پانچ سال کیسے بیتے
سہیل سانگی
حکومت نے تو پانچ سال کی مدت پوری کرلی۔یہ ایک کارنامہ تھا۔ لیکن عوام کے خواب ادھورے ہی رہے۔
پاکستان میں کسی حکومت کو مدت پوری کرنے کے لیے نااہل اورغیر موثر ہونا ضروری ہے؟ یا یہ کہ اپوزیشن کو بھی مراعات دینا ضروری ہے؟ سندھ کے درویش وتایو فقیر نے کہا تھا کہ کبھی کبھی برائی بھی کام آجاتی ہے۔ یہ بات پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنے پر صادق آتی ہے۔ اس نے تمام برائیوں اور تنقیدوں کے باوجود یہ مدت پوری کی، بعض حلقوں کا کہناہے کہ اس مدت پوری کرنے کا راز ہی یہ برائیاں تھیں۔
صدر زرداری نے کہا تھا کہ یہ ہم جانتے ہیں کہ پانچ سال کی مدت کیسے پوری کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا کہ یہ آصف زرداری کی مفاہمت، الطاف، پیر پاگارا، اسفندیار کی غیر مشروط حمایت تھی کہ پانچ سال پورے کئے۔سچ یہ ہے پیپلز پارٹی نے کھینچ تان کر مدت پوری کی ہے جس میں تھک ہوئے کھلاڑی کی طرح اس کی دم بھی پھول گئی تھی۔
سیاسی معاملات:
صوبے میں پیپلز پارٹی کی اکثریت تھی وہ بلا شرکت غیرے حکومت بنا سکتی تھی۔ لیکن اس نے مفاہمت کا فارمولا اپنایا اور پہلے ایم کیو ایم کو اور بعد میں سندھ اسمبلی میں موجود تمام پارٹیوں کو حکومت میں شامل کیا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ اس کے باجود پورا وقت سندھ سیاسی بحران کی لپیٹ میں رہا۔ پیپلز پارٹی اتحادیوں کی منتیں کرتی اور اس کے مطالبات مانتی رہی۔ حکومت کی بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پانچ سال میں کم از کم پانچ مرتبہ ناراض ہوئی۔
یہ سیاسی عدم استحکام آخر تک رہا پہلے دن سے آخر تک رہا۔ بلوچستان کے بعد سندھ دوسرے نمبر پر تھا جہاں اتنا سیاسی عدم استحکام تھا، ورنہ پنجاب اور خیبر پخونخوا میں ایسا نہیں تھا۔
پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا رکارڈ برقرار رکھا۔ بلدیاتی نظام ایک کھیل بنا رہا۔ پہلے اس نے مشرف کا نظام ختم کرکے79ع کا نظام بحال کیا۔ مگر چند روز کے بعد پھر مشرف کا ضلع حکومتوں کا نظام را رائج کیا جس پر سندھ سراپا احتجاج رہی۔ اس نظام کو دو مرتبہ نافذ کیا اور واپس بھی لیا۔
سندھ اسمبلی آدھی مدت تک بغیر اپوزیشن کے رہی۔ اسمبلی میں موجود تمام پارٹیاں حکومت میں رہیں کوئی مخالفت نہیں تھی۔ اگر کچھ عرصہ اپوزیشن رہی بھی تو اہ دوستانہ اپوزیشن تھی۔
سب اتحادیوں کو خوش رکھنے کے لیے کسی کو وزیر کسی کو مشیر تو کسی کو خصوصی معاون اور کسی کو کوآرڈینیٹر بنایا گیا۔ کابینہ تو بہت بڑی تھی، مگر پھر بھی آدھی درجن محکمے وزیراعلیٰ کے پاس رہے۔ جس کی وجہ سے انتظامی اور فیصلہ سازی متاثر ہوتی رہی۔
صوبہ میں پانچ سے ڈھائی سال تک بغیر وزیر داخلا کے رہا۔صدر زرداری کے دوست ذوالفقار مرزا کے استعیفے کے بعد منظور وسان وزیر داخلہ رہے مگر چند ہی ماہ بعد ان سے یہ محکمہ لے لیا گیا۔ اور صوبے کے داخلی معاملات میں وفاق مداخلت کرتا رہا۔ رحمان ملک کو خصوصی ٹاسک تھا۔
