Tuesday, June 16, 2015

پیر پاگارا


پیر پاگارا
سہیل سانگی
پیرپگارا کے انتقال سے پاکستان میں روایتی سیاست کا ایک پورا دور ختم ہوگیا۔ان کی زندگی کئی تاریخی واقعات سے بھرپور رہی جن میں سے بعض میں ان کا کلیدی رول بھی رہا۔
ساٹھ کی دہائی کے بعدخواہ ایوب خان ہوں یا ذوالفقار علی بھٹو یا ضیاء یا بھر نواز شریف ہوں یا مشرف پاکستان میں سیاست میں پیر پاگار و کا کردارخاصا اہم اور بعض مواقع پر فیصلہ کن رہا ہے۔وہ گدی نشین پیر تھے جن کے جیالے مریدوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ مگر ذاتی زندگی میں بعض مغربی طرزپر گذاری۔ طنز و مزاح میں ان کا اپنا اندازتھا۔ وہ طنزومزاح میں ہی بہت کچھ کہہ جاتے تھے اور سمجھنے والے سمجھ بھی جاتے تھے۔
ذاتی سوچ میں قدامت پسند نہیں تھے۔ مگر سیاسی سوچ میں ایک حد تک قدامت پسندی نظر آتی ہے۔ان کا سیاسی فلسفہ اور حکمت عملی میں بعض اوقات متضاد چیزیں نظر آتی ہیں، اس کی وجہ شاید ان کا بچپن اور نوجوانی صدمے کے حالات سے گذری ہے۔وہ ایک حریت پسند کے بیتے تھے۔ پاگارا خاندا ن طویل عرصے تک انگریزوں سے جنگ کی حالت میں رہا۔جب علی مردان شاہ پیر پگارا پیدا ہوئے اس وقت ان کے والد سورہیہ بادشاہ انگریزوں سے برسرپیکار تھے۔جنہیں 20مارچ 1943کوپھانسی دی گئی جب پیر پگارا کی عمر 15 برس تھی۔ انہیں دیگر اہل خانہ ساتھ میر خدابخش تالپور کے بنگلے پر کے نظربند کیا گیا۔اور انہیں والد کی شہادت کی خبر بھی نہیں دی گئی۔انہوں نے برطانوی حکومت کی زیر نگرانی پہلے علی گڑھ اور بعد میں لندن کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ جہاں دیگر ممالک کے باغی رہنماؤں کے بچے زیر تعلیم تھے۔
پیر پگارا 1952تک برطانیہ میں رہے۔قیام پاکستان کے بعد 1949میں جب پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان لندن آئے تو انہوں نے پیر صاحب سے ملاقات کی اور کہا کہ پاکستان حکومت ان کی گدی بحال کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔ یہ فیصلہ تو 1949 میں ہوگیا تھا مگر اس پر عملدرآمد4سال کے بعد ہوا۔اس دیر کا سبب پیر علی محمد راشدی بتائے جاتے ہیں۔جب وہ وطن لوٹے تو حر کیمپیں موجود تھیں۔ اور حر جماعت کے لو گوں پر چھوٹے بڑے مقدمات تھے۔
پیر پگارا ساٹھ کی دہائی کے آخر سے مسلم لیگی ہی رہے مگر اس پارٹیٰ اور قیام پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات مختلف تھے۔ ایک انٹرویو میں قیام پاکستان کے پس منظر کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ’’ قاہرہ میں برطانوی وزیر اعظم چرچل کی ملاقات سردار سنکدر حیات سے ہوئی۔ تو چرچل نے کہا کہ مسلمانوں نے برطانوی حکومت کے لئے جو قربانیاں دی ہیں اس کے عوض انہیں الگ ریاست دی جائیگی۔بعد میں انگریزوں کے دور میں جو لوگ مسلم لیگ میں آئے وہ سب انگریزوں کے کہنے پر آئے۔‘‘
مسلم لیگ کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ ’’مسلم لیگ بااثر لوگوں کی جماعت تھی۔یہ عوامی جماعت نہیں تھی جس کے ووٹر ہوں۔بااثر لوگوں کو ماننے والے ہی اس کو ووٹ دیتے تھے۔مسلم لیگ تب سے لیکر آج تک سیاسی جماعت نہ بن سکی ہے اور نہ ہی بن سکے گی۔ملک میں اقتدار انگریزوں کے وفاداروں کے ہاتھ میں رہا ہے۔وہی پالیسی آج تک چل رہی ہے۔ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔‘‘(جولائی 2000ع) یہ سب جانتے ہوئے بھی انہوں نے کبھی اپنی جماعت کو عوامی جماعت بنانے کی کوشش نہیں کی۔
