Monday, June 15, 2015

۔سندھ میں بلدیاتی انتخابات کھٹائی میں پڑ گئے

۔سندھ میں بلدیاتی انتخابات کھٹائی میں پڑ گئے
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان ٹھن گئی ہے۔سندھ میں بلدیاتی انتخابات کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔ حکومت سندھ کہتی ہے کہ اٹھارہ جنوری کو یہ انتخابات کرانا ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ انتخابات کی تاریخ وہی رہے گی۔ سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ مارچ سے پہلے انتخابات کرانا ممکن نہیں مزید یہ کہ ان انتخابات کے لیے صوبائی حکومت سے مشاورت ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن نے حکومت سندھ کا مارچ میں انتخابات کرانے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ انتخابات کی تاریخ اٹھارہ جنوری ہی رہے گی۔ الیکشن کمیشن کا کنہا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر الیکشن کمیشن نے سندھ میں اٹھارہ جنوری اور پنجاب میں تیس جنوری کی تاریخیں مقرر کی تھی۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی من مانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اور اگر الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تاریخ میں من مانی کی تو یہ صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ پرامن اور شفاف انتخابات کے لیے ضروری ہے کہ جلد بازی نہ کی جائے۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران صوبائی حکومتوں نے سندھ میں 29 نومبر کو اور پنجاب میں تیس جنوری کو انتخابات کرانے کی حامی بھری تھی۔ بعد میں الیکشن کمیشن کی درخواست پر سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ وہ مل کر تاریخ طے کریں۔ یوں الیکشن کمیشن نے سندھ میں اٹھارہ جنوری کو اور پنجاب میں تیس جنوری کو انتخابات کرانے کی تاریخ دی تھی۔

بلدیاتی انتخابات سے متعلق کچھ نئے الجھاوے اور سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ان انتخابات سے ٹال مٹول صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پنجاب بھی کر رہا ہے۔ تمام حکمراں جماعتیں اس سے کترا رہی ہیں۔جب تک وہ اپنی پسند کی حلقہ بندیاں نہیں کرلیتے، اپنی مرضی کی گروپنگ نہیں کرلیتی تب تک ان انتخابات کی تاریخ کو شفافیت کی آڑ میں آگے بڑھایا جارہا ہے۔ اس ضمن میں قومی خواہ صوبائی اسمبلیاں قراردادیں منظور کرتی رہیں۔اور مختلف بہانے تلاش کرتی رہیں۔متحد ہ قومی موومنٹ جس نے پہلے سندھ کے بلدیاتی قانون کو سپریم کورٹ میں چیلینج کیا تھا، جس کی سماعت ہونا ابھی باقی ہے، بدھ کے روز اس جماعت نے بلدیاتی حلقہ بندیوں کو بھی چیلینج کیا ہے، متحدہ کی یہ درخواست بلواسط طور پر سندھ حکومت کے حق میں جائے گی جو فی الحال یہ انتخابات کرانا نہیں چاہتی۔

ا یک خیال یہ بھی ہے کہ حکمران جماعتیں اس لیے بھی بلدیاتی انتخابات سے کنی کترا رہی ہیں کہ اگر اس کے نتیجے میں مختلف مینڈیٹ آگیا توان جماعتوں کی قانونی خواہ اخلاقی پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔ لہٰذا وہ دوسرے مینڈیٹ کے امتحان میں پڑنا نہیں چاہتیں۔یہ امر اپنی جگہ پر ہے کہ صوبائی حکومتیں مختلف وجوہات کی بناء پر گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کوئی قابل قدر کارکردگی نہیں دکھا سکی ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے سندھ اور پنجاب میں انتخابی شیڈٰیول کے اعلان کے بعدوفاقی وزارت بین الصوبائی رابطہ نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی سفارش کی ہے ۔ وزارت نے یہ موقف رکھا ہے کہ ملک میں کئی برسوں سے مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے وسائل کی تقسیم سے لیکر نئی حلقہ بندیوں تک کئی مسائل موجود ہیں۔ لہٰذا پہلے مردم شماری کرا کے پھر یہ انتخابات کرائے جائیں۔
اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم نے محکمہ شماریات کو ملک میں مردم شماری کرانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ ملک میں آخری مردم شماری 1998 میں ہوئی تھی۔اٹھارویں ترمیم کے بعد ہر دا سال کے بعد مردم شماری کرانا لازمی ہے۔ اگر اس ترمیم کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ مردم شماری 2008 میں ہونی تھی۔ لیکن تب پہلے مرحلے میں صرف گھر شماری ہوئی تھی۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اہمیت کھو بیٹھی ہے۔
 ہم فیصلے پہلے اور ان پر سوچنے کی ضرورت بعد میں محسوس کرتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کا معاملہ بھی اس تناظر میں ہے۔
ان انتخابات کے بارے میں جو بحث ہوتی رہی ہے، حکومت جو دلائل دیتی رہی ہے، ان کی ضرورت کبھی بھی نہیں پڑتی اگر ہم اپنے معاملات آئین کی روشنی میں چلا رہے ہوتے۔ اب جب انتخابات کا شیڈیول بھی آچکا ہے، سندھ میں حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے، لوگ اس عمل میں شریک ہو چکے ہیں ، تب اس طرح کے سوالات یقیننا عوام کے لیے تعجب کا باعث بنیں گے کہ اداروں کے موقف میں یکسانیت کیوں نہیں؟ اس طرح کے سوالات اور پیچیدگیاں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔

صوبائی حکومتیں پہلے بھی بلدیاتی انتخابات کرانے کے حق میں نہیں تھیں۔ لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس کیس کی سماعت کے دوران صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ انتخابات کرائیں اور انتخابات کرانے کی تاریخ دیں۔ کورٹ کے دباؤ میں آکر بالآخر تاریخ بھی دی۔سیاسی مبصرین ان انتخابات کو جبری کرائے گئے انتخابات سے تعبیر کر رہے تھے، جس کے لیے نہ صوبائی حکومتیں تیار تھیں اور نہ ہی الیکشن کمیشن راضی تھا۔ اس وقت الیکشن کمیشن کے قائم مقام سربراہ نئے چیف جسٹس تھے۔ اب جب چیف صاحب ایک ہفتے بعد ریٹائر ہونے والے ہیں توانتخابات سے ٹال مٹول کیا جارہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے چیف کے ریٹائر ہونے کے بعد حکمراں جماعتوں کے لیے آسان ہوجائے گا کہ وہ بلدیاتی نظام کے نفاذ سے بھاگ سکیں۔

سندھ حکومت شفافیت کے نام پر یہ انتخابات ملتوی کرنا چاہتی ہے۔ حالانکہ شفافیت کا تعلق انتظامات سے زیادہ نیتوں پر ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بعض مخصوص خاندان برسہا برس سے اقتدار پر قابض ہیں اور وہ اپنا یہ قبضہ جاگیر سمجھ کر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ انتظامات انتخابات کو شفاف بناتے ہیں۔ لیکن یہ مستقل مفاد والے لوگ اور ہمارے ریاستی ادارے ایسا کبھی بھی نہیں کرتے کہ واقعتا انتخابات شفاف ہوں اور لوگ اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کر سکیں۔ انتظامات چاہے کچھ بھی ہوں یہ اپنا حصہ نکال ہی لیتے ہیں۔

گزشتہ مئی کے عام انتخابات سب کے سامنے ہیں، جس کی نگرانی فخرالدین جی ابرہیم جیسے شخص کو دی گئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ شاید ہی کوئی ایسا حلقہ ہو جہاں دھاندلی نہ ہوئی ہو۔ انتخابات غیر شفاف ہوتے ہی انہیں گروہوں کی وجہ سے ہیں۔ ورنہ بیچارے عام آدمی کی کیا مجال کہ کوئی گڑبڑ کرے۔ ان خاندانوں کے لیے سیاست خدمت نہیں بلکہ کاروبار ہے جس کو ہر حال میں منافع میں چلنا چاہئے۔ لہٰذا وہ جبری فتح کو یقینی بناتے ہیں۔ ایک ایسا مکینزم بنا دیا گیا ہے کہ ہر حال میں صورتحال قابو میں رہے۔ اگر متبادل قیادت کے ابھرنے کے کہیں امکانات پیدا ہو جاتے ہیں تو یہ سب کٹھے ہو جاتے ہیں۔

سندھ کے لوگ مطالبہ کرتے رہ گئے کہ محلے میں تو اپنی پسند کے لوگ منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے۔ لیکن ان کے اس مطالبے کو مسترد کرکے حلقہ بندیاں مخصوص مفادات کے تحت کی گئی ہیں۔ سندھ میں یونین کونسل سطح پر پینل کی صورت میں انتخابات لڑنا لازمی قرار دیئے گئے ہیں۔ اس شرط اور خواتین، ہاریوں اور مزدوروں کی مخصوص نشستوں کے طریقہ کار کی وجہ سے غریب آدمی کے لیے اپنے محلے کے انتخابات لڑنا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ انیس بیس یہی صورتحال پنجاب میں بھی بتائی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیے موقعہ تھا وہ گزشتہ دور حکومت کی شکایات اور موجودہ دور میں کچھ نہ کرنے کے الزامات بلدیاتی انتخابات میں لوگوں کی منشا رکھ کر دھو سکتی تھی۔

یہ انتخابات جمہوریت کی چادر میں لپیٹی ہوئی جاگیرداری ہے۔ جس پر کہیں قبائلی تو کہیں سجادہ نشینوں کا غلاف بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی حلقہ بندیوں میں کاریگری۔ نتیجے میں یہ انتخابات ہو بھی جائیں تو بے جا آرزو لگتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment