کراچی میں گرمی کی لہر اور ہلاکتیں
جمع شدہ کوتاہیوں اور نالائقیوں کا نتیجہ
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
سندھ میں کرپشن اور ہشتگردی کے خلاف کاررویوں کی گرمی چل ہی رہی تھی کہ موسم کی گرمی بھی نے اس صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تاحال موسم کی گرمی کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد افراد کی قیمتی جانیں وں سے محروم ہو چکے ہیں ۔کراچی میں پہلے دہشتگردی کی وجہ سے ، اب گرمی کی وجہ سیانسانی جانیں جارہی تھی۔دہشتگردی ہو یا کرپشن یا گرمی جن کی وجہ سے جانی نقصان ہو، اصل میں ان سب کی ذمہ داری آخری تجزیے میں حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی گرمی یا گھٹن سے مر جائے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر نہیں آتی۔ یہی رویہ ہے جو حکومت سندھ تھر کے قحط کے بارے میں اختیار کئے ہوئے ہے۔
حکمران خواہ صوبے میں ہوں یا وفاق میں بیٹھے ہوئے ہوں دونوں کے رویے عیاں کر دیتے ہیں کہ ان کا ویزن کیا ہے، مسائل کو دیکھنے ،ان کو حل کرنے کے بارے میں سنجیدگی کتنی ہے۔ وزیر مملکت برائے بجلی و پانی عابد شیر علی صاحب فرماتے ہیں کہ اگر کوئی گرمی یا گھٹن سے مر جائے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر نہیں آتی۔ یہی رویہ ہے جو حکومت سندھ تھر کے قحط کے بارے میں اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس موقعہ پر بعض اہم باتیں سامنے آئی ہیں۔
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
سندھ میں کرپشن اور ہشتگردی کے خلاف کاررویوں کی گرمی چل ہی رہی تھی کہ موسم کی گرمی بھی نے اس صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تاحال موسم کی گرمی کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد افراد کی قیمتی جانیں وں سے محروم ہو چکے ہیں ۔کراچی میں پہلے دہشتگردی کی وجہ سے ، اب گرمی کی وجہ سیانسانی جانیں جارہی تھی۔دہشتگردی ہو یا کرپشن یا گرمی جن کی وجہ سے جانی نقصان ہو، اصل میں ان سب کی ذمہ داری آخری تجزیے میں حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی گرمی یا گھٹن سے مر جائے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر نہیں آتی۔ یہی رویہ ہے جو حکومت سندھ تھر کے قحط کے بارے میں اختیار کئے ہوئے ہے۔
حکمران خواہ صوبے میں ہوں یا وفاق میں بیٹھے ہوئے ہوں دونوں کے رویے عیاں کر دیتے ہیں کہ ان کا ویزن کیا ہے، مسائل کو دیکھنے ،ان کو حل کرنے کے بارے میں سنجیدگی کتنی ہے۔ وزیر مملکت برائے بجلی و پانی عابد شیر علی صاحب فرماتے ہیں کہ اگر کوئی گرمی یا گھٹن سے مر جائے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر نہیں آتی۔ یہی رویہ ہے جو حکومت سندھ تھر کے قحط کے بارے میں اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس موقعہ پر بعض اہم باتیں سامنے آئی ہیں۔
