Sunday, June 14, 2015

نواز شریف اور سندھ (ڈرافٹ)

نواز شریف اور سندھ (ڈرافٹ) میرے دل میرے مسافر
سہیل سانگی

26 مارچ 2012 کے اخبارات میں نواز شریف کے دورہ سندھ کے موقعے پر اخبارات میں اشہار شایع ہوا کہ سندھی زبان کو قومی زبان قرار دی جائے۔

ماضی کے اقدامات کے حوالے سے سندھ کے لوگوں کو نواز شریف سے متعلق بعض خدشات ہیں۔ نواز شریف جب وزیر اعظم بنے تو انہوں نے کالاباغ ڈیم کا اعلان کیا ۔ بعد میں شدید عوامی رد عمل کے بعد مجبورا مؤخر کرنا پڑا۔ نواز شریف کے اس اعلان پر پہلی مرتبہ قوم پرستوں اور وفاق پرستوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کردیا۔

سندھ پنجاب سرحد کے پاس سندھ میں کموں شہید پر محترمہ بے نظیر بھٹو، بشیر خان قریشی، امداد محمد شاہ، قادر مگسی، رسول بخش پلیجو کی قیادت میں دھرنا دیا۔اسی دن دوسری طرف پختونخواہ صوبے میں ولی خان، آفتاب احمد شیر پاؤ اور محمود اچکزئی نے پنجاب، پختونخوا سرحد پر اٹک پل پر دھرنا دیا۔اور اعلان کیا کہ نواز شریف کو کالاباغ ڈیم بنانے نہیں دیں گے۔

نواز شریف نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سندھ کو جو بڑا نقصان پہنچایا وہ کیٹی بندر منصوبے کو منسوخ کرنا تھا۔
نواز شریف نے سندھ پر ایک اور غیر جمہوری وار کیا تھا کہ انہوں نے سندھ حکومت اور سندھ اسمبلی کو معطل کر کے سندھ پر وزیر اعظم کا سندھ کے لیے مشیر غوث علی شاہ کو مقرر کیا تھا۔اگرچہ یہ اسمبلی بھاری مینڈیٹ کے تحت منتخب ہوئی تھی۔

سندھ میں ایم کیو ایم کے روایتی تعاون سے پیپلز پارٹی کو پیچھے دھکیل کر نواز شریف نے لیاقت جتوئی کو ہی وزیر اعلیٰ نامزد کیا۔بعد میں ایم کیو ایم نے جب لیاقت جتوئی سے ہاتھ نکالے تو نواز شریف نے کسی اور شخص کو وزیر اعلیٰ مقرر کرنے یا حزب مخالف پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقعہ دینے کے بجائے سندھ اسمبلی کو معطل کردیا۔ حالانکہ لیاقت جتوئی نے بہت ہی ڈرامائی انداز میں ایم کیو ایم سے مل کر کالا باغ ڈیم کا اعلان کرنے پر نواز شریف کو مبارکباد کی قرارداد منظور کرائی تھی۔

نوز شریف نے ہزارہا سندھی ملازمین کو ملازمتوں سے نکالا۔

اب نواز شریف نے سندھی زبان کو قومی زبان بنانے کا اعلان کیا ہے۔نواز لیگ سندھ میں سندھی زبان کو قومی زبان کا نعرہ لگاتی ہے۔ مگر ہنجاب میں ابھی تک پنجابی کو پرائمری سطح پر بھی لاگو نہیں کر سکی ہے۔جس کے لیے ان کے سامنے کوئی قانونی یا آئینی رکاوٹ بھی نہیں۔آئین کی دفعہ 251 کے تحت صوبوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ اسمبلی کے ذریعے ایسی قانون سازی کر سکتے ہیں۔بہتر یہی تھا کہ سندھیوں کے سامنے سندھی زبان قومی زبان کا نعرہ لگانے کے بجائے وہ پنجاب میں فوری طور پر پنجابی کو دفتری زبان کے طور پر رائج کرتے۔اگر انکو سندھی زبان سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو قومی اسمبلی میں سندھی کو قومی زبان بنانے کا بل پیش پیش کرے۔

No comments:

Post a Comment