Thursday, July 2, 2015

کیا پیپلزپارٹی اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان ڈیل ہوئی ہے؟

کیا پیپلزپارٹی اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان ڈیل ہوئی ہے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سندھ میں جب رینجرز اور نیب نے اپنی کارروایاں تیز کیں، تو پارٹی کے شیرک چیئرمین آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں فاٹا سے پارٹی کے عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسٹبلشمنٹ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ان کا بیان اس سے بلکل ہی الٹ تھا جس طرح کی سیاست زرداری صاحب کی پہچان ہے۔ مین اسٹریم میڈیا میں بیٹھے تجزیہ نگار جو خود کو باخبر ترین اور ڈوریان ہلانے والے سمجھتے ہیں ان کو یہ قصہ سمجھ میں ہی نہیں آیا۔ الٹا اس بیان کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اس کا مذاق اڑایا۔مین اسٹریم میڈیا نے دو طرح کے تاثر دینے کی کوشش کی: ایک یہ کہ آصف کے کہنے پر نوابشاہ بھی بند نہیں ہو سکے گا وہ چلے ہیں پورے ملک کو بند کرانے۔ دوسرے یہ کہ زرداری نے یہ بیان نیب اور رینجرز کی کاروایوں کے ردعمل میں دیا ہے۔

 
ان کارروایوں کے دو پس منظر اور بھی ہیں۔ ایک یہ دو وفاقی ادارے سندھ صوبے میں مداخلت کر رہے تھے۔ اور وفاق اس میں اپنی پوزیشن واضح کرنے میں ناکام رہا۔ سندھ حکومت اپنے معاملات میں مرکز کی اس مداخلت پر بیان بازی تو کرتی رہی لیکن عدالت میں نہیں گئی اور نہ ہی سیاسی اشو بنا کر لڑائی کی۔ کیونکہ اسکو پتہ تھا کہ اس کے آخری نتیجے میں سیاسی طور پر اسکو فائدہ ہی ہے۔ دوسرا نقطہ یہ تھا کہ سندھ کی ایک اور پارٹی ایم کیو ایم پہلے سے دباؤ میں تھی جس پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ اپوزیشن یہ بنی کہ کوئی بھی سیاسی قوت اس کی حمایت کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ ایم کیو ایم کی قیادت اور بعض دیگر کارکنوں پر سنگین الزامات اپنی جگہ پر لیکن وہ موجودہ سیٹ اپ میں منتخب ایوانوں میں نمائندگی رکھتی ہے اور اس نظام کا حصہ ہے۔ 


اپنی کارکردگی، سنگین نوعیت کے الزامات اور عدم برداشت کی سیاست کی وجہ سے وہ اس نظام کی کمزور کڑی تھی۔ جس کے بارے شواہد بھی کٹھے کرلئے گئے تھے اور کسئی برسوں سے ماحول بھی جڑا ہوا تھا۔ نواز لیگ نہ ایم کیو ایم کا اپنے سایے میں لے سکی اور نہ ہی ایم کیو ایم اپنی سیاست کی وجہ سے نواز لیگ سے جڑ سکی۔
 

باہر جب آصف زرداری کی سخت گیر تقریر پر بحث ہو رہی تھی اندر ہی اندر آصف زرداری کی اس تقرری کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی تھی۔ چند حقائق بہت اہم ہیں جن کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی پوزیشن کو مضبوط بنتی ہے۔ اس پارٹی کے پاس ملک کے دوسرے بڑے صوبے کی حکومت ہے۔ یہ صوبہ ملکی معیشت کی شاہ رگ ہے اور معدنی وسائل سے مالامال ہے۔
 

جہاں تک اقتدار کے ایوانوں کی بات ہے اس کے پاس قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سیٹ اور سنیٹ میں اکثریت ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا عہدہ بھی۔ اس صورتحال میں اگر زرداری صاحب نے حکومت کے خلاف تحریک نہ بھی چلا سکے، لیکن قانون کے حدود میں رہ کر طویل سیاسی لڑائی لڑے تو نواز لیگ حکومت کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ ملک کو جو علاقائی اور عالمی خطرات موجود ہیں ان کی موجودگی میں وہ تمام سیاسی سیٹ اپ کو اپ سیٹ کر سکتے ہیں۔وفاق اور نواز لیگ کے خلاف سندھ میں خاصا مسالہ موجود ہے۔ 
سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت رہے ، جہاں مرکز کے خلاف ہڑتالیں اور مظاہرے ہو سکتے ہیں۔ اس کا عندیہ دو مرتبہ سے زیادہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ دے چکے ہیں اور کے الیکٹرک کے اور وفاق کے خلاد دھرنے کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔
 

مطلب پیپلزپارٹی کے پاس اقتدار کی جنگ لڑنے کے خواہ ترپ کارڈ نہ ہوں پر کئی کارڈ ہیں۔ جن کو وہ باری باری یا ایک ساتھ استعمال کرکے نواز حکومت کے تمام کارڈز ختم کروا سکتی ہے اور اپنے کارڈز استعمال کر کے صورتحال کو اپنے حق میں رکھ سکتی ہے۔
 

اب اسلام آباد اور لاہور اور وہاں کے تجزی نگاروں کو بھی یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ سندھ میں کرپشن کے نام پر شروع کئے گئے کریک ڈاؤن کے سیاسی مقاصد ہیں۔ اور اس کریک ڈاؤن کا اصل مقصد گورننس کو ٹھیک کرنا یا کرپشن کا خاتمہ کم بلکہ سیاسی طور پر اثرانداز ہونا تھا۔
 

یہ اشارے بھی مل رہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم جڈیشل کمیشن کے فیصلے سے پہلے نواز شریف کو حاصل آصف زرداری کی حمایت واپس لینا چاہتی ہے۔ جب نواز شریف نے آصف علی زرداری سے ملنے سے انکار سے اسٹبلشمنٹ نواز شریف کو اکیلا کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اب صورتحال کچھ اس طرح سے بنی ہے۔ اسٹبلشمنٹ ، پی پی اور تحریک انصاف ایک طرف ہیں تو دوسری طرف نواز شریف اکیلا ہے۔۔ اب نواز حکومت کو جڈیشل ٰ کمیشن کے فیصلے کے بعد آسانی سے گھر روانہ کیا جاسکتا ہے۔
 

وزیراعظم کی سیاسی بصیرت دیکھیں۔ انہوں نے ملک کی دوسری بڑی پارٹی جو ایوان خواہ سیاسی حوالے سے بھی بڑی ہے، اس کے لیڈرسے ملنے سے انکار کردیا۔ وزیر اعظم کا خیال تھا کہ وہ ملاقات سے انکار کر کے اسٹبلشمنٹ کو خوش کر رہے ہیں ۔ لیکن عملا وہ خود تنہا ہو رہے تھے۔ دوسری طرف اسٹبلشمنٹ آصف زرداری سے بات چیت کر رہی تھی۔ یوں آصف کی سیاسی طور پر پوزیشن مضبوط ہوگئی اور نواز شریف کی پوزیشن کمزور ہوگئی۔ زرداری اس صورتحال کو پورے طور پر ادراک رکھ رہے تھے، لہٰذا بڑا بروقت بیان دیا۔
 

پیپلز پارٹی اسٹبلشمنٹ ڈیل میں کیا کیا ہے؟ اسکو سمجھنے کے لئے کچھ پیچھے جانا پڑے گا۔ 2014 سے پیپلزپارٹی پر دباؤ ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑی ہو۔ لیکن آصف زرداری نواز شریف کے ساتھ پرانے معاہدے پر قائم رہے۔ اور انہوں نے عمران خان کا اتحادی بننے سے انکار کردیا۔ پیپلز پارٹی کے اس انکار کے بعد اس کو دھکیلنا شروع کیا گیا۔ اور نواز شریف سے مسلسل ایسے اقدامات کرائے گئے کہ یہ فاصلے اور دوریاں بڑھیں۔ مجموعی طور پر پیپلزپارٹی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئی۔ وہ اس طرح سے کہ اسلام آباد میں نواز شریف کی حکومت ہو یا کسی اور کی، اس کو پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل ہوگی یا وہ اس میں حصہ دار ہوگی۔ یہ صورتحال اب بھی برقرار ہے۔ 

آصف زرداری کے اس بیان کو تجزیہ نگار ایک بڑا بریک تھرو قرار دے رہے ہیں ۔ اتنے بڑے معاملے سے میڈیا کی توجہ ہٹانے کے لئے کچھ اور اشوز میدان میں اتارے گئے۔
 
یہ ڈیل کا ہی نتیجہ ہے کہ بڑے آرام کے ساتھ فریال تالپور اور آصف زرداری بیرون ملک چلے گئے جبکہ کرپشن کے الزام میں گرفتار افسران کے اعترافی بیانات آرہے تھے وہ کرپشن کی بڑی رقم بلاول ہاؤس پہنچاتے تھے۔ بعد میں بلاول بھٹو واپس آگئے ہیں۔اس ڈیل کے بعد بھی سندھ میں کرپشن پر کریک ڈاؤن اب نچلی سطح پر چلتا رہا گا اور اد کے لئے ڈھول زیادہ بجتے رہیں گے۔ اگر بات بہت زیادہ آگے بڑھ گئی تو ایک اور این آر او بھی آسکتا ہے۔

 

نواز لیگ کو اب احساس ہوا ہے کہ وزیر اعظم نے آصف زرداری سے ملاقات سے انکار کر کے کتنا بڑا نقصان کیا ہے۔ وہ پارٹی عمران خان کے دھرنوں کے موقعہ پر نواز لیگ کے ساتھ کھڑی رہی۔نیتجے میں باقی سیاسی قوتوں کو بھی جمہوریت کو ڈی ریل ہونے بچانے کے لئےحکومت کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا۔ آج ان کے انکار نے نواز لیگ کو سیاسی طور پر تنہا کردیا ہے۔ نواز لیگ اب راستے تلاش کر رہی ہے کہ پیپلزپارٹی کو منا لے۔ آصف زرداری کی نئی چال دراصل مستقبل کے منظر نامے کے حوالے سے ہے۔
 

فرض کریں کہ اگر ڈیل نہیں ہوئی ہے توخیبر پخونخوا حکومت پہلے ہی وفاقی حکومت کے خلاف دھرنے دے رہی ہے۔ ہلکا پھلکا ٹریلر سندھ حکومت نے بھی دکھایا ہے۔ اگر وہ باقاعدہ سڑکوں پر آتی ہے تو سندھ میں گورنر راج لگ سکتا ہے۔ ایسے میں اگر سندھ حکومت کا بوریا بستر لپیٹا جاتا ہے تو نواز حکومت بھی باقی نہیں رہے گی۔۔ 
Sohail Sangi

No comments:

Post a Comment