Thursday, July 9, 2015

نیب کی لسٹ پر شدید ردعمل

نیب کی لسٹ :  دیکھیں عوام کو کتنا انصاف ملتا ہے
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

 

قومی احتساب بیورو کی کارروایوں پر سندھ حکومت کو اعتراض تھا ہی، لیکن جب اس ادارے نے حکمران جماعت نواز لیگ کے رہنماؤں بشمول وزیر اعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، سابق صدر آصف علی زرداری، سابو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، آفتاب شیرپاؤ، کے خلاف زیر تفتیش مقدمات کے بارے میں سپریم کورٹ کو 150 افراد کی فہرست پیش کی تو حکمران جماعت پریشان ہوگئی۔ ورنہ اس سے پہلے سندھ حکومت کے موقف کو وفاقی حکومت اور وزراء جھٹلا رہے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس لسٹ کو نامکمل قرار دیا ہے اور اس ضمن میں مزید تفصیلات طلب کی ہیں ۔ لسٹ میں دیئے گئے اکثرناموں کا تعلق وفاقی عہدیداروں سے ہے جو نیب کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ۔
 

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے نیب کی اس لسٹ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپشن ختم کرنے کے لئے قائم کیا گیا یہ ادارہ سیاست دانوں کی پگڑیاں اچھال رہا ہے اور انہیں بدنام کر رہا ہے۔ ماضی کے تجربے کی روشنی میں پرویز رشید کی بات میں وز ن پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لسٹ پر قاف لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے کیونکہ ان کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔
 

لسٹ میں متعلقہ فرد کا نام، کرپشن کے الزامات کا اختصار، اور خردبرد کی گئی رقم لکھی ہوئی ہے۔
ان میں سے کئی کیسز دس سال پرانے ہیں۔ ایک ڈیڑھ عشرے تک ان مقدمات کو کیوں التوا میں رکھا گیا؟ ان کے خلاف تحقیقات کیوں مکمل نہیں کی گئی؟ یہ سوالات عدلیہ نے بھی پوچھے ہیں اور عوام بھی پوچھتے ہیں۔

 

پاکستان میں کرپشن کے مقدمات کی تاریخ اور ان کو عدالتوں کے ذریعے نمٹانے میں بڑے جھول ہیں۔ سیاسی بنیادوں پر سمجھوتے اور سودے بازیاں ہوتی رہیں۔ بلا امتیاز کارروائی کرنے کے بجائے مرضی کے چند مقدمات بنائے گئے جس میں سے اکثر سیاسی بنیادوں پر ہوتے تھے۔ اور بعد کی سودے بازی میں وہ ختم کردیئے جاتے تھے۔ یا برسوں التوا میں پڑے رہتے تھے۔ احتساب بیورو کا دائرہ اختیارکیا؟ لیکن یہ ضرور دیکھا گیا ہے کہ لسٹ میں عسکری اداروں میں سے کسی کا نام نہیں۔
 

ماضی میں بعض عسکری افسران کے نام آتے رہے ہیں۔ اگر ان الزامات کو محض الزامات ہی مان لیا جائے، لیکن اصغر خان کیس تو بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے تین جنرلوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ لیکن تاحال ان کے خلاف کسی کارروائی کی خبر نہیں آئی ہے۔
 

جنرل مشرف نے جب نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تو انہوں نے بھی شروع کے دنوں میں کرپشن کے مقدمات چلانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن بعد میں وہ خود اس سیاسی طبقے کے ساتھ کھڑے ہوگئے جنہیں وہ کرپٹ قرار دے رہے تھے اور ان کے خلاف کارروائی کا عہد کررہے تھے۔ نیب نے قاف لیگ کی قیادت کو صاف ستھرا ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ باقی جماعتیں یا رہنما جو قاف لیگ کے واش روم سے دھل کر نہیں آئے تھے ان کے خلاف مقدمات کی شنوائیاں ہوتی رہیں۔ بات تب آکر ختم ہوئی جب سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے مشرف نے این آر او جاری کیا۔ کرپشن کی زد میں آنے والے سیاستدانوں کے تمام کرپشن کے گناہ دھل گئے اور ایک ہی حکم سے وہ سب صاف ستھرے ہوگئے، جیسے انہوں نے کچھ کیا ہی نہ تھا۔
 

