Thursday, July 20, 2017

حالیہ بحران کی وجہ پاناما کیس نہیں



حالیہ بحران کی وجہ پاناما کیس نہیں 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
جولائی 21
جے آئی ٹی رپورٹ کوئی حتمی فیصلہ نہیں، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ عدلیہ اس رپورٹ کو جوں کا توں قبول کر لے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے جے آئی ٹی رپورٹ کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ عدالت کے سامنے دو سوال اہم ہیں ایل یہ کہ رپورٹ کی فائنیڈنگ کتنی مضبوط ہیں ؟ اور ان فائینڈنگ پر کیا اور کس طرح سے عمل درآمد کیا جاسکتا ہے؟ یہ بات پیر کے روز بنچ کے ایک جج نے اپنے ریمارکس میں بی کہی۔ اور کہا کہ عدالت جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل کے لئے پابند نہیں۔ پاناما کیس کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ عدالت نے جے آئی ٹی وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں اور منی ٹریل کے ثبوت کٹھے کرنے کے لئے جے آئی ٹی بنائی تھی تاکہ وزیراعظم کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ اب یہ عدالت پر ہے کہ وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو کیا اور کتنی اہمیت دیتی ہے۔ اور یہ بھی کہ رپورٹ میں دیئے گئے ثبوت کافی ہیں یا نہیں۔ اب عدالت میں اس رپورٹ پر کیا اور کس طرح سے عمل کیا جائے کے سوالات پر بحث کی جارہی ہے۔ اور فریقین اپنے دلائل پیش کر رہے ہیں۔ اس اثناے میں وزیراعظم اور ان کے خاندان کے افراد نے اس رپورٹ اور جے آئی ٹی کے طریقے اور کارکردگی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔ انہوں نے رپورٹ پر اعتراض کرتے ہوئے اس کو بدنیتی پت مبنی قرار دیا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم، ان کے کاندان کے افراد، کابینہ میں موجود قریبی وزراء جے آئی ٹی کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس پوری کارروائی کو جمہوری اور منتخب حکومت کے خلاف سازش قرار دے رہے تھے۔ لیکن رپورٹ پیش ہونے کے بعد کچھ صورتحال تبدیل ہوئی۔ اور وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں نے حکمت عملی تبدیل کی اور اسٹبلشمنٹ سے تصادم کے بجائے رپورٹ کو فنی بنیادوں اور قانونی پہلوؤں سے چیلینج کرنے کا فیصلہ کیا۔ 

حکمران جماعت معاملے کو سازش اس لئے بھی قرار دیا جارہا تھا کہ کیونکہ اس کے پیچھے تحریک انصاف تھی۔، جو نواز شریف کی حکومت کے خلاف روز اول سے احتجاج کر رہی تھی اور دھرنے لگا کر ان سے مطالبہ کرہی تھی کہ وہ استعیفا دیں۔ معالے کا آغا ز 2013 کے عام انتخابات میں چند حلقوں میں دھاندلیوں کیا الزامات سے شروع ہوا اور بعد میں پورے انتخابات کو مسترد کرنے اور وزیراعظم کے استعیفا کے مطالبے تک بات جاپہنچی۔ لیکن تب پارلیمنٹ میں موجود دوسری تمام سیاسی جماعتیں عمران خان کے بجائے وزیراعظم کے ساتھ تھیں۔ لیکن پاناما کیس میں ایسا نہیں ہو سکا۔ یہ درست ہے کہ دیگر سیاسی جماعتیں پاناما مقدمے میں تحریک انصاف کی طرح احتجاج کرنے نہیں آئیں۔ لیکن انہوں نے 2018 کے انتخابات قریب دیکھ کر موقعہ غنیمت جانا کہ نواز شریف اور نواز لیگ کی پوزیشن کمزور کریں۔ اور یہ کہ اگر کوئی قتدار میں تبدیلی ہوتی ہے تو چکھ حصہ ھاصل کرسکیں یا اپنی پوزیشن بہتر بنا سکیں۔ لہٰذا پاناما کیس ایک تحریک بن گیا۔ اور اس سے حکمرانوں کو سازش کی بو آنے لگی۔ اس کے پس منظر میں اسلام آباد میں تحریک انصاف کے دھرنے اور امپائر کی انگلی اور دیگر معاملات بھی تھے۔ یہ تحریک پہلے وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں موجود نواز لیگ کی حکومت کے خلاف تھی۔ بعد میں یہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف صورت اختیار کر گئی۔ وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ یہ تحریک دراصل پورے جمہوری نظام کو لپیٹنے کی سازش ہے۔ بعض مراحل کے دوران ایسا محسوس بھی ہونے لگا تھا۔ 

