میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی ایک بار پھر سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی کی لہر محسوس کی جارہی ہے۔جس کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ابھی حکومت پاناما لیکس کے بحران سے خود کو نکال ہی نہیں پائی تھی کہ ایک اور بحران پیدا ہو گیا ہے۔ گزشتہ سال ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی خبر ڈان اخبار نے شایع کی جس پر عسکری حلقوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جس کے نیتجے میں حکومت نے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیقات کے لئے کمیشن بنایا۔ اس کمیٹی میں سول اور عسکری خفیہ اداروں ک کے نمائندے بھی شامل تھے۔ تقریبا چھ ماہ کے بعد وزیراعظم کو کمیٹی نے وزارت داخلہ کے ذریعے رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کے بعض حصوں پر وزیراعظم نے فوری عمل درآمد کے احکامات جاری کئے۔ ان احکامات کی خبر میڈیا میں پہنچتے ہی ایک اور بحران کھڑا ہو گیا۔ اس میں اضافہ عسکری ادارے کی میڈیا ونگ کے ٹوئٹ نے کیا۔
چوہدری نثار علی خان جن کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا موقف وزیراعظم نواز شریف سے مختلف ہوتا ہے ان کو بھی کہنا پڑا کہ ٹوئٹس کے ذریعے ادارے ایک دوسرے سے ہم کلام نہیں ہو سکتے وغیرہ۔
اس بحران کے کئی پہلو ہیں۔ شایع ہونے والی خبر غلط تھی؟ یا اس کا شایع ہونا غلط
تھا؟ اور حکومتی اداروں خاص طور پر وزارت اطلاعات کے ذمہ داروں کو اس خبر کو رکوانا چاہئے تھے؟ جب یہ خبر شایع ہوئی تب سے اس معاملے کا ان خبروں کی روشنی میں ہی دیکھا جائے جو اسس اشو پر خبریں شایع ہوئی ہیں تو صورتحال مختلف بنتی ہے۔ اگر خبر غلط تھی تو اس کی تردید ہی کافی تھی جو کہ متعلقہ اداروں سے کی گئی۔اگر خبر کی اشاعت کو ملکی سلامتی اور اس طرح کے معاملات کے ساتھ جوڑا جائے تو پھر اس کا سول عدالتوں میں مقدمہ ہو سکتا تھا۔
جہاں تک خبر کو رکوانے کی بات ہے، کیا آج کی ٹیکنالوجی کے دور میں خبر کو
رکوانا ناممکن سی بات ہے۔ حکومت نے اس خبر پر عسکری اداروں کے اعتراض پر اپنے وفاقی وزیر کو ہٹادیا۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعدپرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین کو اس الزام میں ہٹایا گیا ۔
سوال یہ ہے کہ کیا راؤ تحسین اور سابق وفاقی وزیر پرویز رشید یہ خبر رکوا سکتے تھے؟ یہ سب کچھ کسی ایسے دور میں ممکن تھا جب پریس پر کنٹرول تھا، پریس ایڈائیس جاری پوتی تھی۔ کیا شایع ہونا چہائے اور کیا شایع نہ ہونا چاہئے اس کا فیصلہ کوئی بھی چھوٹا بڑا اہلکار کر لیتا تھا۔ یہ سب کچھ ایوب خان اور جنرل ضیا کے دور میں اور کسی حد تک بھٹو کے دور میں بھی ہوتا رہا۔ لیکن تب کی دنیا مختلف تھی۔ نہ اتنی بڑی میڈیا ملک کے خواہ باہر تھی اور نہ اس طرح کی سیاسی، معاشی صورتحال تھی۔ وہ سرد جنگ کا دور تھا۔ انسانی حقوق، شہری آزادیاں اور جمہوریت ان تمام اعلیٰ انسانی اقدار کی وہ اہمیت نہیں ۔
اب ان اعلیٰ انسانی اقدار کی دنیا بھر میں مضبوط تحریکیں ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان اقدار کی تعریف اور دارہ میں بھی توسیع ہوگئی ہے۔ لہٰذا بہت ساری چیزیں کسی حکومت، ادارے یا فرد کی شدید خواہش کے باوجود نہیں ہو سکتیں۔ ہمیں اس حیقیقت کو ماننا پڑے گا کہ آج ایک مختلف دور ہے اور اس کے تقاضے بھی مختلف ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھنا پڑے گا کہ ریاست کے بنیادی رکن تین ہوتے ہیں۔ مقننہ، حکومت اور عدلیہ۔ باقی تمام ادارے ریاستی ادارے نہیں بلکہ حکومتی ادارے ہوتے ہیں۔ یا ان تین اداروں کے ماتحت ہوتے ہیں۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے جس کو ہماری سیاست اور سوچ میں ہم کئی برسوں سے حساب میں ہی نہیں لاتے۔ لہٰذا ہم ریاست کے بنیادی ٹصور کو ہی غلط سمجھتے رہے۔ اور اس کے نقصانات بھی اٹھاتے رہے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک کے اہم اداروں کے درمیاں ہم آہنگی اور مربوط روابط حکومتی پالیسیوں اور مجموعی طور پر ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن اس کی ذمہ داری بھی تمام اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
