زرداری اسٹبلشمنٹ جھگڑا
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
آخر ایسا کیا ہوا کہ مفاہمت اور مصالحت کے بادشاہ آصف علی زرداری کا ضبط جواب دے گیا کہ انہوں نے سیاسی محاذ آرائی کا باقعدہ اعلان کردیا؟ انہوں نے پہلی بار کھلم کھلا عسکری اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کیا اور دھمکی دی ہے کہ اگر پیپلزپارٹی کو کونے میں لگایا جاتا ہے تو وہ عسکری اسٹبلشمنٹ کے’’ کارناموں‘‘ کو بھی افشا کریں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا ڈی جی رینجرز جنرل بلال اکبر کو اختیارات سے تجاوز کرنے کے حوالے سے خط لکھنا دراصل آصف علی زردری کی جانب سے عسکری قیادت خلاف دھواں دھار تقریر کا تسلسل ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ آہستہ آہستہ عسکری قیادت کی تمام باتیں مانتے رہے تو آخر میں خالی ہاتھ بیٹھے ہونگے۔
آصف زرداری کا حالیہ عمل الطاف حسین کے عمل سے ملتا ہے جو عسکری قوتوں کے خلاف بولتے رہے ہیں۔ لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت کی جانب سے عسکری قیادت کے خلاف اس طرح کی سخت زبان استعمال کرنے کی پہلے کوئی مثال موجودنہیں۔ گزشتہ دور حکومت میں مسائل ضرور پیدا ہوئے تھے۔ زرداری کے لئے کہا جاتا تھا کہ وہ سخت پریشان ہیں اور پریشر میں ہیں۔ لیکن اس مرتبہ آصف علی زرداری نے جو کچھ بھی کہا وہ غیر معمولی تھا۔
ایک طرف وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی جی رینجرز کو خط لکھا ہے۔ دوسری جانب پارٹی کے سنیٹر فرحت اللہ بابر نے سنیٹ میں یہ بیان دیا ہے کہ رینجرز سندھ میں زمین مانگ رہی تھی۔ یہ بات صاف بتاتی ہے کہ رینجرز پر بھی الزامات عائد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اب سندھ حکومت کا وجود خطرے میں ہے۔
پیپلزپارٹی اور عسکری قیادت کے درمیان ہلکی نوعیت کی ’’جھڑپیں‘‘ پہلے بی ہوتی رہی ہیں۔ چند ہفتے پہلے کور کمانڈر کراچی نے ڈیفینس یونیورسٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سندھ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جس کو تجزیہ نگارسندھ حکومت کیخلاف شو کاز نوٹس قرار دے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ڈی جی رینجرز کے ترجمان ان سے منسوب بعض اہم نکات بیان کئے، جن کے لئے کہا جاتا ہے کہ یہ باتیں ایپکس کمیٹی میں سامنے آئی تھیں۔ رینجرز کے اس بیان میں واضح کیا گیا کہ مختلف جرائم، غیر قانونی کاروبار وغیرہ سے ھاصل ہونے والی رقم دہشتگردی پر استعمال ہوتی ہے۔ اس بیان نے مخلتف محکموں میں ہونے والی بدعنوانیوں، کرپشن وغیرہ میں رینجرز کی مداخلت کا جواز پیدا کردیا۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ رینجرز کا یہ موقف ا اور بعد میں اقدامات سویلین اختیار کو کم کرنے اور اپنا دائرہ اختیار بڑھانے کی کوشش ہے۔ یہ بات فرحت اللہ بابر نے ان الفاظ میں کہی کہ رینجرز صوبائی حکومت کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔ اور اسکو اپنے ماتحت کرنا چاہتی ہے۔
رینجرز اس بیان کی روشنی میں ایکشن میں آگئی۔ سرکاری دفاتر پر چھاپے
پڑنے لگے۔ نصف درجن اعلیٰ افسران نے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی۔ یہ
تنازع دو رو زقبل اس وقت شدید ہوگیا جب زردری نے ایک ’’ بم‘‘ پھینکا اور
پیپلزپارٹی باقاعدہ اس جھگڑے میں ’’ان‘‘ ہوگئی ہے۔ راقم الحروف گزشتہ تین
ہفتوں سے اپنے کالموں میں س بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی
سخت دباؤ میں آرہی ہے۔ اور اس ہفتے یہ دباؤ سیاسی جنگ کی شکل میں سامنے
آگیا ہے۔
رینجرز کو 90 کے عشرے میں قیام امن کے لئے سویلین حکومت کی مدد کے لئے بلایا گیا تھا۔ لیکن یہ عملی طور پر ایجنسی قائدانہ رول ادا کر رہی تھی۔ اگرچہ سندھ حکومت رینجرز سے بظاہر مطمئن نظر آتی تھی لیکن وہ محسوس کر رہی تھی کہ رینجرز متوازی اتھارٹی کے طور پر ابھر رہی ہے۔
یہ امر اپنی جگہ پر ہے کہ قیام امن ہو یا دیگر غیر قانونی کاروبار یا کرپشن وغیرہ اس معاملے میں سویلین حکومت ناکام وہرہی تھی جس سے ایک جگہ پیدا ہو رہی تھی اور رینجرز یہ جگہ پر کر رہی تھی۔ پیپلزپارٹی اپنے گزشتہ خواہ موجودہ دور حکومت میں بے پناہ شکایات کے باوجود اچھی حکمرانی، کرپشن اور غیر قانونی کاروبار کو روکنے کے لئے کوئی میکنزم بنانے میں ناکام رہی۔ بلکہ سیاسی طور پر ایسا نظام بنا جس میں ان چیزوں کو بڑھاوا ملا۔
