Thursday, July 20, 2017

پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دباؤ میں

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
April 11 Nai Baat 

پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دباؤ میں 
پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پارٹی کے چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر یہ عندیہ دیا تھا کہ ان کی اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان ان بن ختم ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے اکثریت نہ ہونے کے باوجود انہوں نے سنیٹ کا چیئرمین اپنی پارٹی کا بنایا تھا، اسی طرح سے وہ اپنا وزیراعظم بنائیں گے۔ 
اس سے پہلے کے واقعات میں کرپشن کے الزامات میں پھنسے ہوئے پیپلزپارٹی کے بعض اہم رہنماؤں سابق وزیر اطلاعات شرجیل میمن، سابق وزیر پیٹرولیم، سابق وزیر مذہبی امور ڈا کٹر عاصم حسین، حامد سعید کاظمی اور دیگران کو رلیف ملا۔ اسی طرح سے ایک ماڈل ایان علی کو منی لانڈرنگ مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔ اس منی لانڈرنگ کا معاملہ بھی آصف علی زرداری کے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔ ایان علی نے تقریبا دو سال اور حامد سعید کاظمی نے 18 ماہ
 قید کاٹی۔ شرجیل میمن دو سال تک خود ساختہ جلاوطنی کاٹ کر آئے۔

پیپلزپارٹی کی سیاست کچھ اس طرح سے رہی ہے ۔ کبھی لگتا ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ

 کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور کبھی اس کے برعکس معاملہ لگتا ہے۔

دوسری طرف پتہ چلا ہے کہ آصف علی زرداری کے تین قریبی لوگ نواب لغاری، غلام قادر مری اور اشفاق لغاری پر اسرار طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔ نواب لغاری، اشفاق لغاری کا تعلق آصف زرداری کے بزنیس پارٹر انور مجید کی کمپنی سے بتایا جاتا ہے۔ غلام قادر مری زرداری صاحب کی زمینوں کے منیجر سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں سندھ کے مختلف علاقوں میں سے بعض نامعلوم افراد نے ا ٹھالیا ہے۔ نامعلوم افراد سے مراد خفیہ ادارے ہی سمجھا جاتا ہے۔ سابق وزراء اسمبلی میں تھے، ان کی پارٹی میں ایک حثیت تھی، لہٰذا اس معاملے کو پارٹی سیاسی رنگ دے کر اٹھا رہی تھی، حال ہی میں گرفتار ہونے والے تینوں افراد کی پارٹی میں کوئی پوزیشن نہیں۔ 


 یہ گرفتاریاں آصف زرداری کے لئے نئی پریشانیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔
آئی سندھ پولیس کے تقرر کا معاملہ ابھی وفاقی حکومت کے ساتھ اٹکا ہوا ہے، فی الحال سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کا نوٹیفکیشن مسترد کردیا ہے۔ اس معاملے کو پیپلزپارٹی صوبائی اختیارات میں مداخلت سے تعبیر کر رہی ہے۔ کیونکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد یہ اختیار صوبائی دائرہ اختیار میں چلا گیا ہے۔


یہ نئے معاملات بتاتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے لئے ایک بار پھر مشکلات شروع

 ہوری ہیں۔ زرداری صاحب نے بھٹو کی برسی کے موقع پر اعلان کیا کہ وہ انتخابات کے لئے تیار ہیں۔ اور انہوں نے پنجاب میں مختلف مقامات پر جلسے کرنے اور بھرپور انتخابی مہم چلانے کا بھی اشارہ دیا۔ 

اس تقریر میں بعض امور قابل غور ہیں اول یہ کہ انہوں نے انتخابات کے عمل یا اس دوران ہونے والے اتحادوں وغیرہ کا ذکر نہیں کیا اور یہ آپشن اوپن رکھا۔اور پارٹی اکثریت سے جیتے گی وغیرہ کا بھی حوالہ نہیں دیا۔


دوئم یہ کہ انہوں نے انتخابات کے بعد کی حکمت عملی کا اظہار کیا ہے، ان کے الفاظ کی اگر مناسب حوالے سے تشریح کی جائے تو یہ مطلب نکلتا ہے کہ پارٹی اکثریے سے نہیں جیت رہی ہے۔ اور اقلیت میں ہونے کے باوجود ان کی پارٹی وزیراعظم بنا لے گی۔


اس کا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان بھی واضح اکثریت سے نہیں جیت پائیں گے کہ وہ اکیلے سر حکومت بنا لیں۔ یعنی ’’ ہنگ پارلیمنٹ‘‘ آئے گی۔ جس میں دو سے زائد سیاسی جماعتیں حکومت بنائیں گی۔
یہ درست ہے کہ بلوچستان، فاٹا کے اراکین کسی بھی جماعت کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔ 


سندھ میں پیپلزپارٹی خود کو خطرے میں نہیں سمجھتی۔ اور مزید یہ کہ وہ کسی بھی برانڈ کی ایم کیو ایم سے مخلوط حکومت بنا لے گی۔ ایم کیو ایم کی زیادہ دلچسپی وفاقی حکومت میں نہیں بلکہ صوبائی حکومت میں رہتی ہے۔ چونکہ سندھ میں پیپلزپارٹی ہی حکومت بنائے گی لہٰذا پیپلزپارٹی کو اگر وفاق میں حکومت بنانے کے لئے ووٹ کی ضرورت پڑی تو ہر برانڈ کی ایم کیو ایم اس کا ساتھ دے گی۔


معاملہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کا ہے۔پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ خیبرپختونخوا میں ان کے روایتی اتحادی جے یو آئی (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی اس مربتہ زیادہ نشستیں لیں گی۔ یہ فارمولا سمجھ میں بھی آتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت تحریک انصاف کو ہی دی جائے، اور قومی اسمبلی کی زیادہ نشستیں پیپلزپارٹی کے اتحادیوں کو ملیں۔ 


پنجاب میں نواز لیگ، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے درمیان سہ فریقی مقابل ہوگا۔ پیپلزپارٹی اگر پنجاب میں چالیس کے لگ بھگ نشستیں لے لیتی ہے تو پھر زرداری فارمولا عمل میں آتا ہوا نظر آتا ہے۔


لیکن پیپلزپارٹی پر نیا دباؤ کچھ اور کہانی کی طرف جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آرمی چیف سے ملاقات کر کے قوم کو یہ خوشخبری دی تھی کی مسلح افواج جمہوریت کے ساتھ ہیں۔


ابھی پاناما لیکس مقدمہ کے فیصلے کا شدت سے کیا جارہا ہے۔ عسکری حلقوں کی جانب سے یہ بیان آیا ہے کہ پانامالیکس کے کیس سے متعلق منصفانہ فیصلے کا انتطار ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو پاناما لیکس کے کیس میں ہٹایا گیا تو عوام مداخلت کریں گے۔ یہ بیان بھی خاصی صورتحال کو عیاں کر رہا ہے۔ گزشتہ روز آصف علی زرداری یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی پارٹی انتخابات کے لئے تیار ہے۔


بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاناما کیس کے فیصلے کے نتیجے میں انتخابات وقت سے پہلے بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں پر دباؤ کی توضیح اور تشریح یہ بنے گی کہ ان پارٹیوں کو ممکن ہے کہ تنگ گلی کی طرف دھکیلا جارپا ہو۔ بہر حال جس طرح سے پاک افواج کو پاناما مقدمے کا انتظار ہے اسی طرح سے سیاسی جماعتوں اور اس ملک کے عوام کو بھی اس فیصلے کا انتظار ہے۔

No comments:

Post a Comment