Thursday, July 20, 2017

فوجی عدالتوں کے بعدعدلیہ کے لئے امتحان

فوجی عدالتوں کے بعدعدلیہ کے لئے امتحان 
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

دو سال قبل آئین میں ترمیم کے ذریعے قائم کی گئی فوجی عدالتیں ختم ہو گئی ہیں۔ دو سال کے لئے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے یہ عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کی لہر کو روکا جاسکے۔ اب نئی اسٹبلشمنٹ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے موڈ میں نہیں۔ اگرچہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اگر تمام پارٹیاں متفق ہوئیں تو دوبارہ اس پر سوچا جاسکتا ہے۔ اور اس مقصد کے لئے پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت کی جائے گی۔ یعنی حکومت نے رضامندی کا اظہار کیا کے کہ اگر عسکری قوتیں فوجی عدالتیں دوبارہ قائم کرنا چاہیں تو سویلین حکومت اس کے لئے تیار ہے۔

2015 میں جب فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق ترمیم کی گئی تھی پاکستان کی تمام بار کونسلز نے اس ترمیم کی بھرپور مخالفت کی تھی اور اسے متوازی عدالتی نظام قرار دیا تھا۔ لیکن جب پشاور آرمی اسکول میں دہشتگردوں نے گھس کر معصوم بچوں کو قتل کیا تو عوامی دباؤ بڑھ گیا۔ نتیجے میں سپریم کورٹ کو بھی فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں فیصلہ دینا پڑا۔

اس سے قبل ریٹائرڈ جنرل کیانی نے اپنے دور میں خاص طور پرکراچی کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کی فرمائش کی تھی۔ اور کہا تھا کہ فوج سرف اس سورت میں امن و امان کے معاملات میں آگے آئے گی جب مقدمات چلانے کا اختیار بھی انہیں دے دیا جائے گا۔ عدلیہ میں یہ معاملہ خاص طور پر کراچی کے حوالے سے زیر بحث رہا، جہاں رینجرز مزید اختیارات مانگ رہی تھی ، اور بدامنی عام تھی۔ بعد میں علامہ طاہرالقادری کے ایک اخبار میں شایع ہونے والے خط کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا اور یہ آگے چل کرکراچی بدامنی کیس کے نام سے مشہور ہوا۔
کراچی اور ملک کے بعض دیگر علاقوں میں یہ صورتحال پیدا ہو گئی تھی کہ شدت پسندی کے حوالے سے عدالتیں مقدمات چلانے سے گریز کر رہی تھی۔ بعض ججز اور سرکاری وکلاء پر بھی حملے ہوئے۔

میاں نواز شریف نے 2013 میں تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر سیاسی رہنماؤں سے فوجی قیادت کی خواہش پر فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری حاصل کی تھی۔ اس منظوری میں ملک کی تمام سرکردہ سیاسی رہنما آصف علی زرادری، عمران خان، اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمان اور دیگر شامل تھے۔ فوجی عدالتوں نے متعدد مقدمات کے فیصلے سنائے۔ اور آرمی چیف نے باقاعدہ ان فیصلوں کی تقتیثق کی۔ ان فیصلوں سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچا۔
فوجی عدالتیں ایک ایسے ماحول میں بنی تھی جب مروجہ عدالتی نظام دباؤ میں تھا۔ عدالتی نظام اور ججزدہشتگردی کا شکار ہو رہے تھے۔ آئی ایس پی آر نے فوجی عدالتوں کوصحیح قرار دیتے ہوئے کہا۔ اس عرصے کے دوران 274 مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجے گئے۔ ان میں سے 161 کو سزائے موت سنائی گئی۔ 12کو پھانسی دی گئی۔ اور ۳۱۱ کومختلف میعاد کی سزائیں سنائی گئیں۔ اکثر کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ دہشتگردی کے مقدمات کی فوجی عدالتوں کے ذریعے نمٹانے کے اچھے نتائج نکلے اور دہشتگردی کی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی۔
ملک بھر میں 11 فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھی، ان میں سے تین صوبہ خیبرپختونخوا میں، تین پنجاب میں ، دو سندھ اور ایک بلوچستان میں تھی۔
رواں سال انسانی حقوق کے لئے سرگرم عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ فوجی عدالتوں میں جو مقدمات چلائے گئے ہیں ان کے مقدمات دوبارہ عام عدالتوں میں چلائے جائیں۔

کراچی میں ٹارگیٹ کلنگ، بلدیہ فیکٹری میں 250 افراد کو جلا کر قتل کرنے کا مقدمہ، 12 مئی کا سانحہ اور ایسے درجنوں مقدمات باقی ہیں ، جو ابھی نمٹائے نہیں جا سکے ہیں۔ 12مئی کا واقعہ لوگوں کو پتہ ہے کہ اسکا حکم کہا ں سے ملا تھا اور اس پر کس طرح سے عمل ہوا تھا۔ اس الزام میں گرفتار کراچی کے میئر منتخب ہو گئے اس پر پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف یا کسی اور سیاسی جماعت نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
کرپشن سے متعلق مقدمات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ جو سندھ میں ایک عرصے سے لٹکے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہو پارہی۔ سندھ کے تعلیمی اداروں کیس ربراہی بکتی رہی۔ آئی سندھ پولیس کی تقرری، سرکاری زمین، سالانہ بجٹ، آؤٹ سائیڈ بجٹ ٹھیکے ملازمتوں، حکومت سے وفاداری کر کے راتو رات کروڑ پتی ہونے کا مرض وبا کی طرح پھیل چکا ہے۔
بعض سیاسی رہنماؤں کی قلابازیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو بچانا چاہ رہے ہیں۔ اب آصف علی زرادری ڈاکٹر عاصم کو رہا کرنے کے جتن کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم تین سماعتوں پر عدالت میں بیماری کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکے۔ یہ کس طرح کے سیاسی قیدی ہیں؟ سیاسی کارکنوں کے لئے جیل تربیت گاہ ہوتی تھی اور ہتھکڑی کو اپنا زیور سمجھتے تھے۔

فوجی عدالتوں کے مدت ختم ہونے کے بعد دہشتگردی سے متعلق مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں منتقل کئے جائیں گے۔ویسے خصوصی عدالتیں خصوصی حالات میں ہی قائم کی جاتی ہیں۔ ان کو ایک لحاظ سے عام عدالتی نظام کا حصہ نہیں مانا جاتا ہے۔
انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں سویلین جج مقرر ہیں۔اب ایک بار پھر عدلیہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک طرف سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کا کیس زیر سماعت ہے۔ دوسری طرف دہشتگردی سے متعلق مقدمات بھی واپس عام عدلیہ کے دائرے میں آ رہے ہیں۔ دہشتگردی سے متعلق مقدمات میں اگر معاملات کو ٹھیک سے نہیں دیکھا گیا تو ان ججز پر انگلیاں اٹھیں گی اور عدلیہ کی نیک نامی کو دھچکہ پہنچے گا۔ اور لوگوں کا عدلیہ سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ یوں ملک میں امن و امان، دہشتگردی اور کرپشن جیسے معاملات کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملات بھی عدلیہ کے فیصلوں کے منتظر ہو گئے ہیں۔
یہاں پر ایک ذمہ داری سویلین حکومت اور وسیلین قوتوں پر بھی ہے کہ وہ ملک میں رائج عدالتی نظام کو مضبطو کرنے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک بار پھر اکیسویں آئینی ترمیم کی طرف لوٹنا پڑے۔

No comments:

Post a Comment