Thursday, July 20, 2017

نواز لیگ سندھ کے بارے میں کتنی سنجیدہ ہے؟


نواز لیگ سندھ کے بارے میں کتنی سنجیدہ ہے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

وزیراعظم نواز شریف نے دس روز کے دوران سندھ کے دو دورے کئے ہیں۔پہلے وہ ٹھٹہ کے شیرازی برادران کی دعوت پر ٹھٹہ گئے اور بعد میں رواں ہفتے کراچی میں گورنرہاؤس میں پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی۔ وزیراعظم کے ان دوروں کو سیاسی دورے قرار دیا جارہا ہے۔
2013 کے عام انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ انہوں نے سندھ کے دو مقامات کا سیاسی دورہ کیا ہے۔ ورنہ چار سال کے دوران وہ جب بھی سندھ آئے تو انتظامی حوالے سے آئے۔ ان کا زیادہ تر آنا کراچی آپریشن کے حوالے سے ہی ہوا۔ سندھ میں میاں صاحب کے حالیہ سیاسی دوروں پر یہی کہا جارہا ہے’’ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ ‘‘
2013 کے انتخابات کے موقع پر انہوں نے پیر پاگارا کی قیادت میں قوم پرستوں کے ساتھ مل کر پیپلزپارٹی کا مقابلہ تو نہیں کیا تھا لیکن اس کو تنگ کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن یہ بے دلی کے ساتھ کوشش ناتمام تھی۔ جس کا کوئی سیاسی یا انتخابی نتائج پر اثر نہیں ہوا۔
بعد میں صورتحال یہ بنی کہ سندھ میں پیپلزپارٹی بلا شرکت غیرے سندھ میں بادشاہ بنی رہی۔ نہ اس کی کوئی مخالفت کرنے والا تھا اور نہ ہی کوئی چیلینج کرنے والا۔ کسی حد تک عدلیہ اور رینجرز کے اقدامات چیک اینڈ بیلنس کا کام کرتے رہے۔
ان چار برسوں کے دوران کئی مواقع آئے جب نواز لیگ سندھ میں آکر سیاست کر سکتی تھی اور اپنے لئے جگہ پیدا کرسکتی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان ایک غیر تحریری معاہدہ ہو چکا تھا کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کوئی گڑبڑ نہیں کرے اور نواز لیگ سندھ کا رخ نہیں کرے گی۔ یوں نواز لیگ آئینی مدت مکمل کرلے گی۔
عمران خان کی سیاسی اسٹیج پر داخلا نے صورتحال کو پنجاب میں اور پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے تعلقات پر اثر ڈالا۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کی جانب سے سندھ میں پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤں اور پارٹی کے قریبی بیوروکریٹس کے خلاف کرپشن اور دہشتگردوں کی مالی اعانت کے الزامات کے تحت سخت دباؤ پڑا۔ جس میں نواز حکومت پیپلزپارٹی کی کوئی مدد نہیں کر سکی۔ کیونکہ وہ خود سخت دباؤ میں اور بے بس محسوس کر رہی تھی۔
نواز لیگ نے بلدیاتی انتخابات میں بھی سندھ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن اور اس کے چار سے زائد دھڑوں میں تقسیم ہو جانے کی وجہ سے پیپلزپارٹی اس کی مخالفت اور دباؤ سے باہر آگئی۔ فنکشنل لیگ اپنے گھر کو سنبھال نہ سکی۔ نتیجے میں اس کے بعض اراکین اسمبلی تک پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔ یوں سندھ میں ایک پارٹی کا شو چلنے لگا۔
اب انتخابات تقریبا ایک سال کے فاصلے پر ہیں۔ پیپلزپارٹی میں سندھ کے مزید وڈیروں کی آمد شروع ہوگئی ہے، پارٹی بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ کوئی بھی بااثر شخصیت پارٹی سے باہر نہ رہنے پائے۔ اگرچہ فی الحال ایسا کرنے میں بڑی حد تک پارٹی کامیاب نظر آتی ہے۔

