پاکستان کی سیاسی تاریخ ایک نظر میں
سہیل سانگی
پاکستان 65 سال کے عمر کا زیادہ تر عرصہ فوجی آمریت کے تحت رہا ہے۔ پانچوں کی پانچوں سویلین منتخب حکومتوں کا فوج نے فوج نے تختہ الٹا۔اور اسکے پیچھے صدر کا ہاتھ شامل رہا۔ایوب خان سے لیکر فوجی آمریت کے نئے ایڈیشن جنرل مشرف تک سب نے پاکستان کو بچانے کے نام پر آمریت نافذ کی۔مگر ان کے اقدامات سے کبھی بھی نہ ملک مضبوط ہوا نہ ملک کا سیاسی نظام۔
1988 میں جب بے نظیر بھٹو نے جنرل ضیا کے جہاز کے حادثے میں ہلاکت کے بعد اقتدار سنبھالا، تو بظاہر یہ لگ رہا تھا کہ پاکستان اب جمہوری دور میں داخل ہو چکا ہے۔مگر ہوا یہ کہ فوج بظاہر تو پیچھے ہٹ گئی مگر اس نے کنگ میکر کا رول ادا کرنا شروع کردیا۔
اگست 1990میں صدر غلام اسحاق خان نے ضیا کی دی ہوئی آٹھویں ترمیم کے تحت سہارا لیا تو ایک بار پھر جمہوریت ختم ہو گئی۔
اور اکتوبر 1990 کے انتخابات کے ذریعے نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔
1993 میں اسی ترمیم نے پھر کام دکھایا اور صدر نے نواز شریف کی حکومت کو ہٹادیا۔
بے نظیر بھٹو حکومت آئی مگر انہیں بھی تین سال کے لیے حکومت کرنے دی گئی۔اور اس کے بعد انہیں کی پارٹی کے لائے ہوئے صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت کو ختم کردیا۔اور نواز شریف کو الیکشن کے ذریعے حکومت میں لے آئے۔
1997 کے انتخابات میں نواز شریف کو ہیوی مینڈیٹ ملا تو انہوں نےآٹھویں ترمیم کا خاتمہ کردیا جس کے ذریعے صدر حکومتیں توڑتا تھا۔
نواز شریف نے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کے لیے چیف جسٹس کو تبدیل کیا اور صدر پر دباؤ ڈالا کہ وہ استعیفیٰ دیں۔انہوں نے لاہور ہائی کورٹ پر دباؤ ڈالا کہ وہ بے نظیر بھٹواور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو کرپشن کے الازامات میں کو سزا سنائیں۔یہ سیاستدانوں کی گندے کھیل کا حصہ تھا۔جس میں وہ ایک دوسرے کو تباہ کر رہے تھے۔انہوں نے سیایس بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف مقدمات دائر کئے۔
کتنی شرم کی بات ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک بن گیا جہاں جمہوریت ایک ہتھیار کے طور پر عوام کے خلاف استعمال ہونے لگی۔
Aug 8, 2012
No comments:
Post a Comment