میڈیا کے ذریعے آئندہ انتخابات جیتنے کا معاملہ
سندھ نامہ
۔۔ سہیل سانگی
میڈیا کے ذریعے آئندہ انتخابات جیتنے کا معاملہ
’’روزنامہ کاوش ‘‘ بد امنی کی آگ میں جلتا ہوا سندھ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے جب اقتدار سنبھالا تھا تو انہوں نے امن امان کو اولیت قرار دیا تھا۔ مگر چار سال کی مدت کے دوران اس اولیت کی یہ حالت ہے کہ سندھ میں امن کا پرندہ اڑ چکا گیا۔برادری تکراروں کی وجہ سے سندھ بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔حکومت ا ن خونی جھگڑوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ایک برادری جھگڑا ختم ہوتا ہے تو دوسرا سر اٹھاتا ہے۔ ان قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے سندھ میں کئی نو گو ایریاز قائم ہو چکے ہیں۔حال ہی میں لاشاری کلہوڑا جھگڑے کی وجہ سے ویہڑ تھانے کا علاقہ بھی نو گو ایریا بن گیا۔
زمین کی ملکیت پر اس تصادم میں ایک نوجوان قتل ہو چکا ہے اور دونوں فریقین مورچہ بند ہیں۔ علاقے میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے مگر حکمران عوام کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اب حکمرانوں کی اولیت صرف مفاہمت ہی جا ٹہری ہے۔ مفاہمت کی مصروفیت کی وجہ سے ان کے پاس وقت نہیں ہے جو امن امان پر توجہ دے سکیں۔پولیس بھی امن امان پر توجہ نہیں دے رہی ہے کیونکہ سابقہ ادوار کی طرح یہ اس مرتبہ بھی پروٹوکول فورس بنی ہوئی ہے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ عوام کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔
’’بلا روح صوبائی خود مختاری کی اصطلاح ‘‘کے عنوان سے’’ روزنامہ کاوش ‘‘ایک اور داریے میں لکھتا ہے کہ ملک میں خواہ جمہوری حکومت ہو یا آمرانہ نظام سندھ کے بارے میں وفاق کا مزاج اور رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔آج جمہوری حکومت اقتدار میں ہے جو صوبائی حقوق کے تحفظ کی دعویدار ہے۔اس دور حکومت میں بھی سندھ کے ساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے۔
وفاقی حکومت خدمات پر عائد سیلز ٹیکس کی مد میں وصول ہونے والی رقومات دیگر تینوں صوبوں کو بڑی باقاعدگی سے منتقل کررہی ہے۔ مگر سندھ سے وصول کی گئی خدمات پر ٹیکس کی رقم گذشتہ آٹھ ماہ سے بلا جواز روکی ہوئی ہے۔یہ رقم جاری نہ ہونے پر صوبائی حکومت نے وفاق کو پانچویں بار خط لکھ کر احتجاج کیاہے۔مگر وفاق صوبے کے اس جائز مطالبے کو حساب میں لانے کے لیے تیا رنہیں۔حکومت اٹھارویں ترمیم کا کریڈٹ تو لیتی ہے، مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو اسلام آباد میں موجود بیوروکریسی اس ترمیم پر عمل درآمد کرنے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔خدمات پر سیلز ٹیکس تھا ہی صوبائی اسم، جو اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو لوٹا یا گیا ہے۔باقی تین صوبوں کو تو انکا حق مل رہا ہے۔مگر لگتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کا اطلاق سندھ پر نہیں ہو رہا ہے۔صوبائی خود مختاری مکمل تب سمجھی جاتی ہے جب مالیاتی بھی خود مختاری ہو۔
جب صوبے وفاق کے سامنے مجبور ہوں، اس کے محتاج ہوں، اپنے وسائل اور حق حاصل کرنے سے عاجز ہوں تو اس صورتحال میں صوبوں کو کیا خودمختاری حاصل ہوگی؟
