ذوالفقارآباد پس منظر اور پیش منظر
میرے دل میرے مسافر کالم ۔۔ سہیل سانگی
بحیرہ عرب کے ساحل پر سندھ میں نئے میگا سٹی ذوالفقار آباد کا پروجیکٹ پر سندھ کے لوگ تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ یہ شہربڑی بحری بندرگاہ اور بڑے بڑے صنعتی زون والا شہر ہوگا۔ ذوالفقارآباد ضلع ٹھٹہ کی چار تحصیلوں گھوڑاباریِ، شاہ بندر، جاتی اور کھاروچھان میں قائم کرنے کی تجویزہے۔چین کے شہرشین زین کی طرز پر تعمیر ہونے والے اس شہر کے لیے حکومت کو 13 لاکھ ایکڑ زمین مطلوب ہے۔ اس میں سے 20 ہزار ایکڑ زمیں نجی بتائی جاتی ہے جن کو حکومت معاوضہ دے گی۔ منصوبے کے لیے 10 لاکھ ایکڑ زمین سمندر کو خشک کرکے لی جائے گی۔مجوزہ شہر کے بارے میں تحفظات کی اصل وجہ اسکامحل وقوع ہے۔ جس کی معاشی ہی نہیں بلکہ فوجی اور سیاسی حوالے سے بھی بڑٰی اہمیت ہے۔
پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ کا جغرافیائی محل وقوع ساحل کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ ہانگ کانگ کی لیز ختم ہونے کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک ایسے کسی زمینی ٹکڑے کی تلاش میں ہیں۔ مستقبل میں امریکہ، یورپی ممالک اور چین کی تجارت کا اہم مرکز مشرق وسطی اور ایشیا ہیں جو کہ ترقی پذیر ہیں اور مستقبل میں اہم عالمی منڈی ہونگے۔
ذوالفقارآباد ہو یا گوادر یا پھر کراچی کا مسئلہ ان سب کو اس پس منظر میں دیکھے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔
کراچی کے بعدذوالفقارآباد کی تعمیر سندھ کے ساحل کی اسٹریٹیجک پوزیشن اور بڑھا دے گا۔اس ساحل کی حکمت عملی کی پوزیشن کا اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ امریکہ کو بہرحال فغانستان میں موجود اتحادی فوجیوں کی سپلائی کے لیے پاکستان کو راضی کرنا پڑا۔ کسی ملک کی جغرافیائی اہمیت سے مراد اس کی جغرافیائی محل وقوع ہے۔ کسی اور ایشیائی ملک کے مقابلے میں پاکستان زیادہ بہتر اسٹریٹیجک محل وقوع رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عالمی طاقتوں کی اس علاقے میں دلچسپی ہے بلکہ یہ محل وقوع علاقے کے ممالک کے ایک دوسرے کے لیے بھی اہمیت کاحامل ہے۔خاص طور پرتجارتی مقاصد کے لیے ۔
سندھ کے ساحل کی یہ پٹی جنوبی ایشیا اور جنوبی مغربی ایشیا کے درمیان واقع ہے۔ایران اوروسطی ایشیا توانائی کے وسائل سے مالا مال ہیں۔بھارت اوردوسرے ان ممالک تک رسائی چاہتے ہیں۔پاکستان سندھ کے ساحل سے یا بلوچستان کے زمینی راستے سے ان ممالک کو روٹ فراہم کر سکتا ہے۔ایران پاکستان انڈیا پائپ لائن اور افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈایگریمنٹ اس کی مثالیں ہیں۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان کی کیا اہمیت ہے۔پ اکستان انڈیا کی وسطی ایشیا اور ایران تک رسائی کے لیے سستا ترین راستہ ہے۔ متبادل راستوں سے ایران سے تجارت اسے مہنگی پڑے گے۔لہٰذا اس کے لیے زیادہ منافع بخش ہے کہ وہ ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ تجارت اس روٹ سے کر سکے۔
پاکستان کی یہ جغرافیائی اہمیت بعض اوقات گلے بھی پڑچکی ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ نے پاکستان کو سوویت یونین کے خلاف پراکسی جنگ میں استعمال کیا۔ پاکستان کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں لہٰذا1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد امریکہ نے پاکستان کی جغرافیائی محل وقوع کو استعمال کیا۔اور اب پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں بھی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی۔وہ بھی افغانستان کے ساتھ بارڈر ہونے کی وجہ سے۔
