اسلح کے خلاف آپریشن
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
پیر کے روز سنیٹ نے ایم کیو ایم کی مخالفت کے باوجود کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے قراداد کی منظوری کے بعد منگل کے روز ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی میں پورے ملک میں اسلحے کے خلاف آپریشن کی قرارد اد پیش کی۔
کراچی بدامنی کی اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ جہاں حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود تارگیٹ کلنگز بند نہیں ہو سکی ہیں۔کراچی صرف سندھ کا دارلاحکومت ہی نہیں بلکہ ملک کی سب سے بڑی بحری بندرگاہ اور صنعتی و تجارتی حب ہے۔یہاں پر تجارتی سرگرمیاں ختم ہو چکی ہیں جس کے خلاف تاجر تنظیمیں احتجاج اور ہڑتال کی دھمکیاں دیتی رہی ہیں۔ سپریم کورٹ بھی اس بڑے شہر کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کا حکم دے چکی ہے۔اب ایوان بالا کے اراکین نے یہ ضرورت محسوس کی تو قرارداد منظور کر لی۔
بلاشبہ پورے ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے سے سنیٹ کی قرارداد پر بھی عمل ہو جائے گا اور قومی اسمبلی کی قرارداد پر بھی۔ آخر کہیں سے تو شروعات کرنی ہے۔
قومی اسمبلی پورے ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قرارداد منظور کی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کراچی ملک کا حصہ ہے ۔ تو پھر کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قرارداد اور ایسی کارروائی پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔
ہمارے منتخب نمائندے بھی سمجھتے ہیں کہ ملک کو اسلحہ سے پاک کرنا اتنا آسان کام نہیں۔
کراچی میں کسی سیاسی فریق کی پسند ناپسند سے ہٹ کر کارروائی ہونی چاہئے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا جائے اور ان جماعتوں سے کہا جائے کہ وہ اپنی مسلحہ ونگ ختم کردیں اور ہتھیار سرینڈر کردیں۔ مگر یہ تب ہو سکے گا جب تمام جماعتوں کو یقین ہوگا کہ سب فریق ایسا کر رہے ہیں۔ اس کے بعد جرائم میں ملوث مافیاؤں میں ہاتھ ڈالا جائے۔
مگر کیا موجودہ حکومت ایسا کرے گی؟ ہمیں نہیں لگتا۔ کیونکہ حکومت کی مدت مکمل کرنے میں باقی چند ماہ ہی۔ لہٰذا وہ ایسا کرنے سے گریزاں ہے۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور سنیٹ کی قرارداد کے بعد حکومت ایسی کراوائی کرنے کی پابند ہے۔مگر اس میں تھوڑی سی فنکاری یہ کی گئی ہے کہ قومی اسمبلی سے پورے ملک کے لیے قرارداد منظور کرا لی گئی ہے۔ اس معاملے میں پیپلز پارٹی اپنی اتحادی ایم کیو ایم کے ساتھ کھڑی ہوئی نظرآتی ہے۔
اس وقت کراچی بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ہر دور میں حکومت کی خواہش رہی ہے کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جائے۔مگر کوئی بھی اتنی جرئت نہیں کر پا رہا ہے۔ نتیجے میں اس میٹرپولیٹن شہر میں اسلحہ کے ذخیرے بڑھتے جا رہے ہیں۔
مختلف گروہ، اور سیاسی تنظیمیں اپنے مفادات کے لیے کراچی کو میدان جنگ بنا رکھا ہے۔
کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے مختلف حلقے وقت بوقت مطالبے بھی کرتے رہے ہیں۔ مگر بعض فریق اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا شہر میں امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔آپریشن بلی وفاکس کے نام سے نواز شریف کے دور حکومت میں 1992 میں آپریشن کیا گیا۔یہ آپریشن میجر کلیم کو اغوا کر کے اذیتیں دینے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔اس آپریشن کے بعد خاصے عرصے تک شہر میں امن رہا۔دوسرا آپریشن بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں جنرل نصیراللہ بابر نے کیا تھا۔کراچی کی تاریخ میں یہ دو بڑے آپریشن تھے۔ مگر مشرف دور اور بعد میں پیپلز پارٹی کے مفاہمتی دور میں کراچی کو پرامن رکھنے کے لیے کبھی بھی غور نہیں کیا گیا۔ایک آپریشن ایک اتآدی جماعت کی ایما پر لیاری میں کیا گیا تھا۔ مگر اس کے نتائج بھی سب کے سامنے ہیں۔
