زرداری کا کون ساتھ دے سکتا ہے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔
سہیل سانگی
سیاسی حلقوں میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت اپنے اقتدار کا آخری تخت گاہ ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر تصادم پراتر آئی ہے۔دوسری جانب پیپلزپارٹی کے جیالے اور ہارڈ لائنر ہمدرد آصف زرداری کی جانب سے سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کو اس طرح سے للکارنے پر خوش ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ ایک طویل مدت کے بعد کسی سیاسی قوت نے سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کو اس طرح سے للکارا ہے۔ اس تقریر نے انہیں اس پیپلزپارٹی کی یاد تازہ کردی ہے جس کی پہچان اینٹی اسٹبلشمنٹ تھی۔
پیپلزپارٹی ماضی میں جب اسٹبلشمنٹ سے ٹکراؤ میں آتی تھی، تو اس وقت اس کے پیچھے عوام کی قوت ہوتی تھی۔ اب صورتحال بدل چکی ہے۔ باقی تینوں صوبوں سے پیپلز پارٹی کو مسترد کردیا گیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ گلگت اور بلتستان میں بھی ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔
عام تاثر یہ ہے کہ سندھ کے پاس کوئی متبادل نہیں۔حالانکہ اس پر کئی سوالات ہیں کہ سندھ میں متبادل بننے کیوں نہیں دیا جتا یا یہ کہ یہ متبادل کیوں نہیں بن سکا ہے؟ بہرحال سندھ کے عوام پیپلزپارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہیں اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ اب بھی جب وہ اسٹبلشمنٹ سے ٹکراؤ میں آئے گی تو اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
یہ بیانیہ مقبول ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو یہ للکارنا نہ جمہوریت کے لئے اور نہ ہی عوام کے لئے ہے۔ موجودہ صورتحال میں سندھ کے لوگ دوراہے پر کھڑے ہیں۔وہ اس صورتحال میں گھروں میں بیٹھنے کو ترجیح دیں؟ کیا پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ سے ٹکر لے کر کرپشن کا دور واپس لانا چاہتی ہے؟ یا اس کی لوگوں کو کچھ دینے کی نیت بھی ہے؟
سندھ میں سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کی کوئی بھی باشعور شخص حمایت نہیں کرسکتا۔یہ سوال آڑے آرہاہے کہ یہ پیپلزپارٹی جس طرح سے عوامی حقوق اور جمہوریت کو یرغمال بنائے ہوئے تھی ، عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے پیدا ہو گئے تھے۔ عوام کی حکمرانوں تک رسائی کے راستے بند کئے ہوئے تھی۔پیپلزپارٹی نے عوام کے لئے اسپیس نہیں چھوڑا۔حالانکہ عوامی اسپیس دراصل سیاسی جماعتوں کی میراث ہی ہوتا ہے۔ اسکا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ ایک دن غیر جمہوری قوتیں غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے مداخلت کریں ۔ اور سیاسی قوتوں کو سویلین اسپیس سے ہاتھ دھونے پڑیں۔
عملیت پسند سیاستدان جانتے ہیں کہ عوام کی قوت حکومت کے ساتھ نہ ہونے کا فائدہ وہی حلقے اٹھائیں گے جن کے مفادات غیر جمہوری طریقوں سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔تمام باتوں کے باوجود پیپلزپارٹی کو اب بھی ووٹ کی حمایت حاصل ہے لیکن مزاحمت کی نہیں۔ عوام مزاحمت کی راہ تب اختیار کریں گے جب عوام کو اس سے اصولی یا جذباتی لگاؤ ہو۔ ایک پہلو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اب اسٹبلشمنٹ کی قوتوں سے ٹکر کھانے کے لئے تنہا کھڑی ہے۔ پیپلزپارٹی بھی اسی طرح سے سیاسی تنہائی میں چلی گئی ہے جس طرح سے ایم کیو ایم چلی گئی تھی۔ عمران خان کے دھرنے کے روز آصف علی زرداری نواز شریف کے گھر پہنچ گئے تھے۔ لیکن اس مرتبہ موجودہ نظام کے دواہم پسیاسی پلر دور کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے آصف علی زرداری سے ملنے سے انکار کردیا۔
