Saturday, July 8, 2017

سیاست دانوں کی لانڈرنگ اور تبدیلی کا خواب

سیاست دانوں کی لانڈرنگ اور تبدیلی کا خواب
میرے دل میرے مسافر ۔۔سہیل سانگی
پاناما پیپرز کی تحقیقات اور اس پر عدالت اور مختلف ریاستی اداروں کا رویہ مزید اہمیت اختیار کر گیاہے۔ سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے ٹی آئی اپنے بارے میں متنازع ہونے کا تاثر ختم نہیں کر سکی۔ ٹیم نے اس ضمن میں بعض درخواستیں بھی عدالت میں دی ہیں۔ حکومتی حلقوں سے اس ٹیم پر مختلف الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم کے تقریبا تمام اہل خانہ کو ٹیم کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ پروگرام کے مطابق ٹیم اپنی رپورٹ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ پیش کرے گی۔ جوں جوں یہ تاریخ قریب آرہی ہے۔ سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔
پاناما پیپیرز کے سیاسی اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ پنجاب میں تبدیلی محسوس کی جارہی ہے۔ بعض بااثر افراد نے پی ٹی آئی میں شمولیت شروع کردی ہے۔ تاحال نواز لیگ اس سیٹ بیک سے بچی ہوئی ہے کیونکہ شمولیت کرنے والوں میں سے اکا دکا کو چھوڑ کر باقی کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے۔ پاکستان کی سیاست میں پارٹی بدلنا کوئی نئی بات نہیں۔ جو جماعت اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، اقتدار اور اختیار کی ہوس رکھنے والے بااثر افراد اس جماعت کا رخ کر لیتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات ان کا رخ اس طرف کرالیا جاتا ہے۔ اسٹبلشمنٹ کے لئے پی ٹی آئی کی بھی بڑی خدمات ہیں۔ لہٰذا اس جماعت کو اس کے بدلے کچھ تو ملنا چاہئے۔ یعنی پنجاب میں فی الحال صرف اتنی تبدیل آسکی ہے کہ لوگ پیپلزپارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں آ رہے ہیں۔ لہٰذا اس کا سب سے بڑا نقصان پیپلزپارٹی کو ہی ہو رہا ہے۔ اقتدار اور الیکشن کی سیاست میں تین عناصر اہم ہوتے ہیں۔ امیدوار جو پاکستان میں براہ راست بالائی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس بالائی طبقے کا اپنا سماجی اور الیکشنی نیٹ ورک ہوتا ہے۔ دوسرے پریشر گروپ، جو عموما متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں سیاست اور معیشت میں اپنی جگہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر پارٹی کے کارکن کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ پارٹی قیادت اور ووٹرز کے درمیان کی کڑی ہوتے ہیں۔ لیک وہ عام لوگوں تک پارٹی کا پیغام پہنچاتے ہیں اور رابطہ کاری اور تنظیم کاری اورموبلائزیشن کرتے ہیں۔ پارٹی سے باہر بھی پریشر گروپ مختلف شکلوں میں موجود رہتے ہیں۔ جو رائے عامہ پر اثرانداز ہوتے سکتے ہیں۔
تیسرے نمبر پر ووٹر زہوتے ہیں۔ ان تینوں اجزاء کا مرکب اور آپس میں مضبوط روابطہ کسی پارٹی کی مقبولیت اور جیت کو یقینی بناتا ہے۔ بظاہر تحریک انصاف کے پاس پریشر گروپ والا حصہ موجود رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بڑے بڑے احتجاج منظم کر چکی ہے۔لیکن اب پی ٹی آئی کی ہیئت ترکیبی تبدیل وہ رہی ہے۔ جس میں کارکنوں کی آواز دب رہی ہے۔ ویسے بھی میڈیا اور ٹیکنالاجی کے بڑہتے ہوئے استعمال نے سیاسی کارکن کا رول کم کردیا ہے۔ اب سیاسی قیادت براہ راست ووٹرز سے مخاطب ہو سکتی ہے۔اسکو صرف چند ٹیکنوکریٹ چاہئیں، جو میڈیا اور میڈیا کے مسیج کو منظم کریں۔

یہ سوال زور پکڑتا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کی تبدیل ہوتی ہوئی شکل کے بعد واقعی تبدیلی لا سکے گی؟ کیونکہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اب پرانے سیاستداوں کی لانڈی بن گئی ہے۔ تحریک انصاف میں شامل بڑے بڑے لوگ سب ہی اس لانڈری میں موجود ہیں۔ شاہ محمود قریشی پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں وزیر خارجہ کیاہم عہدے پر فائزرہے۔ شاہ محمود قریشی بھلے پیپلزپارٹی میں تھے لیکن کا اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلق پرانا ہے۔اور مشرف دور میں بھی ان کا اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلق رہا۔

