ملک بجلی کے بحران کی لپیٹ میں
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم
سہیل سانگی
پورا ملک بجلی کے بحران کی لپیٹ میں ہے۔ملک کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر کے ، بجلی کی منصفانہ تقسیم کے لیے بلا امتیازلوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ شہری زندگی، کاروبار اور صنعتیں اگر متاثر ہو رہی ہیں تو پورے ملک کی ہو رہی ہیں۔مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ احتجاج صرف پنجاب میں ہی ہو رہا ہے۔ اور کسی صوبے میں اس طرح سے احتجاج نہیں ہے۔
سندھ کے لوگ پنجاب میں ہونے والے اس احتجاج اور اس پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کے موقف ، بیانات اور تبصروں کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔چوہدری شجاعت حسین بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ صوبے وفاق کو پیسے دیں تاکہ بجلی کا بحران اور لوڈشیڈنگ ختم ہو سکے۔چوہدری صاحب کو جو بولنے میں مسئلہ ہے اس کی وجہ سے ویسے بھی کئی لوگوں کو ان کی باتیں سمجھ میں نہیں آتی۔مگر یہ بات تو بالکل ہی سمجھ سے بالاتر ہے۔
چوہدری صاحب کی تجویز یہ ہے کہ صوبے وفاقی پول میں ان کے حصے کے جو آمدن سے تین ماہ تک دستبردار ہو جائیں تاکہ وفاقی حکومت بجلی پیدا کرنے والی نجی کمنیوں کو ادائگی کر سکے اور یوں لوڈشیڈنگ کو برداشت کی حد تک کم کیا جا سکے۔ چوہدری صاحب جو ضیا دور سے مختلف ادوار میں وفاقی وزیر رہے ہیں اور خود بھی کئی ملوں اور کارخانوں کے مالک ہیں انکا کہنا ہے کہ ملک میں 15,000میگاواٹ بجلی پیدا کرنے می صلاحیت ہے۔مگر روزانہ 15,000 میگاواٹ پیدا کی جا رہی ہے۔باقی بجلی گھر یا بند ہیں یا صلاحیت سے کم بجلی پیدا کررہے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہرواں مالی سال میں باقی سہ ماہی کے دوران قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت پچاس ارب روپے صوبوں کو ادا کئے جانے ہیں۔اگر وفاق تین ماہ کی یہ رقم اپنے پاس رکھ لے اور صوبوں کو ادا نہ کرے اور اس کے بجائے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ادا کرے تو شہروں میں بجلی کا بحران ختم کیا جا سکتا ہے اور دیہی علاقوں میں برداشت کی حد تک کیا جا سکتا ہے۔ انکے خیال میں اگر صوبے وفاق سے تعاون کریں تو مسئلہ باآسانی حل ہو سکتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس فارمولہ کی کامیابی کا انحصار وزراء اعلیٰ کے تعاون پر ہے۔اگر وہ راضی ہو جائیں تو بند کارخانے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔بیروزگاری کم ہو سکتی ہے۔احتجاج کرنے والے کارکنان واپس کام پر جا سکتے ہیں اور ملکی معیشت ترقی کرنا شروع کرے گی۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ بجلی کی چوری کے خلاف بھرپور مہم چلائی جائے۔چوہدری صاحب کا کہنا ہے کہ اگر صوبے اپنا حصہ چھوڑنا نہیں چاہتے تو یہ رقم وفاق کوبطور قرض دیں۔اس وقت لائن لاسز تیس سے چالیس فیصد تک ہیں۔جس میں بڑے پیمانے پر چوری شامل ہے۔غلط بل لوگوں کو اکسا رہے ہیں کہ وہ بجلی چوری کریں۔
