی۔ الیکشن کمیشن کے اس اعلان کے بعد مختلف اضلاع میں موجود سیاسی حریف جو پیپلزپارٹی کی چھتری کے نیچے جمع ہو گئے تھے ان میں بے چینی پیدا ہو گئی۔ مبصرین بھی یہ کہنے لگے کہ اس صورتحال میں الیکشن پارٹی کے مختلف گروپوں کے درمیان مقابلہ ہی ہوگا۔
پاناما مقدمے کی تحقیقات کرنے والی جے ٹی آئی کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری ہوتے ہوئے نظر آنے لگا۔ اب پیپلزپارٹی کے لئے ضروری ہو گیا کہ وہ سندھ میں ایک بار پھر یقینی بنائے کہ کسی دوسری پارٹی کو ایسا کوئی ’’ الیکٹ ایبل‘‘ نہ مل پائے۔ لہٰذا زرداری صاحب کو سندھ کا دورہ کرنا پڑا۔ تاکہ وہ تمام ان بااثر وڈیروں کو یقین بھی دلا سکیں اور ایڈجسٹ اور اکموڈیٹ بھی کر سکیں۔ یہ کام خاصا مشکل تھا۔ جو کہ کراچی میں بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا تھا۔
زرادری ڈاکٹرائن کے تحت یہ حکمت عملی پہلے ہی بنا لی گئی تھی کہ پرانے لوگ جو خود کو زیادہ اہم سمجھ رہے ہیں یا کسی طرح سے پارٹی پر پریشر ڈالیں گے یا اپنی سودے بازی کی حیثیت کا فائدہ لینا چاہیں گے، ان کے توڑ کے لئے متبادل اور نئے ’’ پاور بروکرز‘‘ تیار کر لئے تھے۔ مثلا بدین میں ذوالفقار مرزا کے مقابلے میں سائیں بخش جمالی اور اسماعیل راہو کو آگے لایا گیا۔ دادو میں پیر مظہرالحق کے لئے رفیق جمالی کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ جامشورو میں ملک سکندر خان کے مقابلے میں جام شورو، سکندر شورو کو آگے لایا گیا۔ اور اب ملک سکندر کے کزن چنگیز خان کو پارٹی میں شامل کیا جارہا ہے۔آصف علی زرداری کا سانگھڑ کا دورہ زیادہ اہمیت کا حامل رہا۔ سانگھڑ میں پارٹی کی حمایت کے لئے شروع سے ہی ہالہ کا مخدوم خاندان بنیاد فراہم کرتا رہا۔ لیکن آج کل مخدوم خاندان کی حیثیت کم کر دی گئی ہے۔ سانگھڑ میں شازیہ مری اور دوسرے نئے لوگ آگئے ہیں۔
جے ٹی آئی کی رپورٹ کے نتیجے میں کیا سیاسی حالات بنتے ہیں؟ یہ اہم سوال ہے لیکن زرادری صاحب سندھ کو اپنے ہاتھ میں ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے سندھ اسمبلی سے کچھ قانون سازی بھی کرائی۔
زرداری صاحب کا دورہ سندھ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ بلاول بھٹو زرادری اور خود انہوں نے دو سال تک پنجاب میں کوششیں کر کے دیکھی۔ لیکن اس میں کوئی زیادہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ پنجاب میں عمران خان کے انکار کے بعد نواز لیگ کے خلاف تمام جماعتوں کے متحدہ محاذ بنانے کی کوششیں فی لاحال ناکام ہو گئیں۔لہٰذا انہوں نے سندھ پر ہی تمام توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اور یہ حکمت عملی بنائی کہ کسی طرح سے وہ پیپلزپارٹی کوسندھ کی واحد جماعت ثابت کریں۔
روزنامہ نئی بات میں جولائی ۲۰۱۷ کو شایع ہوا
No comments:
Post a Comment