Thursday, July 20, 2017

نئے اضلاع یا نئی جاگیریں

March 19


نئے اضلاع یا نئی جاگیریں
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سندھ میں ایک بار پھر نئے اضلاع کی تشکیل کی جارہی ہے۔ اس ضمن میں حکومت نے اپنی تجاویز کو آخری شکل دے دی ہے، جس کا اعلان کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔ عام انتخابات میں ابھی ایک سال باقی ہے لہٰذا اس حکومتی اقدام کو ان انتخابات سے علحدہ نہیں دیکھا جاسکتا۔ لگتا ہے کہ سندھ میں حکمرانوں نے یہ انتخابات جیتنے کے تمام بندوبست کر لئے ہیں۔
نئے اضلاع کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع کو تقسیم کر کے نئے ضلعے بنائے جارہے ہیں۔اس تجویز کے مطابق سانگھڑ کو تین اضلاع میں تقسیم کر کے کھپرو کو الگ ضلع بنایا جارہا ہے، تھرپارکر میں چھاچھرو کو ضلع کا درجہ دیا جارہا ہے۔ مٹیاری اور بینظیرآباد کی کوکھ سے نئے ضلع حاکم آباد کو جنم دیاجارہا ہے۔
خیرپور جو قیام پاکستان کے وقت آزاد ریاست تھی اس کو دو اضلاع میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ خیرپور کو اس سے قبل ٹکڑے نہیں کیا گیا تھا، کہا جاتا ہے کہ خیرپور ریاست کی پاکستان میں شمولیت اس شرط پر کی گئی تھی کہ اس کی وحدت کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے گا۔
ضلع کسی بھی صوبے یا ملک کا انتظامی یونٹ ہوتا ہے جو اس کی بعض خصوصیات مثلا علاقے کی قربت، مواصلات کے رابطے، لوگوں کا آپس میں معاشی خواہ سیاسی سماجی و ثقافتی رابطے، کی بنیاد پر قائم کیا جاتاہے۔
یہ اصول دنیا بھر میں رائج ہے۔ کیونکہ یہ وہ اجزاء ہیں جو لوگوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں اور پپہلے سے موجود رابطوں و سماجی رشتوں کو مضبوط کرتے ہیں، جو آگے چل کر ان کی معاشی اور سیاسی ترقی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اضلاع صرف انتظامی یونٹ نہیں ہوتے بلکہ سیاسی یونٹ یا حلقہ انتخاب بھی بنتے ہیں۔ یہ سانتخابی یونٹ بلدیاتی انتخابات میں ہی نہیں بلکہ 99 فیصد قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ انتخاب کے لئے بھی تسلیم کئے جاتے ہیں۔
ان اضلاع کی تشکیل اور انتظامی یونٹوں کی توڑ پھوڑ کے پیچھے انتظامی نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کر فرما ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے حکمرانوں نے صوبے میں جو نئے بھوتاروں (وڈیروں)کی بھرتی شروع کی ہے ان سب کو راضی رکھنے اور ان کو ذاتی بادشاہتیں دینے اور سیاسی مخالفین ک کے حلقہ انتخاب توڑ کر انہیں بے اثر بنانئے کے لئے حکومت اس فارمولے کا سہارا لے رہی ہے۔
جب شفافیت، میرٹ اور اچھی حکمرانی کا فقدان ہو، حکمرانوں کے اکثر اقدامات سیاسی بالادستی اور گرفت مضبوط بنانے کے لئے ہوتے ہیں، تاہم یہ تاثر یہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ سب کچھ عوام کے وسیع تر مفاد میں کیا جارہا ہے۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں۔ اضلاع کو توڑ کر زرعی زمیں کی طرح تقسیم کا عمل مشرف دور میں بھی کیا گیا تھا۔ وہاں پر پسند کے ظل سبحانی مقرر کر کے یہ ضلع ان کے حوالے کئے گئے تھے۔