ویسے بھی اب اتخابات قریب ہیں ایسے میں ہر سیاسی فریق اپنی طاقت کا مظاہرہ ہتھیاروں سے ہی کرے گا۔ اسیے میں جب کراچی میں بڑے پیمانے پر اسلحہ موجود ہو اور لسانی و فرقہ وارانہ کشیدگی بھی ہو تو پھر اس بڑے شہر میں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
حال ہی میں ایک مرحلہ پر ایم کیو ایم بھی کراچی میں آپریشن کا مطالبہ کر چکی ہے۔مگر اب مخالفت کر رہی ہے۔
آج کی دنیا میں اسلحہ کی نہیں قلم، تعلیم ، تہذیب اور سیاسی جرئت عوام دوست پالیسیوں کی بڑی اہمیت ہے۔اور ہتھیاروں کے استعمال کو نحوست سمجھتا ہے۔
پاکستان میں شدت پسندی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔لہٰذا تھوڑی بہت حیثیت والا شخص بھی اپنے ساتھ اسلحہ رکھنا چاہتا ہے اور یہ بات اب فیشن اور نماء میں بھی شامل ہو چکی ہے۔اگر اسلحہ ہوگا تو استعامال بھی ضرور ہوگا۔اور یہی ہتھیار ملک میں شدت پسندی کو پراون چڑھانے اور رواداری کو ختم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
ملک میں اسلحے کا بیج افغان جنگ میں بویا گیا تھا۔ اور پرائی جنگ خود پر مسلط کرنے کے سبب دینا کے مختلف ممالک سے مذہبی اتہا پسند بھی ملک میں آئے اور اسلحے کی ریل پیل بھی ہوئی۔ اس اسلحہ کی وجہ سے ہر طرح کے جرائم، قبائل جھگڑوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی اسلحہ کا ستعامل بڑھ گیا۔ یہاں تک کہ اب کراچی وغیرہ میں کسی سیاسی جماعت کی حیثیت ناپی ہی اسی بنیاد پر اجتی ہے کہ اس کے پاس گن پاور کتنا ہےْ
22-11-2012
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
پیر کے روز سنیٹ نے ایم کیو ایم کی مخالفت کے باوجود کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے قراداد کی منظوری کے بعد منگل کے روز ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی میں پورے ملک میں اسلحے کے خلاف آپریشن کی قرارد اد پیش کی۔
کراچی بدامنی کی اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ جہاں حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود تارگیٹ کلنگز بند نہیں ہو سکی ہیں۔کراچی صرف سندھ کا دارلاحکومت ہی نہیں بلکہ ملک کی سب سے بڑی بحری بندرگاہ اور صنعتی و تجارتی حب ہے۔یہاں پر تجارتی سرگرمیاں ختم ہو چکی ہیں جس کے خلاف تاجر تنظیمیں احتجاج اور ہڑتال کی دھمکیاں دیتی رہی ہیں۔ سپریم کورٹ بھی اس بڑے شہر کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کا حکم دے چکی ہے۔اب ایوان بالا کے اراکین نے یہ ضرورت محسوس کی تو قرارداد منظور کر لی۔
بلاشبہ پورے ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے سے سنیٹ کی قرارداد پر بھی عمل ہو جائے گا اور قومی اسمبلی کی قرارداد پر بھی۔ آخر کہیں سے تو شروعات کرنی ہے۔
قومی اسمبلی پورے ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قرارداد منظور کی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کراچی ملک کا حصہ ہے ۔ تو پھر کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قرارداد اور ایسی کارروائی پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔
ہمارے منتخب نمائندے بھی سمجھتے ہیں کہ ملک کو اسلحہ سے پاک کرنا اتنا آسان کام نہیں۔
