Thursday, July 20, 2017

سندھ کے دانشور اور پیپلزپارٹی

Feb 24 Nai Baat

سندھ کے دانشور اور پیپلزپارٹی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ کا دانشور، اہل فکر و نظر 9 سال تک پیپلزپارٹی کی خراب حکمرانی اور مبینہ کرپشن کے خلاف مسلسل لکھتا رہا۔ میدان میں کوئی مخلص سیاسی قوت کی عدم موجودگی کی وجہ سے رائے عامہ یکجا ہو کر کوئی ٹھوس شکل اختیار نہیں کر سکی۔ لہٰذا یہ تمام محنت بظاہر بے نتیجہ لگ رہی تھی۔ اور اس کے سیاسی اثرات نظر نہیں آرہے تھے۔ سندھ کے وڈیرے کی وفاداری تبدیل کرنے اور غیر سیاسی کردار پر بھی تنقید ہوتی رہی ہے کہ وہ حکمران سیاسی جماعت کے ساتھ دیئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
اب سندھ میں نئی صورتحال پیدا ہورہی ہے، وہ یہ کہ رائے عامہ تشکیل کرنے والے لوگ بھی پیپلزپارٹی کی بالواسطہ یا براہ راست حمایت پر اتر آئے ہیں۔ اس کا اظہار سندھ حکومت کی جانب سے منعقدہ مختلف ادبی اور ثقافتی پروگراموں کو دیکھ کر ہوتا ہے۔