میڈیا میں بیانات بتاتے ہیں کہ سندھ حکومت جو دو ماہ پہلے تک رینجرز کی کارکردگی سے مطمئن تھی۔ وہ اب اچانک غیر مطمئن ہوگئی ہے۔ کراچی میں جاری آپریشن کے کپتان نے رینجرز پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے ۔ (جبکہ رینجرز آپریشن کے کپتان پر پہلے ہی عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہے)۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی جی رینجرز کو لکھے گئے خط کی کاپی وفاقی وزیر داخلی چوہدری نثار علی خان کو بھی بھیجی ہے۔ عین ممکن ہے آگے چل کر سندھ حکومت وفاق سے یہ کہے کہ اسے اب رینجرز کی ضرورت نہیں۔اس بڑھتے ہوئے جھگڑے میں کیا پتہ کل سندھ سیکریٹریٹ سے کوئی اعلیٰ افسر یا کوئی وزیر، کوئی مشیر، گرفتار ہو جائے۔ اگر حکومت سندھ نے رینجرز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا قدم اٹھایا تو اداروں کے درمیان براہ راست تصادم ہو جائے گا۔ اگر ریڈ لائن کراس ہو جاتی ہے تو آئینی طریقہ یہ ہے فریقین کے درمیان مصالحت کرادی جائے۔ یا پھر سندھ حکومت استعیفا دے دے۔ یا صوبے میں گورنر راج نافذ کردیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ سندھ حکومت استعیفا کویں دے؟
اگر رینجرز اور حکومت کے درمیان زمین پر جھگڑا ہوتا تو یہ معاملہ کب کا حل ہو چکا ہوتا۔ زمین پر اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن اصل بات ورکنگ پر اختلاف ہے۔ پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ ہم آہستہ آہستہ عسکری قوت کی باتیں مانتے رہے تو آخر میں خالی ہاتھ بیٹھ جائیں گے۔ پہلے ہنجاب ہاتھوں سے گیا، پھر خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان بھہ ہاتھوان سے گیا۔ صرف سندھ ہی بچا ہے اب وہاں سے بھی انہیں اکھاڑ کر پھینکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پیپلزپارٹی کی قیادت کا خیال تھا کہ اور سیاسی جماعتیں بھی ان کا ساتھ دیں گی۔ مگر سب سے پہلے نواز لیگ نے ہاتھ نکال لیا۔ اور اس نے سخت لب و لہجہ اختیار کر لیا۔ دوسرے بھی دور ہٹ کر کھڑے ہوگئے۔ صورتحال گمبھیر بنتی نظر آرہی ہے۔ ایک خیال یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی جھگڑے میں چلی جاتی ہے تو اے این پی، قاف لیگ، ایم کیو ایم اور جے یو آئی (ایف) اس کا ساتھ دیں گی۔ نواز شریف نے پہلے سے طے شدہ ملاقات منسوخ کردی ہے اور یہ اعلان کیا ہے وہ عسکری قوت کے ساتھ کھڑے ہیں۔موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی اکیلی کھڑی ہے۔ اگر سندھ میں کچھ ہوتا ہے اور پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی سے استعیفا دینے کی بات کی تو دوسری جماعتیں اس کا ساتھ کیوں دیں؟ ۔ اگر موجودہ سیٹ اپ چلا گیا تو تو فوری طور پر پیپلز پارٹی کو نقصان کا امکان ہے۔
زرداری کے بیان پر اب تک عسکری قوت کا ردعمل یا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ جبکہ الطاف حسین کے بیان پر عسکری ادارے کا فوری طور پر بیان سامنے آیا تھا۔ ۔
اگر آپ ملٹری اسٹبلشمنٹ سے ٹکراؤ میں آتے ہیں تو آپ کے پاس اشوز بہت مضبوط ہونے چاہئیں۔ ابھی جس طرح سے متحدہ کے لوگوں کے ویڈیو بیان ہمیں دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں ممکن ہے کہ اس طرح کے بیانات اب پیپلزپارٹی کے حوالے سے بھی ملیں۔ ضروری نہیں کہ یہ بیانات کرپشن کے بارے میں ہوں۔ بعض دیگر جرائم کے بارے میں بھی ہو سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے سندھ کے عوام کے لئے کچھ نہین کیا لیکن جھگڑا برا گلے میں ڈال دیا ہے ۔ سیاسی قیادت ہمیشہ عوام کے بھروسے پر لڑتی ہے۔ کارکنوں کی تنی تعداد نہیں ہوتی جس کی بناء پر مزاحمت کی جاسکے۔ سندھ میں کیا پوزیشن ہے؟ سب سے بڑا اخلاقی سوال ہے کہ مزاحمت کس بات پر کی جارہی ہے؟ کیا اس بات پر مزاحمت ہے کہا کرپشن وغیرہ کے خلاف کارروائی کیوں کی جا رہی ہے؟
پارٹی عوام میںیہ پوزیشن لے سکتی ہے ۔ بعض ادارے اپنے آئینی حدود میں کام نہیں کر رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر پورے طور پر عمل نہیں ہورہا۔ اور نیشنل ایکشن پلان پر دوسرے صوبوں کے بجائے صرف سندھ میں ہی کیوں عمل کیوں ہو رہا ہے؟ رینجرز کا جھگڑا کراچی کے گرد نواح میں ہزارہا ایکڑ زمین نہ دینے پر ہے۔ یہ جھگڑا بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے اثرات لا محا لہ آگے چل کر لاہور اور اسلام آباد پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
June 18, 2015
Sohail Sangi
No comments:
Post a Comment