پانچ سندھی قوم پرست رہنما قتل ہوئے۔ بشیر قریشی کی پراسرا حالات میں موت وقع ہوئی جبکہ روپلو چالیانی اور اس کے دو ساتھیوں کو کھپرو کے قریب قتل کرکے ان کی لاشوں کو آگ لگادی گئی۔ مظفر بھٹو کی لاش اس کی پراسرار گمشدگی کے بعد ملی۔ بلوچستان کی طرح سندھ میں بھی پراسرار گمشدگیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
ذوالفقار مرزا سے دوستی ختم ہوئی۔
گورننس اور اقرباء پروری:
صوبے میں ذاتی قسم کا طرز حکمرانی رہا۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات عام تھی کہ سب فیصلے صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کرتی ہیں ۔وزیر اعلیٰ سندھ صرف ان فیصلوں پر عمل کرتے تھے۔ بعدصدر کے منہ بولے بھائی اویس ٹپی بھی سامنے آئے۔
سندھ سروسز ایکٹ میں ترمیم کی گئی جس کے بعد حکومت کو یہ صوابدیدی اختیار مل گیا کہ وہ کسی بھی افسر کو ترقی دے سکتی ہے اورکسی بھی محکمہ میں تعینات کر سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ نیم سرکاری اداروں کے افسران کے ریگیولر کیڈر میں ضم کرنے کا بھی حکومت کو اختیار مل گیا۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کو بالائے طاق رکھ رکھ کر آفیسر گریڈ میں بھرتیوں کا اختیار بھی حکومت نے حاصل کر لیا۔ نتیجے میں وزراء نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی اپنے محکمہ میں بھرتی کر کے انہیں ریگیولر افسر گریڈ میں ضم کرا دیا۔
اب صورتحال یہ ہے پیپلز پارٹی کے ہر وزیر، ایم این اے، اور ایم پی اے کا بیٹا، بھائی، یا کوئی اور قریبی رشتہ دار کسی اچھے محکمے میں افسر ہے۔
امن امان کی صورتحال:
خودکش دھماکے جو مشرف دور میں شروع ہوئے تھے وہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی جاری رہے۔ صوبے میں بدامنی برقرار رہی۔ بلکہ بڑھی۔اغوا برائے تاوان کی وارداتیں اور ہوتی رہیں ۔ جبکہ قبائلی جھگڑے اور جرگے بھی جاری رہے۔
لسانی و فرقہ وارانہ تشدد اور قتل کے واقعات ہوتے رہے جس میں بڑی تعداد لاسنی تشدد کے واقعات کی تھی۔
صوبے میں پہلی بار درگاہوں پر حملے ہوئے۔جن کو حکومت روک نہ سکی۔
کراچی میں ٹارگیٹ کلنگز نہیں رکی۔ یہ لسانی زیادہ تھی اور فرقہ وارنہ کم تھی۔ مختلف حکومتی اعلانات ہوتے رہے۔ وفاقی وزیر داخلا رحمان ملک نے کمیٹیاں بنائیں مگر سب فضول تھا۔ کراچی میں امن امان کی صورتحال پر سپریم کورٹ کو نوٹس لیا پڑا۔
تعلیم اور صحت :
صوبے میں اسکولوں پر قبضے برقرار رہے۔ ہزاروں اساتذہ گھروں پر بیٹھ کر تنخواہیں لیتے رہے۔ امن وامان کے بعد اس شعبے میں بھی عدالت نے حکومت کے آخری چار ہفتوں میں کارروائی کی کرنی پڑی۔ بند اسکول کھولنے اور غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مقامی ججز کو چھاپے مارنے کی ہدایت کی۔