سندھ محب وطنی کے کھاتے میں اضافی بوھ کیوں اٹھائے؟ بجلی کی پیداوار کی شماریات کے مطابق پنجاب میں موجود بجلی گھروں کی صلاحیت 2.1 میگاواٹ ہے۔ سندھ میں 213 میگاواٹ سرحد اور بلوچستان میں بالترتیب 183اور 5 میگاواٹ ہے۔
سندھ میں سراسری طور پر بجلی کی پیداوار باقی تینوں صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے پنجاب میں269 کلوواٹ ہے جو سندھ کے مقابلے میں 76 کم ہے۔سندھ میں یہ پیداوار 1,154 کلوواٹ ہے۔پختونخوا میں بجلی کی پیداوار72 پنجاب سے 962 کلوواٹ زیادہ ہے۔بلوچستان میں 6 کلوواٹ ہے۔پنجاب میں تصرف کی لیول سندھ کے مقابلے میں 136 زیادہ ہے۔
پاکستان میں گذشتہ پندرہ سال کے دوران بجلی کی استعمال میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس عرصے کے دوران کوئی نیا بجلی گھر نہیں لگایا گیا۔ نجی بجلی گھروں سے بجلی خیرد کرنے کا سپریم کورٹ نے نوٹیس لیا ہے۔
گیس کے استعمال میں بھی پندرہ سالوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن قدرتی گیس کے وسائل کم ہو رہے ہیں۔ چوہدری صاحب کا یہ فارمولہ صوبوں کے درمیان مزید جھگڑا بڑھائیگا۔ اس سے پہلے پنجاب میں گیس کے بحران پر بھی احتجاج کیا گیا تھا۔ جب وزیراعلیٰ خود بجلی کی کمی پر لانگ مارچ کرے گا تو احتجاج تو بھڑک اٹھیں گے۔
بجلی پر احتجاج سے سندھ کے لوگوں کے خدشات بڑھ جاتے ہیں کہ کہیں پنجاب کالا باغ ڈیم کی تیاری تو نہیں کر رہا ہے؟ تھر کے کوئلے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ اس پر وفاق پیسے دینے کے لیے تیار نہیں۔
چہدری شجاعت کی یہ تجویز نواز شریف کو یہ بھی پیغام ہے کہ اگر وہ تنا ھہی احتجاج کر رہے ہیں تو پنجاب کے حصے کے پیسے نکالیں۔ یہ کام کی بات کم اور سیاست زیادہ لگتی ہے۔
پورا ملک بجلی کے بحران کی لپیٹ میں ہے۔ملک کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر کے ، بجلی کی منصفانہ تقسیم کے لیے بلا امتیازلوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ شہری زندگی، کاروبار اور صنعتیں اگر متاثر ہو رہی ہیں تو پورے ملک کی ہو رہی ہیں۔مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ احتجاج صرف پنجاب میں ہی ہو رہا ہے۔ اور کسی صوبے میں اس طرح سے احتجاج نہیں ہے۔
سندھ کے لوگ پنجاب میں ہونے والے اس احتجاج اور اس پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کے موقف ، بیانات اور تبصروں کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔چوہدری شجاعت حسین بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ صوبے وفاق کو پیسے دیں تاکہ بجلی کا بحران اور لوڈشیڈنگ ختم ہو سکے۔چوہدری صاحب کو جو بولنے میں مسئلہ ہے اس کی وجہ سے ویسے بھی کئی لوگوں کو ان کی باتیں سمجھ میں نہیں آتی۔مگر یہ بات تو بالکل ہی سمجھ سے بالاتر ہے۔
چوہدری صاحب کی تجویز یہ ہے کہ صوبے وفاقی پول میں ان کے حصے کے جو آمدن سے تین ماہ تک دستبردار ہو جائیں تاکہ وفاقی حکومت بجلی پیدا کرنے والی نجی کمنیوں کو ادائگی کر سکے اور یوں لوڈشیڈنگ کو برداشت کی حد تک کم کیا جا سکے۔ چوہدری صاحب جو ضیا دور سے مختلف ادوار میں وفاقی وزیر رہے ہیں اور خود بھی کئی ملوں اور کارخانوں کے مالک ہیں انکا کہنا ہے کہ ملک میں 15,000میگاواٹ بجلی پیدا کرنے می صلاحیت ہے۔مگر روزانہ 15,000 میگاواٹ پیدا کی جا رہی ہے۔