اس علاقے میں امریکہ کے دو مفادات اہم ہیں یعنی سیکیورٹی اور تجارت۔ امریکہ علاقے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ات ، ایران کی جوہری پروگرام، افغانستان میں دہشتگردی کو چیک کرنا چاہتا ہے اور بھارت کی مارکیٹ سے استفادہ کرناچاہتا ہے ۔پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے اور امریکہ اپنی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی جنگی حکمت عملی والی جغرافیائی محل وقوع (اسٹریٹیجک پوزیشن)کو استعمال کر رہا ہے۔
امریکہ اکیلا سپر پاور ہے اور وہ کسی دوسرے پاور کو خواہ وہ چین ہو یا کوئی یورپی ملک ابھرتے دیکھنا نہیں چاہتا اور وہ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں اپنا تسلط اور بالا دستی برقراررکھنا چاہتا ہے۔کیونکہ یہ علاقے تیل اور توانائی کے وسائل میں مالا مال ہیں۔لہٰذا امریکہ کسی بھی مقابلے میں آنے والے کے اثرنفوذ کو چیک کرنا چاہتا ہے۔ایسے میں پاکستان اسکے کام کا ملک ہے۔سعودی عرب کے بھی یہاں جغرافیائی اور سیاسی حوالے سے مفادات ہیں۔سعودی عرب پاکستان کو ایران کے لیے بیلنسر کے طور پر دیکھتا ہے۔امریکہ اور سعودی عرب دونوں ایران پر حملے کی صورت میں پاکستان کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔
پاکستان وسطی ایشیا کی تیل اور گیس سے مالامال ریاستوں کے قریب ہے۔یہ ریاستیں لینڈ لاک ہیںیعنی ان کے پاس بحری راستہ نہیں۔انکو سوائے پاکستان کے کوئی راستہ نہیں کہ دنیا سے تجارت کر سکیں۔ اس لحاظ سے افغانستان اور ان ریاستوں کے لیے بھی پاکستان اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے۔
چین کے لیے بھی پاکستان نہایت اہم ہے۔ کیونکہ چین کوقراقرم کے ذریعے بحیرہ ہند اور بحیرہ عرب تک راستہ ملتا ہے۔ چین معاشی طور پر بڑی طاقت ہے۔ اور اس کی معیشت بڑھ رہی ہے۔لہٰذا چین اپنی معاشی ترقی برقرار رکھنے کے لیے دوسرے ممالک تک آسانی سے رسائی چاہتا ہے۔ چین کے لیے بلوچستان میں واقع گوادر پورٹ اہمیت کا حامل ہے۔کیونکہ یہ چین کو تجارتی روٹ فراہم کرتاہے۔ چین کو پاکستان کی ضرورت ہے ۔
پاکستان کی جغرافیائی محل وقوع مغربی ریجن سے تجارت اور توانائی کے وسائل تک رسائی کا راستہ مہیا کرتی ہے۔ تاکہ اس روٹ سے چین خلیجی ریاستوں سے تیل درآمد کر سکے ۔ لہٰذا چین پاکستان سے تعاون بڑھا ہا ہے جس سے امریکہ خوش نہیں۔ چین کی مدد سے تعمیر ہونے والاگوادر پورٹ ہرموز اسٹریٹ (Strait of Hormuz) سے 180 میل کے فاصلے پر ہے جو کہ دنیا کے 40 فیصد تیل کی گزرگاہ ہے۔یہ جگہ پاکستان کو دنیا کے تیل کی تجارت پر نظر رکھنے کی صلاحیت عطا کرتاہے۔کراچی اور گوادر وسطی ایشیائی ریاستوں کو بڑے پیمانے پر تجارتی راستہ فراہم کرتے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کے ساحل چین کے لیے بہت اہم ہیں۔شنگھائی پورٹ چین کے صنعتی ایریا سے 16ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ گوادر2500 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔کاشغر سے چین کے مشرقی ساحل کے پورٹ تک کا فاصلہ 3500 کلومیٹر ہے اور گوادر سے کاشغر 1500 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
گوادر کو چین کی حکمت عملی کی کڑی کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔یہ چین کے زیر اثر بنگلادیش، سری لنکا، برما، تھائلینڈ، کمبوڈیا، کے سلسلے کی کڑی ہے۔ گوادر پورٹ نے ایران کو پریشان کیا ہوا تھا۔ کہ اس کے ذریعے ایران کے پورٹوں کا بزینیس مارا جائے گا۔ لہٰذا اس کو نیوٹرالائز کرنے کے لیے ایران نے انڈیا کی مدد سے چاربار کے مقام پر پورٹ تعمیر کیا جو گوادر سے صرف72 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔انڈیا 213 کلومیٹر سڑک ایران کے اس پورٹ کو افغانستان سے ملانے کے لیے تعمیر کر رہا ہے۔ انڈیا اس پورٹ کو وسطی ایشیا تک پہنچنے کے لیے چھوٹا راستہ سمجھ رہا ہے۔جو گوادر میں چین کی موجودگی اور اس کے اثر رسوخ کو کاؤنٹر کرے گا۔انڈیا بحیرہ عرب کے ساحل پر گوا کے مقام پر بحری فوج کا اڈہ بنا رہا ہے۔
