Thursday, July 20, 2017

سیاسی صفحے کی تلاش

سیاسی صفحے کی تلاش
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
پی ایس ایل کا انعقاد خیر وخیرت سے ہو گیا۔ یوں عالمی طور پر ملکی ساکھ کو پہنچنے والا دھچکے سے پاکستان بچ گیا۔ یہ سب کچھ فوج اور یگر عسکری اداروں کے تعاون سے ممکن ہو سکا۔ پی ایس ایل پر پر عمران خان نے بیانات کے ذریعے کچھ طبع آزمائی کی لیکن اس میں انہیں کوئی زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اب الیکشن کمیشن کو تختہ مشق بنانا چاہ رہے ہیں۔ عمران خان کی یہ روز آئندہ سال ہونے والے انتخابات تک جاری رہے گی۔ یہ ان کی حکمت عملی ہے کہ مسلسل اپوزیشن میں ہی رہنا ہے اور لوگوں کو یہ تاثر دینا ہے کہ اصل اور حقیقی اپوزیشن وہی ہیں۔

سیاسی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان تناؤ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ تناؤ جو پچاس کے عشرے میں شروع ہوا تھاکبھی ختم ہوپایا۔ البتہ کبھی اس میں تیزی آتی رہی تو کبھی شدت میں کمی۔ اس تناؤ کا شکار سیاست اور سیاسی جماعتیں بھی ہوئیں تو انتظامیہ اور گورننس بھی ہوئی۔ نواز لیگ اگرچہ ایک ہی پارٹی ہے لیکن اس کے اندر ایک سے زائد پارٹیاں ہیں۔ جو مختلف گروہوں اور مکتب فکر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ مثلا سرتاج عزیز اور احسن اقبال کے لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پارٹی کی درمیانی صفحوں کے بندے ہیں۔ ثناء اللہ کو دائیں کی جانب زیادہ جھکاؤ ہے۔ چوہدری نثار علی خان کو اسٹبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا وہ کئی مواقع پر پارٹی کی نہیں بلکہ اپنی بات کرتے ہیں۔

عمران خان کے دھرنے کے موقع پر ان کے بیانات کو پارٹی کے دیگر خواہ باہر سیاسی حلقے مشکوک نظر سے دیکھتے تھے۔ بہرحال ان کا ایک مرکزی کردار ہے۔ وہ ملک کے اندرونی معاملات پر کم اور بیرونی معاملات پر زیادہ بات کرتے ہیں۔ ان کا حالیہ بیان بھی اس بات کی عکاسی کرتا کہ وسیلین حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان تعلقات آج کل صحیح ہیں۔

جنرل راحیل شریف کے دور سپہ سالاری میں حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان سخت تناؤ کی صورتحال رہی۔ یہی صورتحال جنرل کیانی اور پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی رہی۔ اس سے پہلے بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں فیصلے ٹرائیکا کے ذریعے طے ہوتے تھے۔ بعد میں نواز شریف کی بھی اسٹبلشمنٹ سے زیادہ نہیں بن سکی۔ صورتحال یہاں تک پہنچی کہ وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف کو تبدیل کرنا چاہ لیکن ان کی یہ کوشش ناکام رہی نتیجے میں ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔

جنرل باجوہ کے آنے کے بعد صورتحال یں تبدیلی سمجھی جارہی ہے۔ اب نہ سرکاری اجلاسوں سے متعلق پہلے جیسی گرما گرمی کی خبریں آتی ہیں اور نہ ہی عسکری ادارے کی میڈیا ونگ کے ٹوئٹر سے الفاظ کی گولہ باری ہوتی ہے۔ اس میں جنرل باجوہ کی پالیسی کا کمال ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اب موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہونے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لہٰذا ا کسی فوری عمل کی ضرورت نہیں سمجھی جارہی۔ اس کے بجائے تمام تر نظریں آئندہ انتخابات پر ہی رکھی جارہی ہیں۔ نواز شریف بھی سیکھ گئے ہیں کہ کس طرح سے اسٹبلشمنٹ کو ڈیل کیا جائے۔

یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج کل ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں سیاسی اور عسکری اداروں کے درمیان تعلقات پیشہ ورانہ طور پر استوار ہیں۔ اس کے دو بڑے اظہار نظر آرہے ہیں ایک پنجاب میں رینجرز کا آپریشن، دوسرا ملک میں فوجی عدالتوں کا دوبارہ قیام۔ اس سے پہلے نواز شریف اسٹبلشمنٹ کے یہ دونوں مطالبے ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ دراصل عمران خان کے دھرنے نے سیاسی حکومت کو کمزور کر دیا تھا۔ بعد میں آرمی پبلک اسکول پر حملے نے فوجی عدالتوں کے قیام کو ناگزیر بنا دیا۔

