سینکڑوں سفید پوش بطورسوئیپر بھرتی
سہیل سانگی
سوئیپرس کے حوالے سے یہ مقولہ مشہورہے ’’ کل میں سوئیپر تھا، آج میرا بیٹا سویپر ہے اور آنے والی کل کو میرا پوتا سوئیپر ہوگا۔‘‘ لیکن اب شاید سوئیپر کے بیٹے یا پوتے کو یہ جاب بھی نہ ملے۔
سندھ میں حکومت نے صفائی کرنے والے عملے (سوئیپرز) کی گریڈ ایک کی ملازمتوں کی جس طرح سے تقسیم اقرباء پروری یا اپنے اپنے نوازنے کے لیے کی گئی ہے۔ سوئیپرز کی ملازمتیں سفید پوشوں کو دیکر اس غریب ترین اور پچھڑے ہوئے طبقے کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔
میرپور خاص میں 65 مسلمانوں سمیت 90 سفید پوش نوجوانوں کو بطور سوئیپر بھرتی کیا گیا۔ جن میں سے 25 گھر پر بیٹھ کر تنخواہیں لے رہے ہیں جبکہ 65 سفید پوش مختلف محکموں میں بطور چپراسی، چوکیدار ، بیلدار یاڈرائیور کے کام کر رہے ہیں۔ ان سفید وشوں کی لسٹ تیار کر لی گئی ہے اور محکمہ بلدیات سے ان کا کیڈر تبدیل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سوئیپر ڈیوٹی سے غائب ہیں جس کی وجہ سے شہر گندگی کا ڈھیر بن گیا ہے۔
سانگھڑ میں صفائی کے کام کے لیے 100 سے زائد سفید پوش گزشتہ سال ستمبر اور اکتوبر میں بھرتی کئے گئے ۔ بھرتی ہونے والے سفید پوش بااثرہونے کی وجہ سے سینیٹری انسپیکٹر کے پاس بھی حاضری نہیں دیتے۔
دادو ضلع میں سوئیپر کے اسامیوں پر 140 سفید پوش بھرتی کئے گئے۔جن میں سے چالیس سے زائد کی ڈیوٹی تبدیل کرکے بیلدار اور چوکیدار بنا دیا گیا۔
کنری میں ایک درجن سے زائد سفید پوش بطور سنیٹری اسٹاف بھرتی کیا گیا۔ مگر برسوں سے ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے صفائی کے عملے کو مستقل نہیں کیا گیا۔
خیرپور میونسپل میں پانچ ماہ قبل ایک سو سے زائد سفید پوش افراد کو بھرتی کیا گیا۔ ان کی تنخواہوں کا مسئلہ ہو گیا تھا۔ معاملے کا وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لیا ۔ اور ہدایت کی کہ جن کو صفائی کا کام نہیں آتا انہیں فارغ کر دیا جائے۔خیرپور میں ناساسک کاا دارہ صفائی کے کام کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہ سفید پوش افراد تعلقہ میونسپل انتظامیہ نے بھرتی کئے تھے اور بھرتی کرنے کے بعد انہیں اس ادارے کے حوالے کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز ان کو ملازمت پر رکھنے یا نہ رکھنے کا تعین کرنے کے لیے بلایا گیا اور ان کو آزمائشی طور پر گٹر میں اتارا گیا جن میں سے ایک درجن کے قریب موقع سے فرار ہوگئے۔
کندھ کوٹ میں بھی صفائی کے عملے کی 100 سے زائد جعلی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ٰہ بات اس وقت سامنے آئی جب ڈپٹی کمشنر کی شہریوں کے ساتھ میٹنگ میں شہریوں نے صفائی نہ ہونے کی شکایت کی۔نئے ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ دو سابق ایڈمنٹریٹروں نے ایک سو سے زائد ایسے جعلی سوئیپر بھرتی کئے تھے جو کام نہیں کرتے مگر تنخواہوں کے لیے زور دے رہے ہیں۔بھرتی ہونے والے تمام نان پروفیشنل ہیں اور ڈیوٹی پر نہیں آتے جس کی وجہ سے صفائی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔سنیٹری انسپیکٹر کا کہنا ہے کہ وہ ایک سو ملازمین کی تنخواہ اٹھاتا ہے۔