انڈیا سمجھتا ہے کہ گوادر میں چین کی موجودگی انڈیا کو چاروں طرف گھیرنے کی حکمت عملی ہے۔ گوادر کے حوالے سے انڈیا کو دو پریشانیاں ہیں۔ پہلی یہ کہ اس میں چین کی بہت بڑی انوالمنٹ اور سرمایہ کاری ہے۔چین نے جو بڑے پیمانے پر سڑکوں کا نیٹ ورک بچھایا ہے وہ پاکستان سے جوڑ دے گا۔
چین امریکہ کا پہلا معاشی دشمن ہے، اس لیے امریکہ سمجھتا ہے کہ چین ایران کے تیل پرپاکستان کے راستے اجارہ داری قائم کر لے گا۔دوسرا یہ کہ گوادر کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران انڈیا کی مدد سے چاربا ر پورٹ تعمیر کر رہا ہے لہٰذا ایران کوجوہری پروگرام کی وجہ سے جس تنہائی میں ڈالا گیا تھا اس سے نکل آئے گا۔امریکہ کو چین کی انوالمنٹ اور انڈیا کے ایران سے تعاون پر ہمیشہ تشویش رہی ہے۔ کراچی اور مجوزہ ذوالفقارآباد بحیرہ عرب ( بحیرہ ہند) کے ساحل پر واقع ہے جس کے جنوب اور مشرق میں ایشیا پیسفک کے بڑے بڑے ساحلی شہر آباد ہیں۔جس میں جدید ٹیکنالوجی کے قیادت کرنے والے ممالک تاؤان، جاپان، ملائیشیا سیگاپور وغیرہ شامل ہیں۔کراچی کے مغرب میں مسقط،دبئی، ایران اور آگے چل کر سعودی عرب کی طرف گزرگاہ ہے۔اس کے جنوب کی جانب افریقہ ہے جو کہ فی الحال بھوک اور بدحالی کا شکار ہے مگر آہستہ آہستہ عالمی تجارت میں اہم خطے کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ان تمام ساحلی ممالک اور شہروں کا نقشہ اگر سامنے رکھا جائے توسندھ کا ساحل اپنی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے اہم ہے۔یہاں موجود دو سمندری پورٹ کراچی پورٹ اور بن قاسم پورٹ اس کی اہمیت میں اور بھی اضافہ کردیتاہے۔مغرب میں گوادر کا بندر اور مشرق میں مستقبل کا بندرگاہ کیٹی بندراس ساحلی پٹی کی حکمت عملی کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیتے ہیں۔سندھ کی ساحلی پٹی سے متصل تھر کا کوئلہ اور حال ہی میں بدین دریافت ہونے والے کوئلے کے ذخئر توانائی کے بیش بہا ذخیرہ ہیں۔جس نے اس پٹی کو معاشی و سیاسی طور پر اور اہم بنا دیا ہے۔
عربی ، ہندی اور جنوب چینی سمندروں کی فوجی اور معاشی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ دنیا کی تین طاقتور فریق چین، جاپان اور انڈیا اس خطے میں واقع ہیں۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران چین نہ صرف معاشی طاقت کے طور پر ابھرا ہے بلکہ فوجی اور سفارتی طاقت کے ذریعے آہستہ آہستہ ایشیا، پیسفک اور افریقہ میں امریکہ کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔اپنے اردگرد کے ممالک جاپان، انڈیا،کوریا، فلپائن، کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باوجود پاکستان، ایران، روس اور افریقہ کے ممالک کے ساتھاچھے تعلقات قائم کر کے امریکہ کے لیے اگر خطرہ نہیں تو بھی تشویش کی بات ضرور پیدا کردی ہے۔
سندھ کے تجزیہ نگار نصیر میمن کے مطابق اس خطے کے سمندری نقشے پر نظر ڈالیں تو ہمیں سمندری گزرگاہیں نظرآئیں گی۔ مشرق میں ملاکا کی گزرگاہ of Malacca Strait ہے جس کے ایک طرف سماترا کا جزیرہ ہے تو دوسری طرف ملائیشیا اور سینگاپور ہیں۔ مغرب میں ہرموز کی سمندری گزرگاہ ہے۔جو بحر عرب کو خلیج فارس سے ملاتی ہے۔ان دونوں سمندری گزرگاہوں کے بیچ میں کراچی اور مجوزہ بندرگاہ ذوالفقارآباد واقع ہے۔یہ دونوں پوائنٹ ہرموز کی گزرگاہ کو قریب ہے۔