سندھ یونیورسٹی ساتذہ اور ملازمین کے احتجاج کی وجہ سے دو ماہ تک مسلسل بند رہی۔ جبکہ صوبے کی باقی سرکاری یونیورسٹیوں میں تدریسی عمل تعطل کا شکار رہا۔
حیدرآباد، لاڑکانہ اور میرپورخاص کی ہسپتالیں میں انتظامی افسران کے تبادلے کے تنازعے ہفتوں تک طبی سہولیات دینے میں رکاوٹ بنے رہے۔صوبے میں خسرے کی بیماری کی وجہ سے دو سو سے زائد بچے پلاک ہوئے۔ حکومت اس مرض سے تحفظ اور علاج کے لیے موثر اقدامات نہ کر سکی۔
ؑ بیچارہ عوام :
سیلاب آیا۔ کئی حفاظتی بند غیر متوقع طور پر ٹوٹے ۔ ہزاروں گاؤں زیر آب آگئے۔ 2010ع میں دریائے سندھ کے بائیں کنارے اور دوسرے سال بائیں کنارے تباہ ہوئے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ کئی علاقوں میں ابھی تک پانی کھڑا ہے۔ حکومت ان متاثرین کی بروقت امداد نہ کرسکی۔لاکھوں لوگ بغیر کسی شیلٹر کے مہینوں کیمپوں میں پڑے رہے۔ پہلے یہ اعلان کیا یا کہ متاثرین کو کراچی اور حیدرآباد میں آباد کیا جائے گا۔ لیکن بعد میں حکومت اس وعدے سے مکر گئی۔ ابھی تک لوگ دربدر ہیں۔
تھر میں قحط آیا۔ مگر حکومت کوئی مدد نہ کرسکی۔
ترقیاتی اسکیمیں:
سندھ حکومت صوبے میں کوئی میگاپروجیکٹ شروع نہ کرسکی۔ ترقیاتی اسکیمیں آئیں مگر اس میں نابرابری رکھی گئی۔ بڑی بڑی اسکیمیں بالائی علاقے کے لیے رہیں جہاں یونیورسٹیاں اور دیگر منصوبے شروع ہوتے رہے۔ ذوالفقارآباد اسکیم مخالفت کی وجہ سے شروع نہیں کی جاسکی۔
وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے پوچھے بغیر ساحلی علاقے میں واقع دو جزیرے دو نجی کمپنیوں کو الاٹ کئے گئے۔ بعض ممبران کی نشاندہی کے باجود سندھ اسمبلی آخری دن بھی اس کے خلاف قرارداد منظور نہ کرسکی۔
تھر کول پرپی پی کے وعدے مشرف کے وعدوں کی طرح ہی رہے۔ ڈاکٹر ثمرمبارک کو خطیر رقم فراہم کی گئی لیکن ان کا منصوبہ بھی تھر کول کو استعمال نہ کر سکا۔
ملازمتیں دی گئیں ۔جوزیادہ تر محکمہ تعلیم میں تھیں۔اس کے ساتھ ساتھ ملازمتیں پیسوں پر بیچنے کے الزامات بھی لگتے رہے۔ سرکاری ملازمین مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کرتے رہے۔ اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر سرکاری ملازمین پر لاٹھیاں برسائی گئیِ ۔
اقلیتیں:
ہندو لڑکیوں کو اغوا کر کے مذہب تبدیل کرنے کے بھی واقعات رپورٹ ہوتے رہے۔جن کو حکومت تحفظ دینے میں ناکام رہی۔نتیجے میں ہندو آبادی کے انخلاء میں اضافہ ہوا۔
عوام کو کچھ ملا یا نہ ملا اسمبلی ممبران جاتے جاتے اپنے لیے عمر بھر کا سامان کر گئے۔ عوام کا اسٹیٹس تو وہی رہا ۔ ان حضرات کا تاحیات اسٹیٹس بڑھ گیا۔اسمبلی نے تاحیات مراعات حاصل کرنے والا طبقہ بنا لیا۔ پیکیج تھا مگر عوام کے لیے نہیں۔
پروین شاکر نے شاید اس موقع کے لیے کہا تھا:
کل رات ایک گھر میں بڑی روشنی رہی،
تارا میرے نصیب کا تھا اور کھلا کہیں اور
No comments:
Post a Comment