پیر صاحب کے ذوالفقار علی بھٹو کو چھوڑ کرباقی سیاستدانوں سے اچھے تعلقات رہے۔
سیاسی طور پر انہوں نے جنرل ضیاء الحق کی بہت مدد کی ۔ اور محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم بنایا۔ تاہم بعد میں ان دونوں سے ان کے اکٹلافات پیدا ہوگئے۔جنرل ضیا کے ساتھ تعلقات کو انہوں نے خود ایک انٹرویو میں اس طرح بیان کیا:’’ جنرل ضیا نے یاد کیا، اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ جنرل جہاندادخان بھی موجود تھے۔جنرل ضیا نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے شور شرابہ کر رہے ہیں آپ اور مسلم لیگ والے انکا مقابلہ کریں۔میں نے جواب دیا کہ ہمارا کام ہے اسیمبلی میں اور ڈرائنگ میں بات کرنا۔ہم روڈ راستوں پر پتھر پھینکنے والی سیاست نہیں کریں گے۔جنرل ضیا نے جنرل جہانداد خان کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ تو پھر یہ کام کون کریگا؟ میں نے کہا کہ تمہارے فوجی جوان اور تمہاری جماعت اسلامی۔ جنرل ضیا حیرت زدہ ہو گئے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔‘‘
1970کے عام انتخابات سے قبل انہوں نے انہوں نے جی ایم سید اور دیگر سندھ کے رہنماؤں کے ساتھ ملکر شیخ مجیب الرحمان سکو کراچی میں ایک ظہرانہ دیا۔ مگر یہ تعلقات بعد کے ملکی واقعات کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکے۔
جنرل یحی خان نے جب عام انتخابات کرائے تو پیر پاگارہ نے مسلم لیگ کو سرگرم کرکے انتخابات میں حصہ لیا مگر ان کی پارٹی کوئی نشست نہیں لے سکی۔
ستر کے عشرے میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک شروع ہونے سے قبل انہیں گرفتار کر لیا مگر یہ گرفتاری چند گھنٹوں کی تھی۔ بعد میں بھٹو کے خلاف پی ااین اے (پاکستان قومی اتحاد ) کی تحریک چلی تو اس میں انہوں نے بھر پور کردار ادا کیا اور خود پی این اے کو منظم کرنے میں بھی اہم کردار رادا کیا۔
سندھ میں دو سیاسی تحریکیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں ایک ون یونٹ مخالف تحریک اور دوسری ایم آر ڈی تحریک۔ پیر پاگارا نے ون یونٹ تحریک کی نہ حمایت کی نہ مخالفت جب کہ ایم آرڈی تحریک جو ضیاء الحق کے خلاف چلائی گئی تھی اس کی مخالفت کی۔ اور ضیاء الحق کا ساتھ دیا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اور پیر پاگارا دو متضاد سیاسی قوتیں رہی ہیں۔ آج پہلا موقعہ ہے کہ یہ دونوں قوتیں ایک ساتھ حکومت میں ہیں۔ ورنہ ہوتا یہ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر سندھ میں جو بھی سیٹ اپ بنا وہ پیر پاگارا کی آشیرواد اور مدد سے ہی بنا۔ وہ ملک کے اکیلے سیاستداں تھے جو فون کال خود اٹینڈ کرتے تھے۔
شکار اور گھڑ سوار اور ریس کے کے شوقین تھے۔ان کے پاس اعلی نسل کے کئی گھوڑے تھے۔ اور ان کے گھوڑے کراچی ریس کلب میں نجیتا کرتے تھے۔ کراچی ریس کلب بھی ان کی کوششوں سے بحال ہوا۔ پیشنگوئیاں کرنا بھی ان کی ہابی ہے۔ وہ سیاسی پیشنگوئیاں بہت کرتے تھے۔ سعودی عرب اور انگلنڈ کے علاوہ کبی بیرون ملک نہیں گئے۔












No comments:

Post a Comment