ملاکا کی گزرگاہ بحر جنوب مشرقی کو بحر عرب اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔براعظموں کے درمیان 90 فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق پچاس فیصد تجارتی جہاز ملاکا کی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔ خلیج فارس سے مشرق وسطہ اور پیسفک کے درمیاں سمندری راستے سے پیٹرولیم مصنوعات کا70 فیصد تجارت ہوتی ہے۔ جوں جوں چین اور انڈیا تجارتی طور پر ابھر رہے ہیں اس سمندری خطے میں پیٹرولیم اور تجارتی اشیاء کی ٹرانسپورٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 2030 میں توانائی کا نصف حصہ چین اور انڈیا استعمالکرنے لگے گا۔آج چین امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر بڑی معیشت ہے۔ توانائی کی دوڑ میں جاپان تیسرے نمبر پر اور انڈیا چوتھے نمبر پر ہے۔ 90 فیصد تیل کی توانائی پر انحصار کرنے والے بھارت اور چین کے لیے بحیرہ ہند چینی میں واقع مالاکا اور خلیج میں واقع ہرموزاہم ترین گزرگاہیں ہیں۔2025 میں انڈیاٰا جاپان کو اس دوڑ میں پیچھے چھوڑ کر تیسرے نمبر پر آجائے گا۔اس طرح دنیا میں توانائی کے تین بڑے مراکز اس خطے میں ہونگے۔ 1995 سے 2005 تک چین میں تیل کا استعمال دگنا ہوا ہے۔سعودی عرب کی تیل کی پیداوار کا نصف حصہ چین درآمد کرتا ہے۔ چین کے تیل کا 85 فی صد ہرموز اور مالاکا کی سمندری گزرگاہوں سے گزر کر آتا ہے۔ سعودی رب، ایران اور متحدہ عرب امارت کے تیل کا گزر ہرموز کی گزرگاہ سے ہے۔ یہ خطہ آج کل تیل کی گزرگاہ کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔
اس پوری صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان اور سندھ کی اس ساحلی پٹی پر عالمی فوجی اور معاشی قوتوں کی نظر ہے۔ ذوالفقارآباد کی تعمیراور اسکی مخالفت کی وجوہات بھی ان قوتوں کے مفادات ہیں۔امریکہ اور انڈیا دونوں کوجس طرح سے گوادر پورٹ کی تعمیر اچھی نہیں لگ رہی تھی اسی طرح ذوالفقارآباد کی تعمیر بھی اچھی نہیں لگے گی۔
عالمی قوتوں کی حمایت اور مخالفت اپنی جگہ پر مگر سندھ کے لوگوں کو بھی خدشات اور تحفظات ہیں۔کراچی کی بندرگاہ اور صنعتی حب کے تجربے نے ان کو بہت کچھ سکھایا ہے۔جہاں دوسرے صوبوں اور علاقوں سے اتنے لوگ آکر بسے ہیں کہ سندھ کا آدمی اپنے ہی وطن میں خود کو بے وطن سمجھنے لگا ہے۔
نئے شہر آباد کرنا اچھی بات ہے۔ مگر کوئی بھی شہر آباد کرنے سے پہلے وہاں کی آبادی کے خدشات دور کرنا لازمی ہے۔
سندھ کے قوم پرست حلقوں کا خدشہ ہے کہ نئے شہر آباد ہونے سے سندھ کے پرانے باشندے اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔
جب نئے شہر آباد ہوتے ہیں تو ملکی و غیرملکی سرمایہ کار پہنچ جاتے ہیں۔ صنعتکاری اور سرمایہ کاری کے ساتھ روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں۔ اور پھر ملکی وغیر ملکی لوگ روزگار کے لیے پہنچنا شروع ہ جاتے ہیں۔
ایسے منصوبے بنانے سے پہلے ایسی قانون سازی کی جائے جس سے مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل ہونے کا خدشہ نہ ہو، ورنہ نئے شہر تعمیر کرنے میں رکاوٹ ہوگی۔
ذوالفقارآباد میں کسی غیر کو، وہ چاہی ملکی ہو یا غیر ملکی شہر میں آکر بسنے، ٹھیکہ لینے، کام کرنے، سرمایہ کاری کرنے ، کارخانے میں کام کرنے کے لئے ورک پرمٹ جاری کی جائے۔ بلکل اسی طرز پر جیسے بعض عرب ممالک میں ہے۔
ان لوگوں کو نہ پاکستانی شہریت دی جائے اور نہ ہی یہاں کا شناختی کارڈ، ووٹر لسٹ میں نام، ڈومیسائل وغیرہ جاری ہو۔
سندھ کے لوگوں کو ایسی آئینی ضمانت دی جائے کہ ان باتوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
کوئی بھی سرمایہ کاری تب تک سرمایہ کاری نہ کر سکے گا جب تک وہ اپنے ادارے میں نوے فی صد مقامی لوگوں کو ملازمت نہیں دے گا۔ مقامی لوگوں کو تربیت اور ملازمتیں دینے کی ذمہ داری کمپنیوں کی ہوگی۔
سندھ کے لوگوں کو اعتماد میں لینے کے لیے سندھ میں پہلے سے آبادغیر ملکیوں کے کارڈ اور ووٹر لسٹ میں اندراج ختم کیا جائے۔انہیں ملک سے نکالنے کے لیے قانون سازی نہیں کی جائے گی اور اس بات کو یقینی نہیں بنایا جائے گا تب تک سندھ کے لوگوں کو اعتماد نہیں ہوگا۔