’’مشترکہ مفادات کی کونسل کو متناز نہ بنائیں‘‘ کے عنوان سے روزانہ عوامی آواز اداریے میں لکھتا ہے کہ وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں وزیر اعلی سندھ نے مطالبہ کیا کہ آٹھویں ترمیم کے تحت سندھ سے نکلنے ولی گیس اور تیل کی کل آمدن میں سے نصف رقم سندھ کو دی جائے۔وزیر اعظم نے سندھ کے اس موقف کو تسلیم بھی کیا تھا اور اس فیصلے کی خبریں اخبارات میں شایع بھی ہوئی تھیں۔ مگر اب اس اجلاس کی کارروائی کے منٹس جاری کئے گئے ہیں تو یہ فیصلہ اس کارروائی کے ریکارڈ سے غائب ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے بعدایک صوبے کا آئین حق اور وزیر اعظم اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلی کا فیصلہ پنجابی اسٹبلشمنٹ نے ماننے سے انکار کردیا۔اس سے ایک بار پھر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہاسٹبلشمنٹ میں صوبوں کی مؤثر نمائندگی نہ ہونے، ایک صوبے سے تعلق رکھنے والے سیکریٹریوں کی اکثریت، اور فوج میں دوسرے صوبوں کے لوگ نہ ہونے کی وجہ سے آج تک وفاق ایک ہی صوبے کے مفادات کو مدنظر رکھتا رہا ہے۔ آدھا ملک گنوانے کے بعد بلوچستان کو بھی انہی وجوہات کی بنا پر ناراض کیا گیا۔اب ایک بار پھر وفاق صوبوں کے حقوق چھیننے کی غلطی دہرا رہا ہے۔اگر بعض حلقے سندھ کے مفادات کی حق سے متعلق شقیں حذف ہونے کو تیکنکی غلطی قرار دے رہے ہیں ، مگر یہ تیکنکی غلطی نہیں ہے کیونکہ بار بار دہرائی جا رہی ہے۔اور سندھ کے حقوق غصب کرنے والوں کی دانستہ کوشش ہے جو گذشتہ 64برسوں سے جاری ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ چیف سیکریٹری پنجاب نے اپنے طور پر چاروں صوبوں کو ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ جو منٹس بھیجے گئے ہیں وہی درست ہیں اور باقی صوبے انہی منٹس کو صحیح مان کر دستخط کردیں۔حکومت پنجاب کے اس موقف سے ایسا لگتا ہے کہ پنجاب میں تیل اور گیس کے ذخائر نہیں ہیں تو کیا اٹھارویں ترمیم کے با وجود باقی تینوں صوبے اور خاص طور پر سندھ اپنے جائز اور آئینی حق سے دستبردار ہو جائے؟اب قومیں بیدار ہیں۔انکو حقوق نہ دینا ملک سے دشمنی کے مترادف ہوگا۔وزیر اعظم سے مطالبہ ہے کہ وہ پیٹرولیم کی تلاش اور پیداوار سے متعلق پالیسی کو مشترکہ مفادات کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے سے حذف کرنے کی تحقیقات کا حکم دیں، اور سندھ سے نکلنے والے تیل اور گیس پر اس صوبے کا حق تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔
’’ روزنامہ عبرت ‘‘کے کالم نگار عاجز جمالی لکھتے ہیں ٹنڈو محمد خان سے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی منتخب ایم پی اے وحیدہ شاہ نے ایک خاتون پلنگ افسر کو پولنگ کے دوران چماٹ ماری تھی وہ اسکو خاصی مہنگی پڑی۔پاکستان کی میڈیا نے اس کو اشو بنا لیا ہے۔بطور صحافی میں حیران ہوں کہ ایک چماٹ پراتنا ردعمل۔کاش ہمیشہ ایسا ہی ہو۔کیا واقعی ہماری میڈیا اتنی طاقتور ہوگئی ہے یا صرف ٹنڈو محمد خان کی حد تک طاقتور ہے؟ اسکو شہری علاقوں ہونے والی سرگرمیاں نظر نہیں آتی ہیں۔ پاکستان کی صحافت الیکٹرانک میڈیا کے بعد یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ صحافت کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ آج کا اہم سوال ہے ۔کیونکہ بعض سیاسی حلقے، خفیہ ادارے، دہشتگرد قوتیں آئندہ انتخابات میڈیا کے ذریعے جیتنا چاہتی ہیں۔
میڈیا کو اپنے ساتھ کرنے کے لیے کروڑوں روپے مختص کر چکے ہیں بعض بڑے میڈیا اداروں نے اپنا ٹائیم فروخت کرنے کے لیے اشتہار دینا شروع کئے ہیں۔ یہ امیدوار میڈیا کے ذریعے آئندہ انتخابات جیتیں گے، وزیر بن کر کمائی کرینگے۔ میڈیا مالکان بھی انتخابات میں کمائیں گے۔مگر جمہوریت کا بیڑا غرق ہوجائیگا۔2008 کے انتخابات میں بھی یہی میڈیا تھی۔مجھے یاد ہے کہ شہری علاقوں کے پولنگ اسٹیشوں پر کیا کیا ہوا تھا۔کراچی میں الیکشن کوریج کے لیے کیا ہدایات دی گئی
