Monday, June 15, 2015

نوجوان اور مورثی ملکیت بنی ہوئی سیاسی جماعتیں

نوجوان اور مورثی ملکیت بنی ہوئی سیاسی جماعتیں میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

ووٹر کی عمر 18 سال مقرر ہونے کے بعد ملک میں بڑی تبدیلی کے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ دوسال پہلے جب یہ اعادا وشمار آئے کہ ملک میں کل ووٹرس کا 40 فیصد نوجوان ہے یعنی ان کی معر 18 سے 32. 35 سال کے درمیان ہے دو سال بعد اس تعداد اور تناسب میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔

2013 کے انتخابات میں روایتی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا قسمت نے ساتھ دیا کہ یہ چالیس فیصد ووٹر نہ سرگرم ہو سکا اور نہ ہی اپنا موثر کرادار ادا کر سکا۔ دنیا بھر میں یہ مانا ہوا اصول ہے کہ ہر سال سیاسی جماعتیں اپنی تنظیم یں نئے لوگ لانے کے لئے رکن سازی کی مہم چلاتی ہیں اپنی حمایت اور ساکھ میں اضافہ کرنے کے لئے نوجوانوں کو اہمیت سؤدیتی ہیں کیونکہ یہ سماج کا وہ طبقہ ہوتا ہے جو عملی طور پر کسی تنظیم کا حصہ نہیں بنا اور کسی نظریہ سے ابھی عملی واسبتگی کا اظہار نہ کر سکا ہے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں جس کا ہماری سیاسی جماعتوں کو پتہ نہ ہو۔ دراصل ان سیاسی جماعتوں کی شدید خواہش تھی کہ یہ نوجوان ان کی صفوں میں نہ آئیں۔ ان کے آنے سے سیاسی پارٹیوں میں سرگرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ پارٹی کو نئے خیالات، اور نئے لوگوں کو حکمت عملی ، خیالات اور تنظیم سازی کے اندر کسی نہ کسی طرح سے اکموڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔یہ جماعتیں ممبر شپ، عہدوں اور کسی منتخب ایوان کی رکنیت کے حوالے سے کلوزڈ کلب نی ہوئی ہیں ۔ پیپلزپارٹی ہو یا نواز لیگ یا مین اسٹریم کی وئی اور جماعت، اس حوالے سے تمام جماعتوں کا طریقہ واردات ایک جیسا ہے۔ہماری سیاسی جماعتیں حمایت حاصل کرنے کے لئے بلکل الٹ حکمت عملی پر پیرا رہی ہیں ۔ وہ یہ پہلے سے جو لوگ سیاست میں سرگم ہیں انہیں چمک یا لالچ دے کر یا پھر خوف دلا کر یا مستقبل میں کوئی آسرا سے کر اپنی پارٹی میں شمال کرتی ہیں ۔ انہیں اپنی صفوں میں پرانے لوگ ہی چاہئیں کوئی نیا آدمی نہیں چاہئے۔

پرانا آدمی ہوگا تو وہ پرانے سیاسی سسٹم کا حصہ رہا ہوگا اس لئے اس نظام کے اتار چڑھاؤ سے آشنا ہوگا۔ بلکہ وہ نہ کوئی سوال کرے گا اور نہ ہی نئی بات کرے گا۔ وہ مخصوص مفادت کے تحت ہی دوسری پارٹی میں شمولیت کرتا ہے۔ جو کہ عموما ذاتی مفادات ہی ہوتے ہیں ۔ لہٰذا وہ’’ کام سے کا رکھے گا۔‘‘ مخلتف جماعتٰیں جتنی توانائی اور وسائل اس کام پر خرچ کرتی ہیں اگر اس کا نصف ھصہ بھی نئے اور نوجوان لوگوں کو لانے پر صرف کریں تو نہ سرف ان کی مقبولیت اور حمایت میں اضافہ وہسکتا ہے بلکہ ان کے پاس کمیٹیڈ کیڈر بھی آسکتا ہے۔