باقی بجلی گھر یا بند ہیں یا صلاحیت سے کم بجلی پیدا کررہے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہرواں مالی سال میں باقی سہ ماہی کے دوران قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت پچاس ارب روپے صوبوں کو ادا کئے جانے ہیں۔اگر وفاق تین ماہ کی یہ رقم اپنے پاس رکھ لے اور صوبوں کو ادا نہ کرے اور اس کے بجائے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ادا کرے تو شہروں میں بجلی کا بحران ختم کیا جا سکتا ہے اور دیہی علاقوں میں برداشت کی حد تک کیا جا سکتا ہے۔ انکے خیال میں اگر صوبے وفاق سے تعاون کریں تو مسئلہ باآسانی حل ہو سکتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس فارمولہ کی کامیابی کا انحصار وزراء اعلیٰ کے تعاون پر ہے۔اگر وہ راضی ہو جائیں تو بند کارخانے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔بیروزگاری کم ہو سکتی ہے۔احتجاج کرنے والے کارکنان واپس کام پر جا سکتے ہیں اور ملکی معیشت ترقی کرنا شروع کرے گی۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ بجلی کی چوری کے خلاف بھرپور مہم چلائی جائے۔چوہدری صاحب کا کہنا ہے کہ اگر صوبے اپنا حصہ چھوڑنا نہیں چاہتے تو یہ رقم وفاق کوبطور قرض دیں۔اس وقت لائن لاسز تیس سے چالیس فیصد تک ہیں۔جس میں بڑے پیمانے پر چوری شامل ہے۔غلط بل لوگوں کو اکسا رہے ہیں کہ وہ بجلی چوری کریں۔
سندھ محب وطنی کے کھاتے میں اضافی بوھ کیوں اٹھائے؟ بجلی کی پیداوار کی شماریات کے مطابق پنجاب میں موجود بجلی گھروں کی صلاحیت 2.1 میگاواٹ ہے۔ سندھ میں 213 میگاواٹ سرحد اور بلوچستان میں بالترتیب 183اور 5 میگاواٹ ہے۔
سندھ میں سراسری طور پر بجلی کی پیداوار باقی تینوں صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے پنجاب میں269 کلوواٹ ہے جو سندھ کے مقابلے میں 76 کم ہے۔سندھ میں یہ پیداوار 1,154 کلوواٹ ہے۔پختونخوا میں بجلی کی پیداوار72 پنجاب سے 962 کلوواٹ زیادہ ہے۔بلوچستان میں 6 کلوواٹ ہے۔پنجاب میں تصرف کی لیول سندھ کے مقابلے میں 136 زیادہ ہے۔
پاکستان میں گذشتہ پندرہ سال کے دوران بجلی کی استعمال میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس عرصے کے دوران کوئی نیا بجلی گھر نہیں لگایا گیا۔ نجی بجلی گھروں سے بجلی خیرد کرنے کا سپریم کورٹ نے نوٹیس لیا ہے۔
گیس کے استعمال میں بھی پندرہ سالوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن قدرتی گیس کے وسائل کم ہو رہے ہیں۔ چوہدری صاحب کا یہ فارمولہ صوبوں کے درمیان مزید جھگڑا بڑھائیگا۔ اس سے پہلے پنجاب میں گیس کے بحران پر بھی احتجاج کیا گیا تھا۔ جب وزیراعلیٰ خود بجلی کی کمی پر لانگ مارچ کرے گا تو احتجاج تو بھڑک اٹھیں گے۔
بجلی پر احتجاج سے سندھ کے لوگوں کے خدشات بڑھ جاتے ہیں کہ کہیں پنجاب کالا باغ ڈیم کی تیاری تو نہیں کر رہا ہے؟ تھر کے کوئلے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ اس پر وفاق پیسے دینے کے لیے تیار نہیں۔
چہدری شجاعت کی یہ تجویز نواز شریف کو یہ بھی پیغام ہے کہ اگر وہ تنا ھہی احتجاج کر رہے ہیں تو پنجاب کے حصے کے پیسے نکالیں۔ یہ کام کی بات کم اور سیاست زیادہ لگتی ہے۔
No comments:
Post a Comment