جنرل کیانی نے اپنے دور سپہ سالاری میں بھی کراچی میں دہشتگردی کو روکنے کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام اور عسکری اداروں کو پالیسی کے اختیارات دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت نے یہ بات نہیں مانی تھی۔ بعد میں جب 2013 کے عام انتخابات کے نتیجے میں نواز لیگ حکومت میں آئی تو اس نے سب سے پہلے یہی کام کیا تھا۔ اور آرمی چیف کے ساتھ آکر کراچی میں آپریشن شروع کرایا تھا۔ تب سندھ سے تعلق رکھنے والی بعض اہم پارٹیوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ اعتماد میں لینے کی اس عمل سے سندھ کے قوم پرست خارج تھے۔

اب نواز لیگ ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے سرگرم ہے۔ اس نے رینجرز کو بھی اپنے سیاسی قلعے پنجاب میں آپریشن کی اجازت دے دی ہے۔ یہ آپریشن عملا کتنا ہو رہا ہے اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ اس آپریشن کے لئے عمران خان کو بڑی پریشانی ہے، وہ نہ اس آپریشن کی مخالفت کر پارہے ہیں اور نہ حمایت۔ عام تاثر یہ دیاجارہا ہے کہ پنجاب میں گڑبڑ افغان باشندے پھیلا رہے تھے۔ مقامی لوگ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوتے۔

سچ تو یہ ہے کہ نئے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے وہ کام بڑے سکون اور آرام سے کر لئے جس کے لئے ان کے پیش رو میڈیا میں بہت شور غل ہو تھا۔ یعنی ماضی کے مقابلے میں دونوں فریقین ایک دوسرے کو بخوبی جانتے ہیں۔ لہٰذا یہ دونوں ایک ہی صفحے پر نظر آتے ہیں۔
ہمارے ہاں یک طرفہ جھکاؤ کی تاریخ زیادہ رہی ہے، سویلین معاملات پر عسکری قوتوں کا اثر زیادہ رہا ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ نے سویلین اختیار کو مزید کمزور کیا۔ اب بھی اس جنگ کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ اس لئے عسکری پلڑا آنے والے وقتوں میں بھی بھاری ہے گا۔

دہشتگردی ملک کے اندر ہو یا سرحد پار سے ہو رہی ہو، ایسے میں ان اداروں کو ہی مضبوط کرنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے جو اس دہشتگردی سے لڑ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ا یسے میں عسکری ادارے ہی مضبوط ہونگے۔ دہشتگردی کا دباؤ عدلیہ پر بھی محسوس کیا جاتا رہا ہے۔ جب کہ قانون نافذ کرنے کے لئے پولیس بھی غیر موثر ہورہی تھی کہ رینجرز کو پولیس کے اختیارت دیئے گئے، اور فوج کو عدالتیں قائم کرنے کا اختیار
دیا گیا۔ انتخابات ہوں یا مردم شماری ان کے لئے فوج کا کردار رکھا گیا ہے۔ سویلین حکومت دفاعی اور خارجہ پالیسی سے دستبردار ہوچکی ہے اور عملاان دو اہم امور پر فوج کا استحقاق تسلیم کر چکی ہے۔ ملک میں کوئی ایک بھی جماعت ایسی نہیں جو فوج کی بالادستی کو تسلیم نہ کرتی ہو۔ پیپلزپارٹی بھی فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے رہا ہموار کر رہی تھی۔ تحریک انصاف بھی کسی نہ کسی طرح سے یہ کام کر ہی ہے۔ 



پاکستان کے گرد نواح کے حالات میں تناؤ، اور عدم استحکام ہے۔ فوج اور سیاسی قوتیں ایک صفحے پر نظر آتی ہیں۔ عملا نیم سویلین نظا م چل رہا ہے۔ جس میں تمام سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر ہیں یہ اور بات ہے کہ یہ صفحہ سیاسی نہیں۔
سیاسی جماعتوں کا بطور سیاسی شعبے کے کوئی اپنا موقف ہیں۔ اور اگر کسی کا تھوڑا بہت ہے تو اس پر دیگر جماعتیں ساتھ نہیں۔ عملا کوئی سیاسی صفحہ ہیں۔ جس کو تلاش کرنا ازحد ضروری ہے۔ 




No comments:

Post a Comment