ہر ہوشمند شہری خواہ وہ کسی بھی عہدے یا مقام پر بیٹھا ہو سمجھ سکتا ہے کہ آج جب ہم آئندہ انتخابات سے چند ماہ کے فاصلے پر کھڑے ہیں۔ تب کوئی ایسی صورتحال نہیں بن سکتی کہ کسی طرح سے نواز شریف یا اس کی حکومت کو گھر بھیج دیا جائے۔ یہ صحیح ہے کہ عمران خان کا یہ شدید مطالبہ ہے۔ پیپلپزپارٹی بھی پاناما لیکس کے بعد یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ صرف ان کا مطالبہ ہے۔ دراصل وقت سے پہلے وہ بھی ایسا نہیں چاہتے۔ ممکن ہے کہ شروع کے دنوں میں عمران خان یہ بات دل سے چاہ رہے ہوں۔ اب جو بھی مطلابے ہو رہے ہیں اور سیاسی ایندھن جلایاجارہا ہے یا جمع کیا جارہا ہے وہ دراصل آئندہ انتخابات کے حوالے سے ہے جن کو 2018 میں ہی ہونا ہے۔
سیاسی طور پر یہ بات اس وجہ سے بھی کہی جاسکتی ہے کہ عمران خان نے 2013 کے انتخابات کے بعد پورا ور لگالیا کہ نواز شریف کی حکومت ختم ہو، وہ نہیں ہوسکا۔ اب لوگ کسی بڑے احتجاج کے موڈ میں نہیں۔ خاص طور پر عمران خان کی اپیل پر اور ان کے اس ایک نکاتی ایجندا پر۔
عوامی سطح پر بات کی جائے تو لوگ نواز شریف کے کچھ خواب کچھ وعدے خرید کرنے کے لئے تیار ہیں اور ایک وقت دینا چاہتے ہیں۔ لوگ کوئی اس طرح کا بہانہ نہیں چاہتے کہ حکومت کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ پیپلزپارٹی میں کرشماتی قیادت نہیں۔ وہ احتجاجی سیاست اس طرح سے نہیں کرنا چاہتی۔ اس میں اس طرح کے احتجاج کی طاقت ہے جو ابھی سندھ میں کر رہی ہے۔ لیکن اس کو ملک گیر شکل نہیں دے سکتی۔ سندھ میں اس احتجاج کے پیچھے اس صوبے کی اپنی شکایات ہیں۔ جس کو لے کر پیپلزپارٹی صرف ایک صوبے میں ہی احتجاج کررہی ہے۔
کچھ فنی اور سیاسی معاملات بھی اتکے ہوئے ہیں۔ مثلا انتخابی اصلاحات۔ یہ قانونی مسودہ پارلیمنٹ کے پاس زیرغور ہے۔ ان اصلاحات کے بغیر انتخابات کرنا ایک بار پھر متنازع ہو جائیں گے۔ الیکشن کمیشن یہ بھی چاہتی ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندی کے تحت انتخابات ہوں۔ یہ صرف الیکشن کمیشن کی خواہش نہیں بلکہ عام لوگوں کی کواہش بھی ہے۔ کیونکہ یہ حلقہ بندیاں نہ صرف از کار رفتہ ہو گئی ہیں بلکہ ان پر تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کو اعتراضات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیس سال کے عرصے میں بڑے پیمانے پر ڈیموگرافی میں بھی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔لہٰذا پرانی حلقہ بندیاں لوگوں کی امیدوں اور خواہشات اور رائے کی نمائندگی نہیں کرتی۔
حکمران جماعت نے ڈان لیکس کا معاملہ نمٹانے کے لئے عسکری حلقوں سے بات چیت کرنے اور مطمئن کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے فی الحال یہ معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔ یہ مصلحت درست سمجھی جائے گی۔ اس لئے کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔
یہ درست ہے کہ ہمارے حکمران اپنے مالی معاملات شفاف رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ یعنی ان حضرات نے اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے یہ دولت بنائی وغیرہ۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کوئی اور ادارہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے ان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے۔ اصل میں یہ پاکستان کا المیہ رہا ہے کہ ادارے اپنے اختیارات میں رہ کر کام نہیں کرتے۔ یہیں سے گڑبڑ ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہ لکیر کھینچنی چاہئے اور واضح کردینی چاہئے کہ کس کے کیا اختیارت ہیں؟