\تھیں۔
گذشتہ عام انتخابات کے دوران کراچی میں پولنگ اسٹیشن کا تمام عملہ یرغمال بنا تھا۔میڈیا کو وحیدہ شاہ کی تھپڑ تو یاد ہے یرغمال بنی ہوئی پوری کی پوری پولنگ اسٹیشنیں انکو یاد نہیں۔ پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس نے سیاست میں میڈیا کو ذرا برابر بھی اہمیت نہیں دی ہے۔پیپلز پارٹی کے بعض پہلوانوں نے میڈیا کے نام پر’’پالتو فوج‘‘ ضرور تیار کی ہے۔ جو بعض رہنماؤں کے ذاتی آشیرواد سے مال تو ضرور بنا رہی ہے۔ اس ’’پالتو فوج ‘‘کو چند لوگوں کی ضرورفکر ہے مگر میڈیا منیجرز پیدا نہ کر سکی ہے۔ وحیدہ شاہ کی چماٹ ریکارڈ پر رہنی چاہئے۔ مگر اس پر سوچنا چاہئے کہ آئندہ انتخابات میں کئی چماٹیں لگنے والی ہیں۔۔
’’بلا روح صوبائی خود مختاری کی اصطلاح ‘‘کے عنوان سے’’ روزنامہ کاوش ‘‘ایک اور داریے میں لکھتا ہے کہ ملک میں خواہ جمہوری حکومت ہو یا آمرانہ نظام سندھ کے بارے میں وفاق کا مزاج اور رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔آج جمہوری حکومت اقتدار میں ہے جو صوبائی حقوق کے تحفظ کی دعویدار ہے۔اس دور حکومت میں بھی سندھ کے ساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے۔
وفاقی حکومت خدمات پر عائد سیلز ٹیکس کی مد میں وصول ہونے والی رقومات دیگر تینوں صوبوں کو بڑی باقاعدگی سے منتقل کررہی ہے۔ مگر سندھ سے وصول کی گئی خدمات پر ٹیکس کی رقم گذشتہ آٹھ ماہ سے بلا جواز روکی ہوئی ہے۔یہ رقم جاری نہ ہونے پر صوبائی حکومت نے وفاق کو پانچویں بار خط لکھ کر احتجاج کیاہے۔مگر وفاق صوبے کے اس جائز مطالبے کو حساب میں لانے کے لیے تیا رنہیں۔حکومت اٹھارویں ترمیم کا کریڈٹ تو لیتی ہے، مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو اسلام آباد میں موجود بیوروکریسی اس ترمیم پر عمل درآمد کرنے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔خدمات پر سیلز ٹیکس تھا ہی صوبائی اسم، جو اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو لوٹا یا گیا ہے۔باقی تین صوبوں کو تو انکا حق مل رہا ہے۔مگر لگتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کا اطلاق سندھ پر نہیں ہو رہا ہے۔صوبائی خود مختاری مکمل تب سمجھی جاتی ہے جب مالیاتی بھی خود مختاری ہو۔
جب صوبے وفاق کے سامنے مجبور ہوں، اس کے محتاج ہوں، اپنے وسائل اور حق حاصل کرنے سے عاجز ہوں تو اس صورتحال میں صوبوں کو کیا خودمختاری حاصل ہوگی؟
’’مشترکہ مفادات کی کونسل کو متناز نہ بنائیں‘‘ کے عنوان سے روزانہ عوامی آواز اداریے میں لکھتا ہے کہ وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں وزیر اعلی سندھ نے مطالبہ کیا کہ آٹھویں ترمیم کے تحت سندھ سے نکلنے ولی گیس اور تیل کی کل آمدن میں سے نصف رقم سندھ کو دی جائے۔وزیر اعظم نے سندھ کے اس موقف کو تسلیم بھی کیا تھا اور اس فیصلے کی خبریں اخبارات میں شایع بھی ہوئی تھیں۔ مگر اب اس اجلاس کی کارروائی کے منٹس جاری کئے گئے ہیں تو یہ فیصلہ اس کارروائی کے ریکارڈ سے غائب ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے بعدایک صوبے کا آئین حق اور وزیر اعظم اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلی کا فیصلہ پنجابی اسٹبلشمنٹ نے ماننے سے انکار کردیا۔اس سے ایک بار پھر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہاسٹبلشمنٹ میں صوبوں کی مؤثر نمائندگی نہ ہونے، ایک صوبے سے تعلق رکھنے والے سیکریٹریوں کی اکثریت، اور فوج میں دوسرے صوبوں کے لوگ نہ ہونے کی وجہ سے آج تک وفاق ایک ہی صوبے کے مفادات کو مدنظر رکھتا رہا ہے۔ آدھا ملک گنوانے کے بعد بلوچستان کو بھی انہی وجوہات کی بنا پر ناراض کیا گیا۔اب ایک بار پھر وفاق صوبوں کے حقوق چھیننے کی غلطی دہرا رہا ہے۔اگر بعض حلقے سندھ کے مفادات کی حق سے متعلق شقیں حذف ہونے کو تیکنکی غلطی قرار دے رہے ہیں ، مگر یہ تیکنکی غلطی نہیں ہے کیونکہ بار بار دہرائی جا رہی ہے۔اور سندھ کے حقوق غصب کرنے والوں کی دانستہ کوشش ہے جو گذشتہ 64برسوں سے جاری ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ چیف سیکریٹری پنجاب نے اپنے طور پر چاروں صوبوں کو ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ جو منٹس بھیجے گئے ہیں وہی درست ہیں اور باقی صوبے انہی منٹس کو صحیح مان کر دستخط کردیں۔حکومت پنجاب کے اس موقف سے ایسا لگتا ہے کہ پنجاب میں تیل اور گیس کے ذخائر نہیں ہیں تو کیا اٹھارویں ترمیم کے با وجود باقی تینوں صوبے اور خاص طور پر سندھ اپنے جائز اور آئینی حق سے دستبردار ہو جائے؟اب قومیں بیدار ہیں۔انکو حقوق نہ دینا ملک سے دشمنی کے مترادف ہوگا۔وزیر اعظم سے مطالبہ ہے کہ وہ پیٹرولیم کی تلاش اور پیداوار سے متعلق پالیسی کو مشترکہ مفادات کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے سے حذف کرنے کی تحقیقات کا حکم دیں، اور سندھ سے نکلنے والے تیل اور گیس پر اس صوبے کا حق تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔
’’ روزنامہ عبرت ‘‘کے کالم نگار عاجز جمالی لکھتے ہیں ٹنڈو محمد خان سے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی منتخب ایم پی اے وحیدہ شاہ نے ایک خاتون پلنگ افسر کو پولنگ کے دوران چماٹ ماری تھی وہ اسکو خاصی مہنگی پڑی۔پاکستان کی میڈیا نے اس کو اشو بنا لیا ہے۔بطور صحافی میں حیران ہوں کہ ایک چماٹ پراتنا ردعمل۔کاش ہمیشہ ایسا ہی ہو۔کیا واقعی ہماری میڈیا اتنی طاقتور ہوگئی ہے یا صرف ٹنڈو محمد خان کی حد تک طاقتور ہے؟ اسکو شہری علاقوں ہونے والی سرگرمیاں نظر نہیں آتی ہیں۔ پاکستان کی صحافت الیکٹرانک میڈیا کے بعد یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ صحافت کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ آج کا اہم سوال ہے ۔کیونکہ بعض سیاسی حلقے، خفیہ ادارے، دہشتگرد قوتیں آئندہ انتخابات میڈیا کے ذریعے جیتنا چاہتی ہیں۔
میڈیا کو اپنے ساتھ کرنے کے لیے کروڑوں روپے مختص کر چکے ہیں بعض بڑے میڈیا اداروں نے اپنا ٹائیم فروخت کرنے کے لیے اشتہار دینا شروع کئے ہیں۔ یہ امیدوار میڈیا کے ذریعے آئندہ انتخابات جیتیں گے، وزیر بن کر کمائی کرینگے۔ میڈیا مالکان بھی انتخابات میں کمائیں گے۔مگر جمہوریت کا بیڑا غرق ہوجائیگا۔2008 کے انتخابات میں بھی یہی میڈیا تھی۔مجھے یاد ہے کہ شہری علاقوں کے پولنگ اسٹیشوں پر کیا کیا ہوا تھا۔کراچی میں الیکشن کوریج کے لیے کیا ہدایات دی گئی
\تھیں۔
گذشتہ عام انتخابات کے دوران کراچی میں پولنگ اسٹیشن کا تمام عملہ یرغمال بنا تھا۔میڈیا کو وحیدہ شاہ کی تھپڑ تو یاد ہے یرغمال بنی ہوئی پوری کی پوری پولنگ اسٹیشنیں انکو یاد نہیں۔ پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس نے سیاست میں میڈیا کو ذرا برابر بھی اہمیت نہیں دی ہے۔پیپلز پارٹی کے بعض پہلوانوں نے میڈیا کے نام پر’’پالتو فوج‘‘ ضرور تیار کی ہے۔ جو بعض رہنماؤں کے ذاتی آشیرواد سے مال تو ضرور بنا رہی ہے۔ اس ’’پالتو فوج ‘‘کو چند لوگوں کی ضرورفکر ہے مگر میڈیا منیجرز پیدا نہ کر سکی ہے۔ وحیدہ شاہ کی چماٹ ریکارڈ پر رہنی چاہئے۔ مگر اس پر سوچنا چاہئے کہ آئندہ انتخابات میں کئی چماٹیں لگنے والی ہیں۔۔
No comments:
Post a Comment