ان فیصلوں کی بنیاد بھی سیاسی تھی۔وڈیروں کی جیسے جیسے اولادیں بڑی ہوتی جاتی ہیں اسی حساب سے نئے اضلع اور انتظامی یونٹ بنائے جاتے ہیں۔ یا پھر بعض بااثر افراد کی ’’سیاسی جاگیر‘‘ یعنی حلقہ انتخاب کو محفوظ بنانے کے لئے اس طرح کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔
مشرف دور میں قائم کئے گئے اضلاع میں ابھی تک مکمل دفتری سہولیات میسر نہیں ، جس کی وجہ سے عوام کو پہنچنے والے فوائد خال خال ہیں ۔ ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ ان اضلاع سے تمام سیاسی مقاصدحاصل کئے جاتے رہے ہیں۔
مشرف دور یا اس سے قبل جو نئی تحصیلیں بنائی گئی تھی وہاں ضلع اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، کالج اور دیگر انتظامی محکمہ جات کے دفاتر بھی ٹھیک سے قائم نہیں ہو سکے ہیں۔
اس مرتبہ نئے اضلاع کی تشکیل کے پیچھے بھی سیاسی مقاصد ہیں۔ ایک ہی ضلع کے تمام بااثر بھوتاروں کو خوش رکھنے کے لئے ایک بار پھرروایت کو دہرایا جارہا ہے۔ مشرف دور میں ارباب غلام رحیم سندھ کے ویزراعلیٰ تھے۔ تب بھی نئے اضلاع کی مخالفت کی گئی تھی اور یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صرف وہاں پر اضلاع قائم کئے جائیں جہاں عوام کی ضرورت ہو۔