سیاسی حلقوں کو اپنے سیاسی یا ذاتی اور وقتی مفادات کو بالائے تاک
رکھ کرہی اس ضمن میں پہلکاری کرنی پڑے گی اور اپنا موقف بھرپور طریقے سے رکھنا پڑے گا۔ اس ضمن میں پیپلزپارٹی کا حالیہ موقف قابل تحسین ہے۔ اب نواز لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اس کا مثبت جواب دینا چاہئے۔ پارلیمنٹ کا رول بڑھانا چاہئے۔
چوہدری نثار علی خان جن کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا موقف وزیراعظم نواز شریف سے مختلف ہوتا ہے ان کو بھی کہنا پڑا کہ ٹوئٹس کے ذریعے ادارے ایک دوسرے سے ہم کلام نہیں ہو سکتے وغیرہ۔
اس بحران کے کئی پہلو ہیں۔ شایع ہونے والی خبر غلط تھی؟ یا اس کا شایع ہونا غلط
تھا؟ اور حکومتی اداروں خاص طور پر وزارت اطلاعات کے ذمہ داروں کو اس خبر کو رکوانا چاہئے تھے؟ جب یہ خبر شایع ہوئی تب سے اس معاملے کا ان خبروں کی روشنی میں ہی دیکھا جائے جو اسس اشو پر خبریں شایع ہوئی ہیں تو صورتحال مختلف بنتی ہے۔ اگر خبر غلط تھی تو اس کی تردید ہی کافی تھی جو کہ متعلقہ اداروں سے کی گئی۔اگر خبر کی اشاعت کو ملکی سلامتی اور اس طرح کے معاملات کے ساتھ جوڑا جائے تو پھر اس کا سول عدالتوں میں مقدمہ ہو سکتا تھا۔
جہاں تک خبر کو رکوانے کی بات ہے، کیا آج کی ٹیکنالوجی کے دور میں خبر کو
رکوانا ناممکن سی بات ہے۔ حکومت نے اس خبر پر عسکری اداروں کے اعتراض پر اپنے وفاقی وزیر کو ہٹادیا۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعدپرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین کو اس الزام میں ہٹایا گیا ۔
سوال یہ ہے کہ کیا راؤ تحسین اور سابق وفاقی وزیر پرویز رشید یہ خبر رکوا سکتے تھے؟ یہ سب کچھ کسی ایسے دور میں ممکن تھا جب پریس پر کنٹرول تھا، پریس ایڈائیس جاری پوتی تھی۔ کیا شایع ہونا چہائے اور کیا شایع نہ ہونا چاہئے اس کا فیصلہ کوئی بھی چھوٹا بڑا اہلکار کر لیتا تھا۔ یہ سب کچھ ایوب خان اور جنرل ضیا کے دور میں اور کسی حد تک بھٹو کے دور میں بھی ہوتا رہا۔ لیکن تب کی دنیا مختلف تھی۔ نہ اتنی بڑی میڈیا ملک کے خواہ باہر تھی اور نہ اس طرح کی سیاسی، معاشی صورتحال تھی۔ وہ سرد جنگ کا دور تھا۔ انسانی حقوق، شہری آزادیاں اور جمہوریت ان تمام اعلیٰ انسانی اقدار کی وہ اہمیت نہیں ۔
اب ان اعلیٰ انسانی اقدار کی دنیا بھر میں مضبوط تحریکیں ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان اقدار کی تعریف اور دارہ میں بھی توسیع ہوگئی ہے۔ لہٰذا بہت ساری چیزیں کسی حکومت، ادارے یا فرد کی شدید خواہش کے باوجود نہیں ہو سکتیں۔ ہمیں اس حیقیقت کو ماننا پڑے گا کہ آج ایک مختلف دور ہے اور اس کے تقاضے بھی مختلف ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھنا پڑے گا کہ ریاست کے بنیادی رکن تین ہوتے ہیں۔ مقننہ، حکومت اور عدلیہ۔ باقی تمام ادارے ریاستی ادارے نہیں بلکہ حکومتی ادارے ہوتے ہیں۔ یا ان تین اداروں کے ماتحت ہوتے ہیں۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے جس کو ہماری سیاست اور سوچ میں ہم کئی برسوں سے حساب میں ہی نہیں لاتے۔ لہٰذا ہم ریاست کے بنیادی ٹصور کو ہی غلط سمجھتے رہے۔ اور اس کے نقصانات بھی اٹھاتے رہے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک کے اہم اداروں کے درمیاں ہم آہنگی اور مربوط روابط حکومتی پالیسیوں اور مجموعی طور پر ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن اس کی ذمہ داری بھی تمام اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