بحیرہ عرب کے ساحل پر سندھ میں نئے میگا سٹی ذوالفقار آباد کا پروجیکٹ پر سندھ کے لوگ تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ یہ شہربڑی بحری بندرگاہ اور بڑے بڑے صنعتی زون والا شہر ہوگا۔ ذوالفقارآباد ضلع ٹھٹہ کی چار تحصیلوں گھوڑاباریِ، شاہ بندر، جاتی اور کھاروچھان میں قائم کرنے کی تجویزہے۔چین کے شہرشین زین کی طرز پر تعمیر ہونے والے اس شہر کے لیے حکومت کو 13 لاکھ ایکڑ زمین مطلوب ہے۔ اس میں سے 20 ہزار ایکڑ زمیں نجی بتائی جاتی ہے جن کو حکومت معاوضہ دے گی۔ منصوبے کے لیے 10 لاکھ ایکڑ زمین سمندر کو خشک کرکے لی جائے گی۔مجوزہ شہر کے بارے میں تحفظات کی اصل وجہ اسکامحل وقوع ہے۔ جس کی معاشی ہی نہیں بلکہ فوجی اور سیاسی حوالے سے بھی بڑٰی اہمیت ہے۔
پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ کا جغرافیائی محل وقوع ساحل کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ ہانگ کانگ کی لیز ختم ہونے کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک ایسے کسی زمینی ٹکڑے کی تلاش میں ہیں۔ مستقبل میں امریکہ، یورپی ممالک اور چین کی تجارت کا اہم مرکز مشرق وسطی اور ایشیا ہیں جو کہ ترقی پذیر ہیں اور مستقبل میں اہم عالمی منڈی ہونگے۔
ذوالفقارآباد ہو یا گوادر یا پھر کراچی کا مسئلہ ان سب کو اس پس منظر میں دیکھے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔
کراچی کے بعدذوالفقارآباد کی تعمیر سندھ کے ساحل کی اسٹریٹیجک پوزیشن اور بڑھا دے گا۔اس ساحل کی حکمت عملی کی پوزیشن کا اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ امریکہ کو بہرحال فغانستان میں موجود اتحادی فوجیوں کی سپلائی کے لیے پاکستان کو راضی کرنا پڑا۔ کسی ملک کی جغرافیائی اہمیت سے مراد اس کی جغرافیائی محل وقوع ہے۔ کسی اور ایشیائی ملک کے مقابلے میں پاکستان زیادہ بہتر اسٹریٹیجک محل وقوع رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عالمی طاقتوں کی اس علاقے میں دلچسپی ہے بلکہ یہ محل وقوع علاقے کے ممالک کے ایک دوسرے کے لیے بھی اہمیت کاحامل ہے۔خاص طور پرتجارتی مقاصد کے لیے ۔
سندھ کے ساحل کی یہ پٹی جنوبی ایشیا اور جنوبی مغربی ایشیا کے درمیان واقع ہے۔ایران اوروسطی ایشیا توانائی کے وسائل سے مالا مال ہیں۔بھارت اوردوسرے ان ممالک تک رسائی چاہتے ہیں۔پاکستان سندھ کے ساحل سے یا بلوچستان کے زمینی راستے سے ان ممالک کو روٹ فراہم کر سکتا ہے۔ایران پاکستان انڈیا پائپ لائن اور افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈایگریمنٹ اس کی مثالیں ہیں۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان کی کیا اہمیت ہے۔پ اکستان انڈیا کی وسطی ایشیا اور ایران تک رسائی کے لیے سستا ترین راستہ ہے۔ متبادل راستوں سے ایران سے تجارت اسے مہنگی پڑے گے۔لہٰذا اس کے لیے زیادہ منافع بخش ہے کہ وہ ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ تجارت اس روٹ سے کر سکے۔
پاکستان کی یہ جغرافیائی اہمیت بعض اوقات گلے بھی پڑچکی ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ نے پاکستان کو سوویت یونین کے خلاف پراکسی جنگ میں استعمال کیا۔ پاکستان کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں لہٰذا1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد امریکہ نے پاکستان کی جغرافیائی محل وقوع کو استعمال کیا۔اور اب پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں بھی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی۔وہ بھی افغانستان کے ساتھ بارڈر ہونے کی وجہ سے۔