کراچی میں کسی سیاسی فریق کی پسند ناپسند سے ہٹ کر کارروائی ہونی چاہئے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا جائے اور ان جماعتوں سے کہا جائے کہ وہ اپنی مسلحہ ونگ ختم کردیں اور ہتھیار سرینڈر کردیں۔ مگر یہ تب ہو سکے گا جب تمام جماعتوں کو یقین ہوگا کہ سب فریق ایسا کر رہے ہیں۔ اس کے بعد جرائم میں ملوث مافیاؤں میں ہاتھ ڈالا جائے۔
مگر کیا موجودہ حکومت ایسا کرے گی؟ ہمیں نہیں لگتا۔ کیونکہ حکومت کی مدت مکمل کرنے میں باقی چند ماہ ہی۔ لہٰذا وہ ایسا کرنے سے گریزاں ہے۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور سنیٹ کی قرارداد کے بعد حکومت ایسی کراوائی کرنے کی پابند ہے۔مگر اس میں تھوڑی سی فنکاری یہ کی گئی ہے کہ قومی اسمبلی سے پورے ملک کے لیے قرارداد منظور کرا لی گئی ہے۔ اس معاملے میں پیپلز پارٹی اپنی اتحادی ایم کیو ایم کے ساتھ کھڑی ہوئی نظرآتی ہے۔
اس وقت کراچی بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ہر دور میں حکومت کی خواہش رہی ہے کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جائے۔مگر کوئی بھی اتنی جرئت نہیں کر پا رہا ہے۔ نتیجے میں اس میٹرپولیٹن شہر میں اسلحہ کے ذخیرے بڑھتے جا رہے ہیں۔
مختلف گروہ، اور سیاسی تنظیمیں اپنے مفادات کے لیے کراچی کو میدان جنگ بنا رکھا ہے۔
کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے مختلف حلقے وقت بوقت مطالبے بھی کرتے رہے ہیں۔ مگر بعض فریق اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا شہر میں امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔آپریشن بلی وفاکس کے نام سے نواز شریف کے دور حکومت میں 1992 میں آپریشن کیا گیا۔یہ آپریشن میجر کلیم کو اغوا کر کے اذیتیں دینے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔اس آپریشن کے بعد خاصے عرصے تک شہر میں امن رہا۔دوسرا آپریشن بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں جنرل نصیراللہ بابر نے کیا تھا۔کراچی کی تاریخ میں یہ دو بڑے آپریشن تھے۔ مگر مشرف دور اور بعد میں پیپلز پارٹی کے مفاہمتی دور میں کراچی کو پرامن رکھنے کے لیے کبھی بھی غور نہیں کیا گیا۔ایک آپریشن ایک اتآدی جماعت کی ایما پر لیاری میں کیا گیا تھا۔ مگر اس کے نتائج بھی سب کے سامنے ہیں۔
ویسے بھی اب اتخابات قریب ہیں ایسے میں ہر سیاسی فریق اپنی طاقت کا مظاہرہ ہتھیاروں سے ہی کرے گا۔ اسیے میں جب کراچی میں بڑے پیمانے پر اسلحہ موجود ہو اور لسانی و فرقہ وارانہ کشیدگی بھی ہو تو پھر اس بڑے شہر میں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
حال ہی میں ایک مرحلہ پر ایم کیو ایم بھی کراچی میں آپریشن کا مطالبہ کر چکی ہے۔مگر اب مخالفت کر رہی ہے۔
آج کی دنیا میں اسلحہ کی نہیں قلم، تعلیم ، تہذیب اور سیاسی جرئت عوام دوست پالیسیوں کی بڑی اہمیت ہے۔اور ہتھیاروں کے استعمال کو نحوست سمجھتا ہے۔
پاکستان میں شدت پسندی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔لہٰذا تھوڑی بہت حیثیت والا شخص بھی اپنے ساتھ اسلحہ رکھنا چاہتا ہے اور یہ بات اب فیشن اور نماء میں بھی شامل ہو چکی ہے۔اگر اسلحہ ہوگا تو استعامال بھی ضرور ہوگا۔اور یہی ہتھیار ملک میں شدت پسندی کو پراون چڑھانے اور رواداری کو ختم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
ملک میں اسلحے کا بیج افغان جنگ میں بویا گیا تھا۔ اور پرائی جنگ خود پر مسلط کرنے کے سبب دینا کے مختلف ممالک سے مذہبی اتہا پسند بھی ملک میں آئے اور اسلحے کی ریل پیل بھی ہوئی۔ اس اسلحہ کی وجہ سے ہر طرح کے جرائم، قبائل جھگڑوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی اسلحہ کا ستعامل بڑھ گیا۔ یہاں تک کہ اب کراچی وغیرہ میں کسی سیاسی جماعت کی حیثیت ناپی ہی اسی بنیاد پر اجتی ہے کہ اس کے پاس گن پاور کتنا ہےْ
22-11-2012
No comments:
Post a Comment