ہندوپاک میں سڑکوں کی صفائی وغیرہ کا کام نچلی ذات کے لوگوں کے مخصوص رہا ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ 1850ع میں نچلی ذات کے کئی لوگوں نے اس آسرے پر عیسائیت اختیار کی کہ شاید ان کے دن بدل جائیں۔مگر انگریزوں نے بھی اس پچھڑے ہوئے طبقے کے لوگوں کو صفائی وغیرہ سے متعلق کاموں میں ہی پھنسائے رکھا اور ان کا استحصال کیا۔جب پاکستان بنا تو انگریزوں سے یہی بات ورثے میں ملی۔ ان غریب عیسائیوں کا خیال ہے کہ انہیں اگر کوئی اور نوکری نہیں ملتی تو یہ ملازمت تو انکے لیے ہی مخصوص ہے۔
کئی عیسائیوں کا خیال ہے کہ ان کے پاس سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ بطور سوئیپر کام کریں۔یہ پیشہ ان کو کئی نسلوں سے ورثے میں ملا ہے۔ان کو کسیاور پیشے میں تو جانے نہیں دیا جاتاالٹا اب تو انہیں موروثی پیشے سے بھی بے دخل کیا جارہا ہے۔
دلیت اور دیگر شیڈیولڈکاسٹس جن سے روایتی طور پراونچ نیچ کی بنیادپر ذات سسٹم میں بٹے ہوئے برصغیر میں گندگی والے اور نچلے درجے کے کام لیے جاتے تھے ۔ یہ کام مرد خواہ عورتٰن دونوں کرتے تھے اور نسل در نسل کرتے رہے ہیں۔
ان برادریوں نے مذہب بھی تبدیل کئے مگر پھر بھی ان کے حالات نہیں بدلے۔ کئی ایک نے بدھ مت اختیار کیا، تو کئی نے عیسائیت تو بعض نے اسلام بھی قبول کیا۔ حیران کن بات ہے کہ بہار میں صفائی کرنے والے نچلی ذات کے لوگ مسلمان ہوئے پر اس پیشے سے جان نہ چھڑاسکے۔ بہار میں حلال خور کی ذات سے یہ لوگ ابھی بھی سوئیپر کا کام کرتے ہیں۔
سندھ کے مختلف شہروں کی میونسپل اداروں میں ایک ہزار کے لگ بھگ سفید پوش افراد کو بغیراخباروں میں اشتہار دیئے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بطور سنیٹری عملہ بھرتی کیا گیا ہے۔
اب ان سفید پوشوں کی ملازمتیں بچانے کے لیے ان کا کیڈر تبدیل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔اس طرح سے یہ تمام ملازمین فالتو ہونگے جن کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کا ان شہری اداروں پر اضافی بوجہ پڑے گا۔
یہ تمام بھرتیاں گزشتہ پانچ چھ ماہ میں ایڈمنسٹریٹرز نے اس جانے بغیر کی ہیں کہ منظور شدہ اسامیاں ہیں بھی یا نہیں اور یہ بھی کہ اس ادارے کے پاس اتنا بجٹ ہے بھی کہ نہیں۔
اکثر شہروں سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ برسوں سے دہاڑی پر یا کچے ملازمین کے طور پر کام کرنے والے صفائی کے عملے کو مستقل نہیں کیا گیا اور ان کی جگہ پر سفید پوش افراد کو بھرتی کیا گیا۔ جن کو نہ کام آتا ہے اور نہی وہ یہ کام کرنا چاہتے ہیں۔
صفائی کے عملے کی ملازمت پر سفید پوش افراد کی بھرتی کی وجہ سے نچلی ذاتیوں کے لوگ حق ملازمت اور شہری صفائی سے محروم ہوگئے ہیں ۔ کئی شہروں میں غلاطت پھیلی ہوئی ہے۔ جس کے خلاف لوگ احتجاج پر اتر آئے ہیں۔