اضلاع کی در اصل ازسرنو تشکیل ، نہیں تقسیم ہو۔ جو کہ موجود حکمرانوں کو سیاسی سہولت دینے کے لئے کی جارہی ہے تاکہ وہ اپنی پسند کے اتحادی اور امیدوار بنائیں اور مخالفین کو نقصان پہنچائیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ اپنے ووٹرز کا انتخاب خود کر لیتے ہیں، اس سے پہلے کہ ووٹر ان کا انتخاب کریں۔
تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ ایسے ممالک جہاں سیاسی جوڑ توڑ میں ریاست یا حکومت ملوث ہوتی ہے وہاں ا ضلاع کی تقسیم نہ صرف پسندیدہ گروپ کو آگے لانے کے لئے کی جاتی ہے بلکہ نئے سرے سے حد بندیاں ایک ایسا عمل ہے جو صحت مند مقابلے کی نفی کرتا ہے۔ جو آگے چل کر مساویانہ ووٹنگ کی قوت اور منصفانہ نمائندگی کو ضرب پہنچاتا ہے۔
عام طور پر نئے اضلاع کی تشکیل کا عمل نئی مردم شماری کے بعد قانون ساز اسمبلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان بہ جنبش قلم حاکم وقت کر لیا ہے۔ بعض ممالک میں ہر دس سال کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کے بعد یہ عمل شروع کیا جاتا ہے۔
یہ درست ہے کہ قانونی طور پر صوبائی حکومت کو ضلاع قائم کرنے ہیں، لیکن ہوتا یہ رہا ہے کہ اس کی مرضی ہے کہ جہاں سے چاہے یہ تقسیم کی لکیر نکال دے ۔ لیکن اس طرح کا عمل بنیادی طور پر جمہوری جوہر کے خلاف ہے۔ حکومت اس میں صوابدیدی اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
دنیا میں نئے اضلاع کی تشکیل کے لئے چند طریقے وضع ہیں۔ لیکن سندھ میں جب بھی نئے اضلاع بنائے گئے ہیں نہ اصولوں کو اور نہ ہی اس طریقہ کار کو مدنظر رکھا گیاہے۔
ایک ا پروچ ہو ہے جو نوکر شاہی کا اپروچ کہلاتاہے۔ملک کے آئین اور نظام کے اصولوں کے مدنظر سینئر اور غیر جانبدارسرکاری افسران کی ٹیم نقشے تیار کرتی ہے کہ کس علاقے کو کونسے ضلع میں شامل کیا جائے۔ بعد اس تجویز کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ جس کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ نوکرشاہی کی تیارکردہ سفارشات میں ترامیم کر لے۔ہوتا یہ چاہئے کہ یہ ترامیم اسمبلی سے منظور کرنے سے پہلے ایک بار پھر اس ٹیم کو غور کرنے کے لئے بھیجی جانی چاہئیں۔
خود مختار کمیشن کے ذریعے بھی اضلاع کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ امریکی ریاست کلیفورنیا میں اضلاع کی تشکیل آزاد اور خود متار کمیشن کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس کمیشن میں ایسے باوقار افراد کو نامزد کیا جاتا ہے جو حکمران جماعت یا اسمبلی کے دباؤ میں نہ آسکیں۔ یہ کمیشن نقشے تیار کرتی ہے۔ اور اپنی تجاویز ریاستی (صوبائی) اسمبلی کو بھجتی ہے۔ جو اس کو منظور کر کے قانونی شکل دیتی ہے۔
ؑ جب سیاسی صف بندی زیادہ ہو اور اضلاع کی تشکیل پر تنازع ہو تو عدالتی طریقہ بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض ممالک میں یہ تشکیل ہوتی ہی عدالتی طریقے سے ہے۔جہاں اضلاع کی تشکیل کے لئے عدالتی کمیشن قائم کیا جاتا ہے جو نئے اضلاع کی حد بندیاں تجویز کرتا ہے، جس کو بعد میں اسمبلی قانونی شکل دے گی۔ امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں یہ طریقہ رائج ہے۔
بعض ممالک میں اضلاع کا قیام حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ کمیشن کے ذریعے کیا جاتا ہے اس کامقصد یہ ہوتا ہے کہ دونوں جماعتیں کسی معاہدے پر پہنچیں۔ یعنی ایک دوسرے کے سیاسی مفادات کا خیال رکھیں۔ مصلحت اور مفاہمت سے کام لیں۔
ایک اور بھی طریقہ اپنایا جاسکتا ہے۔ یہ کام عوامی رائے اور شفافیت کے ذریعے کیا جائے جس کے تحت عوام سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی تجاویز دیں۔ اور یہ تجاویز شایع کی جائیں یا عوام کے معائنے کے لئے مہیا کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشاورتی اجلاس، عوامی شنوائی وغیرہ کی جائیں۔
اضلاع کے قیام یا توڑ پھوڑ کے وقت مندرجہ ذیل نکات کا خاص خیال رکھا جانا چاہئے ۔ ان کو انتظامی حوالے سے نئے اضلاع کی تشکیل کے بنیادی اجزاء قرار دیا جاتا ہے۔ قربت، قدرتی یا سیاسی حد بندیوں میں تسلسل اور ، compactness ۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جائزہ لینا چاہئے کہ ان اقدامات کا علاقے اور مکیونٹی پرسیاسی، معاشی اور سماجی اثر کیا آئے گا؟ اس ضمن میں علاقے کی تاریخ، سیاسی، سماجی، ثقافتی ربط کو بھی حساب میں لایا جائے گا۔ اس عمل میں ڈیموگرافی بھی نہایت ہی اہم جز ہے۔
ڈیموگرافی کے لئے مردم شماری کے اعدادوشمار سے مدد لی جاسکتی ہے۔ڈیموگرافی کے عنصر سے مراد ہے آبادی کے درمیان توازن یا برابری۔ یعنی ایسی برادریاں یا گروہ جو اقلیتی ہیں ان کی نمائندگی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے ۔مطلب یہ ہے کہ کمیونٹی کا مفاد اس ضمن میں سب سے اہم ہے۔
اگر ان اجزاء اور مروجہ طریقہ ہائے کار جو دنیا میں رائج ہیں نظر میں رکھا جائے تو حکومت سندھ نے نئے اضلاع بناتے وقت کسی بھی اصول کو ملحوظ خیال نہیں رکھا۔ نہ سنیئر اور غیر جانبدار ماہرین سے نقشے بنائے گئے اور نہ ہی یہ نقشے عوام کے سامنے اعتراضات اور تجاویز کے لئے پیش کئے گئے۔ اور عدلیہ کو شامل کرنے سے بھی گریز کیا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس پورے عمل کی خود اسمبلی سے بھی منظوری نہیں لی گئی ہے۔عجب معاملہ ہے کہ حکومت لاکھوں لوگوں کو ایک نوٹفکیشن کے ذریعے ایک انتظامی یونٹ سے نکال کر دوسرے یونٹ میں ڈال رہی ہے، وہ بھی ان کو بتائے بغیر ۔ اس حکومتی فیصلے کے علاقے کے لوگوں کی زندگی، ترقی اور مستقبل پر گہرے اثرات پڑیں گے۔
سیاست وقتی عمل ہے۔ آج حکمران جماعت جن لوگوں کی سیاسی جاگیریں بچانے یا ان کو ہمیشہ کے لئے تحفظ دینے کے لئے جو غیر جمہوری
طریقہ اختیار کر ہی ہے عین ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں وہی لوگ موجودہ حکمران جماعت کی مخالفت میں کھڑے ہوں۔ لہٰذا عوام اور ان کے حقوق مقدم ہیں۔سندھ حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کے اقدام سے قبل مکمل قانونی، جمہوری اور مشاورت کا عمل اختیار کرے تاکہ لوگوں کے سیاسی، جمہوری، معاشی، ثقافتی اور سماجی حقوق سلب نہ ہو سکیں۔

No comments:

Post a Comment