ہر ایک ذمہ داری اپنے کندھوں سے اتار کر دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کبھی کہا جارہا ہے کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کی وجہ سے یہ بجلی کا بحران پیدا ہوا ہے اور نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کا موقف ہے کہ اس کو وفاق سے کم بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ اس کی وجہ سے بجلی کی کمی پیدا ہوئی ہے۔ وزارت پانی اور بجلی کا یہ بھی موقف ہے کہ کراچی الیکٹرک کارپوریشن کو گزشتہ عرصے میں اپنے بجلی گھر تعمیر کرنے تھے اور لائن لاسز کو کنٹرول کر کے بجلی کی انتظام کاری کو ٹھیک کرنا تھا جو کہ نہیں کر پائی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وزار بجلی و پانی اور کراچی الیکٹرک کے درمیان بجلی سپلائی کرنے کے معاہدے ختم ہوگئی ہے اور کارپوریشن نئے نرخ کے مطابق قیمت ادا نہیں کر رہی۔ اس کے باوجود وزارت اس کو پرانے داموں پر بجلی فراہم کر رہی ہے۔
وفاقی وزارت کا یہ بھی کہنا ہے کہ کراچی الیکٹرک اس کے کنٹرول میں ہی نہیں ۔ اگر یہ کارپوریشن نہ وفاق کے کنٹرول میں ہے اور نہ صوبے کے تو پھر آخر کس کے کنٹرول میں ہے؟یوں ذمہ داری نبھانے کے بجائے ذمہ داریوں سے بھاگنے کا ایک طویل سلسلہ شروع ہے۔ جب یہ صورتحال ہو تو مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہی نہیں ہو پاتی۔
ایک جھگڑا وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان بھی ہے۔ سندھ کا یہ موقف ہے کہ توانائی کے سب سے زیادہ وسائل وہ فراہم کرتا ہے اس کے باجود وہ توانائی کی قلت بشمول لوڈ شیڈنگ کا شکار ہے۔ سندھ حکومت نے خود کو اس المیے سے خود کو بری الذمہ کرنے کے لئے بیان بازی کے علاوہ بھی کچھ اقدامات کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں کراچی الیکٹرک کارپویشن کے دفتر کے سامنے دھنرنا دیا گیا۔ اس دھرنے کا رخ وفاقی حکومت کے خلاف بھی ہے۔ اس مقصد کے لئے دھرنا ایک دوسال پہلے صوبائی وزراء اور ایم پی ایز نے بھی دیا تھا ۔ اس مرتبہ وزیراعلیٰ خود بھی شامل ہوگئے ہیں۔
بجلی کی فراہمی اور توانائی کے وسائل کا استعمال وفاق اور سندھ کے درمیان متنازع نقط ہے۔ لیکن اس مرتبہ وفاقی اداروں کی جانب سے بعض صوبائی افسران افسران کی کرپشن کے الزام میں گرفتاریاں اور ان کے خلاف تحقیقات اور اس ضمن میں پیپلزپارٹی کے اہم رنماؤں اور وزراء وغیرہ کے نام بھی تحقیقات کی لسٹ میں آنے کی خبروں کے بعدپیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان دوری اور ہلکی پھلکی موسیقی میں الزام بازی بھی ہو رہی ہے۔
وفاق نے سندھ میں شمسی توانائی کے بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کرنے کی بھی مخالفت کی ہے ۔ اس پر دونوں فریقین کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ کے درمیان سندھ حکومت اتنے سارے اموات سے خود کو بری کرنے کے ساتھ ساتھ اس موقعہ کو وفاق کے خلاف سیاسی حوالے سے بھی استعمال کرنا چاہتی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی حکومت نے بجلی کے مسئلے پر اس سے پہلے کتنا ہوم ورک کیا اور کتنے متعلقہ فورموں میں یہ بات مدلل انداز میں رکھی؟ کم از کم سندھ کے لوگ صوبائی حکومت سے اس حوالے سے مطمئن نہیں۔