پیپلز پارٹی نے آج جو رویہ اختیار کیا ہے یہ رویہ اگر آٹھ سال پہلے اختیار کرتی تو پارٹی کی اتنی تباہی نہیں ہوتی جتنیّ ج ہوئی ہے۔ پارٹی نے ٹکراؤ امیں آنا تو دور کی بات کئی سودے بازیاں، مفاہمتیں کیں ۔ سیاسی مفاہمتوں، طرز حکمرانی ، اپنی کمزوریوں اور کرپشن کے طویل سلسلے کی وجہ سے صرف جمہوریت کو ہی نہیں بلہ سویلین بالادستی کو بھی نقصان پہنچایا۔
کچھ لوگوں کو شبہ ہے کہ آئندہ چند روز میں یہ سب ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ پیپلزپارٹی نے اگرچہ ڈمیج کنٹرول کی پالیسی اختیار کی ہے۔ لیکن وہ بھی سمجھتی ہے کہ یہ ٹکراؤ اب ناگزیر ہے۔ پیپلزپارٹی کو بھی اپنی صفیں درست کرنے اور اتحادی ڈھونڈنے اور سیاسی بیانیہ بنانے کے لئے بھی اور مضبوط حکمت عملی چاہئے۔پارٹی کی اندر کی صفوں کی صورتحال یہ ہے کہ پرانے لیڈروں میں سے مخدوم امین فہیم، صفدر عباسی اور ناہید خان ، ذوالفقار مرزا اندرون خانہ مخالف ہیں ۔پیپلز پارٹی کو وڈیروں کی حمایت حاصل ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی پارٹی کے لئے مثبت بن سکتی ہے۔ لیکن زاس میں بھی کئی اگر مگر ہیں۔
کیا وہ عسکری قوتوں سے محاذ آرائی کے متحمل ہو سکتی ہیں؟ پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ محاز آرائی کا ایک تاریخ رکھتی ہے۔ اور کئی صورتوں میں اس نے یہ جنگ جیتی بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ماضی میں اسٹبلشمنٹ سے جھگڑے کی جو بنیادیں تھیں کیا آج بھی وہی بنیادیں ہیں؟ ماضی میں یہ پارٹی مظلوم بن کر لڑتی آئی ہے۔ کیا آج بھی مظلومانہ صورتحال ہے؟ ماضی میں اس پارٹی کے خلاف جب کارروائی ہوتی تھی لوگ واقعی اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔
یہ سب کچھ اپنی جگہ پر، کیا لوگ پیپلزپارٹی کی دشمنی میں اسٹبلشمنٹ سے محبت اور ہمدردی کرنے لگیں؟
آصف زرداری اس خوش فہمی میں ہیں کہ اگر وہ کھڑے ہوئے تو کراچی سے خیبر تک پورا ملک بند کرا دیں گے۔
کیا پیپلز پارٹی اسٹبلشمنٹ سے محاز آرائی کی متحمل ہو سکتی ہے؟ایم آرڈی کی تحریک کے دوران لوگوں نے رضاکارانہ طور رپر اپنا کاروبار بند رکھا۔ اور خوشی خوشی گرفتاریاں بھی دیں۔ ماضی میں اس جماعت نے ایم آر ڈی، پی ڈی ایف، گرانڈ ڈیموکریٹک الائنس کی شکل میں کیا تھا۔ ایم آرڈی کی تحریک میں ملک قاسم، نوابزادہ نصراللہ خان جیسے لوگ بھی شامل تھے۔ وہ کیڈر اور تھا جو ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے پیدا کیا تھا۔ اب آصف علی زرداری نے جو کیڈر پیدا کیا ہے، وہ گرفتاریاں دینا تو دور کی بات گرفتاری سے قبل ضمانتیں کرا رہا ہے۔
پیپلزپارٹی کے رابطوں کے بعد ایم کیو ایم، اے این پی، قاف لیگ اور کسی حد تک جے یو آئی ایف ایک غیر اعلانیہ اور فطری اتحاد قائم کیا ہے۔ ویسے پیپلزپارٹی نواز لیگ حکومت کی بھی غیر مشروط حمایت کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کونسی جماعتیں اس کا ساتھ دیتی ہیں ۔