نیب کی لسٹ اتنی لمبی کیوں ہے؟ وہ اس لئے کہ کرپشن ہماری معاشرے کی اصطلاح میں ایک سیاسی لفاظی بن گئی ہے ۔ مرضی کے چند کرپشن کیس اٹھانے کا مطلب ہے کہ اصل ملزمان کو ڈھیل دی جارہی ہے۔ جس کے ذریعے سیاسی مخالفین کو دبایا جاسکتا ہے، بدنام کیا جاسکتا ہے یا ان کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کیا جاسکتا ہے۔
 

کبھی ایوب خان نے بھی ایبڈو کے ذریعے سیاست دانوں کو سیاست کرنے سے دور رکھا تھا۔ بعد میں جنرل ضیا نے بھی ’’پہلے احتساب پھر انتخاب ‘‘ کے نعرے کی آڑ لی تھی۔ ان دونوں حکمرانوں کے احتساب کا نتیجہ تاریخ کا حصہ ہے۔ وہ دراصل نئے سیاسی بروکرز متعارف کرانا چاہ رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں صاحبان نے عام انتخابات تو نہیں کرائے لیکن بلدیاتی انتخابات ضرور کرائے تاکہ وہ اپنی قانونی حیثیت کو تسلیم کرا سکیں اور عوام کے ایک طبقے کی حمایت حاصل کر سکیں۔ اس کے پیچھے یہ مقصد بھی کارفرما تھا کہ پرانی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے پیچھا چھڑائیں یا انہیں غیر متعلق irrelevant بنادیں۔
 

سپریم کورٹ میں پیش کی گئی فہرست کے ناموں پر ملک کے کسی بھی شہری کو تعجب نہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کہ ہماری سیاست کو بگاڑنے اور اس کو ممخصوص شکل دینے میں کرپشن کتنا اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ صرف لوگوں تک پہنچائے جاتے ہیں نہ کہ عدالتوں تک۔ نیب یہ مقدمات اپنے انجام تک کیوں نہیں پہنچا سکی؟ اس کی وجہ واضح ہے۔ نیب بھی یہ سمجھتی ہے کہ اس الزامات اور مقدمات سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروای کے طور پر ہیں یا انہیں دبانے یا سیاسی طور پر بدنام کرنے کے لئے ہیں ۔
 

نیب کے قیام کا مقصد جو کہ اس کے اغراض و مقاصد میں تحریر ہے ہو ہے کرپشن کا خاتمہ۔ کرپشن کا توڑ تب نکلے گا جب انصاف ہوگا۔ لیکن برسوں سے ایسا نہیں ہو رہا۔ نتیجے میں یہ ادارہ وہ مقاصد ھاصل نہیں کر سکا جس کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ کئی ملزمان ملی بارگیننگ کے ذریعے رقم کی ادائگی کرکے بری ہوجاتے ہیں۔ جس سے دہرا پیغام ملتا ہے۔ یعنی کرپشن کرنے کے بعد اگر ملزم پکڑا جائے تو خرد برد کی گئی رقم کا کچھ حصہ واپس ادا کر کے صاف ستھرا ہوسکتا ہے۔ اس رقم کی ادائگی کے بعد اس پر کوئی سزا یا پینلٹی نہیں۔
 

دراصل ایک زیادہ مضبوط پیغام کی ضرورت ہے۔ نیب کی جانب سے ذمہ داریاں نہ نبھانے کی وجہ سے ہماری مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ 

کہیں اس کے پیچھے سویلین اختیار کو دبانے کی کہانی تو نہیں؟ لوگوں کو شبہ ہے کہ اس مرتبہ بھی ماضی کی کہانی دہرائی جائے گی کہ ان الزامات کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے تو استعمال نہیں کیا جائے گا؟ کوئی نیا این آر او تو نہیں آجائے گا؟ یا صرف پرانی سیاسی قیادت سے جان چھڑانے کے سیاسی مقاصد کے لئے تو اس کا استعمال نہیں کیا جائے گا یا ملزمان کو واقعی سزا ہوگی؟ معاملہ عدالت عظمیٰ کے پاس ہے دیکھیں عوام کو کتنا انصاف ملتا ہے۔
 
Sohail Sangi

July 9, 2015 to be published in Nai Baat on July 10

No comments:

Post a Comment