سندھ حکومت جو کہ ابھی بجلی پیدا کرنے کے بعض منصوبوں خاص طور پر پن چکی (ونڈ مل) پر کام کر رہی ہے، اس نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی سپلائی کرنے والی اندرون سندھ میں کا کرنے والی دو کمپنیوں حیسکو اور سیپکو کو صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اصولی طور پر یہ مطالبہ خراب نہیں لگتا، لیکن جب صوبائی حکومت کی گورننس اور کارکردگی کو دیکھا جائے تو اس مطالبے کی حمایت کرنے کو طبیعت نہیں چاہتی۔ بعض محکمے مثلا تعلیم، صحت، بلدیاتی امور، زراعت، آبپاشی وغیرہ مکمل طور پر صوبائی کنٹرول میں ہیں ان کی بدترین کارکردگی ہے۔
سیاست، ذمہ داریوں سے بھاگنا اپنی جگہ پر، اس میں کچھ صحیح کچھ غلط بھی ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ صوبے کے اندر خواہ ملک بھر میں کوئی نظام یا سسٹم موجود نہیں۔ اگر کسی ایک شعبے یا محکمے پر کسی بھی وجہ سے معمولی سا دباؤ پڑتا ہے تو پورا نظام بیٹھ جاتا ہے۔ بعض اداروں اور محکموں کی ے زوال کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے وجود کی افادیت کھو بیٹھے ہیں۔لگتا ہے کہ مسلسل ہونے والی کوتاہیاں ، نالائقیاں ناہلی کرپشن وغیرہ جمع ہو رہی تھیں۔ اور کسی ایک جگہ پر بھی دباؤ بڑھنے سے سب کی قلعی کھل گئی۔
اس نقطے کو سمجھنے کے لئے موسم کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان اموات اور بحران نے حکومت، ہمارے منصوبہ بندی کے ماہرین کے لئے کئی اسباق اور سوال چھوڑے ہیں۔
بجلی کے بحران میں گرمی کی شدت بڑھی تو صحت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی خواہ نکاسی آب ، شہروں کی مجموعی صفائی کی بدترین صورتحال ابھر کر سامنے آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ اور ان کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کے سوالات بھی اس بحران سے جڑے ہوئے ہیں ۔ ایک اور نقطہ جو بہت ہی اہمیت کا حامل ہے وہ ہے ہمارا رہن سہن، تعمیرات۔ کراچی شہر میں یہ سانحہ اس وجہ سے بھی ہوا کہ بڑے بڑے پلازا ہوں یا چھوٹے ان سب کی تعمیر کے وقت ہوا کے گزر، روشنی ، صفائی کے امور کو بالکل ہی نظر انداز کیا جاتا رہا۔ تنگ اور گھٹن کا ماحول تو خود نے بنایا۔ اس ضمن میں موجود قوانین اور متعلقہ ادارے لوگوں کو ہودار، صاف ستھرا ماحول مہیا کرنے میں ناکام رہے۔ ایسے ذرائع یعنی بجلی وغیرہ پر انحصار کرنے کی کوشش کی گئی جس کی پیداواراوار مہنگی، اور مشکل ہے کم ہو رہے ہیں۔
کراچی خواہ دوسرے شہروں کا یہ بھی المیہ ہے کہ حکومت ہاؤسنگ نئے شہروں کے قیام کی منصوبہ بندی نہیں کر پائی۔ کچی آبادیاں تعداد اور آبادی میں پکی آبادیوں کے برابر ہی ہیں۔یہاں پر شہری سہولیات کا وجود نظر نہیں آتا۔
کراچی کا یہ بھی المیہ ہے کہ شہر کی اپنی آبادی افزائش نسل کے ذریعے جس شرح سے بڑھتی ہے اس کے برابر باہر کے لوگ آتے ہیں، جو شہر ی سہولیات پر اضافی بوجہ ڈالتے ہیں۔افغان پناہ گزین ہوں یا برمی یا کوئی اور ہم سب کو دعوت دیتے رہتے ہیں اور اپنے لئے خود مصیبتیں پیدا کرتے ہیں ۔ اس کا نیتجہ یہ ہے کہ کراچی میں درجہ حرارت 46 یا47 ہو گیا تو قیامت صغرا محسوس کی گئی۔
لہٰذا صرف بجلی کے معاملے کو ٹھیک کرنے کی بات نہیں، گورننس، منصوبہ بندی ، پالیسیوں کو ٹھیک کرنے اور ان پالیسیوں اور قوانین پر عمل کرنے کی بات ہے۔
No comments:
Post a Comment