اس علاقے میں امریکہ کے دو مفادات اہم ہیں یعنی سیکیورٹی اور تجارت۔ امریکہ علاقے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ات ، ایران کی جوہری پروگرام، افغانستان میں دہشتگردی کو چیک کرنا چاہتا ہے اور بھارت کی مارکیٹ سے استفادہ کرناچاہتا ہے ۔پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے اور امریکہ اپنی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی جنگی حکمت عملی والی جغرافیائی محل وقوع (اسٹریٹیجک پوزیشن)کو استعمال کر رہا ہے۔
امریکہ اکیلا سپر پاور ہے اور وہ کسی دوسرے پاور کو خواہ وہ چین ہو یا کوئی یورپی ملک ابھرتے دیکھنا نہیں چاہتا اور وہ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں اپنا تسلط اور بالا دستی برقراررکھنا چاہتا ہے۔کیونکہ یہ علاقے تیل اور توانائی کے وسائل میں مالا مال ہیں۔لہٰذا امریکہ کسی بھی مقابلے میں آنے والے کے اثرنفوذ کو چیک کرنا چاہتا ہے۔ایسے میں پاکستان اسکے کام کا ملک ہے۔سعودی عرب کے بھی یہاں جغرافیائی اور سیاسی حوالے سے مفادات ہیں۔سعودی عرب پاکستان کو ایران کے لیے بیلنسر کے طور پر دیکھتا ہے۔امریکہ اور سعودی عرب دونوں ایران پر حملے کی صورت میں پاکستان کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔
پاکستان وسطی ایشیا کی تیل اور گیس سے مالامال ریاستوں کے قریب ہے۔یہ ریاستیں لینڈ لاک ہیںیعنی ان کے پاس بحری راستہ نہیں۔انکو سوائے پاکستان کے کوئی راستہ نہیں کہ دنیا سے تجارت کر سکیں۔ اس لحاظ سے افغانستان اور ان ریاستوں کے لیے بھی پاکستان اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے۔
چین کے لیے بھی پاکستان نہایت اہم ہے۔ کیونکہ چین کوقراقرم کے ذریعے بحیرہ ہند اور بحیرہ عرب تک راستہ ملتا ہے۔ چین معاشی طور پر بڑی طاقت ہے۔ اور اس کی معیشت بڑھ رہی ہے۔لہٰذا چین اپنی معاشی ترقی برقرار رکھنے کے لیے دوسرے ممالک تک آسانی سے رسائی چاہتا ہے۔ چین کے لیے بلوچستان میں واقع گوادر پورٹ اہمیت کا حامل ہے۔کیونکہ یہ چین کو تجارتی روٹ فراہم کرتاہے۔ چین کو پاکستان کی ضرورت ہے ۔
پاکستان کی جغرافیائی محل وقوع مغربی ریجن سے تجارت اور توانائی کے وسائل تک رسائی کا راستہ مہیا کرتی ہے۔ تاکہ اس روٹ سے چین خلیجی ریاستوں سے تیل درآمد کر سکے ۔ لہٰذا چین پاکستان سے تعاون بڑھا ہا ہے جس سے امریکہ خوش نہیں۔ چین کی مدد سے تعمیر ہونے والاگوادر پورٹ ہرموز اسٹریٹ (Strait of Hormuz) سے 180 میل کے فاصلے پر ہے جو کہ دنیا کے 40 فیصد تیل کی گزرگاہ ہے۔یہ جگہ پاکستان کو دنیا کے تیل کی تجارت پر نظر رکھنے کی صلاحیت عطا کرتاہے۔کراچی اور گوادر وسطی ایشیائی ریاستوں کو بڑے پیمانے پر تجارتی راستہ فراہم کرتے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کے ساحل چین کے لیے بہت اہم ہیں۔شنگھائی پورٹ چین کے صنعتی ایریا سے 16ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ گوادر2500 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔کاشغر سے چین کے مشرقی ساحل کے پورٹ تک کا فاصلہ 3500 کلومیٹر ہے اور گوادر سے کاشغر 1500 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
گوادر کو چین کی حکمت عملی کی کڑی کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔یہ چین کے زیر اثر بنگلادیش، سری لنکا، برما، تھائلینڈ، کمبوڈیا، کے سلسلے کی کڑی ہے۔ گوادر پورٹ نے ایران کو پریشان کیا ہوا تھا۔ کہ اس کے ذریعے ایران کے پورٹوں کا بزینیس مارا جائے گا۔ لہٰذا اس کو نیوٹرالائز کرنے کے لیے ایران نے انڈیا کی مدد سے چاربار کے مقام پر پورٹ تعمیر کیا جو گوادر سے صرف72 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔انڈیا 213 کلومیٹر سڑک ایران کے اس پورٹ کو افغانستان سے ملانے کے لیے تعمیر کر رہا ہے۔ انڈیا اس پورٹ کو وسطی ایشیا تک پہنچنے کے لیے چھوٹا راستہ سمجھ رہا ہے۔جو گوادر میں چین کی موجودگی اور اس کے اثر رسوخ کو کاؤنٹر کرے گا۔انڈیا بحیرہ عرب کے ساحل پر گوا کے مقام پر بحری فوج کا اڈہ بنا رہا ہے۔