عوامی نشنل پارٹی کا کھلم کھلا موقف سامنے نہیں آیا۔ لیکن خیبر پختونخو میں حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر ان دونوں جماعتوں کو قریب لا کھڑا کیا ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ زرداری سے اتحاد کے چکر میں اس کی حمایت کرے۔ قاف لیگ دوستی کی حد تک ٹھیک
ہے۔
محمود خان اچکزئی روایتی طور پر اسٹبلشمنٹ مخالف رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ علاقائی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اب اقتدار کے ایوانوں کا حصہ بن گئے ہیں ۔ بھی اس مرحلے پر پیپلزپارٹی کی حمایت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ پاکستان کی سیاست اس موڑ پر ہے کہ کوئی بھی یہ کہنے کے لئے تیار نہیں کہ آصف زرداری نے خواہ کسی بھی وجہ سے دیا ہو لیکن یہ بیان اصل میں ان قوتوں کے خلاف ہے جس نے پورے سماج کوغیر سیاسی بنانے، کنگز پارٹیاں بنانے ، آئین کو منسوخ کرنے ، ایمرجنسی یا مارشل لا نافذ کرنے کو ملکی مفاد کا نام دیا۔
افطار ڈنر میں اتحادیوں نے زرداری کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے ان اتحادیوں یعنی ایم کیو ایم، اے این پی اور جے یو آئی (ف) کے بل بوتے پر ہی دعوا کیا تھا کہ کراچی سے خیبر سے تک ملک بند کرا سکتے ہیں۔ دو جماعتیں فطری اتحادی ہیں۔ ایک پیپلزپارٹی اور دوسری متحدہ۔ ان دونوں پارٹیوں کے خلاف جن بنیادوں پر کارروائی ہو رہی ہے ان کو کسی بھی طور پر عوام میں پذیرائی نہیں مل سکتی۔
گزشتہ دنوں متحدہ نے کراچی کو بند کرنے کی کال دی تھی۔ لیکن شہر بند نہیں ہوسکا۔ یہ مرحلہ اگرچہ فوری طور پر نہیں آرہا، لیکن آئندہ چند ہفتوں میں اس کے خطوط اور واضح طور پر سامنے آئیں گے۔
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔
سہیل سانگی
سیاسی حلقوں میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت اپنے اقتدار کا آخری تخت گاہ ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر تصادم پراتر آئی ہے۔دوسری جانب پیپلزپارٹی کے جیالے اور ہارڈ لائنر ہمدرد آصف زرداری کی جانب سے سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کو اس طرح سے للکارنے پر خوش ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ ایک طویل مدت کے بعد کسی سیاسی قوت نے سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کو اس طرح سے للکارا ہے۔ اس تقریر نے انہیں اس پیپلزپارٹی کی یاد تازہ کردی ہے جس کی پہچان اینٹی اسٹبلشمنٹ تھی۔
پیپلزپارٹی ماضی میں جب اسٹبلشمنٹ سے ٹکراؤ میں آتی تھی، تو اس وقت اس کے پیچھے عوام کی قوت ہوتی تھی۔ اب صورتحال بدل چکی ہے۔ باقی تینوں صوبوں سے پیپلز پارٹی کو مسترد کردیا گیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ گلگت اور بلتستان میں بھی ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔
عام تاثر یہ ہے کہ سندھ کے پاس کوئی متبادل نہیں۔حالانکہ اس پر کئی سوالات ہیں کہ سندھ میں متبادل بننے کیوں نہیں دیا جتا یا یہ کہ یہ متبادل کیوں نہیں بن سکا ہے؟ بہرحال سندھ کے عوام پیپلزپارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہیں اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ اب بھی جب وہ اسٹبلشمنٹ سے ٹکراؤ میں آئے گی تو اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