عمران خان کی پالیسیوں ، سیاست اور حکمت عملی سے لاکھ اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی پاکستان کی سیاست میں اس کارنامے کو ماننا پڑے گا کہ انہوں نے نوجوان کو سرگم کیا اور اس کو سیاسی بنایا جو کہ ابھی تک غیر سیاسی تھا۔
یہ بات اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں آخری بڑی تحریک ایم آر ڈی کی تھی جو 1983 میں چلی تھی۔ اس تحریک میں اٹھارہ سے بتیس سال تک کے لوگوں نے کمال دکھایا تھا۔یہ ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ تھا جس نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اب یہ کیڈر ذہنی اور جسمانی طور پر تھک چکا ہے یا بوڑھا ہوچکا ہے۔ اور بعض مواقع پر مصلحت پسندی کا بھی شکار ہو کر مخصوص مفادات پیدا کر چکا ہے۔ اس کیڈر کی بنیاد پر کوئی بڑی تحریک نہیں چلائی جاسکتی۔ ہاں زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی بڑے غیر جمہوری قدم کے خلاف ایک حد تک رکاوٹ بن سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی نے دیر سے ہی سہی ، اس بات کا احساس کر پائی کہ وہ اس 40 فیصد ووٹر کا کچھ کرے۔ پارٹی اور تو کوئی حکمت عملی نہ بنا پائی۔ لیکن اس کے پاس بلاوال بھٹو زرداری، بختاور اور آصفہ موجود تھیں۔ بینظیر بھٹو کے یہ تینوں بچے پارٹی کو مستند بنانے کا ٹھپہ بی تھے اور نوجوان بی۔ پارٹی نے انہیں نوجوانوں کی قیادت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے پارٹی کو مستند بنانے کی تصدیق کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ ہدایت کی گئی کہ وہ نوجوانوں یا کارکنوں کے لیڈر نہیں بلکہ اپرٹی میں موجود سینئر کے لیڈر ہیں۔یعنی بلاول بھٹو سائیں قائم علی شاہ، اعتزاز احسن اور رضا ربانی کے لیڈر ہیں۔

بلاول بھٹو کی موجودگی نوجوانوں کو attract کر رہی تھی اگرچہ ان کے رویے اور عمل سے تو نہیں ایسا لگ رہا تھا لیکن پھر بھی ایک آسرا تھا۔ ۔ لیکن جب بلاول بھٹو نے اپنی پسند کی ٹیم اور حکمت عملی بنانا چاہی تو وہ پارٹی کی پالیسی اور قیادت سے ٹکراؤ میں آنے لگی اور انہیں سیاسی طور پر نابالغ قرار دے دیا گیا۔ پھر کہا جاتا ہے کہ کچھ سیاسی کچھ ذاتی اختلافات کی بناء پر بیرون ملک چلے گئے۔ اگرچہ گاہے بگاہے ان کی وطن واپسی کے ’’انکشافات‘‘ تو کئے جاتے ہیں لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جب تک کوئی بڑے واقعہ نہیں ہوتا یا بڑا معرکہ نہیں آتا تب تک ان کی واپسی خارج ازامکان ہے۔

پیپلزپارٹی نے نوجوانوں کو پارٹی کی صفوں میں جگہ دینے کے بجائے انہیں ذاتی فوائد کی پالیسی بنائی۔ اور ملازمتوں کے دروازے کھول دیئے۔ نتیجے میں بعض غلط، بعض قوعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعض اصؒ ی تو بعض نقلی ؤرڈر دیئے گئے۔ کہیں تو یہ ملازمتیں پیسوں کے عوض فروخت بھی ہوئیں۔ ملازمتیں دینے کے اس عمل کو میرٹ پر کرنے کے بجائے ذاتی بنایا گیا۔ جس کا پارٹی کو کوئی سیاسی فائدہ حاسؒ نہیں ہوا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ سندھ کا نوجوان جو حکومت، پارٹی اور ریاست سے بیگانہ اور باغی بن رہا تھا وہ کسی نہ کسی طور پر دھندے سے لگ گیا۔ پیپلزپارٹی نے ایسی پالیسی رکھی کہ ’’ آپ اپنا کام کریں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں‘‘۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کیا کام کرنا چاہتی ہے ؟ یہ خبرویں اب صوبائی دارلحکومت سے نکل کر ضلع ، تحصٰل اور یونین کونسل کی سطح پر ہو رہی ہیں اربوں روپے کے خرچ سے کئے گئے ترقیاتی کام کہیں نظر نہیں آتے۔ جو نظر آتے ہیں وہ آر او پلانٹس کی طرح ہے جن کی عمر دو تین سال ہی ہے۔ تعلقہ میونسپل ایڈمنسٹریشن ( ٹی ایم ایز) دراصل اے ٹی ایم بنی ہوئی ہیں جہاں رقم پہنچتی ہے ایک ہفتے کے اندر نکال لی جاتی ہے۔