انڈیا سمجھتا ہے کہ گوادر میں چین کی موجودگی انڈیا کو چاروں طرف گھیرنے کی حکمت عملی ہے۔ گوادر کے حوالے سے انڈیا کو دو پریشانیاں ہیں۔ پہلی یہ کہ اس میں چین کی بہت بڑی انوالمنٹ اور سرمایہ کاری ہے۔چین نے جو بڑے پیمانے پر سڑکوں کا نیٹ ورک بچھایا ہے وہ پاکستان سے جوڑ دے گا۔
چین امریکہ کا پہلا معاشی دشمن ہے، اس لیے امریکہ سمجھتا ہے کہ چین ایران کے تیل پرپاکستان کے راستے اجارہ داری قائم کر لے گا۔دوسرا یہ کہ گوادر کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران انڈیا کی مدد سے چاربا ر پورٹ تعمیر کر رہا ہے لہٰذا ایران کوجوہری پروگرام کی وجہ سے جس تنہائی میں ڈالا گیا تھا اس سے نکل آئے گا۔امریکہ کو چین کی انوالمنٹ اور انڈیا کے ایران سے تعاون پر ہمیشہ تشویش رہی ہے۔ کراچی اور مجوزہ ذوالفقارآباد بحیرہ عرب ( بحیرہ ہند) کے ساحل پر واقع ہے جس کے جنوب اور مشرق میں ایشیا پیسفک کے بڑے بڑے ساحلی شہر آباد ہیں۔جس میں جدید ٹیکنالوجی کے قیادت کرنے والے ممالک تاؤان، جاپان، ملائیشیا سیگاپور وغیرہ شامل ہیں۔کراچی کے مغرب میں مسقط،دبئی، ایران اور آگے چل کر سعودی عرب کی طرف گزرگاہ ہے۔اس کے جنوب کی جانب افریقہ ہے جو کہ فی الحال بھوک اور بدحالی کا شکار ہے مگر آہستہ آہستہ عالمی تجارت میں اہم خطے کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ان تمام ساحلی ممالک اور شہروں کا نقشہ اگر سامنے رکھا جائے توسندھ کا ساحل اپنی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے اہم ہے۔یہاں موجود دو سمندری پورٹ کراچی پورٹ اور بن قاسم پورٹ اس کی اہمیت میں اور بھی اضافہ کردیتاہے۔مغرب میں گوادر کا بندر اور مشرق میں مستقبل کا بندرگاہ کیٹی بندراس ساحلی پٹی کی حکمت عملی کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیتے ہیں۔سندھ کی ساحلی پٹی سے متصل تھر کا کوئلہ اور حال ہی میں بدین دریافت ہونے والے کوئلے کے ذخئر توانائی کے بیش بہا ذخیرہ ہیں۔جس نے اس پٹی کو معاشی و سیاسی طور پر اور اہم بنا دیا ہے۔
عربی ، ہندی اور جنوب چینی سمندروں کی فوجی اور معاشی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ دنیا کی تین طاقتور فریق چین، جاپان اور انڈیا اس خطے میں واقع ہیں۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران چین نہ صرف معاشی طاقت کے طور پر ابھرا ہے بلکہ فوجی اور سفارتی طاقت کے ذریعے آہستہ آہستہ ایشیا، پیسفک اور افریقہ میں امریکہ کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔اپنے اردگرد کے ممالک جاپان، انڈیا،کوریا، فلپائن، کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باوجود پاکستان، ایران، روس اور افریقہ کے ممالک کے ساتھاچھے تعلقات قائم کر کے امریکہ کے لیے اگر خطرہ نہیں تو بھی تشویش کی بات ضرور پیدا کردی ہے۔
سندھ کے تجزیہ نگار نصیر میمن کے مطابق اس خطے کے سمندری نقشے پر نظر ڈالیں تو ہمیں سمندری گزرگاہیں نظرآئیں گی۔ مشرق میں ملاکا کی گزرگاہ of Malacca Strait ہے جس کے ایک طرف سماترا کا جزیرہ ہے تو دوسری طرف ملائیشیا اور سینگاپور ہیں۔ مغرب میں ہرموز کی سمندری گزرگاہ ہے۔جو بحر عرب کو خلیج فارس سے ملاتی ہے۔ان دونوں سمندری گزرگاہوں کے بیچ میں کراچی اور مجوزہ بندرگاہ ذوالفقارآباد واقع ہے۔یہ دونوں پوائنٹ ہرموز کی گزرگاہ کو قریب ہے۔