جب کوئی تحریک چلتی ہے تو ملک میں موجود ہر قوت اس سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ یہ تحریک کیا رخ اختیار کر رہی ہے اور کیا رخ دینا چاہئے؟ اس پر مختلف سیاسی حلقے مختلف خیال کے ہیں۔ یہاں تک کہ نواز لیگ، وفاقی کابینہ اور خود شریف خاندان اندرون خانہ ایک صفحے پر نہیں تھے۔ سیاسی جماعتوں کا خیال تھا کہ صرف نواز شریف کو ہی تارگٹ بنایا جائے۔ اور دباؤ ڈالا جائے کہ پارٹی اپنا نیا پارلیمانی لیڈر منتخب کرے۔ یعنی وزیراعظم کے لئے کسی کو نامزد کرے۔ ایسا کرنے سے نواز لیگ کمزور ہوگی ، اور ممکن ہے کہ پارٹی میں گروہ بندی ہو جائے۔ یہ توڑ پھڑ کا عمل کچھ وقت طلب ہوتا ہے۔ لیکن اپنے جوہر میں سیاسی عمل قرار دیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف نے وزیراعظم کے استعیفا کے ساتھ اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ بھی کردیا۔ نواز شریف کے ساتھ ان کے اتحادی مولانا فضل الرحمان، اور محمود خان اچکزئی کھڑے رہے۔ پیپلزپارٹی نے مخالفت کی پالیسی اپنائی۔ کابینہ کے اندر اکثریت ’’ ڈٹ جاؤ‘‘ حامی ہے۔ لیکن وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا موقف باقی کابینہ کے اراکین سے مختلف ہے۔ اس کا اظہار کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں اور بحث کے دوران سامنے آیا۔ وہ ایک ہی ہفتے میں تین مرتبہ وضاحت کر چکے ہیں کہ کابینہ میں ان کا جو موقف تھا اس کو بعض وزرائے توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ یوں چوہدری صاحب نے وزیراعظم کے موقف سے خود کو دور رکھا۔ چوہدری نثار علی خان کی وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ لگ بھگ پینتیس سال کی رفاقت ہے۔ لیکن حالات و اقعات بتاتے ہیں کہ گزشتہ دو عشروں سے ان کا موقف کئی حساس معاملات پر وزیراعظم سے مختلف رہا ہے۔ جس کا وہ کسی نہ کسی شکل میں اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں وہ اسٹبلشمنٹ سے قریب سمجھتے جاتے رہے ہیں۔ یہی صورتحال پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی نظر آئے، جہاں اجلاس میں انہوں نے ’’ ذاتی مصروفیات‘‘ کی بناء پر شرکت نہیں کی۔ 

نواز لیگ کے سامنے دو بڑے سوال تھے کہ اداروں سے تصادم کی پالیسی اختیار کی جائے یا عدم تصادم کا موقف ؟ کابینہ اور پارلیمانی پارٹی میں استعیفا نہ دینے اور ہر سطح پر جے ٹی آئی رپورٹ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم حکمت عملی میں ’’سازش کی جارہی ہے‘‘ کے عنصر کو کم کر کے جے ٹی آئی اور اس کی رپورٹ کو ٹارگٹ بنانے اور اس کی فنی اور قانونی نقائص کو چیلینج کرنے کو اولیت دی گئی۔ اس دوران عسکری میڈیا ونگ کی جانب سے یہ موقف آیا کہ عسکری قوتیں کسی کے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہی ہیں ، وہ ملک میں قانون کی عملداری چاہتی ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب جو کچھ بھی ہوگا وہ سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ اور عدلیہ کی جانب سے ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ پیپلزپارٹی وزیراعظم سے استعیفا لینے کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے اور وہ قومی اسمبلی سے استعیفا، اور سڑکوں پر آنے سمیت تمام آپشنز استعمال کر سکتی ہے۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ بلاول بھٹو زرادری نے صوبائی اسمبلیوں سے استعیفا کی بات نہیں کی۔ بلاول بھٹو ک ا یہ مطالبہ ایک بار پھر پارٹی کو تحریک انصاف کے قریب لا کر کھڑا کر رہا ہے۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ اگر عمران خان وزیراعظم کے استعیفا کے لئے سڑکوں پر آجاتے ہیں تو اس کے لئے مشکل ہو جائے گا کہ وہ خود کو اس احتجاج سے دور رکھے۔ کیونکہ پھر یہ صورتحال ہوگی کہ ایک سیاسی تحریک بن جائے گی جس میں سب کو شامل ہونا پڑے گا۔ پیپلزپارٹی نے بیک وقت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کھیلنے کا عندیہ دیا ہے۔ 