سہیل سانگی
سوئیپرس کے حوالے سے یہ مقولہ مشہورہے ’’ کل میں سوئیپر تھا، آج میرا بیٹا سویپر ہے اور آنے والی کل کو میرا پوتا سوئیپر ہوگا۔‘‘ لیکن اب شاید سوئیپر کے بیٹے یا پوتے کو یہ جاب بھی نہ ملے۔
سندھ میں حکومت نے صفائی کرنے والے عملے (سوئیپرز) کی گریڈ ایک کی ملازمتوں کی جس طرح سے تقسیم اقرباء پروری یا اپنے اپنے نوازنے کے لیے کی گئی ہے۔ سوئیپرز کی ملازمتیں سفید پوشوں کو دیکر اس غریب ترین اور پچھڑے ہوئے طبقے کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔
میرپور خاص میں 65 مسلمانوں سمیت 90 سفید پوش نوجوانوں کو بطور سوئیپر بھرتی کیا گیا۔ جن میں سے 25 گھر پر بیٹھ کر تنخواہیں لے رہے ہیں جبکہ 65 سفید پوش مختلف محکموں میں بطور چپراسی، چوکیدار ، بیلدار یاڈرائیور کے کام کر رہے ہیں۔ ان سفید وشوں کی لسٹ تیار کر لی گئی ہے اور محکمہ بلدیات سے ان کا کیڈر تبدیل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سوئیپر ڈیوٹی سے غائب ہیں جس کی وجہ سے شہر گندگی کا ڈھیر بن گیا ہے۔
سانگھڑ میں صفائی کے کام کے لیے 100 سے زائد سفید پوش گزشتہ سال ستمبر اور اکتوبر میں بھرتی کئے گئے ۔ بھرتی ہونے والے سفید پوش بااثرہونے کی وجہ سے سینیٹری انسپیکٹر کے پاس بھی حاضری نہیں دیتے۔
دادو ضلع میں سوئیپر کے اسامیوں پر 140 سفید پوش بھرتی کئے گئے۔جن میں سے چالیس سے زائد کی ڈیوٹی تبدیل کرکے بیلدار اور چوکیدار بنا دیا گیا۔
کنری میں ایک درجن سے زائد سفید پوش بطور سنیٹری اسٹاف بھرتی کیا گیا۔ مگر برسوں سے ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے صفائی کے عملے کو مستقل نہیں کیا گیا۔
خیرپور میونسپل میں پانچ ماہ قبل ایک سو سے زائد سفید پوش افراد کو بھرتی کیا گیا۔ ان کی تنخواہوں کا مسئلہ ہو گیا تھا۔ معاملے کا وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لیا ۔ اور ہدایت کی کہ جن کو صفائی کا کام نہیں آتا انہیں فارغ کر دیا جائے۔خیرپور میں ناساسک کاا دارہ صفائی کے کام کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہ سفید پوش افراد تعلقہ میونسپل انتظامیہ نے بھرتی کئے تھے اور بھرتی کرنے کے بعد انہیں اس ادارے کے حوالے کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز ان کو ملازمت پر رکھنے یا نہ رکھنے کا تعین کرنے کے لیے بلایا گیا اور ان کو آزمائشی طور پر گٹر میں اتارا گیا جن میں سے ایک درجن کے قریب موقع سے فرار ہوگئے۔
کندھ کوٹ میں بھی صفائی کے عملے کی 100 سے زائد جعلی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ٰہ بات اس وقت سامنے آئی جب ڈپٹی کمشنر کی شہریوں کے ساتھ میٹنگ میں شہریوں نے صفائی نہ ہونے کی شکایت کی۔نئے ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ دو سابق ایڈمنٹریٹروں نے ایک سو سے زائد ایسے جعلی سوئیپر بھرتی کئے تھے جو کام نہیں کرتے مگر تنخواہوں کے لیے زور دے رہے ہیں۔بھرتی ہونے والے تمام نان پروفیشنل ہیں اور ڈیوٹی پر نہیں آتے جس کی وجہ سے صفائی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔سنیٹری انسپیکٹر کا کہنا ہے کہ وہ ایک سو ملازمین کی تنخواہ اٹھاتا ہے۔
