Saturday, July 4, 2015

وزیر اعظم اقتصادی دارالحکومت میں

وزیر اعظم کا دورہ کراچی
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
 

وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی کا دورہ ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب کراچی میں گرمی کی شدید لہر اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ وغیرہ سے بارہ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے تھے۔ دو وفاقی ادارے نیب اور رینجرز کرپشن کے الزام میں مختلف صوبائی افسران کے کرفتاریاں کر رکہے تھے اور کئی درجن افسران، وزراء کے خلاف کرپشن کے الزام میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس تحقیقات کے دوران پیپلزپارٹی کی قیادت آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ بیرون ملک چلے گئے۔
 

وفاقی ادارے صوبے میں کارروایاں کر رہے تھے لیکن وفاقی حکومت ان کارروایوں پر خاموش تھی۔اس ضمن میں کوئی وضاحت نہیں کر سکی۔ ان وجوہات کی بناء پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان خلیج پیدا ہوگئی۔ سندھ حکومت اس معاملے پر دبے الفاظ میں احتجاج کرتی رہی۔ اور بار بار یہ کہتی رہی کہ وہ وفاقی اداروں کی مداخلت کے معاملے پر عدالت سے رجوع کرے گی لیکن اس نے تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی ایسا نہیں کیا۔
 

اس تمام عمل کو پیپلزپارٹی اپنے خلاف کارروائی سمجھ رہی تھی۔ آصف علی زرداری سے جب وزیراعظم نے ملاقات سے انکار کیا تو وہ اپنے اتحادیوں کا اجلاس کرنے کے بعد دبئی چلے گئے۔ جس کے لئے یہ بھی کہا جارہا ہے ک ان کا بیرون ملک جانا وزیراعظم سے ناراضگی کا اظہار ہے۔ پیپلزپارٹی کی ناراضگی اور اس کے خلاف کارروایوں نے نواز لیگ کو سیاسی تنہائی میں کھڑا کردیا۔
سندھ میں جاری مختلف واقعات اور حالات کی وجہ سے وزیر اعظم8 نواز شریف پریشان ہیں اور خود کو خاصی مشکل میں پا رہے ہیں۔ ویزراعظم اور آرمی چیف نے اس حوالے سے بھی مشاورت کی ہوگی۔ اور یہ بھی کہ آپریشن کا آئندہ کا کیا لائحہ عمل رکھا جائے۔
 

یہ بھی سمجھا جارہا ہے کہ اس ملاقات میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے عسکری قوتوں کے خلاف برہمی والے بیان اور ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان کشیدگی، اور سندھ میں صوبائی حکومت اوررینجرز کے درمیان کشیدگی کو بھی دیکھا گیا۔ رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان کراچی کے معاملات چلانے پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی کا دورہ کرنے سے ایک روز قبل آرمی چیف سے ملاقات کی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں ایم کیو ایم پر بھارتی خفیہ ایجنسی کی جانب سے فنڈنگ اور ملکی معاملات میں بھارتی ایجنسی کی بڑہتی ہوئی مداخلت کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ تجزی نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اتھانے جارہا ۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ صرف ایم کیو ایم کا ہی مسئلہ نہیں ہے، مجموعی طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی کی سرگرمیاں اور مداخلت بڑھ گئی ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی وفاقی دارلحکومت میں موجود ہیں۔ ان سے مشاورت اور ہدایات دی جارہی ہیں۔ 


ایم کیو ایم کے حوالے سے منی لانڈرنگ کیس اور عمران فاروق کے قتل کیس میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے گورنر سندھ سے عشرت العباد سے ملاقات کی ، پاکستان میں گرفتار ملزمان تک لندن پولیس کی رسائی اور کراچی میں گرفتاریوں پر بات چیت کی۔ تجزی نگاروں کا خیال ہے کہ حالیہ سرگرمیوں سے لگتا ہے کہ حکومت بطور پارٹی ایم کیو ایم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنے جارہی۔ البتہ جرائم پیشہ افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
 

سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان تنازع کے بعد وزیر اعظم دونوں فریقین کے حوالے سے توازن رکھنے کے لئے سخت دباؤ میں ہیں۔
 

وزیر اعظم پیپلزپارٹی کے ساتھ ورکنگ رلیشن شپ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے عسکری قیادت سے بھی یہ بات رکھی ہوگی کہ رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان کشیدہ تعلقات میں سدھار لایا جائے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی یہ بھی ہے کہ گزشتہ ہفتے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ بھی دبئی گئے تھے۔ 

کیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے لیڈر کو وزیراعظم نواز شریف کا پیغام پہنچایا اور ملاقات سے انکار سے جو ناراضگی پیدا ہوئی تھی اسے دور کرنے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری نے سید خورشید شاہ کو بتایا کہ وزیراعظم اب اس معاملے میں کوئی پہل کریں یا عملی اقدامات کریں تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ دو راز قبل اس بات کا عندیہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے ایک ٹی وی انٹرویو سے بھی ملتا ہے جس میں وہ وزیراعظم سے کہہ چکے ہیں کہ وہ سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان اختلافات کو دور کرنے میں مدد کریں۔
 

کراچی کے دورے کے دوران وزیراعظم بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکے کہ گرمی کی شدت سے ہونے والی اموات کی ذمہ داری کس پر آتی ہے؟ جب کیس بھی معاملے میں ذمہ داری کا تعین نہیں ہوپاتا تو عدالتی کمیشن وغیرہ قائم کی جاتی ہے۔ تعجب کی بات ہے وزیراعظم نے ذمہ داری کے تعین کے لئے اس طرح کے کسی قدم کا اعلان نہیں کیا۔
 

وزیراعظم سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو بھرپور طریقے سے یہ موقعہ دیا گیا کہ وہ پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کو جو وفاقی اداروں اور وفاقی سے شکایات کے دفتر کھول دیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ وفاقی ادارے کارروائی سے انہیں بھی آگاہ نہیں کرتے۔ اورفرمائش کی کہ صوبے میں نیب اور ایف آئی اے کو کارروایوں سے رکا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کہ ان اداروں کی کاررویاں صوبائی خود مختاری میں مداخلت ہیں۔ وزیراعظم نے ان کی شکایات یا بتیں سنیں لیکن اس ضمن میں کوئی واضح اعلان یا یقین دہانی سامنے نہیں آئی ہے۔ ہاں یہ ضرور کہا کہ وہ پیپلزپارٹی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ن اس ضمن میں اکیلے یا اپنے طور پر کوئی فیصلہ نہیں لینا چاہتے اور وہ عسکری قیادت کو بھی اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔
Soahil Sangi
Nai Baat http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85-%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%84%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA

No comments:

Post a Comment