بینظیر بھٹو کے نام پر ہنر سکھانے کا پروگرام گزشتہ پانچ سال سے چل رہا ہے۔ اگر واقعی اس اسکل ڈولپمنٹ کے اسکیم پر عمل درآمد ہوتا تو آج سندھ کے ہر گھر میں ایک ہنر مند بندہ موجود ہوتا جو اپنا کوئی چھوٹا موٹا کام کر رہا ہوتا۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے بجائے ماہانہ اسکالرشپ کے نام پر کرپشن میں صھہ دیا جارہا ہے۔ عملا کچھ بھی نہ سکھایا جاتا ہے اور نہ ہی حکومت اس کو سنجیدگی سے لے رہی ہے ۔

نواز لیگ لیپ ٹاپ کے طور پر نوجوانوں میں کھلونے تقسیم کر رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ ایسا لیپ ٹاپ جس پر نواز شریف کی نہ مٹنے والی تصویر چپکی ہوئی ہے اس کے ذریعے وہ نوجوانوں کو اپنا حامی بنا دے گی۔ ملک کی ہر یونیورسٹی میں ہپزاروں لیپ ٹاپ دیئے گئے ہیں۔ آج کی انفرامیشن ٹیکنالاجی کے دور میں کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ واقعی اہمیت کے حامل ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کی لیبارٹریوں میں دس سال رپانے کمپیوٹر پڑے ہیں ان کو تبدیل کرنے کے بجائے نوجوانوں پر ذاتی احسان کر کے لیپ ٹاپ دیا جارہا ہے۔ ہم اسکول سطح پر روازنہ کاسز کے انعقاد اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی نہیں بنا پا رہے ہیں، ایسے میں لیب ٹاپ تقسیم کرنے سے ملک تکنا ترقی کرے گا یہ بڑا سوال ہے۔ یونیورسٹیوں سے پا نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیم دینے کو یقینی نہیں بنا پارہے ہیں۔ کریئر کونسلنگ اور مارکیٹ میں مخلتف ملازمتوں یا اسکلز کے حولے سے حکومت کوئی زحمت نہیں کر رہی، بلکہ ہزاروں بیروزگار نوجوانوں کے ہاتوھں میں لیب ٹاپ پکڑا دیئے ہیں ۔ جس سے وہ کھیل تو سکتے ہیں یا فیس بک پر چیٹنگ تو کر سکتے ہیں، لیکن وہ ان کو روزگار دلانے میں شاید ہی کوئی مدد کر سکے۔

حکومت میں موجود جماعتیں چاہتی ہیں کہ وہ کوئی اجتماعی پالیسی بنانے کے بجائے اس طرح کے کام کرے جس سے لوگ ذاتی طور پر اس کے احسان مند محسوس کریں۔ دوسری طرف اوپر کی سطح سے لیکر اسمبلی، ضلع کونسل، اور یونین کونسل تک اور اپرٹی عہدوں میں بھی موروثی سیات کو بطور اصول اپنایا گیا ہے۔ باپ کے بعد بیٹا، بیٹا نہیں تو بہو، بہو نہ تو بھانجا، یا داماد کو منتخب نشست پر آگے لایا جارا ہے اور سیاست کے زور پر اور عوام کے پیسے پر ایک الیٹ کلاس بنایا جارہا ہے۔ یہاں پر بھی نوجوان کے لئے دروازے بند ہیں۔

اصل بات نوجوان کے کردار کو فعال بنانا اور میرٹ کو عام کرنا اور گڈ گورننس ہے۔ساٹھ فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی دیناہے۔ باقی ملازمتوں کے نام پر یا ہنر سکھانے کی اسکالرشپ کے ذریعے یا پھر لیپ ٹاپ اسکیم کے ذریعے عارضی طور پر تو نوجوانوں کو مصروف رکھا جاسکا ہے لیکن اس سے تبدیلی نہیں آسکتی۔

No comments:

Post a Comment