تحریک انصاف میں عمران خان کے بعد طاقتور سمجھے جانے والے جہانگیر خان ترین مسلم لیگ (ق) سے تحریک انصاف میں آئے مسلم لیگ (ق) کیا تھی یہ سب کو پتہ ہے۔ اب وہ عمران خان کا کھبہ ہاتھ ہیں۔ سردار اآصف احمد علی خان پرانے پیپلزپارٹی کے رکن ہیں۔ غلام مصطفیٰ کھر پرانے کھلاڑی ہیں جو بھٹو دور سے پیپلزپارٹی کے ساتھ رہے اور اس کے بعد اس پارٹی کا ساتھ چھوڑتے اور نبھاتے رہے۔ راجہ ریاض پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کے بہت قریب رہے ہیں۔ وہ نظریاتی طور پر پیپلزپارٹی کے سمجھے جاتے تھے۔ پی ٹی آئی میں نئی داخلا بابر اعوان کی ہے ۔ گزشتہ دورحکومت میں وہ آصف علی زرداری کے وکیل رہے اب ان کا لیڈر عمران خان بن گیا ہے۔ انہوں نے بھی کچھ دیکھ کے فیصلہ کیا ہوگا۔

بلوچستان کی پی ٹی آئی کے صدر سرداریار محمد رند اگرچہ مسلم لیگ (ق) میں بھی رہے اور شوکت عزیز کابینہ کے وزیر تھے وہ بھی کبھی پیپلزپارٹی میں تھے۔ چوہدری محمد سرور مسلم لیگ (ن) کے واحد آدمی ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت کی ہے۔ عملا پرانے پیپلز پارٹی کے لوگ ممتاز تارڑ، نور عالم خان، عامر ڈوگر، فردوس عاشق اعوان ہیں عمران خان کے آگے پیچھے ہیں۔

سندھ میں ابھی تک پاناما پیپرز کیس کا عکس سامنے نہیں آیا۔پیپلزپارٹی سے ناراض بااثر لوگ یا جن کو صوبے کی حکمران جماعت کسی وجہ سے اکموڈیٹ نہیں کر سکی وہ تحریک انصاف کی طرف آسکتے ہیں۔ لیکن وہ بھی اس صورت میں جب انہیں یقین ہو جائے گا کہ تحریک انصاف وفاق میں حکومت بنا لے گی۔ یہ لوگ بھی سیاستدانوں کی وہ پرانے لاٹ ہے جو خود کو لانڈرنگ کے لئے پیش کر سکتے ہیں۔ان کے ذریعے تحریک انصاف مجموعی طور پرکچھ ووٹ تو لے سکتی ہے لیکن ان کے ذریعے تبدیلی نہیں لاسکتی۔ لیکن پنجاب کو دکھانے کے لئے کہ سندھ بھی ان کے ساتھ ہے، عمران خان کے لئے ایسے لوگوں کی یقیننا ضرورت پڑے گی۔ اور اسکا فائدہ وہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے مزید لوگ اور ووٹرز توڑنے کی شکل میں حاصل کرسکتا ہے۔
صوبے کے دو بڑے شہریوں کی آبادی ابھی تک متحدہ قومی موومنٹ یا مہاجر نعرے کے ساتھ کھڑی ہے۔ لہٰذا وہاں پر ووٹوں یا اسمبلی نشستوں کی تقسیم ایم کیو ایم یا اس کے ٹوٹے ہوئے گروپوں کے درمیان ہی ہوگی۔البتہ کراچی میں موجود پختون ووٹروں کے لئے اے این پی اور تحریک انصاف کے علاوہ جے یو آئی (ف) بھی امیدوار ہوگی۔یہاں اے این پی کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔لہٰذا کراچی مین اسٹریم پارٹیوں اور ان کی سیاست سے دور کھڑا ہے۔

پارٹی کے اندر تین گروپوں کے درمیان پالیسیوں اور قیادت پر اثر انداز ہونے کی کشمکش چل رہی ہے۔ایک گروپ جہانگیر ترین کا ہے۔ دوسرا شاہ محمود قریشی کا ہے۔ تیسرا اسدعمر اور شیریں مزاری کا ہے۔ جو نظریاتی لوگ تھے ان کی حیثیت کم ہو گئی ہے۔

یہ اسٹیٹس کو توڑنے نہیں بلکہ اسٹیٹس برقرار رکھنے کی کی سیاست ہو رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پارٹی کو شناخت اور پالیسی کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ ابھی تو اس کی سیاست صرف نوازشریف دشمنی اور اقتدار تک پہنچنے کی کوشش تک محدود ہے۔ نظریاتی طور پر یہ پارٹی کس طرف کھڑی ہوگی؟ اس کی معاشی ، سیاسی اور سب سے بڑھ کر خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟ پی ٹی آئی امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں اپنی کوئی پالیسی نہیں بنا سکتی۔ اصل معاملہ یہ ہے ایران، بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں؟ اور عرب ممالک میں سے کس ملک کے ساتھ تعلقات اچھے یا بہت اچھے ہوں۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں یہ سوالات بہت ہی اہم ہیں۔ 

Nai Baat
Keywords: PTI, PPP, PMLN, JIT, Panama case,

No comments:

Post a Comment