ملاکا کی گزرگاہ بحر جنوب مشرقی کو بحر عرب اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔براعظموں کے درمیان 90 فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق پچاس فیصد تجارتی جہاز ملاکا کی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔ خلیج فارس سے مشرق وسطہ اور پیسفک کے درمیاں سمندری راستے سے پیٹرولیم مصنوعات کا70 فیصد تجارت ہوتی ہے۔ جوں جوں چین اور انڈیا تجارتی طور پر ابھر رہے ہیں اس سمندری خطے میں پیٹرولیم اور تجارتی اشیاء کی ٹرانسپورٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 2030 میں توانائی کا نصف حصہ چین اور انڈیا استعمالکرنے لگے گا۔آج چین امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر بڑی معیشت ہے۔ توانائی کی دوڑ میں جاپان تیسرے نمبر پر اور انڈیا چوتھے نمبر پر ہے۔ 90 فیصد تیل کی توانائی پر انحصار کرنے والے بھارت اور چین کے لیے بحیرہ ہند چینی میں واقع مالاکا اور خلیج میں واقع ہرموزاہم ترین گزرگاہیں ہیں۔2025 میں انڈیاٰا جاپان کو اس دوڑ میں پیچھے چھوڑ کر تیسرے نمبر پر آجائے گا۔اس طرح دنیا میں توانائی کے تین بڑے مراکز اس خطے میں ہونگے۔ 1995 سے 2005 تک چین میں تیل کا استعمال دگنا ہوا ہے۔سعودی عرب کی تیل کی پیداوار کا نصف حصہ چین درآمد کرتا ہے۔ چین کے تیل کا 85 فی صد ہرموز اور مالاکا کی سمندری گزرگاہوں سے گزر کر آتا ہے۔ سعودی رب، ایران اور متحدہ عرب امارت کے تیل کا گزر ہرموز کی گزرگاہ سے ہے۔ یہ خطہ آج کل تیل کی گزرگاہ کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔
اس پوری صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان اور سندھ کی اس ساحلی پٹی پر عالمی فوجی اور معاشی قوتوں کی نظر ہے۔ ذوالفقارآباد کی تعمیراور اسکی مخالفت کی وجوہات بھی ان قوتوں کے مفادات ہیں۔امریکہ اور انڈیا دونوں کوجس طرح سے گوادر پورٹ کی تعمیر اچھی نہیں لگ رہی تھی اسی طرح ذوالفقارآباد کی تعمیر بھی اچھی نہیں لگے گی۔
عالمی قوتوں کی حمایت اور مخالفت اپنی جگہ پر مگر سندھ کے لوگوں کو بھی خدشات اور تحفظات ہیں۔کراچی کی بندرگاہ اور صنعتی حب کے تجربے نے ان کو بہت کچھ سکھایا ہے۔جہاں دوسرے صوبوں اور علاقوں سے اتنے لوگ آکر بسے ہیں کہ سندھ کا آدمی اپنے ہی وطن میں خود کو بے وطن سمجھنے لگا ہے۔
نئے شہر آباد کرنا اچھی بات ہے۔ مگر کوئی بھی شہر آباد کرنے سے پہلے وہاں کی آبادی کے خدشات دور کرنا لازمی ہے۔
سندھ کے قوم پرست حلقوں کا خدشہ ہے کہ نئے شہر آباد ہونے سے سندھ کے پرانے باشندے اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔
جب نئے شہر آباد ہوتے ہیں تو ملکی و غیرملکی سرمایہ کار پہنچ جاتے ہیں۔ صنعتکاری اور سرمایہ کاری کے ساتھ روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں۔ اور پھر ملکی وغیر ملکی لوگ روزگار کے لیے پہنچنا شروع ہ جاتے ہیں۔
ایسے منصوبے بنانے سے پہلے ایسی قانون سازی کی جائے جس سے مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل ہونے کا خدشہ نہ ہو، ورنہ نئے شہر تعمیر کرنے میں رکاوٹ ہوگی۔
ذوالفقارآباد میں کسی غیر کو، وہ چاہی ملکی ہو یا غیر ملکی شہر میں آکر بسنے، ٹھیکہ لینے، کام کرنے، سرمایہ کاری کرنے ، کارخانے میں کام کرنے کے لئے ورک پرمٹ جاری کی جائے۔ بلکل اسی طرز پر جیسے بعض عرب ممالک میں ہے۔
ان لوگوں کو نہ پاکستانی شہریت دی جائے اور نہ ہی یہاں کا شناختی کارڈ، ووٹر لسٹ میں نام، ڈومیسائل وغیرہ جاری ہو۔
سندھ کے لوگوں کو ایسی آئینی ضمانت دی جائے کہ ان باتوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
کوئی بھی سرمایہ کاری تب تک سرمایہ کاری نہ کر سکے گا جب تک وہ اپنے ادارے میں نوے فی صد مقامی لوگوں کو ملازمت نہیں دے گا۔ مقامی لوگوں کو تربیت اور ملازمتیں دینے کی ذمہ داری کمپنیوں کی ہوگی۔
سندھ کے لوگوں کو اعتماد میں لینے کے لیے سندھ میں پہلے سے آبادغیر ملکیوں کے کارڈ اور ووٹر لسٹ میں اندراج ختم کیا جائے۔انہیں ملک سے نکالنے کے لیے قانون سازی نہیں کی جائے گی اور اس بات کو یقینی نہیں بنایا جائے گا تب تک سندھ کے لوگوں کو اعتماد نہیں ہوگا۔
No comments:
Post a Comment