یہ بیانیہ مقبول ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو یہ للکارنا نہ جمہوریت کے لئے اور نہ ہی عوام کے لئے ہے۔ موجودہ صورتحال میں سندھ کے لوگ دوراہے پر کھڑے ہیں۔وہ اس صورتحال میں گھروں میں بیٹھنے کو ترجیح دیں؟ کیا پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ سے ٹکر لے کر کرپشن کا دور واپس لانا چاہتی ہے؟ یا اس کی لوگوں کو کچھ دینے کی نیت بھی ہے؟
سندھ میں سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کی کوئی بھی باشعور شخص حمایت نہیں کرسکتا۔یہ سوال آڑے آرہاہے کہ یہ پیپلزپارٹی جس طرح سے عوامی حقوق اور جمہوریت کو یرغمال بنائے ہوئے تھی ، عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے پیدا ہو گئے تھے۔ عوام کی حکمرانوں تک رسائی کے راستے بند کئے ہوئے تھی۔پیپلزپارٹی نے عوام کے لئے اسپیس نہیں چھوڑا۔حالانکہ عوامی اسپیس دراصل سیاسی جماعتوں کی میراث ہی ہوتا ہے۔ اسکا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ ایک دن غیر جمہوری قوتیں غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے مداخلت کریں ۔ اور سیاسی قوتوں کو سویلین اسپیس سے ہاتھ دھونے پڑیں۔
عملیت پسند سیاستدان جانتے ہیں کہ عوام کی قوت حکومت کے ساتھ نہ ہونے کا فائدہ وہی حلقے اٹھائیں گے جن کے مفادات غیر جمہوری طریقوں سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔تمام باتوں کے باوجود پیپلزپارٹی کو اب بھی ووٹ کی حمایت حاصل ہے لیکن مزاحمت کی نہیں۔ عوام مزاحمت کی راہ تب اختیار کریں گے جب عوام کو اس سے اصولی یا جذباتی لگاؤ ہو۔ ایک پہلو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اب اسٹبلشمنٹ کی قوتوں سے ٹکر کھانے کے لئے تنہا کھڑی ہے۔ پیپلزپارٹی بھی اسی طرح سے سیاسی تنہائی میں چلی گئی ہے جس طرح سے ایم کیو ایم چلی گئی تھی۔ عمران خان کے دھرنے کے روز آصف علی زرداری نواز شریف کے گھر پہنچ گئے تھے۔ لیکن اس مرتبہ موجودہ نظام کے دواہم پسیاسی پلر دور کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے آصف علی زرداری سے ملنے سے انکار کردیا۔
پیپلز پارٹی نے آج جو رویہ اختیار کیا ہے یہ رویہ اگر آٹھ سال پہلے اختیار کرتی تو پارٹی کی اتنی تباہی نہیں ہوتی جتنیّ ج ہوئی ہے۔ پارٹی نے ٹکراؤ امیں آنا تو دور کی بات کئی سودے بازیاں، مفاہمتیں کیں ۔ سیاسی مفاہمتوں، طرز حکمرانی ، اپنی کمزوریوں اور کرپشن کے طویل سلسلے کی وجہ سے صرف جمہوریت کو ہی نہیں بلہ سویلین بالادستی کو بھی نقصان پہنچایا۔
کچھ لوگوں کو شبہ ہے کہ آئندہ چند روز میں یہ سب ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ پیپلزپارٹی نے اگرچہ ڈمیج کنٹرول کی پالیسی اختیار کی ہے۔ لیکن وہ بھی سمجھتی ہے کہ یہ ٹکراؤ اب ناگزیر ہے۔ پیپلزپارٹی کو بھی اپنی صفیں درست کرنے اور اتحادی ڈھونڈنے اور سیاسی بیانیہ بنانے کے لئے بھی اور مضبوط حکمت عملی چاہئے۔پارٹی کی اندر کی صفوں کی صورتحال یہ ہے کہ پرانے لیڈروں میں سے مخدوم امین فہیم، صفدر عباسی اور ناہید خان ، ذوالفقار مرزا اندرون خانہ مخالف ہیں ۔پیپلز پارٹی کو وڈیروں کی حمایت حاصل ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی پارٹی کے لئے مثبت بن سکتی ہے۔ لیکن زاس میں بھی کئی اگر مگر ہیں۔