سندھ کے ادیب اور دانشور روایتی طور پر سرکاری تقریبات سے دور رہے ہیں اور انہوں نے اپنی یہ شناخت خاص طور پر ون یونٹ اور اسکے بعد سندھی زبان کی حیثیت کم کرنے کے اقدامات کے خلاف بطور احتجاج قائم کی تھی۔ اس میں بعض معاملات رسمی طور پر اور بعض غیر رسمی طور پر قائم ہوئے اور آگے چل کر یہ ایک روایت بن گئی۔
لیکن ون یونٹ کے ٹوٹنے اور اس کے فورا بعدذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے قیام کے بعد آہستہ آہستہ اس صورتحال میں تبدیلی آئی۔تاہم حکومت کی طرف جھکاؤ کی اس تبدیلی کی عوامی پر مثبت علامت نہیں سمجھا گیا اور اس کی بھرپور مخالفت ہوتی رہی۔
یہ مخالفت کو اس وجہ سے بھی عوام میں پزیرائی ملی کہ متبادل کے طور پر سندھ میں قوم پرست اور ترقی پسند تحریکیں موجود تھیں۔ 80 کے عشرے کے بعد جیسے جیسے یہ دونوں فکر اور تحریکیں کمزور ہوتی گئیں، اسی تناسب سے حکومت مخالف فکر اور عمل بھی کمزور ہوتا گیا۔ اس کا حزب مخالف کے دنوں میں پیپلزپارٹی کو فائدہ اور اس کے حکمران جماعت بننے پر نقصان ہوتا رہا۔
اب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سندھ کا دانشور اور اہل فکر و نظر طبقہ مسلسل مزاحمتی کرادار کرتے کرتے تھک چکا ہے یا وہ حالات میں تبدیلی سے مایوس ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سرکار کی سرپرستی میں متعدد مواقع پیدا ہوتے رہے۔ اور اس طبقے کے تجربے میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ حکومت کی پالیسی کا ساتھ دے رہے ہیں یا اس کی حمایت کر رہے ہیں، ان کی سماجی، معاشی اور پزیرائی میں حیثیت بڑھی ہے۔
حکومت مخالف لابی میں رہنے کی وجہ سے ان کی اپنی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ بقول شخصے جس طرح سے سندھ کا وڈیرہ متبادل نہ پا کر پیپلزپارٹی کا رخ کر رہا ہے، اسی طرح سے اب یہ طبقہ کا جھکاؤ بھی پیپلز پارٹی کی طرف ہو رہا ہے۔
ایک حلقہ تاہم موجود ہے جواس دلیل کو مسترد کرتا ہے کہ چونکہ پیپلزپارٹی کا متبادل موجود نہیں لہٰذا اس کی مخالفت کو ترک کیا جائے۔ یا اس کے ساتھ رہ کر کام کیا جائے۔ وہ اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ پیپلزپارٹی اپنی 9 سالہ خراب کارکردگی کے باوجود سندھ میں انتخابات جیت جائے گی۔
سیاست کا مطالع رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ اس طرح کی سوچ لامحالہ عام لوگوں کو چپ کر کے بیٹھنے اور کوئی آواز نہ اٹھانے کی طرف مائل کرتی ہے۔ مسئلہ پیپلزپارٹی کی مخالفت یا حمایت سے زیادہ اہم لوگوں کے مسائل اور ان کے حالات زندگی کو بہتر بنانے کا ہے۔ کیا پیپلزپارٹی حقیقی معنوں میں لوگوں کو بنیادی سہولیات، ان کے معاشی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی حقوق دے پارہی ہے؟ کیا لوگوں کو سماجی انصاف حاصل ہے؟
یہاں یہ بات اہم ہے کہ سندھ میں متبادل سیاسی پارٹی نہ ہونے کا خلاء ادیب، دانشور لوگ بھرتے رہے ہیں۔ اور وہ خود پیپلزپارٹی کی کئی پالیسیوں پر چیک اینڈ بیلنس کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا ان کے اس کنٹریبیوشن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ اگر یہ تمام فکر اور اس کو پھیلانے والے حضرات نہیں ہوتے تو کئی معاملات میں صورتحال مختلف ہوتی۔
سندھ میں طویل عرصے تک یہ بیانیہ چھایا رہا سندھ کے لوگوں کی ناقابل گفتہ حالت اس وجہ سے ہے کہ اس کو فیصلہ سازی اور عمل درآمد کرنے والے اداروں میں نمائندگی حاصل نہیں۔ جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر سندھ کے مفادات کا انفرادی خواہ اجتماعی طور پر نقصان ہوتا ہے۔ لیکن پیپلزپارٹی کے مرکز میں تین حکومت کے ادوار رہے۔ اور سندھ میں اس سے زیادہ عرصہ حکومت میں رہی۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد بہت سارے معاملات صوبوں کو منتقل ہوئے۔ مالیاتی ایوارڈ کے نتیجے میں بڑی رقومات صو بوں کو منتقل ہوئیں۔ لیکن ان سب معاملات کا عام آدمی کی زندگی پر کیا اثر پڑا؟
سندھ میں گزشتہ برسہا برس سے ایوان میں حزب اختلاف بارئے نام رہی ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ پیپلزپارٹی کا گزشتہ دور حکومت رہا جس میں سب پارلیمانی گروپ اور پارٹیاں حکومت میں تھیں، ایم کیو ایم اگر اپوزیشن میں بھی رہ تو اس کا اپنا ایجنڈا رہا۔ جس نے کبھی بھی عام آدمی کے لئے آواز نہیں اٹھائی۔ یہی صورتحال فنکشنل لیگ کی رہی۔
اسٹبلشمنٹ کوئی مضبوط وفاقی پارٹی رکھنا بھی نہیں چاہتی۔ بلکہ عملی طور پر ایسی پالیسیاں سامنے آرہی ہیں جن سے لگتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ صوبوں میں ایک ایک پارٹی کو ہی مضبوط پارٹی کے طور پر رکھنا چاہتی ہے۔ یہ درست ہے کہ پیپلزپارٹی کے پاس صوبے میں حکومت بھی ہے، اور مختلف ذرائع خواہ وسائل بھی ہیں جو متوسط طبقے کے لئے کشش کا باعث بن سکتے ہیں۔
وہ ان تینوں چیزوں کا بھرپور فائدہ اٹھارہی ہے۔ نیتجۃ سندھ میں سیاسی حوالے سے اس نے چند ہزار ووٹ رکھنے والے افراد کو اپنے ساتھ اس کشش کے ذریعے جوڑ کر رکھا ہے۔ دوسری طرف سندھ میں اپوزیشن کے طور پر اٹھنے والی آواز کو بھی اپنی کشش ثقل میں لے لیا ہے۔
سندھ کا متحرک متوسط طبقہ عمومی طور پر فکری اور سیاسی مسائل اٹھاتا رہا ہے۔ یہ وہ مسائل رہے ہیں جن کو فوری طور رپ لوگوں کی زندگی پر اثر نہیں پڑتا۔ بلکہ طویل مدت کے بعد اس کے اثرات آنے شروع ہوتے ہیں۔ مسلسل ایک ہی بیانہ کے ساتھ یہ مسائل اٹھانے کا عام آدمی کی نہ زندگی پر اور نہ ہی عملی طور پر اسکو فرق محسوس ہوا۔ اس مظہر نے بھی متوسط طبقے کو مایوس کیا ۔
ابھی ایک قانوندان شہاب الدین استو کی دائر کردہ سپریم کورٹ میں درخواست نے کچھ ہلچل پیدا کی ہے۔ ان کی درخواست صوبے
کے عام لوگوں کو صاف پینے کا پانی نہ ملنے کے حوالے سے تھی۔ اس پر عدالت نے کمیشن قائم ہوا ہے۔ یہ ایک نئی جہت ہے جس کو بڑے پیمانے پر پزیرائی مل رہی ہے۔
اگر سندھ کے دانشوران اپنے موقف میں براہ راست عوامی مسایل جوڑیں تو ایک بار پھر اپنی حیثیت بحال کرا سکتے ہیں اور یہ بات شاید انہیں حکومت کے کشش ثقل سے باہر لے آنے میں کارآمد ثابت ہو۔اور یوں سندھ کو متبادل سوچ، متبادل بیانیہ مل جائے جو آگے چل کر یقیننا متبادل سیاسی قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے

No comments:

Post a Comment