حالیہ بحران پاناما لیکس کی وجہ سے نہیں ، بعض حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہوگا۔ ملک کی دو بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ باری باری حکومت اور اپوزیشن میں آتی رہیں لیکن وہ عوام کو کچھ ڈؒ یور نہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت اور نظام کی محافظ ہونے کی دعویدار ان دونوں جماعتیں نے عوام کو خود سے دور رکھا۔ نیتجے میں ایک خلاء پیدا ہوا جس کو عمران خان نے آکر بھرا۔ انہوں نے عوام کو موبلائیز کیا اور عوام کو اپنے ساتھ کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان آج مضبوط نظر آتے ہیں اور دونوں بڑی پارٹیاں ان سے ڈرنے لگی ہیں۔ ان دونوں بڑی جماعتوں نے اسٹبلشمنٹ اور معاشرے کی اشرافیہ یعنی اپر کلاس یا بااثر افراد کی بنیاد پر سیاست بھی کی اور ان کے مفادات کو بھی پورا کیا۔ ان کی سیاست کا محور صرف الیکشن رہا کہ انتخابات کس طرح سے جیتے جا سکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ سیاست اقتدار میں آنے کا ایک کھیل ہے اور اقتدار میں آنے کے لئے پاکستان جیسے ملک میں الیکشن جیتنا اور اسٹبلشمنٹ کی آشیر واد ہونا ضروری ہے۔ لیکن اس تمام مکینزم سے باہر بھی ایک بڑی دنیا ہے۔ عوام ہیں عوام کے مسائل ہیں۔ ان کی تحریک ہے۔ وہ اگر کسی اشو پر کھڑے ہو جائی یا کسی طرح سے انہیں کھڑا کیا جائے تو حکمرانوں کو دن میں تارے نظر آنے لگتے ہیں۔ 

موجودہ سیاسی بحران کی جڑیں صرف پاناما کیس میں نہیں۔ بلکہ اس بحران کی جڑیں اس نظام اور حکمت عملی میں ہیں جو دو بڑی پارٹیوں اور ان کی حامی قوتوں نے مرتب کی ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اگر پاناما لیکس نہ بھی ہوتے تو بھی دیر سویر یہ بحران پیدا ہونا تھا۔ 

جے آئی ٹی رپورٹ کے بارے میں عدلیہ نے فیصلہ کرنا ہے۔ صادق اور امین کے سوال کو بھی ایڈریس کرنا ہے ۔ اس بنیاد پر وزیراعظم اور ان کے خاندان کو نااہل قرار دیا جائے۔ دوسری سورتحال یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ریفرنس احتساب عدالت کو بھیجا جائے ۔ تیسرا آپشن یہی ہے کہ معاملہ الیکشن کمیشن کو ریفر کیا
جائے۔ صادق اور امین کی اصطلاح کو بنیاد بنا کر اگر کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایک پینڈورا باکس کھل جائے گا۔ جس کا ایک ہلکا عکس آج بھی میڈیا اور سوشل میڈیا میں نظر آتا ہے کہ ملک میں اس تعریف کے مطابق کوئی بھی صادق اور امین نہیں۔ یہاں تک کہ خود عمران خان بھی۔ صادق اور امین کی اصظلاھ آمر جنرل ضیا ء الحق نے شامل کی تھی جس کا مقصد سیاست اور سیاتادانوں کو کنٹرول کرنا تھا۔ اصل معاملہ موجودہ وزیراعظم، موجودہ نواز لیگ یا موجودہ اسمبلی کا نہیں۔ اس بحران کو مقتدرہ حلقے حل اس طرح سے کرنا چاہ رہے ہیں کہ اس کے اثرات آئندہ انتخابات پر پڑیں۔ 
نئی بات ۲۱جولائی ، سال ۲۰۱۷

No comments:

Post a Comment