کیا وہ عسکری قوتوں سے محاذ آرائی کے متحمل ہو سکتی ہیں؟ پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ محاز آرائی کا ایک تاریخ رکھتی ہے۔ اور کئی صورتوں میں اس نے یہ جنگ جیتی بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ماضی میں اسٹبلشمنٹ سے جھگڑے کی جو بنیادیں تھیں کیا آج بھی وہی بنیادیں ہیں؟ ماضی میں یہ پارٹی مظلوم بن کر لڑتی آئی ہے۔ کیا آج بھی مظلومانہ صورتحال ہے؟ ماضی میں اس پارٹی کے خلاف جب کارروائی ہوتی تھی لوگ واقعی اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔
یہ سب کچھ اپنی جگہ پر، کیا لوگ پیپلزپارٹی کی دشمنی میں اسٹبلشمنٹ سے محبت اور ہمدردی کرنے لگیں؟
آصف زرداری اس خوش فہمی میں ہیں کہ اگر وہ کھڑے ہوئے تو کراچی سے خیبر تک پورا ملک بند کرا دیں گے۔
کیا پیپلز پارٹی اسٹبلشمنٹ سے محاز آرائی کی متحمل ہو سکتی ہے؟ایم آرڈی کی تحریک کے دوران لوگوں نے رضاکارانہ طور رپر اپنا کاروبار بند رکھا۔ اور خوشی خوشی گرفتاریاں بھی دیں۔ ماضی میں اس جماعت نے ایم آر ڈی، پی ڈی ایف، گرانڈ ڈیموکریٹک الائنس کی شکل میں کیا تھا۔ ایم آرڈی کی تحریک میں ملک قاسم، نوابزادہ نصراللہ خان جیسے لوگ بھی شامل تھے۔ وہ کیڈر اور تھا جو ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے پیدا کیا تھا۔ اب آصف علی زرداری نے جو کیڈر پیدا کیا ہے، وہ گرفتاریاں دینا تو دور کی بات گرفتاری سے قبل ضمانتیں کرا رہا ہے۔
پیپلزپارٹی کے رابطوں کے بعد ایم کیو ایم، اے این پی، قاف لیگ اور کسی حد تک جے یو آئی ایف ایک غیر اعلانیہ اور فطری اتحاد قائم کیا ہے۔ ویسے پیپلزپارٹی نواز لیگ حکومت کی بھی غیر مشروط حمایت کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کونسی جماعتیں اس کا ساتھ دیتی ہیں ۔
عوامی نشنل پارٹی کا کھلم کھلا موقف سامنے نہیں آیا۔ لیکن خیبر پختونخو میں حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر ان دونوں جماعتوں کو قریب لا کھڑا کیا ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ زرداری سے اتحاد کے چکر میں اس کی حمایت کرے۔ قاف لیگ دوستی کی حد تک ٹھیک
ہے۔
محمود خان اچکزئی روایتی طور پر اسٹبلشمنٹ مخالف رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ علاقائی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اب اقتدار کے ایوانوں کا حصہ بن گئے ہیں ۔ بھی اس مرحلے پر پیپلزپارٹی کی حمایت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ پاکستان کی سیاست اس موڑ پر ہے کہ کوئی بھی یہ کہنے کے لئے تیار نہیں کہ آصف زرداری نے خواہ کسی بھی وجہ سے دیا ہو لیکن یہ بیان اصل میں ان قوتوں کے خلاف ہے جس نے پورے سماج کوغیر سیاسی بنانے، کنگز پارٹیاں بنانے ، آئین کو منسوخ کرنے ، ایمرجنسی یا مارشل لا نافذ کرنے کو ملکی مفاد کا نام دیا۔
افطار ڈنر میں اتحادیوں نے زرداری کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے ان اتحادیوں یعنی ایم کیو ایم، اے این پی اور جے یو آئی (ف) کے بل بوتے پر ہی دعوا کیا تھا کہ کراچی سے خیبر سے تک ملک بند کرا سکتے ہیں۔ دو جماعتیں فطری اتحادی ہیں۔ ایک پیپلزپارٹی اور دوسری متحدہ۔ ان دونوں پارٹیوں کے خلاف جن بنیادوں پر کارروائی ہو رہی ہے ان کو کسی بھی طور پر عوام میں پذیرائی نہیں مل سکتی۔
گزشتہ دنوں متحدہ نے کراچی کو بند کرنے کی کال دی تھی۔ لیکن شہر بند نہیں ہوسکا۔ یہ مرحلہ اگرچہ فوری طور پر نہیں آرہا، لیکن آئندہ چند ہفتوں میں اس کے خطوط اور واضح طور پر سامنے آئیں گے۔
No comments:
Post a Comment