لیکن ان سب بااثر وڈیروں کی ایک ہی پلیٹ فارم پر موجودگی کی وجہ سے پرانے سیاسی توازن میں تبدیلی ظہور پذیر ہورہی ہے۔ نئے آنے والے اقتدار اور اختیار میں حصہ چاہتے ہیں۔ جن کو اکموڈیٹ کرنے سے لازمی طورپرانے بھوتاروں کی صحت پر اثر پڑے گا۔
زشتہ چار سال کے دوران پارٹی کے اندر بعض لابیاں مضبوط تو بعض کمزور ہوئی ہیں۔نئے آنے والوں نے ان لابیوں کے درمیان سرد جنگ کو تیز کردیا ہے۔ مزید یہ کہ اضلاع میں وڈیروں کے متحارب گروپ ہیں جو کہ کسی ایک پلیٹ فارم پر نہیں بیٹھتے۔ اس سے پہلے اقتدار میں تبدیلی کی کوئی صورت نہیں بن رہی تھی۔ تو یہ سب گروپ پارٹی کے اندر خاموش بیٹھے تھے اور اقتداری پارٹی کے اندر ہونے کے ناطے ان کو جو تھوڑا بہت مل رہا تھا اس پر اکتفا کئے ہوئے تھے۔ لیکن اب میاں نوز شریف نے سندھ کا رخ کیا ہے تو ایسے لوگوں کے لئے ایک راہ نکل آئی ہے۔
وڈیرے کو اقتدار اور اختیار چاہئے۔ گورنر سندھ جسٹس سعیدالزمان صدیقی کے انتقال کے بعد بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نواز شریف نے محمد زبیر کو صوبے کا نیا گورنر مقرر کیا۔ ان کے تقرر سے ہی یہ اشارہ مل گیا تھا کہ یا گورنر پارٹی کے لئے سیاسی کردار ادا کرے گا۔ گورنر اگرچہ وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے لیکن ماضی میں سندھ اور پنجاب دونوں صوبوں میں اکثر اوقات گورنر کا سیاسی کردار رہا ہے۔
پیپلزپارٹی مرکز میں دور حکومت کے دوران پنجاب کے گورنرسلمان تاثیر سے سیاسی کردار ادا کراتی رہی۔ اور اسکے ذریعے پارٹی کی تنظیم اور پارٹی کے اثر رسوخ کو برقرار رکھنے کے لئے کام لیتی رہی۔ سندھ میں طویل مدت تک گورنر کے عہدے پر فائز رہنے والے عشرت العباد مکمل طور پر ایم کیو ایم کے ہی نمائندے رہے۔ جس کو بعض انتظامی اختیارات بھی حاصل تھے۔ گورنر کے عہدے کی سیاسی مقاصد یا پارٹی کی تنظیم کے لئے استعمال کرنا آئینی طور پر درست نہیں لیکن اقتدار کی یہ چمک دکھا کر بعض بااثر لوگوں کو نواز لیگ اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں پیر پاگارا نے بھی گورنر سندھ سے ملاقات کی تھی۔
سوال یہ ہے کہ نواز لیگ کو سندھ میں علامتی طور پر دو چار اسمبلی کی نشستیں چاہئیں یا وہ اس حساس صوبے میں بطور پارٹی آنا چاہ رہی ہے؟نواز لیگ کے لئے ضروری ہے کہ خود کو ملک گیر پارٹی دکھانے کے لئے سندھ میں علامتی نمائندگی ہی سہی، اس کے ذریعے اپنا وجود دکھائے۔ نواز لیگ پر یہ الزام عائد ہوتا رہا ہے کہ وہ سندھ میں سیاسی فریق بننے کے لئے تیار نہیں۔
ماضی میں سندھ سے نواز لیگ میں شمولیت کرنے والوں کا کوئی زیادہ اچھا تجربہ نہیں رہا۔ 2013 کے انتخابات میں ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی، شیرازی برادران، ارباب، غلام مصطفیٰ جتوئی کا خاندان، عبدالحکیم بلوچ، شفیع محمد جاموٹ وغیرہ پارٹی میں آئے تھے۔ لیکن ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ نتیجے میں ان میں سے بیشتر لوگ پارٹی چھوڑ چکے ہیں یا غیر فعال ہو چکے ہیں۔ پارٹی کے پرانے رہنما سید غوث علی شاہ کو میاں صاحب کسی حساب میں بھی نہیں لے آئے۔
جب نواز لیگ قومی یا ملک گیر پارٹی کا ہونے کا دعوا کرتی ہے تو اس کو دیگر صوبوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرنا چاہئے جس طرح کا سلوک سیاسی، ترقیاتی اور دیگر حوالوں سے پنجاب کے ساتھ کرتی ہے۔ سندھ بھی ملک کا سی طرح سے حصہ ہے۔ یہاں کے لوگ بھی متبادل چاہتے ہیں۔ حکومت پر چیک اینڈ بیلینس چاہتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی اور بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والی پارٹی کی وجہ سے وہ سندھ میں زیادہ پرکشش بن سکتی ہے اور فیصلہ سازی پر اثرانداز بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ سندھ میں پارٹی کو بطور پارٹی کے منظم کیا جائے اور اسی طرح سے رکھا جائے۔ سندھ کے لوگوں بلکہ خود نواز لیگ میں شامل لوگوں کو بھی یہ شکایت رہی ہے کہ ان کا رویہ سندھ کی طرف مساویانہ نہیں۔
نواز لیگ کی حالیہ سرگرمیوں کی وجہ سے پیپلزپارٹی خود کے لئے خطرہ سمجھتی ہے۔ اور نہیں تو کوئی اور میدان میں موجود تو ہوگا۔ لوگوں کے لئے کوئی دوسری چوائیس تو ہوگی۔نواز لیگ کو پیپلزپارٹی سے سبق سیکھنا چاہئے کہ پنجاب میں انتخابات میں شکست کے باوجود اس نے وہاں پر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی اور تنظیم سازی کے مختلف تجربے کرتی رہی۔ مطلب نواز لیگ کو سندھ میں زیادہ سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

ہمارے ہاں یک طرفہ تاریخ کا جھکاؤ زیادہ رہا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ سویلین اختیار کو مزید کمزور اور عسکری اختیار کو مضبوط کیا ہے۔
ملک میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جو عملا عسکری بالادستی کو تسلیم نہ کرتی ہو۔
سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر ہیں مگر یہ صفحہ سیاسی نہیں

No comments:

Post a Comment