ہر ہوشمند شہری خواہ وہ کسی بھی عہدے یا مقام پر بیٹھا ہو سمجھ سکتا ہے کہ آج جب ہم آئندہ انتخابات سے چند ماہ کے فاصلے پر کھڑے ہیں۔ تب کوئی ایسی صورتحال نہیں بن سکتی کہ کسی طرح سے نواز شریف یا اس کی حکومت کو گھر بھیج دیا جائے۔ یہ صحیح ہے کہ عمران خان کا یہ شدید مطالبہ ہے۔ پیپلپزپارٹی بھی پاناما لیکس کے بعد یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ صرف ان کا مطالبہ ہے۔ دراصل وقت سے پہلے وہ بھی ایسا نہیں چاہتے۔ ممکن ہے کہ شروع کے دنوں میں عمران خان یہ بات دل سے چاہ رہے ہوں۔ اب جو بھی مطلابے ہو رہے ہیں اور سیاسی ایندھن جلایاجارہا ہے یا جمع کیا جارہا ہے وہ دراصل آئندہ انتخابات کے حوالے سے ہے جن کو 2018 میں ہی ہونا ہے۔
سیاسی طور پر یہ بات اس وجہ سے بھی کہی جاسکتی ہے کہ عمران خان نے 2013 کے انتخابات کے بعد پورا ور لگالیا کہ نواز شریف کی حکومت ختم ہو، وہ نہیں ہوسکا۔ اب لوگ کسی بڑے احتجاج کے موڈ میں نہیں۔ خاص طور پر عمران خان کی اپیل پر اور ان کے اس ایک نکاتی ایجندا پر۔
عوامی سطح پر بات کی جائے تو لوگ نواز شریف کے کچھ خواب کچھ وعدے خرید کرنے کے لئے تیار ہیں اور ایک وقت دینا چاہتے ہیں۔ لوگ کوئی اس طرح کا بہانہ نہیں چاہتے کہ حکومت کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ پیپلزپارٹی میں کرشماتی قیادت نہیں۔ وہ احتجاجی سیاست اس طرح سے نہیں کرنا چاہتی۔ اس میں اس طرح کے احتجاج کی طاقت ہے جو ابھی سندھ میں کر رہی ہے۔ لیکن اس کو ملک گیر شکل نہیں دے سکتی۔ سندھ میں اس احتجاج کے پیچھے اس صوبے کی اپنی شکایات ہیں۔ جس کو لے کر پیپلزپارٹی صرف ایک صوبے میں ہی احتجاج کررہی ہے۔
کچھ فنی اور سیاسی معاملات بھی اتکے ہوئے ہیں۔ مثلا انتخابی اصلاحات۔ یہ قانونی مسودہ پارلیمنٹ کے پاس زیرغور ہے۔ ان اصلاحات کے بغیر انتخابات کرنا ایک بار پھر متنازع ہو جائیں گے۔ الیکشن کمیشن یہ بھی چاہتی ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندی کے تحت انتخابات ہوں۔ یہ صرف الیکشن کمیشن کی خواہش نہیں بلکہ عام لوگوں کی کواہش بھی ہے۔ کیونکہ یہ حلقہ بندیاں نہ صرف از کار رفتہ ہو گئی ہیں بلکہ ان پر تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کو اعتراضات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیس سال کے عرصے میں بڑے پیمانے پر ڈیموگرافی میں بھی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔لہٰذا پرانی حلقہ بندیاں لوگوں کی امیدوں اور خواہشات اور رائے کی نمائندگی نہیں کرتی۔
حکمران جماعت نے ڈان لیکس کا معاملہ نمٹانے کے لئے عسکری حلقوں سے بات چیت کرنے اور مطمئن کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے فی الحال یہ معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔ یہ مصلحت درست سمجھی جائے گی۔ اس لئے کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔
یہ درست ہے کہ ہمارے حکمران اپنے مالی معاملات شفاف رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ یعنی ان حضرات نے اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے یہ دولت بنائی وغیرہ۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کوئی اور ادارہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے ان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے۔ اصل میں یہ پاکستان کا المیہ رہا ہے کہ ادارے اپنے اختیارات میں رہ کر کام نہیں کرتے۔ یہیں سے گڑبڑ ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہ لکیر کھینچنی چاہئے اور واضح کردینی چاہئے کہ کس کے کیا اختیارت ہیں؟
سیاسی حلقوں کو اپنے سیاسی یا ذاتی اور وقتی مفادات کو بالائے تاک
رکھ کرہی اس ضمن میں پہلکاری کرنی پڑے گی اور اپنا موقف بھرپور طریقے سے رکھنا پڑے گا۔ اس ضمن میں پیپلزپارٹی کا حالیہ موقف قابل تحسین ہے۔ اب نواز لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اس کا مثبت جواب دینا چاہئے۔ پارلیمنٹ کا رول بڑھانا چاہئے۔
No comments:
Post a Comment