ہندوپاک میں سڑکوں کی صفائی وغیرہ کا کام نچلی ذات کے لوگوں کے مخصوص رہا ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ 1850ع میں نچلی ذات کے کئی لوگوں نے اس آسرے پر عیسائیت اختیار کی کہ شاید ان کے دن بدل جائیں۔مگر انگریزوں نے بھی اس پچھڑے ہوئے طبقے کے لوگوں کو صفائی وغیرہ سے متعلق کاموں میں ہی پھنسائے رکھا اور ان کا استحصال کیا۔جب پاکستان بنا تو انگریزوں سے یہی بات ورثے میں ملی۔ ان غریب عیسائیوں کا خیال ہے کہ انہیں اگر کوئی اور نوکری نہیں ملتی تو یہ ملازمت تو انکے لیے ہی مخصوص ہے۔
کئی عیسائیوں کا خیال ہے کہ ان کے پاس سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ بطور سوئیپر کام کریں۔یہ پیشہ ان کو کئی نسلوں سے ورثے میں ملا ہے۔ان کو کسیاور پیشے میں تو جانے نہیں دیا جاتاالٹا اب تو انہیں موروثی پیشے سے بھی بے دخل کیا جارہا ہے۔
دلیت اور دیگر شیڈیولڈکاسٹس جن سے روایتی طور پراونچ نیچ کی بنیادپر ذات سسٹم میں بٹے ہوئے برصغیر میں گندگی والے اور نچلے درجے کے کام لیے جاتے تھے ۔ یہ کام مرد خواہ عورتٰن دونوں کرتے تھے اور نسل در نسل کرتے رہے ہیں۔
ان برادریوں نے مذہب بھی تبدیل کئے مگر پھر بھی ان کے حالات نہیں بدلے۔ کئی ایک نے بدھ مت اختیار کیا، تو کئی نے عیسائیت تو بعض نے اسلام بھی قبول کیا۔ حیران کن بات ہے کہ بہار میں صفائی کرنے والے نچلی ذات کے لوگ مسلمان ہوئے پر اس پیشے سے جان نہ چھڑاسکے۔ بہار میں حلال خور کی ذات سے یہ لوگ ابھی بھی سوئیپر کا کام کرتے ہیں۔
سندھ کے مختلف شہروں کی میونسپل اداروں میں ایک ہزار کے لگ بھگ سفید پوش افراد کو بغیراخباروں میں اشتہار دیئے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بطور سنیٹری عملہ بھرتی کیا گیا ہے۔
اب ان سفید پوشوں کی ملازمتیں بچانے کے لیے ان کا کیڈر تبدیل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔اس طرح سے یہ تمام ملازمین فالتو ہونگے جن کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کا ان شہری اداروں پر اضافی بوجہ پڑے گا۔
یہ تمام بھرتیاں گزشتہ پانچ چھ ماہ میں ایڈمنسٹریٹرز نے اس جانے بغیر کی ہیں کہ منظور شدہ اسامیاں ہیں بھی یا نہیں اور یہ بھی کہ اس ادارے کے پاس اتنا بجٹ ہے بھی کہ نہیں۔
اکثر شہروں سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ برسوں سے دہاڑی پر یا کچے ملازمین کے طور پر کام کرنے والے صفائی کے عملے کو مستقل نہیں کیا گیا اور ان کی جگہ پر سفید پوش افراد کو بھرتی کیا گیا۔ جن کو نہ کام آتا ہے اور نہی وہ یہ کام کرنا چاہتے ہیں۔
صفائی کے عملے کی ملازمت پر سفید پوش افراد کی بھرتی کی وجہ سے نچلی ذاتیوں کے لوگ حق ملازمت اور شہری صفائی سے محروم ہوگئے ہیں ۔ کئی شہروں میں غلاطت پھیلی ہوئی ہے۔ جس کے خلاف لوگ احتجاج پر اتر آئے ہیں۔
No comments:
Post a Comment